Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 12)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 12)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
اسکے جانے کے بعد وہ اداس سے لاونج میں آکر بیٹھی تھی وہ شخص کتنا عجیب تھا اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا ان تین دنوں میں اس نے اس انسان کے کئی روپ دیکھے تھے اور اسکا ہر روپ لاجواب تھا۔
“میڈم شاپنگ پر جب بھی چلنا ہو آپ مجھے کال کر لیجئے گا سر نے یہ موبائل دیا ہے آپ کو دینے کے لئے.”کلیم نے اسکے آگے برینڈ نیو موبائل تھمایا تھا۔
“اسکا میں کیا کرونگی بھائی؟”
اس سے آپ سر سے رابطے میں رہیں گی وہ وہاں پہنچ کر آپ کو کاک کرینگے دوسرا انہوں نے بولا تھا کہ آج آپ کو لازمی اپنا سامان لانا ہے تاکہ آپ اپنی پڑھائی پر فوکس کر سکیں آپ کے پیپر کی ڈیٹس بھی قریب ہیں۔۔”
“انہیں کس نے بتایا میرے پیپرز کا؟ میں نے تو نہیں بتایا تھا۔”
“وہ آپ کے کالج گئے تھے تو وہاں سے معلوم ہوا تھا انہیں تو آپ بتا دیں کب چلنا ہے؟”
“اوووو۔۔ شام تک چلتے ہیں ابھی تو نیلم اور ریشم دونوں بزی ہیں وہ دونوں بھی تھوڑا آرام کرلیں پھر چلیں گے۔۔”
“اوکے میم۔۔”کلیم سر جھکا کر باہر چلا گیا تو وہ اٹھ کر کچن میں آئی تھی۔
“کیا بنا رہی ہو نیلم۔؟”نیلم کے پاس کھڑے ہوتے اسنے سوال کیا تھا۔
“چکن کباب اینڈ کڑاھی اگر آپ کو کچھ اور کھانا ہے تو وہ بھی بتا دیں۔”
“نہیں نہیں بس بس کباب کافی ہے ویسے اگر تم لوگوں نے کڑاھی کھانی ہے تو بنا لو۔۔”
میم ہم تو اپنا کھانا الگ بناتے ہیں”ریشم کے بولنے پر اسے حیرت ہوئی تھی کہ اتنا سارا کھانا اکیلے اس کے لئے۔۔
“پھر ایک کام کرو صرف کباب ہی بناؤ میں اکیلی اتنا تھوڑی کھاؤ گی۔۔”
“اوکے میم۔۔”اسکی بات کر ریشم نے سر ہلایا تھا۔
“ریشم کیا میں تم لوگوں کا ایریا دیکھ سکتی ہوں میں نے تو ابھی تک اس حویلی کو بھی ٹھیک نہیں دیکھا”
“کیوں نہیں میڈم ضرور دیکھ سکتی ہیں آجائیں میں آپ کو دیکھاتی۔۔”ریشم نے مسکرا کر کہا تھا اور اسے لئے سرونٹ کوارٹرز کی طرف آئی تھی
اسکی جگہ کی بناوٹ بھی اندر حویلی کی طرح ہی تھی اسے یہ ایریا بہت زیادہ اچھا لگا تھا یہاں کا کچن ہر چیز ریشم نے اسے یہ بھی بتایا کہ دلشیر ان کا بہت خیال رکھتا ہے۔۔
اسے دلشیر نے انسیت سی محسوس ہوئی تھی۔۔
“میم آپ بات بولوں؟”ریشم نے اجازت لینے کر اسنے سر ہلایا تھا۔
“ہم نے کبھی سر کو اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا وہ اب رہنے لگے ہیں اور یہ آپ کی وجہ سے ہے۔”
“میری وجہ سے کیوں؟؟”
“کیونکہ آپ نے ان سے شادی کی ورنہ ہمارے سر تو شادی ہی نہیں کرنا چاہتے تھے وہ ہمیشہ سے روعب و غصے والے ہیں مگر انکا دل بہت صاف ہے وہ جھوٹ نہیں بولتے نا جھوٹ بولنے والوں کو پسند کرتے ہیں بس ہماری ایک ریکوسٹ ہے آپ کبھی انہیں کوئی تکلیف مت دیجئے گا۔۔”
