Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 17) Last Episode

240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 17) Last Episode

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

وہ دونوں واپسی جارہے تھے ثوبیہ بیگم بی جان اور باقی سب انہیں الوداع کہنے کے لئے ان کے پاس کھڑے تھے

“بہت اچھا لگا مجھے تمہیں دیکھ کر میرا دل نہیں ہے کہ تم جاؤ یہاں تمہارے آنے سے اس احساس سے خالی حویلی میں ایسا لگا کہ کوئی احساس کرنے والا آیا ہے۔۔”اسکا ہاتھ تھامے ثوبیہ بیگم نے محبت سے کہا تو وہ ان کی محبت پر مسکرا دی۔۔

“مجھے بھی بہت اچھا لگا امی بہت سالوں بعد یوں بھرپور خاندان کو دیکھا ہے جہاں کا ایک ایک لمحہ میں نے دل سے جیا ہے محسوس کیا ہے ماں کی محبت محسوس کی ہے۔۔تھینک یو سو مچ امی۔۔۔”ان کے گلے لگ وہ اداس ہوئی تھی جس طرح دلشیر نے اسے بتایا تھا ویسا تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا بلکہ اسے تو بدلے میں محبتیں ہی ملی تھیں اور وہ بھی بے تحاشہ۔۔۔

اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر حال میں دلشیر اور آغا جان اور بابا کے درمیان ہوئی اس سرد جنگ کو ختم کرکے رہے گی چاہے پھر کچھ بھی ہو جائے۔۔

اپنی نم آنکھیں صاف کرتی وہ بی جان کے گلے لگی تھی۔۔

“میرے اپنی طرف کا کام کردیا ہے اب دیکھتے ہیں یہ برف کب پگھلتی ہے۔۔”اسکی سرگوشی پر بی جان کھل کر مسکرائی تھیں اور اسکا ہاتھ چوما تھا۔۔

“میرے بچے مجھے پوری امید ہے کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا ہم بھی یک مکمل خاندان کی طرح رہیں گیں۔۔”

“انشاء اللہ بی جان بس اب آپ نے ٹینشن نہیں لینی زیادہ سوچنا نہیں ہے اور اپنی طبعیت خراب نہیں کرنی ہے ٹھیک ہے نا۔۔۔”انکا ہاتھ تھامے وہ محبت سے اسے سمجھا رہی تھی جس پر انہوں نے ہنس کر سر ہلایا تھا۔

“جو حکم ہماری بیٹی کا اب یہ بوڑھی دادی اپنے پر پوتے کو دیکھ کر ہی کہیں جائے گی۔۔”ان کے زور سے بولنے پر وہ ایک بوکھلائی تھی وہیں دلشیر نے مسکراہٹ دباتے رخ پھیرا تھا۔

“بی جان۔۔۔۔ “اسکے شکایتی لہجے پر انہوں نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر اسکے چہرے پر دم کیا تھا اور پھر ہاتھ دلشیر کی طرف بڑھایا تھا جس پر اسنے آہستہ سے انکا ہاتھ تھاما تھا۔۔

بی جان نے اس پر بھی دم کیا تھا۔۔

“اب آتے رہنا اپنی دادی سے ملنے کیونکہ یہ دادی اب اپنے پوتا پوتی کو دیکھنے کی آرزو رکھتی ہے۔”

“اور ہاں۔۔”انہیں کچھ یاد آیا تھا تبھی واپس سے ان سے مخاطب ہوئی تھیں۔۔

“ایک بار سب ٹھیک ہو جائے پھر تم دونوں کی شادی بھی دیکھنی ہے میں نے۔۔”دلشیر نے ان کی خواہش پر کچھ کہنا چاہا تھا مگر وہ دلشیر کا ہاتھ دبا کر اسے روک گئی تھی۔۔

“اچھا آغا جان بابا ہم چلتے ہیں امید ہے جو بھی رنجشیں غلطیاں ہوئی تھیں آپ درگزر کرینگے میں امید کرتی ہوں کہ اب ہوگا سب اچھا ہوگا اور ہم سب کے حق میں بہتر ہوگا۔۔۔”

اس کی بات پر آغا جان نے سر ہلا کر اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔

