Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 10)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 10)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
“یا اللّٰہ میری مدد کریں اب تو مجھ سے ایک قدم بھی نہیں چلا جارہا۔۔”پیٹ پکڑے وہ رہیں سیڑھیوں پر بیٹھی تھی تھوڑا تھوڑا سب کھانے کے چکر میں اسکے پیٹ کا دیوالیہ ہو گیا تھا۔۔
“میڈم آپ دوپہر کے کھانے میں کیا کھائیں گی بتادیں۔۔”ریشم اسکے پاس آئی تھی اسے کھانے کا سوچ کر ہی کچھ ہوا تھا ۔
“نہیں نہیں مجھے بھوک نہیں تم لوگ بناؤ جو دل کرے۔۔”اسکے جلدی جلدی بولنے پر ریشم نے حیرت سے اپنی میڈم کو دیکھا تھا ہر بار ان کے تاثرات دیکھنے لائق ہوتے تھے۔۔
“اوکے میم۔۔”ریشم کے جانے کے بعد اس نے ایک بار پھر اپنا پیٹ پکڑا تھا۔۔
“کیا ضرورت تھی اتنا کھانے کی اب بیٹھی رہو درد میں یہ سب اس چھچھورے انسان نے جان کر کیا ہے پتا نہیں کس بات کا بدلہ لے رہے مجھ سے۔۔”
“شادی کرنے کی وجہ تک نہیں بتائی ضرور مجھے بیچ کر اپنا کاروبار چمکانا ہونا۔۔”اسے اپنی ہی سوچ پر جھرجھری سی آئی تھی۔۔
“یا اللّٰہ اب کیا کروں؟؟ اب تو پانی بھی نہیں جاسکتا پیٹ میں۔۔”پیٹ درد اب ناقابل برداشت ہورہا تھا تبھی اسنے ریلنگ سے سر ٹکایا تھا۔۔
“میم۔۔”
“ہممم”نیلم کی آواز پر اسنے بند آنکھوں سے جواب دیا تھا۔
“یہ کولڈ ڈرنک پی لیں اور تھوڑی سونف بھی کھا لیں اس سے آپ کے پیٹ کے درد میں آرام آئے گا۔۔”اسکی اگلی بات اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں۔۔
“اور سر نے کہا ہے کہ آپ کوئی گیسٹرک سیرپ پی لیں اور واک بھی کرلیں جس سے آپ آرام محسوس کرینگی۔۔”
“ہیں سر نے کہا مطلب انہیں کس نے بتایا؟؟؟” اسے ٹھیک ٹھاک شرمندگی ہوئی تھی۔۔
“میم یہ تو ہمیں بھی نہیں پتا۔۔”اسنے صاف جھوٹ بولا تھا۔۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے سب چیزیں چھوڑ کر ان سے سیرپ پیا تھا اور پھر تھوڑی سی سونف منہ میں ڈالی تھی۔۔
“یہاں میں کام نہیں کر رہی نا جبھی اتنا درد ہورہا ہے۔۔” خود سے سی الٹا سیدھا بولتے وہ اٹھ کر واپس کمرے میں آئی تھی۔
اتنا بڑا گھر پورا خالی تھا اسے ہمیشہ سے چھوٹے گھر پسند تھے چھوٹے اور بے حد خوبصورت۔۔
اور اب یہ گھر اتنا بڑا اور محل جیسا تھا مگر رہنے والے چار لوگ۔۔ ریشم اور نیلم دونوں ہی کام کے بعد سرونٹ کوارٹر میں چلی گئی تھیں اور وہ اسکا ارادہ کچھ کام کرنے کا تھا ان کے منع کرنے پر وہ چپ رہ گئی۔
ادھر ادھر دیکھتے غیر ارادی طور پر اسکی نظر بیڈ کے اوپر لگی اسکی تصویر پر پڑی تھی۔۔
کالے کلف لگے کاٹن کے سوٹ میں کندھوں کر وائٹ شال ڈالے لائٹ گرین آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی۔۔ وہ مہبوت سی اس تصویر کو دیکھے گئے تھی۔۔
“کیا تھا جو یہ شخص دل کا بھی اتنا ہی پیارا ہوتا۔۔”دل میں بولتے اس نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔۔
“ویسا اچھا ہے میری نظر لگے۔۔جان چھوٹے میری”اس نے بیڈ پر لیٹ کر غصے سے سوچا تھا۔۔
“میں نے سامان تو دیکھا ہی نہیں جو صبح آیا ہے دیکھوں یا نہیں؟ نہیں نہیں اگر دیکھو گی تو وہ ندیدہ سمجھیں گے۔۔”
