Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 14)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 14)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
چاندنی رات کا فسوں ٫ستاروں سے بھرا آسمان۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھامے کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی جو آج پوری آب و تاب سے افق پر جگمگا رہا تھا۔۔
“تھینک یو سو مچ میری زندگی کو روشن کرنے کے لئے،آج کے اس دن کے لئے۔۔”اسکا ہاتھ تھام کر دلشیر نے چاندنی رات میں چمکتے اسکے چہرے کو دیکھا تھا۔۔
“مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا پتا نہیں آپ کو سرپرائز پسند آئے گا یا نہیں۔۔”
“تم یہ سب کا بھی کرتیں تب بھی میں خوش ہی ہوتا میرے لئے تو یہی بہت ہے کہ تم نے میرے حوالے سے کچھ بھی یاد رکھا۔۔”دلشیر کی بات پر اسکے چہرے پر چمک سی آئی تھی۔
دلشیر نے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے پر آئے بالوں کو اپنی پوروں پر سمیٹ کر کان کے پیچھے کیا تھا۔۔
“آج مجھے اس چاند سے زیادہ تم حسین لگ رہی ہو۔۔”اسکے گرد حصار باندھتے دلشیر نے اسے اپنے قریب کیا تھا۔
“مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے دلشیر۔۔۔”دھڑکتے دل کے ساتھ آخر کار اس نے ہمت کر ہی لی تھی۔۔
“ہمم بولو میں سن رہا ہوں۔۔”اسکی زلفوں کی مہک اپنی سانسوں میں اتارتا وہ گہرے لہجے میں بولا تھا۔
اسکے لہجے پر پریشے کی ہتھیلی بھیگی تھی مگر اب جب سوچ لیا تھا تو ہمت تو کرنی ہی تھی جبھی تھوڑا سے اوپر ہوکر وہ اپنا چہرہ اسکے کان کے پاس آئی تھی۔۔
دلشیر نے اسکی کمر پر گرفت مضبوط کر اسکے سہارا دیا تھا۔۔
“میں محبت سے ناواقف سی لڑکی تھی جس کے لئے دنیا کبھی بے حد سرد تو کبھی بے حد گرم رہی ہے میں نے ہمیشہ اچھے برے رویوں کو سہا ہے مگر آپ کے پاس آکر آپ کے ساتھ رہ کر میں نے صرف محبتوں کو جیا ہے محسوس کیا ہے ان چھ مہینوں میں زندگی کو اتنا جیا ہے جتنا کبھی نہیں جیا۔۔”اسکے گردن کے گرد حصار باندھتے وہ لمحے کو رکی تھی۔۔
دلشیر کا دل اسکی دھڑکن کے ساتھ دھڑکا تھا۔۔
“آپ سے مل کر جانا میں نے خوشی کیا ہوتی احساسات کیا ہوتے ہیں محبت کیا ہوتی ہے پہلے زندگی بے معنی سی لگتی ہے ادھورے خواب ادھوری خواہشات،جھوٹے لوگ،کھوٹے رشتے۔۔۔ مگر ایک آپ کے وجود سے میں نے کئی رشتوں کو جیا ہے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کبھی یوں بھی میرے ساتھ ہوگا کہ ایک اجنبی میری زندگی میں آئے گا۔۔
میں نے تو کہانیوں میں پڑھا تھا کہ ایک شہزادہ آتا ہے وہ اس معمولی سی غریب سی لڑکی کا لے جاتا ہے اپنی اس دنیا میں جہاں سوائے خوشیوں کے کچھ نہیں ہوتا تھا مجھے پڑھ کر اچھا لگتا تھا مگر میں خود کو ان خوابوں کے کبھی اہل نہیں سمجھتی تھی میں نے کبھی دنیا کی رنگینی کے خواب نہیں دیکھے کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں کبھی ان خوابوں کو جی نہیں پاؤ گی۔۔”
وہ مہبوت سا اسکا ایک ایک الفاظ سن رہا تھا وقت جیسے ٹہر سا گیا تھا چاند تارے جھک کر اس پگلی کو سن رہے تھے جو آج اپنا دل کھول کر اس شہزادے کے آگے رکھ رہی تھی۔۔
“پھر میری زندگی میں ایک شہزادہ آیا جسے میں نے ایک دیو سمجھا جو مجھے اٹھا کر اپنی قید میں لے آیا مگر جب میں نے اسے سمجھا اسے جانا تو احساس ہوا کہ وہ تو شہزادہ ہے جو مجھے ایک ایسی قید سے رہائی دلا گیا ہے جو میرے اپنوں کی دی ہوئی تھی۔۔
وہ اجنبی میرے لئے سراپا محبت تھا اسے میرے نفرت بھرے لہجے کر ہنسی آتی تھی وہ کبھی مجھ پر غصہ نہیں ہوتا تھا وہ میرے لئے سر سے پیر تک صرف محبت ہی محبت تھا اسکی محبت اسکا ہر انداز دیکھ ہمیشہ ڈر جاتی تھی کہ اگر یہ سب خواب ہوا اور آنکھ کھلنے پر سب تحلیل ہوگیا تو میں کیسے برداشت کرونگی مجھے تو اب اسکی عادت ہوگئی ہے مگر پھر میں نے جانا مجھے اس شخص کی عادت نہیں مجھے اس شخص سے محبت ہوگئی ہے۔۔۔۔۔”.
