240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 13)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

دن بہت تیزی سے گزر رہے تھے اسکے پیپرز اسٹارٹ ہوگئے تھے اور اسے پڑھانے کی زمہ داری دلشیر نے اپنے سر لی تھی حالانکہ وہ خود بے حد مصروف ہوگیا تھا کبھی گاؤں اور تو کبھی یہاں اپنا بزنس۔۔

ان دنوں میں اسے احساس ہوا تھا کہ وہ کس طرح کا شخص ہے وہ اوپر سے دیکھنے جتنا سخت نظر آتا تھا اندر سے اتنا ہی نرم اور پیارا تھا اگر کوئی اسے جان جائے تو یقیناً اسے دلشیر سے محبت ہو جائے۔۔

وہ روز صبح اسکے پاس بیٹھ کر تلاوت سنتی تھی پھر وہ دونوں واک پر جاتے تھے وہ رفتہ رفتہ اسکے رنگ میں رنگ رہی تھی دلشیر نے ٹھیک کہا تھا وہ اسے خود سے محبت کرنا سیکھا دے گا اور پریشے کو اب یہ ماننے میں کوئی شرمندگی نہیں تھی کہ ہاں اسے دلشیر سے محبت ہوگئی ہے۔۔

جس طرح وہ لمحہ لمحہ اسکے ساتھ رہنے کی کوشش کرتا تھا جس طرح اس نے پریشے کو مضبوط بنایا تھا وہ اسکی اسیر ہوگئی تھی۔۔

وہ دو دن سے اپنی نیند قربان کر اسے پڑھانے میں مصروف تھا وہ چاہتا تھا کہ اسکے نمبر اتنے اچھے آئیں کہ اسکا میڈیکل میں آرام سے ایڈمیشن ہوجائے پیپر کے فوراً بعد اسنے پریشے کے لئے ایک ٹیوٹر کا بندوبست بھی کیا تھا تاکہ تو انٹری ٹیسٹ میں فیل نا ہو۔۔

وہ پیپر دے کر باہر آئی تو اسے اپنا منتظر پایا تھا اسے دیکھ پریشے کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جبکہ وہاں موجود لوگ دلشیر کو دیکھ کر چونکے تھے کاروباری دنیا میں جہاں اسکا ایک نام تھا وہیں الیکشن جیتنے اور اسکے کام کی بنیاد پر وہ اکثر ہی سرخیوں میں رہتا تھا تو اسے دیکھ وہاں لوگوں کا چونکنا لازمی تھی۔۔

وہ بلیک تھری پیس پہنے

وہ تیزی سے تقریباً بھاگ کر اسکے پاس پہنچی تھی۔۔

“آپ کب آئے “؟پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے سوال کیا تھا۔۔

“سانس لو پہلے پھر بتاؤ گا۔۔”اسکے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ مسکرا کر بولا تھا۔۔

اسکی بات مانتی وہ گاڑی میں بیٹھی تو دلشیر نے دروازہ بند کیا اور گھوم کر اپنی جگہ پر آکر بیٹھا تھا۔

“پیپر کیسا ہوا؟؟”

“بہترین۔۔ آپ تیاری کروائیں اور پیپر اچھا نا ہو ایسا ہوسکتا ہے۔۔۔”اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی وہ دل سے بولی تھی اسکے انداز پر وہ تو جیسے نثار ہوا تھا۔۔

“ویسے اتنا تیار شیار کیوں ہیں کہیں جانا ہے آپ کو؟؟”اسے نک سک سے تیار دیکھ اسنے مشکوک انداز میں پوچھا تو وہ قہقہ لگا اٹھا

“ایک میٹنگ ہے پھر اسکے بعد ڈنر۔۔ اب اتنا تیار ہوکر جانا تو بنتا ہے نا مسزز۔۔ ان کی ناک کو دباتا وہ شرارت سے بولا تو وہ ہولے سے ہنس دی تھی۔۔

یونہی باتیں کرتے وہ گھر آئے تھے۔۔

“آپ نہیں آرہے اندر؟؟”اسے باہر سے ہی جاتے دیکھ وہ ایک دم پوچھ بیٹھی جس پر اسنے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“کیوں میٹنگ اور ڈنر تو شام کا ہے نا تو ابھی سے کیوں جارہے ہیں؟؟

“ارے یار میٹنگ کی تیاری کرنی ہے ویسے تو سب ڈن ہے بس دعا کرنا کہ سب اچھے سے ہوجائے۔۔”اسے وضاحت دیتے اسنے پریشے کا ہاتھ تھام کر کہا تو وہ مسکرا دی۔۔