سب کو الوادع کہتے وہ نم آنکھوں سے گاڑی میں آکر بیٹھی تھی دلشیر اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا۔

گاڑی اسٹارٹ ہوئی تھی اس نے پیچھے مڑ کر اس گاؤں کو دیکھا تھا جہاں اسکا دل لگا تھا اور اسکا واپسی کا دل ہی نہیں کررہا تھا۔

“بہت دل نہیں لگ گیا وہاں۔۔”وہ جو باہر کے نظاروں میں گم تھی دلشیر کی بات کر چونکی تھی اور اسکی جیلسی محسوس کر اسنے شرارت سے سر ہلایا تھا۔۔

“شہر میں تو کچھ بھی نہیں ہے یہاں دیکھیں یہ سب کتنا خوبصورت ہے۔۔”

“اچھا واقعی شہر میں کچھ نہیں ہے واہ محترمہ واہ۔۔۔”اسکے یوں تاکہ بجا کر کہنے کر وہ قہقہ لگا اٹھی تھی۔۔

“کیا ہے بھئی آپ تو ہر چیز سے جیلس ہوجاتے ہیں مگر میں سچ کہوں تو مجھے بہت مزہ آیا یہاں دل کیا اپنی زندگی یہی گزار دوں دلشیر کیا ہم ہمیشہ کے لئے یہاں نہیں آسکتے؟؟ اسکے یوں پوچھنے پر اسنے گہرا سانس بھرا تھا

“اگر تمہارا دل ہے تو ہم یہاں آکر رہیں گے اپنے گھر میں۔ لیکن پہلے پڑھائی مکمل کروں اپنا خواب پورا کرو۔۔”اسکے ہاتھ کو تھامتا وہ اپنے گھر پر زور دے کر بولا تھا وہ خاموشی سے سر ہلا گئی تھی کیونکہ ابھی کچھ بھی بول کر وہ سفر میں بدمزگی نہیں کرسکتی تھی۔۔

گاؤں سے واپس آکر زندگی ایک بار پھر سے مصروف ہوگئی تھی مگر اسنے اپنا وعدہ نبھایا تھا وہ اکثر و بیشتر بی جان یا ثوبیہ بیگم سے رابطے میں رہتی تھی۔۔

ابھی بھی وہ کال پر لگی ہوئی تھی کہ دلشیر روم میں داخل ہوا تھا

“اچھا بی جان میں مل کرتی ہوں تھوڑا کام ہے۔۔”کال رکھ کر اسنے بیڈ پر لیٹے دلشیر کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا اسکی نظروں سے خائف ہوتی اسنے ایک مکا اسکے ہاتھ پر مارا تھا مگر وہ یونہی ڈھیٹ بنا دیکھتا رہا تھا۔۔

“دلشیر۔۔ ایسے مت دیکھیں بھئی۔۔”اس نے نروٹھے انداز پر وہ قہقہ لگا اٹھا تھا۔

“چڑیل۔۔”

“ہو۔۔۔۔….”اسکے یوں خود کو چڑیل کہنے پر پریشے کا منہ کھلا تھا۔

“اور آپ خود کون ہیں جن بھوت۔۔”اس کو زبان چڑاتے اس نے کہا تو سر کھجا گیا۔

“ایک چڑیل پر جن قابض ہوگیا ہے۔۔”آنکھ دبا کر کہتے وہ اسے مزید تپا رہا تھا۔۔

“آپ نا انسان بن جائیں اور یہ بتائیں کہ اتنی جلدی کیوں آگئے ہیں آپ آفس سے؟؟”

اسکے تفشیش بھرے انداز پر دلشیر نے منہ بسورا تھا۔

“خاطر تواضع کرنے سے تو گئی آپ محترمہ میرے آنے کو مشکوک انداز میں لے رہی ہیں۔۔”اسکے بالوں کی کے کھینچتا وہ دانت پیس کر بولا تھا

“تو آپ کے کام ہوتے جارہے ہیں مشکوک میرا کیا قصور ہے۔۔”