“مجھے دلشیر سے محبت ہوگئی ہے اتنی کہ اب ان کے بغیر زندگی خالی سی لگتی ہے۔۔۔”
اسکے اظہار کر جیسے وہ ساکت ہوا تھا۔۔
وہ آج کے دن سب سوچ سکتا تھا مگر یہ اظہار تو اسکے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔۔
پریشے نے آہستہ سے اپنے لب اسکے گال کر رکھے تھے اور ایسا کرتے اسکا دل ناجانے کتنی بار رک رک کر دھڑکا تھا۔۔
دلشیر نے بےاختیار اسے بانہوں میں بھینچا تھا۔۔
“یہ۔۔۔یہ میری زندگی کا سب سے حسین تحفہ ہے۔۔”اسکے بالوں پر لب رکھتے اس نے کہا تو پریشے کو اسکے لہجے کی کپکپاہٹ واضح محسوس ہوئی تھی جبھی اپنی گرفت اسکے گرد مزید سخت کی تھی اور اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا تھا۔۔
“تھینک یو سو مچ میری جان تھینک یو سو مچ۔۔۔ مجھے محبت کرنے کے لئے مجھے میری غلطیوں کے لئے معاف کرنے کے لئے۔۔۔۔
مجھے ایک فیملی کا احساس دلانے کے لئے۔۔۔اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ جذبوں سے چور لہجے میں بولا تھا اور اسے ایک دم سے بانہوں میں بھرا تھا کہ اس افتاد پر وہ ایک دم سے بوکھلائی تھی۔۔
“دلشیر””اسکی شرٹ مٹھیوں میں دبوچے وہ ایک سے بولی تھی مگر وہ بنا اسکی سنے اسے روم میں لایا تھا اور آہستہ سے اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس پر حاوی ہوا تھا۔۔
پریشے نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں۔۔
“ایسا کرکے میرے دل کو مزید بےلگام کررہی ہو مسزز۔۔۔”اسکے کپکپاتے لبوں پر ہاتھ رکھ اسنے سرگوشی کی تھی۔۔
“دلشیر آپ کو کل جانا ہے نا آفس تو سوجائیں۔۔”اپنا دامن بچانے کو آہستہ سے بولی تھی جس پر دلشیر نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“محبت پاس ہو رات چاندنی ہو تو کون کمبخت سونا چاہے گا؟؟”اسکی بے پر کی بات پر پریشے نے اسے گھورا تو وہ قہقہ لگا اٹھا اور آہستہ سے اسکے ماتھے پر لب رکھتے اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکایا تھا۔
اپنی ناک سے اسکی ناک سہلاتا وہ اسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
“دلل۔۔۔شیر۔۔۔۔”اسکی سانسوں کی تپش سے گھبرا کر وہ بے ساختہ اسے پکار بیٹھی تھی جو اب اسکی آنکھوں پر لب رکھتے مزید قریب ہوا تھا۔۔
“ریلکس “اسکے چہرے پر آڑی ہوائیاں وہ اسکی ہاتھوں کو تھام کر بولا تھا مگر ریلکس ہونے کے بجائے وہ مزید اسکے سینے میں چھپی تھی یہ جانے بغیر کے ایسا کر وہ دلشیر کی جان مشکل میں ڈال رہی تھی۔۔
