Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 15)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 15)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
گاڑی اپنی منزل پر رواں دواں تھیں پریشے کو حصار میں لئے بیٹھا وہ سمجھ نہیں پارہا تھا آخر بات شروع کرے تو کہاں سے۔۔
اسنے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا جو اس وقت باہر کے راستوں میں کھوئی ہوئی تھی یہ اسکا پہلا سفر تھا اپنی زندگی کا جو وہ کراچی سے باہر کا کر رہی تھی اسکا اشتیاق دیکھنے لائق تھا۔۔
“پریشے کچھ کھانا ہے؟؟بھوک تو نہیں لگی؟”
دلشیر کے پوچھنے پر اسنے جھٹ سے نفی میں سر ہلایا تھا
“افف بھئی آپ کب سے یہی سوال پوچھے جارہے ہیں میں نے اچھا خاصا کھانا کھایا ہوا ہے تو کوئی ٹینشن کی بات نہیں ہے۔۔”اسکے انداز پر وہ بےاختیار مسکرایا تھا۔
“اب آپ جو کہنا چاہتے ہیں کھل کر کہہ سکتے ہیں۔۔”اتنے وقت میں وہ اسکے ہر انداز سے واقف ہوگئی تھی۔
اسکی بات پر اس نے گہرا سانس بھرا تھا
“مجھے یہ کہتے ہوئے بھی عجیب لگ رہا ہے مگر یہی حقیقت ہے حویلی میں کسی کو ہماری شادی کا علم نہیں ہے نا میں بتانا چاہتا ہوں مگر جس طرح کے حالات ہیں میں اس وقت اکیلے آکر تو بلکل بھی رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمہارا وہاں وارم ویلکم ہوگا سو۔۔۔”
“اٹس اوکے کوئی مجھے وہاں پسند نا بھی کرے تو کیا فرق پڑتا ہے بھئی آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں یہی بہت ہے بس آپ نہیں بدل جانا وہاں جاکر۔۔”اسکی انگلیوں میں انگلیاں الجھائے وہ وہ جس انداز سے بولی تھی کہ دلشیر ٹینشن میں ہونے کے باوجود مسکرایا تھا۔۔
طویل سفر کے بعد بالآخر گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل ہوئی تھی چاروں طرف کھیت کھلیان لہراتے سبزہ اوڑھے زمینیں۔۔۔
وہ مہبوت سے ان مناظر کو دیکھ رہی تھی اتنا خوبصورت گاؤں وہ تو حیران تھی۔۔
گاڑی کچی پکی سڑکوں سے گزرتی جارہی تھی تبھی دلشیر نے ایک زیر تعمیر عمارت کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔
“دلشیر اس پر تو آپ کا نام لکھا ہے”اسکا اشارہ سمجھنے کے بجائے اس نے الٹا سوال کیا تو وہ بے ساختہ ہنسا تھا
“تو بدھو لڑکی میں وہی بتا رہا ہوں کہ یہ میری جگہ ہے اور یہاں ہاسپٹل بنے گا۔”
“یہ آپکا ہاسپٹل ہوگا دلشیر؟؟”اسکے سوال پر اسنے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“اووو یعنی جب میں ڈاکٹر بن جاؤں گی تو آپ کے ہاسپٹل میں جاب کرونگی۔۔”اسکی خوشی اور ایکسائٹمنٹ دیکھ وہ ہنسا تھا۔
“جاب کیوں بھئی میڈم آپ کو مالکن ہونگی یہاں کی۔۔””
اس کی بات کر وہ پورے دل سے مسکرائی تھی۔۔
گاڑی ایک بے حد خوبصورت حویلی کے پورچ میں رکی تھی وہ حویلی اتنی بڑی تھی کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوئی تھی اسے تو اپنا گھر ہی بہت بڑا لگتا تھا۔۔
سارے ملازمین ان کی گاڑی کے گرد جمع ہوئے تو اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی
“دلشیر یہ اتنے لوگ کیوں جمع ہوگئے ہیں؟؟”اس کا بازو تھامے وہ گھبرائے لہجے میں بولی تو دلشیر نے اسکا ہاتھ تھپتھپایا تھا۔