“سوجاؤ بیٹا فضول کی سوچوں سے آزادی ملے گی ویسے بھی خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔”خود ہی سوال جواب کرتے اسنے آنکھیں بند کی تھیں۔۔
اسکی آنکھ کھلی تو کمرے میں ملیجگا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا لمحے کو تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ ہے کہا اور جب یاد آیا تو چہرے پر بیزاری سی چھائی تھی۔
اٹھ کر فریش ہوکر وہ باہر آئی تو گھڑی رات کے آٹھ بجا رہی تھی۔۔
“یا اللہ میں اتنی دیر تک کیسے سو گئی۔۔”اسے اپنے لیٹ سونے پر حیرت ہوئی تھی وہ کمرے سے اتر کر نیچے آئی تو ٹی وی کی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا جبھی جلدی جلدی قدم بڑھاتے وہ لاؤنج میں آئی تھی جہاں وہ محترم ٹانگ پر ٹانگ رکھے مزے سے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے زرا سی نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا اور واپس اپنا دھیان ٹی وی کی طرف لگایا تھا اسکا اگنور کرنا اسے سلگا گیا تھا۔۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے میرے گھر جانا ہے ابھی کہ ابھی۔۔ ” اسکے بولنے پر اسنے آنکھوں کو گھمایا تھا اور کوک کا کین منہ سے لگایا تھا۔۔
ہو۔۔۔۔۔۔اسکے ایک بار پھر نظر انداز کرنے پر اسکا منہ کھلا تھا۔۔۔
“مسٹر دلشیر میں آپ سے بات کررہی ہوں آپ سمجھ کیوں نہیں آرہا ہے۔۔؟ریموٹ اس سے چھین کر وہ ایک دم اسکے سامنے آئی تھی۔۔
“کیا بول رہی ہو سنائی نہیں دے رہا مجھے زرا پاس آکر بولنا۔۔”کین سائیڈ رکھتے دلشیر نے ایک قدم اسے اپنی طرف کھینچا تھا کہ وہ لہرا کر اسکی گود میں گری تھی۔۔
اس اچانک افتاد پر اسکے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔۔
“چھوڑیں مجھے دلشیر کیا کر رہے ہیں یہ آپ۔۔”اپنا آپ اسکی قید سے آزاد کروانے کے چکر میں وہ مزید اسکے قریب ہوئی تھی۔۔
“میری جان آپ کی بات سن رہا ہوں یہاں سگنلز کا اشو ہے نا آواز کلئیر نہیں آتی تو زرا قریب قریب رہنا پڑتا ہے۔۔”اسکے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کرتے اسنے اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپایا تھا۔۔
“دلشیر۔۔۔۔۔”اسکی قربت پر اسنے بوکھلا کر دروازے کی جانب دیکھا تھا جو لاک تھا۔۔
“دلشیر کی جان۔۔۔ کہو نا کیا کہنا ہے کب سے تمہیں سننے کا تمنائی ہوں سب سے بات کرتی ہو کھانے سے پانی سے دیواروں سے سیڑھیوں سے اپنے پیٹ تک سے بات کرتی ہو مجھ سے بھی کرو نا۔۔”اسکی گردن کو لبوں سے چھوتے وہ اسکے اوسان خطا کر رہے تھے دوسرا اسکی باتیں۔۔۔
“دیکھیں آپ چھوڑیں گے تو آپ سے بات کرونگی نا”اسکا لہجہ خود بہ خود میٹھا ہوا تھا دلشیر نے چہرہ جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔
“اور اگر میں نا چھوڑو تو؟؟”اسکے آئی برو آچکا کر اسے دیکھا تھا۔۔
“تو”.. پریشے نے اسے دیکھتے لمحے کو سوچا تھا۔۔
“آہہہہہہہہہ۔۔۔۔ “دلشیر کی چیخ اور اسکا قہقہ ایک ساتھ گونجا تھا کیونکہ دلشیر کے بال اسکی مٹھی میں تھے۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ تو یہ مسٹر دلشیر اب چھوڑیں مجھے۔۔۔”اسکی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ پھرتی سے اس سے الگ ہوکر اوپر کی طرف بھاگی تھی۔۔