“ہاں ہاں ہاں۔۔ سب میں ہی کر رہا ہوں اور کام بھی میرے ہی مشکوک ہورہے ہیں کوئی تو بہت معصوم ہے نا جو ہر وقت یا تو سسرالیوں کے ساتھ لگا رہتا یا پڑھائی میں میاں کا تو کوئی خیال ہی نہیں ہے۔۔”اسکے تپے پتے لہجے پر اسے ٹوٹ کر پیار آیا تھا تبھی آگے بڑھ کر اسکے دونوں گالوں پر پیار کیا تھا۔۔

“یونہہ بول کر پیار کروایا تو کیا کروایا۔۔”

“دلشیر بہت ناشکرے ہوتے جارہے ہیں پیار نہیں کیا تو شکوہ کیا تو شکوہ۔۔”ناک سکیڑ کر کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور ٹیبل پر پڑے جگ سے اسکے لئے پانی نکالا تھا۔

اسے پانی کا گلاس تھما کر وہ وارڈروب سے اسکے کپڑے نکال رہی تھی کہ تبھی ریشم نے آکر نوک کیا تھا۔

“پریشے آپی مہمان آئیں ہیں گاؤں سے۔۔”

“گاؤں سے۔۔”ریشم کی بات پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔

“جی آغا جان بی جان بڑے خان سب آئے ہیں میں نے انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھایا ہے۔۔”

“دلشیر جلدی سے ریڈی ہوکر نیچے آئے میں جاتی جب تک دیکھیں ابھی بات ہورہی تھی میری اور ان لوگوں نے بتایا تک نہیں مجھے۔۔”اسکے پرجوش انداز پر وہ چاہنے کے باوجود بھی بےرخی نہیں جتا سکا تبھی سر ہلا کر کپڑے لئے واشروم میں بند ہوا تھا۔۔

فریش ہوکر وہ نیچے آیا تو نیچے کا تو ماحول ہی بدلہ ہوا تھا۔

وہ سب کے درمیان بیٹھی ہنسے جارہے تھی خوشی اسکے انگ انگ سے نمایاں تھی۔۔

دلشیر کو اس پر کسی پری کا گمان ہوا تھا۔

اسے ہوں کھڑے دیکھ آغا جان اپنی جگہ سے اٹھے تھے کمرے میں ہونے والا شور ایک دم تھما تھا۔۔

“دلشیر میرے بچے۔۔”اس کے پاس آکر انہیں نے محبت سے اسے گلے لگایا تھا دلشیر کو اپنا کاندھا بھیگتا محسوس ہوا تھا

“ہمیں معاف کردو ہم نہیں سمجھ سکے کچھ بھی ہمارے لئے دولت ہی سب کچھ بن گئی تھی ہم لالچی ہوگئے تھے ہمیں لگتا تھا کہ یہ سب کر کے ہم تم لوگوں کو بہتر زندگی دے سکتے ہیں مگر اب ہم نے جانا کے کسی کے حق کو چھین کر ہم اپنے بچوں کو صرف ایک کھوکھلی زندگی سے سکتے ہیں وہ کبھی انصاف پسند نہیں بن سکتے ہمیں معاف کرو بیٹا ہمیں بہت دیر سے اس بات کا اندازہ ہوا ہم نے ان سب سے معافی مانگی ہے جن جن کا ہم نے دل دکھایا ہم نے سب کو ان کا حق واپس کردیا ہے دیر سے ہی سہی مگر ہم نے حقیقت کا سامنا کرلیا ہے۔۔”

“ہاں بیٹا اپنے بابا کو بھی معاف کردو جتنا قصور آغا جان کا ہے اس سے کئی زیادہ میرا ہے میں اندھا ہوگیا تھا ہم رشتوں کو سمجھ ہی نہیں سکے ہمیں معاف کردو۔۔”ان دونوں کو یوں معافی مانگتا دیکھ اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔

“ہم تو شاید ابھی بھی اسی دولت کے لالچ میں رہتے اگر پریشے حویلی نا آتی بنا کسی غرض کے اس نے جتنی خوبصورتی سے اپنے رشتے نبھائے ہمیں خوشی ہے کہ وہ تمہارا انتخاب ہے۔۔”