ریشم کی بات پر اسنے سر جھکایا تھا۔۔
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ اس شخص کا رویہ ہی اسے عجیب سی کشمکش میں ڈال رہا ہے بھلا کوئی اتنا اچھا کیسے ہوسکتا ہے۔۔
وہ ان دونوں کے ساتھ شاپنگ مال آئی تھی اور یہاں قدم قدم پر جس قدر اہمیت اسے مل رہی تھی اسے اچھے سے اندازہ ہوگیا تھا دلشیر کی اہمیت کا اسکے رتبے کا۔۔
نیلم اور ریشم دونوں نے اسکی بے انتہا مدد کی تھی۔۔
وہ زبردستی ان دونوں کو لے کر چاٹ کارنر میں گئی تھی اور نا صرف خود دہی بڑے گول گپے کھائے بلکہ ان دونوں کو بھی ساتھ کھلائے تھے۔۔
“اففف کتنا مزہ آیا آج سچ میں ایسا تو بس خوابوں میں سوچا تھا میں نے۔۔”اسنے سوچ کر اپنے لئے آئسکریم لی تھی
“آج میں آپ کو پہلی بار اتنا خوش دیکھ رہی ہوں میم”اسکے خوشی سے چہکتے چہرے کو دیکھ نیلم نے مسکرا کر کہا تھا۔
“میں واقعی آج بہت خوش ہوں شاید ہی کبھی میں زندگی میں اتنا خوش ہوئی ہوں۔۔”
“تو پھر آپ دلشیر سر کو تھینکس بولیں کیونکہ کہی نا کہیں وہ آپ کی خوشی کی وجہ ہیں۔۔”
ریشم کی بات پر اسنے مسکرا کر سر ہلایا تھا واقعی آج اسکی وجہ سے تو وہ اتنا خوش تھی ورنہ گھر اور کالج کے علاؤہ اس کی کوئی زندگی تھی ہی نہیں۔۔
تبھی کچھ سوچ کر وہ واپس نیچے آئی تھی نیلم اور ریشم کو اسنے وہی رہنے کو بولا تھا اپنا کام کر وہ واپس اپنی جگہ پر آئی تھی
“کافی دیر ہوگئی ہے اب ہمیں گھر چلنا چاہیے “اسکے بولنے پر وہ لوگ واپس گھر آئے تھے اور راستوں کو دیکھ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ کونسا شہر ہے اسنے تو اس شہر کا یہ حصہ دیکھا ہی نہیں ہے کبھی۔
گھر آکر بھی وہ آج کے خوشگوار دن کو یاد کرتی رہی تھی اور اب اس شخص کی یاد جو ناہوتے ہوئے بھی ہر جگہ موجود تھا
اپنی بکس یونیفارم ہر چیز دیکھ دیکھ کر اسے اپنا ادھورا خواب پورے ہونے کا یقین ہوچلا تھا
وہ سارے کام نبٹا کر جلدی ہی گاؤں کے لئے نکل گیا تھا تاکہ رات میں جلد وہاں سے واپس آجائے۔۔
اگر زمین کا مسئلہ نا ہوتا تو وہ کبھی ان لوگوں کو اپنی شکل تک نا دیکھاتا۔۔
وہ سیدھا ڈیرے پر آیا تھا جہاں سامنے آغا جان اور وحید خان بیٹھے تھے۔۔
اسے دیکھ ان نے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔
“چلو کسی بہانے سے ہی سہی تمہاری شکل دیکھنا تو نصیب ہوئی”آغا جان اسکے پاس آنے پر خوشی سے بولے تھے اور اسے گلے لگانا چاہا تھا مگر وہ دو قدم پیچھے ہوگیا آغا جان کے چہرے پر آئی چمک ماند پڑی تھی۔۔
“میرے کام میں رکاوٹیں کر کے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح میرا دل آپ لوگوں کی طرف سے صاف ہو جائے گا تو یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے۔۔”اس کے سپاٹ لہجے کر وہ خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھے تھے ۔