“ریلکس کچھ بھی نہیں سب یہاں کہ ملازم ہیں میرے آنے کی وجہ سے یوں کھڑے ہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔”اسکے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتا وہ اسے لئے باہر آیا تھا
وہاں موجود لوگوں کا شور پریشے کو دیکھ کر تھما تھا سب کی نظریں خود پر محسوس کر وہ مزید سمٹ کر دلشیر کے پیچھے چھپی تھی۔۔
“ریلکس پریشے۔۔”اسکو آگے کرتے دلشیر نے اپنا حصار اسکے گرد باندھا تھا
“دلشیر میرے بچے۔۔۔”ثوبیہ بیگم آگے بڑھ کر اسکے گلے لگی تھیں مگر اسکے پہلو اس نازک و کومل سی لڑکی کو دیکھ وہ چونکی تھیں۔۔
“یہ پریشے ہے پریشے دلشیر۔۔۔۔ میری بیوی۔۔”اس کی بات پر انہیں جھٹکا لگا تھا۔۔
“بیوی… ؟؟ انہیں صدمہ ہوا تھا کہ ان کے بیٹے نے شادی کرلی اور انہیں پتا تک نہیں ہے۔
“جی۔۔ آپ کیا ساری معلومات آپ کو یہی لینی ہے۔۔”اسکے انداز پر وہ شرمندہ ہوتی مسکرائی تھیں۔
“نہیں نہیں آؤ نا بیٹا اندر جا رجو بہو نے استقبال کی تیاری کر۔۔ رجو کو حکم دیتے وہ ان دونوں کو لے کر آگے بڑھی تھیں۔۔
“بی جان کیسی ہیں ان کی طبعیت؟؟ “اندر قدم رکھتے ہی وہ مطلب کی بات کر آیا تھا۔
پریشے نے اسکا سرد رویہ محسوس ضرور کیا تھا مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ دلشیر سے اس کی وجہ ضرور پوچھے گی۔۔
“بی جان کا بی پی ہائی ہوگیا تھا ہم سب تو بہت ڈر گئے تھے تبھی بلایا تمہیں ابھی بھی وہ ہاسپٹل میں ہیں کل تک آجائیں گی اور طبیعت تو اب بہتر ہے ان کی۔۔ تم پریشان نہیں ہو”مسکرا کر کہتے انہوں نے پریشے کو جوس کا گلاس تھمایا تھا۔۔
“آپ یہ کیوں نہیں بولتی کہ مجھے یہاں بلانے کے لئے ڈرامہ کیا گیا ہے”اسکے تلخ لہجے پر جہان ثوبیہ بیگم نے سر جھکایا تھا وہیں پریشے سے سر اٹھا کر اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔
‘دلشیر پلیز۔۔۔۔”اپنے ہاتھ کر اسکے نرم و نازک ہاتھ کی گرفت محسوس کرتے اس نے سر جھٹکا تھا کچھ بھی تھا وہ ان معاملوں میں اسے انوالو نہیں کرنا چاہتا تھا جبھی چپ ہوگیا۔۔
ثوبیہ بیگم نے یہ بات واضح نوٹ کی تھی۔۔
“آپ جائیں اپنی بی جان سے ملنے۔۔”پریشے کے کہنے پر اسنے سر ہلایا تھا مگر اس سے پہلے ہی ثوبیہ بیگم نے انہیں منع کردیا۔
“نہیں بیٹا اتنے طویل سفر سے آئے ہو دلشیر بچے تم کال ہر بی جان سے بات کرلینا اور ویسے بھی وہ صبح ہوتے ہی یہاں آجائیں گی تو جانا بیکار ہونا اتنا طویل سفر کرکے وہاں جاؤ گے اور پھر واپس آنا پڑے گا بس کال کرلینا وہ ویسے ہی خوش ہوجا ئیں گی۔۔”
ثوبیہ بیگم کی بات پر اس نے سر ہلایا تھا۔۔
“بڑی بیگم کھانا تیار ہے لگا دیا ہے آپ لوگ آجائیں۔۔ ملازمہ کے کہنے پر انہوں نے سر ہلایا تھا
“چلو بیٹا آپ لوگ فریش ہوجاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں۔۔”پریشے کے گال تھپتھپاتے وہ مسکرائی تھیں
کھانے پر انہوں نے اچھا خاصا اہتمام کیا تھا۔۔
“یہ لو اور اچھے سے کھانا ہے اوکے۔۔۔”اسکی پلیٹ میں بریانی ڈالتے دلشیر نے اسے ہدایت دی تو وہ ہولے سے مسکرادی۔