“ضرور دیکھیئے گا آپ ضرور کامیاب ہونگے۔۔”اسکے انداز پر وہ مسکراتا اسے الوادع کہتا گاڑی آگے بڑھا گیا تھا۔۔

اسکے جانے کی تسلی کرتی جلدی سے اندر آئی تھی اور یونیفارم چینج کیا تھا اور پھر کلیم کو بول کیمرے بند کروائے تھے۔۔

“بھائی آپ نے سب چیک کرلیا ہے نا کیمرے بند ہیں نا کنفرم؟؟؟ “ریڈی ہوکر وہ جلدی سے نیچے آئی تھی اور ادھر ادھر دیکھتے کلیم سے پوچھا تھا۔

“بلکل بیٹا سب بند ہیں اور باس نے پوچھا تو میں نے کہہ دیا ہے کہ فالٹ آگیا ہے کچھ رات تک ٹھیک ہو جائے گا۔۔”کلیم کی بات پر اسنے سکھ کا سانس لیا تھا۔

“شکر ویسے بہت ہی کوئی چالاک انسان ہیں آپ کے باس سب پر نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ مگر آج ان کو پتا چلے گا ان سے بھی زیادہ چالاک ہوں میں۔۔”اسکے انداز پر وہ مسکرایا تھا واقعی دلشیر کو ایسا کہنے کی ہمت اسکی بیوی ہی کرسکتی تھی۔۔

“اچھا اب جلدی چلیں ان کو خبر ہونے سے پہلے ہم نے اپنی تیاری مکمل کرنی ہے ۔۔”

کلیم اسکے بولنے پر باہر گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔

“نیلم یار آجاؤ نا۔۔”اسنے باہر کھڑے کھڑے ہی نیلم کو پکارا تھا جو اپنا بیگ سنبھالتی بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی۔

“ریشم پلیز سب سیٹ کرکے رکھنا ہم بس یوں گئے اور یوں آئے۔۔”چٹکی بجا کر ریشم کر کہتے وہ دونوں گاڑی میں آکر بیٹھے تھے اور اب انکا رخ شاپنگ مال کی طرف تھا ۔

مال پہنچ کر اس نے اپنے بیگ سے ایک لسٹ نکالی تھی۔۔

“اوکے تو ہم لوگوں کا یہ ٹارگٹ ہے جسے ہم نے جلدی جلدی کمپلیٹ کرنا ہے بھائی اب اس ڈائریکشن میں جائیں میں اور نیلم اوپر کی طرف جاتے ہیں۔۔”کلیم کو دوسری لسٹ تھماتی وہ نیلم کا ہاتھ تھامے اوپر کی جانب بڑھی تھی۔۔

ایک شاپ سے دوسری شاہ دوسری سے تیسری اپنے ساتھ ساتھ اسنے نیلم کو بھی ٹھیک ٹھاک تنگ کیا تھا۔

اسکی خوشی دیکھ وہ دونوں بھی خوش تھے وہ دلشیر جے کے لئے سرپرائز پلین کررہی تھی تو وہ لوگ کیسے نا خوش ہوتے فائنلی کوئی آیا تھا جو ان کے باس کی خوشی کے لیے اتنی محبت سے کچھ کر رہا تھا۔۔

ساری شاپنگ مکمل کر وہ لوگ واپس گھر آئے تھے۔۔

“آپ دونوں ابھی آرام کریں تاکہ پھر جلدی جلدی سے ہم اپنا کام شروع کریں۔۔”ان دونوں کو آرام کا بول وہ خود کاپی پین کے ساتھ ایک طرف بیٹھی تھی۔۔

“بچے آپ تھوڑی دیر آرام تو کرلو۔۔”,انہیں آرام کا بول خود کے کام کرنے پر کلیم نے اسے بولا تو وہ نفی میں سر ہلا گئی۔۔

“,جب تک یہ کام نہیں ہوجاتا آپ کو پتا ہے میں سکون سے نہیں بیٹھوں گی تو بس یہ پلیننگ کرنے دیں اور آپ لوگ ریسٹ کے بعد آکر میری مدد کروائیں۔۔

ان دونوں کو زبردستی بھیجتی وہ واپس سے کام میں مگن ہوئی تھی اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ سارے مل کر لاؤنج کو ڈیکوریٹ کرنے میں مصروف تھے۔۔

اسن نے خود اپنے ہاتھوں سے کیک بنایا تھا وہ ریشم اور نیلم سے اکثر کچھ نا کچھ سیکھتی رہتی تھی اور آج دلشیر کے برتھ ڈے کے لئے اس نے اسپیشلی اسکی پسند کا کیک تیار کیا تھا ہر چیز سیٹ تھی بلکل اب بس اسے دلشیر کی آمد کا انتظار تھا اس سرپرائز کے علاؤہ بھی ایک سرپرائز تھا جو اسنے سب سے چھپا کر تیار کیا تھا اب اسے خود کو تیار کرنا تھا۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی تیاری مکمل کررہی تھی تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔

برش سائیڈ میں رکھتے اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا تو دلشیر کا میسج تھا اسکی میٹنگ کامیاب ہوئی تھی اور اب وہ گھر کے لئے نکل گیا تھا۔۔

میسج پر اسکے ہاتھوں میں پھرتی آئی تھی بارہ بجنے والے تھے باقی سب بھی تیار ہونے میں مصروف تھے۔۔

جلدی جلدی اپنی تیاری مکمل کرتے وہ نیچے کی طرف آئی تھی مگر وہاں سب کو پہلے سے موجود دیکھ اسے تسلی ہوئی تھی۔

“آپ آرام سے تیار ہو جائیں ہم سب ہیں یہاں سنبھال لینگے سب کچھ۔۔”ریشم کے بولنے پر وہ سر ہلا کر اندر آئی تھی اور ایک بار پھر آئینے میں اپنا عکس دیکھا تھا۔۔

ڈیپ ریڈ گھیردار فراک پہنے اسنے لائٹ سا میک اپ کیا تھا مگر لپ اسٹک ڈیپ ریڈ لگائی تھی کانوں میں موجود جھمکے۔۔ ایک لمحے تو وہ خود ہی شرما سی گئی تھی اور پھر اپنی حرکت پر ہنستے وہ نیچے آئی تھی دلشیر آنے والا تھا اور اسے اس کی آمد کا بے صبری سے انتظار تھا۔۔

اپنے وقت کے مطابق وہ گھر پہنچا تھا مگر حویلی کو اندھیرے میں ڈوبے دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ ایسا پہلے تو کبھی ہوا ہی نہیں تھا

آج کمرہ فالٹ کا سن کر اسے حیرانی ہوئی تھی کیونکہ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا مگر پریشے سے بات کر وہ مطمئن ہوا تھا وہ کوشش کررہا تھا کہ مسلسل اسکے ٹچ میں رہے مگر وہ محترمہ ناجانے کہاں مصروف تھیں۔۔

اسے لگا کہ پیپر ختم ہونے کی خوشی میں وہ محترمہ گھوڑے گدھے بیچ کر سوگئی ہونگی اسنے نکلتے ہوئے میسج بھی کیا تھا مگر جواب ندارد۔۔

گاڑی پورچ میں پارک کرتے اسنے اندر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔

جیسے ہی اس نے مین دروازہ کھولا ایک دم سے اندھیرے کمرے میں روشنی ہوئی تھی اور ایک دھماکے کے ساتھ اس پر پھولوں کی بارش ہوئی تھی۔۔

اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے مگر جب سامنے نظر پڑی تو اس نے بے یقینی سے پورے لاونج کو دیکھا تھا۔۔۔

ریڈ اور بلیک کمبینشن سے ڈیکوریٹ وہ پورا کمرہ جہاں جگہ جگہ اسکی تصویریں لگی ہوئی تھیں کچھ رینڈم پکس تھیں جو شاید اسکی لاعلمی میں لی گئی تھیں اور وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا یہ کام کس کا ہے۔۔

ہپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔

ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔۔

ہیپی برتھڈے ڈئیر دلشیر۔۔۔۔

پھولوں کی بارش اور اس دلربا کی آواز ۔۔

وہ جیسے ایک سحر میں گرفتار ہوا تھا

اسنے اس حسینہ کو دیکھا تھا جو اس وقت اسکی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی۔۔

ہیپی برتھڈے باس۔۔۔ کلیم آگے بڑھ کر اسکے گلے لگا تھا

نیلم اور ریشم نے بھی اسے وش کیا تھا باقی سب نے بھی اسے وش کیا تھا۔۔

وہ کے چہرے پر خوشی ہی خوشی تھی۔۔

“آگے آئیں نا دلشیر ۔۔”اسکا ہاتھ تھام وہ اسے آگے لے کر آئی تھی۔۔

“تمہیں کیسے پتا میری برتھڈے ہے آج؟؟ سامنے ٹیبل پر کیک دیکھ اس نے پوچھا تھا کہ اسکا فیورٹ فلیور تھا۔۔

“ایسی باتیں بتائی نہیں جاتی نظر لگ جاتی ہے جانی۔۔”😜 چپکے سے اسکی نقل اتارتی وہ شرارت سے بولی تو وہ ہنس دیا۔۔

“چلیں بھئی اب کیک کاٹیں ہم سب کب سے انتظار کر رہے تھے آپکا۔۔”

سب کو دیکھ اسنے جلدی سے چھری دلشیر کے حوالے کی تھی۔۔

پھر سب کی موجودگی میں اسنے کیک کاٹا تھا وہ کبھی اپنی برتھڈے سلیبرٹ نہیں کرتا تھا دوست وغیرہ وش کردیتے تھے یا زیادہ سے زیادہ ڈنر یوں پارٹیز کا اہتمام اس نے آج تک نہیں کیا تھا اور آج یوں یہ تیاریاں دیکھ اسکا دل انوکھی خوشی سے بھر گیا تھا۔۔

کیک کاٹ کر اسنے سب سے پہلے اپنی زندگی کو کھلایا تھا پریشے سے اسے کیک کھلایا تو وہ مسکرا دیا۔۔

سب نے باری باری اسے گفٹس دئیے تھے ۔۔

رات ایک بجے تک وہ لوگ اس چھوٹے سے فنکشن سے فارغ ہوئے تھے۔۔

سب کے جانے کے بعد وہ اسے لئے اوپر کی طرف آئی تھی ۔

“اب کیا رہ گیا ہے ؟” اسے اوپر کی جانب لے جاتے دیکھ وہ پوچھ بیٹھا تھا

“ابھی ایک سرپرائز باقی ہے اور مجھے یقین ہے یہ سرپرائز اس سرپرائز سے زیادہ اچھا لگے گا آپ کو۔۔”اسکے ہوں پر یقین انداز پر وہ ہنس دیا تھا اور اسکی پیروی کرتا کمرے میں داخل ہوا تھا مگر وہاں کا منظر دیکھ وہ سہی معنوں میں سرپرائز ہوا تھا۔۔

فل ڈیکوریٹ روم اور شیشے کی کھڑکی کے پاس ڈنر ٹیبل۔۔ جا پر سینڈڈ کنڈلز رکھی گئی تھیں۔

“پہلے برتھڈے سیلیبریشں اور اب ڈنر سیٹ..”اسکے گرد حصار باندھتے پریشے نے اسکے کان میں سر گوشی کی تھی۔۔

وہ بہت پہلے ہی سوچ چکی تھی کہ اسے اپنے دل کا حال اسے بتانا ہے جتنا وہ اسکے لئے کرتا ہے تو اتنا تو اسکا حق بنتا تھا کہ وہ اپنی محبت سے اظہار سن سکے۔۔

وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے ٹیبل تک لایا تھا اور چئیر پیچھے کر اسے بیٹھایا تھا۔۔

“تھینک یو مسٹر۔۔۔”اس نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔

وہ خود جاکر سامنے بیٹھا تھا۔۔

کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا اور یہ کینڈل لائٹ ڈنر۔۔۔

“یہ میری زندگی کا بیسٹ برتھ ڈے ہے۔۔”اسکا ہاتھ تھامتے وہ محبت سے بولا تھا

“اور یہ میری زندگی کے سب سے خوبصورت دن ہیں جنہیں میں کبھی نہیں بھول سکتی۔۔”

“چلیں اب جلدی سے کھانا اسٹارٹ کریں ٹھنڈا ہوجانا ہے۔۔”اسکی پلیٹ میں کھانا سرو کرتے اس نے کہا تو وہ سر ہلا گیا۔۔

کھانے کے بعد میوزک سسٹم آن کرتے اسنے اپنا ہاتھ پریشے کے آگے پھیلایا تو اسنے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما تھا اور اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔

دلشیر نے اسکا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما تھا۔۔

اسے ڈانس نہیں آتا تھا مگر وہ اسکے رنگ میں رنگنا چاہتی تھی تبھی اسکے قدم سے قدم ملانے لگی تھی کمرے میں محصور کن خوشبو کا راج تھا میوزک سسٹم کر بجتا گانا ان دونوں کے دلوں کا حال بیان کر رہا تھا ۔۔

جگنوؤں سے بھر کہ آنچل۔۔۔

اسکی کمر کے گرد اپنی گرفت مضبوط کرتا اسنے ایک اسٹیپ آگے اور پیچھے لیا تھا۔

بیت جائیں کہیں نا یہ پل۔۔۔

دلشیر نے اسے گول گھما کر خود سے قریب کیا تھا اور اسکے ماتھے پر اپنے سلگتے لب رکھے تھے۔۔

کل جو ہوگا دیکھ لیں گے ہم۔۔۔۔

کل جو ہوگا دیکھ لینگے ہم۔۔۔

اسکے نازک لبوں کو اپنی گرفت میں لیتا وہ مدہوش سا ہوا تھا۔۔