“اگر اس طرح کر کے آپ کو لگتا ہے کہ میں اپنے قدم پیچھے لے لوں گا تو آپ کی غلط فہمی ہے اس کام میں آپ لوگوں نے مجھے زبردستی شامل کیا تھا مگر اب ان گاؤں والوں کے لئے کچھ کرنا میرا جنون بن گیا ہے اور آپ چاہے کچھ بھی کرلیں میں اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاؤ گا۔۔”
“دلشیر بیٹا تم سے کس نے کہا کہ اپنے قدم پیچھے لو آغا جان تمہیں دیکھنا چاہتے تھے ملنا چاہتے تھے جبھی انہوں نے تمہیں بلایا ہے اور رہی یہ زمین تو یہ دادا جان کی ہے اور آغا جان کو پورا حق ہے کہ وہ اس کام کو روک سکتے ہیں”
“وحید غلط بات مت کرو۔۔”ان نے انداز پر آغا جان نے انہیں ٹوکا تھا۔۔
“بولنے دیں انہیں آج انہیں ثابت کرنے دیں کہ اپنی اولاد کے خوابوں سے زیادہ یہ پیسہ یہ جائداد یہ زمینیں انہیں عزیز ہیں۔۔”اسکے کاٹ دار لہجے پر وحید صاحب نے پہلو بدلہ تھا۔
“دلشیر بیٹھ جاؤ بیٹے یہ سب تمہارا ہے یہ زمین یہ جائداد اسے تم تک تو آنا ہے۔۔”آغا جان کے بولنے پر وہ طنزیہ ہنسا تھا۔
“میرا ہے؟؟ واقعی مجھے دیکھ رہا ہے کہ یہ سب میرا ہے کہ میں اس اپنے سامان سے کسی کی مدد نہیں کر سکتا..”
“ایسا نہیں ہے دلشیر تم بیٹھو تو سہی ایک بار۔۔”آغا جان کے بولنے پر سر ہلاتا ان کے پاس بیٹھا تھا
“دیکھو بیٹا یہ زمین کڑوروں کی مالیت کی ہے اگر ہم اسے بیچیں گے تو ہمارا فائدہ بھی کروڑں میں ہی ہوگا۔۔”
ان کی بات پر اس نے سر ہلایا تھا
“تو آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں کام روک کر یہ زمین آپ لوگوں کے حوالے کردوں تاکہ اسے بیچ کر آپ فائدہ حاصل کرسکیں؟؟ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں آغا جان۔۔۔”
“اس میں صرف ہمارا ہی فائدہ نہیں ہے دلشیر اس میں ہم سب کا فائدہ ہے ان پیسوں سے تمہاری پارٹی کی فنڈنگ ہوگی اور جتنے بھی مسئلے مسائل ہیں وہ آسانی سے حل ہو جائیں گے۔۔”
“اور میرا یہاں کا کام اسکا کیا ہوگا؟؟”
“تم یہاں ایک فری کا اسکول بنا رہے ہو یہ ادارہ تمہیں کچھ نہیں دے گا بلکہ الٹا تمہارے اخراجات بڑھیں گے کیسے پورے کروگے؟؟ یا اپنا سارا کاروبار اس خیراتی ادارے پر ضائع کردو گے؟؟”وحید صاحب کی بات پر اس نے افسوس سے سر ہلایا تھا۔۔
آپ کو بتا ہے کیا چیز مجھے آپ لوگوں سے دور رکھتی ہے؟؟ آپ لوگوں کا لالچ پیسے حرض۔۔”
“اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ لوگوں کو بس یہ چاہتے ہیں کہ جہاں سے مل جائے سمیٹ لیا جائے چاہے وہ کسی کا حق ہی کیوں نا ہو۔۔”
“پہلے بھی آپ لوگوں نے یہی کیا ابھی بھی یہی کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے آنے والے سالوں میں بھی آپ لوگ یہی کرینگے۔۔”
“دلشیر آخر کب تک تم یونہی ہم سے بدگُمان رہو گے؟؟ “اس کے انداز پر آغا جان نے اسے کہا تھا۔