دلشیر نے بےاختیار ہوکر اسکا چہرہ اوپر کیا تھا اور اسکے چہرے پر جھکا تھا پریشے سے سختی سے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچا تھا۔۔
اسکا لمس اپنے نقوش پر محسوس کرتی وہ مزید سمٹی تھی وہ اسکے قریب تھا بے حد قریب کہ اسکی سانسوں خوشبو اسکے اپنے چہرے سے ٹکراتی محسوس ہورہی تھذی اسکی شہہ رگ پر لب رکھتا اسے مزید اپنے حصار میں قید کررہا تھا پریشے نے اپنی بانہوں کا حصار اسکے گرد باندھا تو وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے مزید اپنے قریب کر گیا تھا۔۔
“میری زندگی میں آنے کے لئے اور اسے خوبصورت بنانے کے لئے بے حد شکریہ۔۔۔”
“میں وعدہ کرتا ہوں زندگی میں کبھی کوئی تکلیف نہیں آنے دونگا ہمیشہ تمہاری حفاظت کرو گا اور یونہی ہمیشہ تم سے محبت کرتا رہوں گا۔۔
میں دلشیر پریشے سے بے انتہا محبت کرتا تھا کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔۔
اسکے ہونٹوں کو چھوتے وہ دیوانہ سا ہوا تھا اور اسے خود میں کیا تھا۔
اسکا ایک ایک نقش چومتے وہ اسے اپنی محبت کا احساس دلا رہا تھا
کھڑکی سے جھانکتا چاند اس ملن پر بادلوں کی اوٹ میں کہیں جا چھپا تھا۔۔۔
صبح اسکی آنکھ کھلی تو خود کو دلشیر کے حصار میں قید پایا تھا رات کا منظر یاد کر اسکے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے تھے اس نے چہرہ اٹھا کر اس مغرور شہزادے کو دیکھا تھا جو رات اپنے ایک ایک عمل سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ کتنی اہم ہے اسکے لئے۔۔
اسکے ماتھے کر بکھرے بالوں کو اپنے ہاتھ سے سمیٹتے اسنے دلشیر کی ان آنکھوں کو چھوا تھا یہ آنکھیں اتنی حسین تھی مگر اسے لگتا تھا جیسے کئی راز ہیں ان آنکھوں میں۔۔
اسکی کھڑی ستواں ناک مونچھوں تلے موجود ہونٹ۔۔۔
وہ کسی یونانی دیوتاؤں جیسا تھا اسکے لبوں کو چھوتے وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔۔
“میرا ایمان مزید خراب کر رہی ہو جانی پھر شکایت نا کرنا۔۔”دلشیر کی آواز پر اسکے چہرے کے نقوش کو چھوتی انگلیاں تھمی تھیں۔
وہ جاگ رہا تھا اسے کیسے نہیں پتا چلا۔۔
“زیادہ ننھے سے دماغ پر زور نا دو فضول باتوں پر بس مجھ سے پیار کرنے کا سوچا کرو ہر وقت۔۔۔ کروٹ لیتے اسنے پریشے کا سر اپنے ہاتھ پر رکھا تھا اور اسے قریب کرتے اسکی گردن میں چہرہ چھپایا تھا۔۔
“آپ کب سے جاگ رہے ہیں دلشیر۔۔۔”؟اسکی گہری سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کر اسنے مسکرا کر اسکے بالوں میں اپنی نرم و نازک انگلیاں الجھائی تھیں
“میری زندگی کی سب سے بہترین صبح ہے یہ”..