“ہم سب کو اپنے دل وسیع رکھنے چاہیے یہ تو ہی کہتا تھا نا تو پھر کیوں ایسے پتھر دل ہوگیا ہے دل۔۔۔”جانی پہچانی آواز پر دلشیر ایک دم سے پیچھے مڑا تھا۔۔

“فوزان۔۔۔”بے یقینی سی بے یقینی تھی وہ سب کچھ سوچ سکتا تھا مگر اپنے بچپن کے دوست اپنے یار کو یہاں دیکھنا اسنے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔

“دلشیر میرے یار۔۔”فوزان نے آگے بڑھ کر اسے سینے میں بھینچا تھا ناجانے کتنے آنسو ٹوٹ کر دلشیر کی داڑھی میں جذب ہوئے تھے۔۔

“اوئے شیر روتے نہیں ہیں۔۔”اسکے آنسو صاف کرتے فوزان نے محبت سے کہا تو وہ مسکرا دیا۔۔

“ائم سوری میں کچھ نہیں کرسکا تیرے لئے۔۔”نم آنکھیں کپکپاتا لہجہ۔۔۔ پریشے کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے اسے ہوں روتا دیکھ کر اسکی نظر میں وہ ایک مضبوط انسان تھا سخت چٹان مگر اسکا دل موم کا تھا۔۔

“شٹ اپ۔۔ زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں آگیا ہوں واپس دیکھ۔۔ “اپنے ہاتھ پھیلا کر فوزان نے گھوم کر اسے دیکھایا تھا۔۔

“آغا جان اور بابا آئے تھے میرے پاس معافی مانگنے اور میں نے انہیں دل سے معاف کردیا کیونکہ تو ہی کہتا تھا نا کہ ہر چیز کے پیچھے کوئی نا کوئی مصلحت چھپی ہوتی ہے تو دیکھ اگر میں گاؤں میں رہتا تو کبھی شاید کامیاب نا ہوتا اب دیکھ میں ایک کامیاب انسان ہوں۔۔”

“تھینک یو آغا جان بابا۔۔۔ تھینک یو۔۔۔۔”آغا جان کے گلے لگتا وہ بچوں کی طرح رویا تھا اس نے دس سال بعد بالآخر انہیں معاف کردیا تھا کیونکہ جسکی وجہ سے وہ ناراض تھا وہ انہیں معاف کرچکا تھا وہ غلط کا ساتھ دے کر اپنے دوست پر یہ ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا کہ اسے برباد کر وہ خوش ہے۔

پریشے کے جانے کے بعد آغا جان اور وحید خان دونوں اسپتال اور اسکول کی تعمیر دیکھنے گئے تھے اور وہاں دلشیر کا نام اسکی عزت دیکھ انہیں اندازہ ہوا تھا اتنے سالوں میں انہوں نے دولت تو کمائی مگر یہ عزت یہ رتبہ ان کا بیٹا ان پر بازی لے گیا

وہ دونوں شرمندہ تھے بے تحاشہ جبھی انہیں وقت لگا تھا دلشیر کا سامنا کرنے میں۔۔

دیر سے ہی سہی مگر انہوں نے سمجھ لیا تھا دولت سے کبھی رشتے نہیں کما سکتے رشتے تو دل سے بنائے جاتے ہیں کو آپ کے مرنے کے بعد بھی آپکو یاد رکھتے ہیں یہ دولت یہ زمین سوائے خسارے کے سودے کے کچھ بھی نہیں ہے۔۔

“چلو جی اب سب ٹھیک ہوگیا تو مجھے شادی دیکھنی اپنے بچوں کی۔۔”اس ایموشنل ماحول میں بی جان کی بات پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔

وہ دولہن بنی پور پور سجی اسٹیج پر بیٹھی تھی پورا گاؤں انکی شادی پر مدعو تھا عظمی نے اسے پانی کا گلاس تھمایا تو اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ گلاس لبوں سے لگایا تھا ہر فنکشن دھوم دھام سے کیا تھا۔

دلشیر اسکی ماں اور بہن بھائی کو لے کر آیا تھا اسکے لئے یہی بہت تھا کہ وہ لوگ اسکی خوشی میں شامل ہیں عظمی نے اس سے اپنے پچھلے رویے کی معافی مانگی تو اسنے بلا۔ جھجھک اسے معاف کیا تھا۔۔