“رکو تم آج تمہاری یہ لمبی چوٹی چھوٹی نا کی تو میں بھی دلشیر نہیں۔۔” برابر سے چیختا وہ اسکے پیچھے اوپر بھاگا تھا۔۔
“آپ دنیا کے واحد انسان سے جس سے میں ڈرتی نہیں ہوں تو جو کرنا ہے کرو۔۔۔۔ آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔۔”مڑ کر اسے کہتے اسنے دلشیر کو زبان چڑائی تھی اور جھپاک سے اندر کمرے میں غائب ہوئی تھی۔۔
“ہوں۔۔گہرے گہرے سانس بھرتے اسنے اپنا سانس بحال کیا تھا اور اسکی حرکت یاد کر کھل کر مسکرایا تھا۔۔
“چڑیل مجھ پر قابض ہوگئی۔۔”اپنی بات کو انجوائے کرتا وہ قہقہ لگا کر ہنسا تھا۔
ریشم اور نیلم کو کھانے کا آرڈر دیتا وہ اپنے مخصوص راستے سے کمرے میں آیا تھا جہاں وہ بیڈ پر لیٹی ہنسے جارہی تھی وہ مہبوت سا ہوگیا تھا اسکی ہنسی دیکھ کر وہ شاید پہلی بار اسے یوں کھل کر ہنستے دیکھ رہا تھا۔۔
“لگتا ہے کسی کا پیٹ کا درد ختم ہوگیا ہے”اسکی آواز پر پریشے کی ہنسی کو بریک لگی تھی وہ ایک دم اٹھ تم سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔۔
وہ مسکراتا اسکے پاس آکر بیٹھا تو وہ مزید پیچھے سرکی تھی ابھی نیچے جو وہ حرکت کرچکا تھا اس کے بعد اس سے واقعی کو امید نہیں تھی اسے۔۔
“کھانا ریڈی ہے چلو آجاؤ۔”اسکا ہاتھ تھام کر اسنے پریشے کو کھڑا کیا تھا۔
“بھوک نہیں ہے مجھے۔۔”اسکی گرفت سے اسکا ہاتھ چھڑواتی وہ منہ بنا کر بولی تھی۔۔
“کھانا سامنے ہوگا تو بھوک بھی لگ جائے گی چلو اٹھو۔۔۔وہ اسے زبردستی نیچے لے کر آیا تھا اور اپنے برابر والی چئیر پر بیٹھایا تھا۔۔
ٹیبل پر اپنے پسندیدہ کھانے دیکھ اسنے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
“یہ سب تو میری فیورٹ ہیں۔۔۔”اس نے دلشیر کی طرف دیکھ کر کہا تھا جس پر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔
“بلکل صبح میری بیوی پریشان ہورہی تھی نا یہ کھاؤ وہ کھاؤ کیا کھاؤ پیٹ کا سوچوں یا کھانے کا۔۔ دانتوں تلے لب دبائے اسنے شرارت سے کہا تھا پریشے نے ماتھے پر بل ڈالے اسے گھورا تھا۔
“میرا مذاق اڑا رہے ہیں آپ؟؟”
“ارے میری اتنی مجال کہ آپ کا مذاق اڑاؤں نانا بابا نا مجھے مرنا تھوڑی نا ہے”اسنے آنکھ دبا کر کہنے پر اس نے آنکھیں گھمائی تھیں۔
“چلو یہ بریانی کھاؤ پہلے۔۔ “اسکی پلیٹ میں بریانی ڈالتا اسنے ایک بائٹ اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔
وہ جھجھکی تھی مگر اسکے اشارے پر خاموشی سے اسکے ہاتھ سے کھایا تھا۔۔۔
اسے اس رشتے میں بندھے دو دن ہوگئے تھے مگر اس شخص سے اپنی بے تکلفی پر وہ حیران تھی ان دونوں نے تو کوئی بات ایسی بات تک نہیں کی تھی یونہی لڑتے جھگڑتے وہ اس سے اتنا بے تکلف ہوگیا تھا۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر دلشیر کو دیکھا تھا جو ایک نوالہ خود کھا رہا تھا اور دوسرا اسے کھلا رہا تھا۔۔
کھانے کے بعد وہ اسکا ہاتھ تھامے باہر لان میں آیا تھا۔۔
وسیع رقبے پر بنا وہ لان کم اسے بڑا سا پارک لگا جہاں بس بڑی بڑی رائیڈ کی کمی تھی۔۔
وہ اسے لئے سائیڈ میں بنے جھولے پر بیٹھا تھا۔
چاندنی رات میں اسکا ہاتھ تھامے وہ خود کو کسی ریاست کا شہزادہ ہی تصور کر رہا ہے۔۔