“آپ میری بات اگنور نا کریں جواب دیں آپ کب سے جاگ رہے ہیں؟؟”اسکے انداز پر وہ کھل کر مسکرایا تھا اور جھک کر اسکے لبوں کو چھوا تھا۔۔
“,میری زندگی میری بانہوں میں ہے تو ایسے میں کس کمبخت جو نیند آنی تھی۔۔”اسکے انداز پر کھلکھلائی تھی۔۔
“بس شروع یہ سستے عاشقوں والے ڈائیلاگ۔۔”اسکے بال بگاڑتے وہ ہنس کر بولی تھی تبھی اچانک دلشیر نے اسے بیڈ پر ڈالا تھا اور خود پر اس پر کسی ابر کی طرح چھایا تھا
“اس عاشق کا ابھی اصلی روپ دیکھا ہی کہا ہے تم نے میری جان۔۔”اپنے موڈ میں واپس آتے وہ اسکے نزدیک ہوا تھا۔۔
“خبردار کوئی فضول حرکت کی تو۔۔ جلدی سے اٹھیں اور فریش ہوں۔۔”اسکا موڈ آنے ہوتے دیکھ وہ بوکھلائی تھی اور اسکی گرفت سے نکل کر بھاگی تھی مگر ہائے رے قسمت کہ اس بار گرفت میں حد مضبوط تھی۔۔
فرار کے تمام راستے بند کرتا وہ ایک بار پھر اپنی منمانیوں پر اترا تھا۔۔
فون کی بیل پر اسکی آنکھ کھلی تھی نظر پہلو پر پڑی تو اسے اپنی جگہ سے غائب پایا تھا۔۔
موبائل اٹھا کر دیکھا تو گاؤں سے کال تھی جسے وہ نظر انداز کرتا اٹھ بیٹھا تھا فریش ہوکر نیچے آیا تو اسے کچن میں مصروف پایا تھا۔
نیلم اور ریشم کو دیکھ وہ اسے بس گھور ہی سکا جس پر وہ شرارت سے مسکرائی تھی۔
“آج آپ کا فیورٹ ناشتہ بنا ہے تو خبردار جو ناراض ہوئے”اسکے پاس بیٹھتے اسنے ہاتھ کی مٹھی گال پر رکھی تھی۔۔
“اسکا حساب لونگا میں کہا تھا نا ساتھ ناشتہ بنائے گے۔”اسنے روٹھے لہجے میں کہا تھا مگر نظریں اسکے دیدار میں مصروف تھیں جو اس وقت رائل بلو فراک میں تیار نکھری نکھری سی لگ رہی تھی اسکی محبت کا رنگ ہی اسے آج سب سے خاص بنا رہا تھا۔
اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا۔۔
“باس باس۔۔۔”وہ اسکے ساتھ بیٹھا آج کالج کی اسکی کہانیاں سن رہا تھا جب سے میڈیکل کالج میں اسکا ایڈمیشن ہوا تھا اسکے پاس ڈھیروں کہانیاں تھیں تبھی کلیم کی آواز پر چونکا تھا
“باس”کلیم نے اشارے پر وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا تھا۔
“کیا ہوا ہے کلیم سب خیریت ہے نا؟ اسکے انداز پر وہ خود بھی پریشان ہوا تھا
” گاؤں سے کال آئی تھی وہاں حویلی میں آپ کی دادی کی طبعیت بہت خراب ہے آغا جان بھی ہاسپیٹل میں ہیں۔۔”
“بی جان کو کیا ہوا ہے؟؟”اپنی دادی کی خبر کر وہ پریشان ہوا تھا
“وہ آپ کو بہت یاد کررہی ہیں انکا بی پی کنٹرول میں نہیں آرہا آپ پلیز جائیں اور ہوسکے تو میڈم کو بھی ساتھ لے کر جائیں۔۔
کلیم کی بات کر وہ چپ ہوا تھا پریشے کو وہ ایسے ماحول میں لے کر نہیں جانا چاہ رہا تھا مگر ناجانے اسے وہاں کتنے دن لگ جانے تھے۔۔
“اچھا ٹھیک ہے تم گاڑی ریڈی کرواؤں میں پریشے کو کہتا ہو وہ تیاری کرے۔۔”
کلیم کو کہہ کر وہ خود اسکے پاس آیا تھا
“کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟؟”اسکو پریشان دیکھ وہ خود بھی پریشاں ہوئی تھی۔۔
“ہمیں گاؤں جانا ہے پریشے میری دادی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے میں نہیں جانتا مجھے کتنا ٹائم لگے گا تو بہتر ہے تم میرے ساتھ چلو۔۔”,
“گاؤں مطلب آپ کے گھر؟؟”اسکے پوچھنے پر اسنے سر ہلایا تھا
“تم ریڈی ہوجاؤ پیکنگ کے لیے نیلم یا ریشم کو بولتا ہوں میں۔۔”اسکے سر پر ہاتھ رکھتے دلشیر نے کہا تو وہ سر ہلا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جبکہ وہ خود وہیں صوفے پر بیٹھ گیا تھا اسے نہیں پتا تھا آگے کیا ہونے والا ہے مگر اسے پریشے کو پہلے سے ہی ریڈی رکھنا تھا۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ تیار ہوکر نیچے آئی تھی دلشیر نے اسکا ہاتھ تھاما تھا اور اسے لئے آگے بڑھا تھا۔۔