ثوبیہ بیگم کو دلشیر کا یہ روپ بہت اچھا لگا تھا جس طرح وہ اسے ٹریٹ کررہا تھا انہیں وہ اپنا دلشیر تو لگ ہی نہیں رہا تھا ان کے خاندان کے مرد تو غصے کے تیز تھے کہاں کسی کی پرواہ کرتے تھے۔۔
کھانے کے بعد ثوبیہ بیگم اسے لئے اوپر دلشیر کے روم میں آئی تھیں دلشیر کال پر بات کر رہا تھا تو وہ اسے اشارہ کرتی ان کے ساتھ آگئی تھی۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دلشیر یوں آئے گا تو ساتھ میری بہو بھی ہوگی۔۔”ان کے لہجے میں اداسی تھی جو اسے بہت بری طرح محسوس ہوئی تھی۔۔
“میں جانتی ہوں آپ کو میں اچھی نہیں لگی ہو گی ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود اپنی بہو لائیں مگر۔ ۔”
“نہیں بیٹا ایسا بلکل بھی نہیں ہے اور نا میں نے ایسا کوئی خواب دیکھا ہے میرے لئے تو یہی بہت ہے کہ وہ یہاں آگیا ہے میں اسے دیکھ سکوں گی۔۔”
“اوہو میں بھی بس کیا بولتی رہتی ہوں چلو اب تم آرام کرو کل بی جان آجائیں گی تو پھر تو تمہیں بھی فرصت نہیں ملے گی آرام کی ۔۔”لہجے میں بشاشت لاتی وہ مسکرا کر بولتے اس کے کمرے سے نکل گئی تھیں
ان کے جاتے ہی وہ کپڑے لے کر واشروم میں گم ہوئی تھی۔۔
فریش ہوکر وہ باہر آئی تو کمرہ خالی تھا جس کا مطلب تھا وہ ابھی بھی اوپر نہیں آیا۔
تولیے کی مدد سے بال سکھاتے وہ آئینے کے سامنے کھڑی بال سکھا رہی تھی دماغ کہیں ان کے دن میں ہونے والے واقعات میں گھوم رہا تھا ہوش تو تب آیا جب اپنے گرد حصار محسوس ہوا۔۔
“کن سوچوں میں گم ہیں آپ میڈم؟؟”اسکے نم بالوں کی خوشبو سانسوں میں اتارتے اسنے پریشے کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائی تھی۔
“کچھ نہیں بس آپ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔”اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے وہ مسکرائی تھی۔۔
“اوہو ایسا کیا۔۔”اسکے گال پر اپنا گال مس کرتے اسنے کان کی لو کو دانتوں میں دبایا تھا کہ پریشے نے تکلیف سی آنکھیں بند کی تھیں اور پھر اسکے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مارتی منہ پھولا گئی تھی۔۔
اسکے یوں ناراض انداز پر نثار ہوتے اس نے پریشے کو اپنے روبرو کیا تھا اور اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔
اس کی آنکھوں کو نرمی سے چھوتا وہ اسکے گالوں پر آیا تھا اور پھر اپنا لمس وہاں چھوڑ وہ شدید قسم کی گستاخی کر بیٹھا تھا
کچھ وقت کا تقاضہ تھا کچھ محبت بھی بہت تھی اسے یونہی بانہوں میں بھرے وہ بیڈ پر لایا تھا اور اس پر سایہ افگن ہوا تھا۔۔
پریشے نے نم آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا تھا جو یونہی ہر سرد گرم میں اس کا سایہ بن جاتا تھا۔
اسکا لمس پاکر وہ معتبر ہوجاتی تھی اسکی ذات کی تکمیل اس شخص سے ہوتی تھی اسکے گرد بانہوں کو حصار باندھتے اسنے اپنا چہرہ ان مضبوط پناہوں میں چھپایا تھا۔۔
اسکی اس ادا پر وہ دل و جان سے قربان ہوا تھا اسے خود میں سمیٹتے وہ جیسے اس دنیا سے غافل ہوا تھا۔۔
اسکے سینے پر سر رکھے وہ اسکی بانہوں میں سمٹی بیٹھی تھی جس کا پورا دھیان اس وقت لیپ ٹاپ پر تھا ۔۔