“جب تک آپ لوگ یونہی پیسے کے پیچھے بھاگتے رہیں گے اور وہ لوگ جو جن کی وجہ سے آپ اس مقام پر بیٹھے ہیں انہیں پیر کی جوتی سمجھتے رہیں گے۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے دلشیر۔۔۔”وہ دونوں اپنی طرف سے اس بات کو سنبھالنے کی کوشش میں تھے مگر وہ دلشیر تھا جو اپنی بات دادا کی رگ رگ سے واقف تھا۔۔
“اگر ایسا نہیں ہے تو میں یہ زمین کسی کو نہیں دونگا یہ زمین میری ہے بڑے دادا جان نے میرے نام کی تھی اور اب اس زمین کا مالک ہونے کی حیثیت سے میں کچھ بھی کروں اس کا آپ سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے اور بہت شکریہ میرا وقت برباد کرنے کا۔۔۔”دو ٹوک انداز میں اپنی بات کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔
“دیکھ رہے ہیں آپ اسکی احساس فراموشی اسے پالا بڑا کیا اور اب یہ ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہا ہے آپ کیوں اس کے آگے نرم پڑ جاتے ہیں آخر؟؟اسکے جانے کے بعد وحید صاحب آغا جان پر غصہ ہوئے تھے جو خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے تھے۔۔
“بیوقوفوں والی بات مت کرو وحید جانتے بھی ہو وہ کس مزاج کا ہے ہماری ایک غلطی اسے ہم سے مزید بدگمان اور دور کردے گی۔۔”
“تو کیا اتنی بڑی زمین ہم خیرات کردیں آغا جان اس زمین پر ضروری ہے خیراتی کام کیا جائے؟ کوئی بھی سستی سی زمین پر بھی تو یہ کام ہوسکتا ہے نا”
“صبر کرو وحید پھونک پھونک کر قدم رکھا کرو جلد بازی سب بگاڑ دیتی ہے وہ پہلے ہی ہم سے اتنا دور ہے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ مت کرو مگر تمہیں سکون نہیں ہے اب مزید کوئی بھی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”آغا جان کے بولنے پر انہوں نے خاموشی سے سر جھکایا تھا۔۔
رات کے بارہ بجے اسکی گاڑی حویلی کے پورچ میں آکر رکی تھی۔
گارڈ اسے دیکھتے الرٹ ہوا تھا جتنا اسکا موڈ خراب تھا وہ کسی کو اپنے سامنے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔
وہ سیدھا اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا مگر کمرے کی لائٹ جلتے دیکھ اسکے قدم رکے تھے گہرا سانس لے کر اسنے خود کو کمپوز کیا تھا وہ اپنی ٹینشن گھر میں لانے اور خصوصاً اسکے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا تھوڑی دیر یونہی کھڑے رہ کر اسنے خود کو کنٹرول کیا تھا اور پھر کمرے میں داخل ہوا تھا اسے دیکھ دلشیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔
وہ بیڈ پر اپنا سارا سامان پھیلائے بیٹھی تھی۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔”اسکی بھاری آواز پر پریشے نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔۔
“دلشیر آپ۔۔”اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ وہ تو صبح کا بول کر گیا تھا نا۔۔
“ہاں میں یقین کرلو یار بیگم۔۔”بیڈ پر بکھرا اسکا سامان سائیڈ کرتے دلشیر نے اسکی گود میں سر رکھا تھا۔۔
“کیا ہوا کوئی مسئلہ ہوا ہے آپ ