Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 4)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 4)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
صبح اسکی آنکھ کھلی تو سر درد سے بھاری ہورہا تھا پوری رات سوچوں میں گزری تھی مرے دل کے ساتھ اس نے سارے کام نبٹائے تھے اور تیار ہوئی تھی
آج اسکی سالگرہ تھی مگر اسے کوئی خوشی نہیں ہے اور ہوتی بھی کیوں کونسا کوئی سیلبریٹ ہوتی تھی یا کوئی وش کرتا تھا عام دنوں جیسا دن کانوں میں گزر جاتا تھا اور دوسرا ابا کو ایسے چونچلے زہر لگتے تھے وہ جب جب گھر میں ہوتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر وبال کھڑا کردیتے تھے اسے تو یاد بھی نہیں پڑتا تھا کہ کب ابا نے اس سے محبت سے بات کی ہو وہ ہمیشہ سے ہی اکھڑ مزاج تھے کچھ وقت اور حالات نے انہیں کردیا تھا پڑھے لکھے نہیں تھے اس لئے نوکری کے لئے ہمیشہ خواری ہی اٹھائی تھی
اماں ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں اور اسکے بعد شام میں کسی گھر میں کیئر ٹیکر کے فرائض انجام دے رہی تھیں
وہ خود شروع سے کام کرنے کی عادی تھی گورنمنٹ میں پڑھنے کا ایک فائدہ تھا اسے کہ پیسے نہیں خرچ کرنے پڑتے تھے زیادہ دوسرا وہ ہمیشہ سے لائق بچی رہی تھی تو اسکالر شپ پر اسنے آگے پڑھائی جاری رکھی تھی اسکا خواب ڈاکٹر بننا تھا مگر یہ تو بس خواب ہی تھا جو شاید ہی کبھی شرمندہ تعبیر ہوپاتا
محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا پھر گھر کی زمہ داریاں۔۔
اسکا دماغ سوچوں میں الجھا ہوا تھا جوتے پہنتے وہ جلدی سے کالج کے لئے نکلی تھی
روبی اسکے لئے چاکلیٹ لائی تھی اس ایک چاکلیٹ نے جیسے اسے بے تحاشہ خوش کیا تھا
تھینک یو سو مچ روبی۔۔۔ تمہیں میری برتھ ڈے یاد تھی
وہ احساس تشکر میں گھر تھی اسکے انداز پر روبی مسکرائی تھی
میں نے تمہیں دل سے دوست مانا ہے تو تمہارے حوالے سے اتنا تو پتا ہونا ہی چاہیے نا مجھے۔۔
اسکی طرف گفٹ تھماتی وہ ہنس کر بولی تھی اور وہ گفٹ پیک دیکھ اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں
اوئے اوئے روتو عورت۔۔ ہر بات کر ایموشنل ہونا ضروری نہیں ہوتا۔۔
میں بہت خوش ہوں آج سچی میں۔۔ اسکے گلے لگتے وہ خوشی سے بولی تھی
جانتی ہوں ہر چیز عیاں ہے تمہارے چہرے سے چاہے خوشی ہو یا اداسی۔۔
روبی کی بات پر وہ جھینپ سی گئی تھی۔۔
ایک بار پھر بہت شکریہ یہ میری زندگی کا پہلا تحفہ ہے اسے میں ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گی۔۔
گفٹ کھولتے وہ محبت سے بولی تھی
ڈائری دیکھ وہ بے تحاشہ خوش ہوئی تھی کتنا شوق تھا اسے ڈائری لکھنے کا۔۔
تھینک یو سو مچ۔
فرط جذبات سے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں
اچھا بابا اب بس اتنا تھینک یو تو مجھے زندگی میں کسی نے نہیں کہا۔۔ روبی ہنس کر بولی تھی
تم خوش ہو تمہیں یہ پسند آیا یہی بہت ہے میرے لئے پاگل لڑکی۔۔
ہممم۔۔۔ اسنے مسکرا کر روبی کا ہاتھ تھاما تھا
کالج آف ہونے پر وہ اپنے مخصوص راستے سے گھر کی طرف بڑھی تھی مگر اچانک ہی ایک گاڑی اسکے سامنے آئی تھی اسکے قدم بے ساختہ رکے تھے
دل پر ہاتھ رکھ اسنے ایک قدم پیچھے لیا تھا
گاڑی میں اسی دن والی عورتوں کو نکلتے دیکھ اسے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
میڈم گاڑی میں بیٹھ جائیں۔۔
مجھے کہیں نہیں جانا راستہ چھوڑو میرا۔۔ پیچھے قدم بڑھاتے وہ غصے سے چیخی تھی
میڈم سر کا آرڑر ہے پلیز گاڑی میں بیٹھ جائیں۔۔
اس عورت نے نرمی سے اسے کہا تھا
بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارا سر سمجھ کیا رکھا ہے مجھے کوئی راہ چلتی ہوں جو یوں کسی کے ساتھ بھی منہ اٹھا کر چلی جاؤ گی۔۔۔
غصے سے کہتے اسنے واپسی کے لئے قسم بڑھائے تھے مگر تبھی کسی نے پیچھے سے اسے اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا اس سے پہلے وہ کچھ سوچتی سمجھتی اسکی آنکھیں بند ہوئی تھیں۔۔۔
مندی مندی آنکھیں کھول کر اس نے واپس بند کی تھیں
افففف۔۔۔اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا مگر کچھ یاد آنے پر اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں
سامنے کا منظر دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی تھیں
وہ کمرہ اسے کسی محل کا حصہ لگا تھا بے تحاشہ بڑا اور خوبصورت۔۔۔
میمم۔۔۔میں کہاں ہوں یہ۔۔ وہ ایک دم سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی سر بری طرح چکرایا تھا
یا اللّٰہ۔۔۔ گھڑی میں ٹائم دیکھ اسکی سہی معنوں میں جان نکلی تھی جبھی بھاگ کر دروازے تک آئی تھی اور پوری قوت سے دروزی پیٹا تھا
کھولو دروازہ مجھے گھر جانا ہے کھولو۔۔۔۔ وہ چیخی تھی
مسلسل دروازہ پیٹتے اسکے ہاتھ لال ہوگئے تھے
دلشیر خان۔۔۔۔ یوں بزدلوں کی طرح کیا چھپ کر بیٹھے ہو کھولو دروازہ جان کے لونگی میں آج تمہاری۔۔
ایک بار آؤ میرے سامنے منہ نوچ لونگی میں تمہارا۔۔۔
دلشیر۔۔۔۔۔ وہ طاقت سے چیخی تھی مگر دوسری طرف تو لگتا تھا سب کان میں روئی ڈھونسے بیٹھے تھے
تھک کر وہ بیڈ پر آکر بیٹھی تھی اور چہرہ ہاتھوں میں گرا کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی
اللّٰہ پاک میری حفاظت کریں پلیز مجھے نکالیں اس دلدل سے۔۔
بے دردی سے گال رگڑتے وہ فریاد کناں تھی کہ تبھی روم میں کلک کی آواز گونجی تھی اور دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔
اسنے ڈر کر پاس پڑا واس اٹھایا تھا
وہ اٹھ کر آگے ہوئے تھی اور دھڑکتے دل کے ساتھ آنے والے کو دیکھا تھا
لائٹ براؤن کلف لگا سوٹ پہنے اندر داخل ہوا تھا
ایسے استقبال ہوگا میرا سوچا نہیں تھا… اسکے ہاتھ میں واس دیکھ اسنے داد دی تھی
کیوں لائیں ہیں مجھے یہاں ؟؟ دو قدم پیچھے ہوتے اسنے ہمت کرکے سوال کیا تھا
اسکی یہ حرکت ان آنکھوں سے چھپی نہیں رہ سکی تھی
ہممم سچ بتاؤ؟؟ وہ مسکراہٹ دبائے ہلکے سے اسکی طرف جھکا تھا
اسنے مزید قدم پیچھے لئے تھے
ارادہ تو اپنی ہونے والی بیوی کی برتھ ڈے سیلبریٹ کرنے کا تھا مگر کیا ہے نا یہ کام تو سب ہی کرتے ہیں پھر سوچا آج کے دن شادی ہی رکھ لیتا ہوں وہ کیا ہے آج کل کی کہانیوں میں ٹرینڈ پر ہے یہ۔۔ شرارت سے کہتے وہ پاس رکھے صوفے پر کروفر سے براجمان ہوا تھا
میں دلشیر ہوں اور میں وہ کرتا ہوں کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔۔
مانتی ہو نا یہ بات؟؟ صوفے کی پشت پر ہاتھ رکھے اسنے سامنے کھڑی پری سے سوال کیا تھا
مجھے یہاں کیوں لائیں صاف سیدھی بات کیوں نہیں کرتے ہیں آپ ہوں بزدلوں کی طرح پیٹھ پیچھے وار کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے آپ کو شرافت سے مجھے یہاں سے جانے دیں ورنہ بہت برا ہوگا آپ کے لئے۔۔
اسے وارن کرتی وہ اپنی ساری ہمت اسے ہی دیکھا گئی تھی اور اسکی بات پر دلشیر کا فلک شگاف قہقہ گونجا تھا
ہنسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آئی سمجھ۔ اسکے ہنسنے پر اسکے آگ لگی تھی۔۔
ہنسوں نہیں تو کیا رواؤں؟؟ اسنے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر معصومیت سے سوال کیا تھا
پریشے نے اس گھڑی کو کوسا جب اسے سامنے آنے کی دھمکی دی تھی
دیکھیں پلیز مجھے جانے دیں میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا؟ تھک کر اسنے جیسے ہار مانی تھی
بگاڑا تو بہت کچھ ہے اور اسکا حساب بھی چکانا تم نے مگر ابھی نہیں وقت آنے پر۔۔
اپنی جگہ سے اٹھتا وہ لمحہ بہ لمحہ اسکے قریب ہورہا تھا
دیکھیں دور رہیں مجھ سے ورنہ میں سر پھاڑ دونگی۔۔ واس کا رخ اسکی طرف کرتے وہ غصے سے بولی تھی پورا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا
اپنے قدم پیچھے لیتے وہ ایک دم دیوار سے لگی تھی وہ اسکے مقابل آکر کھڑا ہوا تھا
اسنے نظریں اٹھا کر اس شخص کو تھا تھا جو کسی شہزادے سے کم نہیں تھا
کیا ضروری تھا وہ اسے ایسے ملتا۔۔۔
مارو مجھے۔۔ اسکا واس والا ہاتھ اوپر کرتے وہ سرگوشی میں بولا تھا
دلشیر کے کلون کی خوشبو اسکے حواس سلب کر رہی تھی اسنے تھک کر سر دیوار سے لگا کر گہری سانس بھری تھی
مجھے جانے دیں دیکھیں میں آپ کے کسی کام کی نہیں ہوں۔۔
کام کی تو ہو خیر۔۔ شرارت سے آنکھ دباتا وہ اس پر منوں پانی ڈال گیا تھا
اسنے نفرت سے اس شخص کو دیکھا تھا
اگر یہ تھرڈ کلاس ڈائلاگ ہوگئے ہوں تو مجھے جانے دیں میں نہیں ڈرتی آپ سے آئی سمجھ۔۔ اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے اسنے تیزی سے اسے دھکیلا تھا اور خود اسکی پہنچ سے دور ہوتی دروازے کے پاس آئی تھی اور پوری قوت سے دروازے پر ہاتھ مارا تھا کہ دروازے سے اسکا ہاتھ زخمی ہوا تھا
سی۔۔۔ درد سے اسکی سکسی نکلی تھی
کیا ہوا ہے پریشے دماغ جگہ پر ہے؟ اسکی آواز پر وہ جلدی سے اس تک آیا تھا اور اسکا ہاتھ تھاما تھا
ہاتھ چھوڑیں میرا دور رہیں مجھ سے زندہ ہوں مری نہیں ہوں میں اتنی سی چوٹ سے۔۔
اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کراتی وہ چیخی تھی
اس نے اپنے جبڑے بھینچ کر خود کو باز رکھا تھا
میں تمیز سے بات کر رہا ہوں تو سر پر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہے میرے ادھر دیکھاؤ کہا لگی ہے۔۔ غصے سے اسے ڈانٹتے اسنے واپس سے اسکا ہاتھ کر چوٹ کا جائزہ لیا تھا
اسکے دونوں ہاتھ سرخ ہورہے تھے
ہاتھ چھوڑیں میرا ٹھرکی انسان ۔۔ اسکی سخت گرفت سے سٹپٹاتی وہ مچلی تھی
جتنی زبان میرے آگے چلا رہی ہو نا اگر اتنی ہی خود کو ٹارچر کرنے والوں کے سامنے چلاؤ تو مانو میں تمہیں۔۔۔
اسکے طنز کرنے پر اسنے اپنا پیر پوری طاقت سے اسکے پیر پر مارا تھا
چھوڑو مجھے بہت ہوگیا ہے اب۔۔نہیں ڈرتی میں تم سے۔۔۔ ایک بار چھوڑو مجھے زندہ نہیں بچو گے تم۔۔۔
اسکو مارنے کو جھپٹتی وہ پاگل ہوئی تھی
پریشے چپ چاپ بینڈایج کرواؤ پھر جانا گھر۔۔۔
اسنے چونک کر دلشیر کو دیکھا تھا جیسے یقین کرنا چاہتی ہو۔
ایسے کیا آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی ہو دوا لگواؤ اور جاؤ اپنے گھر۔۔۔
دراز سے فرسٹ ایڈ نکالتے وہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا تھا اور روئی کی مدد سے لگا ہاتھ میں لگا خون صاف کیا تھا
وہ چپ چاپ اسکی کاروائی دیکھ رہی تھی مزید کچھ بول کر یہاں سے جانے کا موقع نہیں گنوا سکتی تھی
ہوگیا۔۔ اسکے ہاتھ کور کرتا وہ جیسے اپنی کارکردگی سے کافی متاثر ہوا تھا
پہلی لڑکی ہو جس کی مدد کی ہے شکریہ ادا کرو میرا۔۔
ہونہہ۔۔۔ رخ موڑ کر اسنے اپنے غصے کو قابو کیا تھا
جتنا تم نے میرا موڈ خراب کیا ہے نا اسکا بدلہ تو لونگا تم سے اب جاؤ باہر ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے اور گھر میں کیا بولنا ہے وہ سمجھا دے گا تمہیں۔۔
اپنے ہاتھ صاف کرتا وہ باہر نکل گیا تھا
عجیب آدمی۔۔ اسے یہاں لانے کا مقصد اسے سمجھ نہیں آیا تھا
جبھی چپ چاپ گاڑی میں آکر بیٹھی تھی