صبح صبح آنے والی کال نے ان دونوں کی نیند ڈسٹرب کی تھی اور اب وہ کب سے اس لیپ ٹاپ کو ٹائم دیتا اسکا دل جلا رہا تھا۔
“دلشیر بس بھی کردیں کب سے اس میں گم ہیں آپ۔۔”اسکے نروٹھے انداز پر وہ مسکرایا تھا اور چہرہ مڑ کر اسکے ہونٹوں کو چھوتا وہ اسے گلنار کرگیا تھا۔
“اب ٹھیک ہے”اسکے شرارت سے کہنے پر پریشے نے ایک مکا اسے رسید کیا تھا
“دن بہ دن بےشرم ہوتے جارہے ہیں آپ انسان بن جائیں۔۔”منہ موڑ کر اسنے بھرپور ناراضگی ج مظاہرہ کیا تو وہ ہنس کر لیپ ٹاپ بند کرتا پورا اسکی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔
“اچھا اب بولوں میری جان دیکھو رکھ دیا کام۔۔۔۔”
“ارے یہ تو شعر بن گیا یار۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا اپنی بات خود ہی انجوائے کرتا وہ قہقہ لگا اٹھا تھا
“کیا بلکل ہی بچے بن جاتے ہیں آپ۔۔”اسے یوں بچوں کی طرح خوش ہوتے دیکھ پریشے نے بول کر ماتھے پر بکھرے اسکے بال سنوارے تھے۔۔
“بات تو ٹھیک ہے بچوں کے باپ بننے کی عمر میں خود بچہ بن رہا ہوں اب میں کیا کروں بچوں کی ماں کو مجھ پر رحم ہی نہیں آرہا۔۔”
اسکی اس بات پر وہ سٹپاٹاتے شرم سے لال سرخ ہوئی تھی اور اپنا چہرہ مزید جھکایا تھا
اسکے انداز پر وہ کھلکھلاتا اسے بانہوں میں بھینچ گیا تھا۔۔
“ایک بات پوچھوں دلشیر۔۔؟”اسکی شرٹ کر انگلی سے نقش بناتے اسنے سوال کیا تو وہ اسکا ہاتھ تھام سر ہلا گیا۔۔
“میں نے کل نوٹ کیا آپ کا رویہ آنٹی کے ساتھ بلکل بھی اچھا نہیں تھا کیوں؟ ایسے کون اپنی ماں سے بات کرتا ہے؟؟ اسکے سوال پر وہ بس اسے دیکھے گیا تھا جیسے اس سے اسی سوال کی توقع ہو اسکے انداز پر وہ ایک دم سر جھکا گئی تھی۔۔
“سوری مجھے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے گا۔۔”
اسکے شرمندہ سے انداز پر اسنے اسکے سر پر ہلکے سے ہاتھ مارا تھا
“حق ہے تمہیں پاگل سب کچھ پوچھنے کا میں بس یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا جواب دوں تمہیں۔۔”
“جو سچ ہے وہ بتادیں نا۔۔”اسکی انگلیوں میں انگلیاں الجھائے وہ سب جاننے پر باضد تھی دلشیر نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کر اسکے ماتھے پر چھوا تھا۔۔
“میرا جھگڑا ہے سب سے تو اسی وجہ سے میں ہوجاتا ہوں تلخ سب کے ساتھ کیا کروں؟
اسکے ہونٹ دبا کر کندھا اچکانے پر وہ اسے گھور کر رہ گئی تھی ایک طرف کہتا پوچھو اور اب بات ہی گول مول کردی۔۔
“بہت چالاک ہیں آپ جائیں اب میں نہیں پوچھتی کچھ ہاں جب آپ کو لگے کے آپ کو مجھے بتانا چاہیے تو مجھے بتا دیجئے گا۔۔”اسے بول کر وہ بیڈ سے اٹھی تھی کہ تبھی اسکا ہاتھ دلشیر کی گرفت میں آیا تھا
“ناراض تو مت ہو یار۔۔”اسکی التجا کر اسنے مسکرا کر دلشیر کا ہاتھ لبوں سے لگایا تھا
“ناراض نہیں ہوں آپ سے سمجھ سکتی ہوں کچھ باتیں اتنی آسان نہیں ہوتی کہ بتائی جائیں مگر کبھی کبھی چیزیں شئیر کرنے سے ان کے حل نکل آتے ہیں میں نہیں چاہتی آپ اپنی ماں سے یوں کھچے کھچے رہیں۔۔”
یہ رشتے بہت انمول ہوتے ہیں دلشیر ایک بار چلے جائیں تو واپس نہیں ملتے۔۔”اسے دبے لفظوں میں سمجھاتی وہ اسکی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی۔۔