“کچھ پوچھنا ہے کوئی گلہ شکوہ کوئی شکایت؟؟ آج میں اس وقت تمہارا جوابدہ ہوں جو دل میں آئے پوچھ لو میں پورے دل سے سارے سوالوں کے جواب دونگا بلکل سچ۔۔۔”
اسکے ہتھیلی پر اپنا نام لکھتے اسنے مسکرا کر کہا تھا اسنے سر اٹھا کر ان ہری آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
“جو پوچھوں گی سچی میں جواب دینگے اسکا؟؟”اسے جیسے یقین نہیں آیا تھا جبھی دوبارہ سے اپنی تسلی کے لئے پوچھا تھا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔
“میرے ساتھ اس طرح کیوں کیا؟؟ مجھ سے ہی کیوں شادی کی آپ نے؟؟”اسکے لہجے میں چھپا شکوہ دلشیر نے محسوس کیا تھا تبھی اسکا سر جھکا تھا۔
“جواب دینے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ تم میرے بارے جان لو۔۔”اسے بول کر وہ لمحے کو رکا تھا۔
“میرا نام دلشیر ہے دس سال پہلے میں گاؤں سے شہر آیا تھا ہمم آیا نہیں تھا زبردستی بھیجا گیا تھا۔۔ وہ ایک لمبی اسٹوری ہے خیر میں نے اپنی پڑھائی کی بزنس اسٹارٹ کیا پھر سیاست میں حصہ لیا آغا خان یعنی میرے دادا ان کی ضد تھی میں یہ سب نہیں چاہتا تھا.”
“خیر پھر میں تمہارے کالج آیا تمہیں دیکھا تم اچھی لگیں تو میں نے رشتہ بھیجا۔۔”وہ وقت یاد کرکے وہ بے اختیار ہنسا تھا۔ وہ جو خاموشی سے اسے سن رہی تھی اسے ہنستا دیکھ ایک دم جیسے کہیں اسکی ہنسی میں کھو سی گئی تھی۔
“سچ بتاؤ تو اس سب کا تجربہ مجھے ہے نہیں اور گھر والوں کو شامل کرنا مطلب ان کی مرضی کی لڑکی سے شادی کرنا۔۔ میں ٹہرا اناڑی آدمی جو سمجھ آیا وہ کیا پھر تمہارے بابا کا پتا چلا تو انہیں سمجھایا مگر وہ مانے نہیں وہ تمہاری شادی جس سے کرنا چاہتے تھے وہ شخص اچھا نہیں تھا تو مجھے یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔۔”اپنی بات کہہ کر اسنے رک کر اسے دیکھا تھا جو سر جھکائے اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔۔
“اور کچھ پوچھنا ہے؟؟”اسنے ہلکا سا جھک کر اس سے سوال کیا تھا جس پر اسنے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“میں جانتا ہوں تم محبت تو دور مجھے پسند تک نہیں کرتی مگر میں اپنے دل کا کیا کرتا لیکن اب میں تمہیں موقع دے رہا ہوں مجھ سے محبت کرنے کا۔۔ اور مجھے یقین ہے تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے گی پھر تھوڑا ساتھ دینا پڑے گا میں بگڑا ہوا آدمی ہوں ہمیشہ سے لاڈ اٹھوائے ہیں پھر رلا بھی بہت ہوں۔۔”ماضی کی تلخیاں یاد کر وہ ہنسا تھا۔۔
“چلو رات ہوگئی ہے تمہارے ساتھی آگئے تو بڑا مسئلہ ہوجائے گا بولیں گے کہ اس سے بولا تھا سوال کرو اور خود ہی بول بول کر اب اٹھ گیا۔۔”اسے اپنی حرکت کا اندازہ تھا جبھی ہنس کر بولا تھا پریشے ہی اس واقعی سرپھیرے شخص کو دیکھا تھا جو اسکا ہاتھ تھامے مسلسل بولے جارہا تھا۔۔
اسے بیڈ پر بیٹھا کر وہ اپنی جگہ پر آکر بیٹھا تھا اور لائٹ آف کی تھی۔
اسنے خاموشی سے کمفرٹر کھول خود پر ڈالا تھا اور آنکھیں موندی تھیں تبھی دلشیر نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔
“آج سے محبت کرنا سیکھ بھی رہا ہوں اور سیکھا بھی رہا ہوں کبھی جو غلطی پر ہوں تو دو رکھ کر مار دینا افف بھی نہیں کرونگا۔ن”اسکے بالوں پر لب رکھتے اسنے سکون سے آنکھیں موندی تھیں۔۔