ڈھول کی تھاپ پر اسے رقص کرتے اس محبت سے بھرپور شخص کو دیکھا تھا جو اسکی کل پونجی تھا اسکا مسیحا تھا وہ اسکی متاع حیات تھی ۔

وہ بیڈ پر بیٹھی تھی وہ اسکے پاس بیٹھا اسکا ہاتھ تھامے نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

“میری زندگی کا تحفہ ہوا تو تم کسی کی گئی نیکی کا انعام۔۔ میری زندگی مکمل کرنے میں خاندان کو جوڑنے کا بہت شکریہ۔۔ میں چاہوں بھی تو اس احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔۔”

“میں نے کوئی احسان نہیں کیا ہے دلشیر۔۔ رشتہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے بارے میں ہی سوچوں جب میرا آپ سے تعلق جڑا ہے تو یہ میرا فرض ہو یا نا ہو مگر مجھے کوشش کرنی ہے سب کو جوڑنے کی لڑائی جھگڑے سب بے معنی ہوتے ہیں ہم ایک دوسرے کا لباس ہیں اگر میرے لباس پھٹ جائے گا تو آپ سب سے پہلے اسے ڈھانپے گے اب چاہے یہاں بات لباس کی ہو یا میری ذات کی مجھے یقین ہے آپ مجھے کبھی رسوا ہونے کے لئے نہیں چھوڑیں گے تو پھر میں کیوں اپنے شریک حیات کا خیال نا رکھوں کیوں میں اسکے لئے باعث مسرت نا بنو۔۔ کیوں میں اسکے رشتوں کی حفاظت نا کروں۔۔؟”

اسکے انداز پر دلشیر نے نرمی سے اسکے ماتھے کو چوما تھا اور اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا ۔

چار سال بعد۔۔۔🥀🥀

“پریشے اسے دیکھو زرا سارے روم کا کباڑہ کردیا ہے اس آفت نے۔۔”دلشیر کی جھنجھلائی آواز پر اورآل رکھتی وہ کمرے میں آئی تھی جہاں وہ محترم اپنے بابا کی کمر پر بیٹھے تھے اور پورے کمرے میں کھلونے بکھرے ہوئے تھے۔۔

“شاہ ویز۔۔ آپ کے بابا تو ہیں ہی گندے بچے آپ کیوں ایسا کرتے میرے پیارے بیٹے۔۔”اپنے گولو مولو سے بچے کو گود میں بھرتی وہ شرارت سے بولی تھی۔۔

دلشیر نے ایک نظر گھور کر اپنی چالاک بیوی کو دیکھا تھا۔۔

“کرلو سہی ہے بھئی کرلو ناانصافی میں بھی اپنی بیٹی کے آنے پر یوں ہی آنکھیں پھیروں گا۔۔”اسکے منہ پھلا کر کہنے پر پریشے نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔۔

“بابا آپ چھوٹی کے آنے پر پارٹی بدلیں گے۔۔”ننھے شاہ ویز کو اپنے بابا کی بات سن کر جھٹکا لگا تھا کبھی خفگی سے کہتے اسنے ماں کے آنچل میں چہرہ چھپایا تھا۔۔

“میں جا رہا دادو پاس۔۔۔ دلشیر کے بال خراب کرتا وہ غصے میں واک آؤٹ کرگیا تھا اور دلشیر کے پریشے کو تنگ کرنے کے ارادے بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔

“بہت اچھا ہوا آپ کے ساتھ۔۔”اسے چڑا کر کہتے وہ دلشیر کی پہنچ سے دور ہوئی تو اسکے پیچھے بھاگا تھا۔۔

“اچھا تو اب میں کروں گا میڈم..”اسے بھاگ کر پکڑتا وہ دل سے ہنسا تھا۔

زندگی مکمل ہوتی ہے اگر ہمسفر حسین ہو دل سے۔۔ وہ خوش تھی اس نے جو چاہا تھا وہ پالیا تھا اور اسے یقین تھا کہ خوشیاں اس پر یونہی مہربان رہیں گے کیونکہ اسنے اپنے محرم کو اپنا دل مانا تھا۔۔۔

ختم شد🥀🥀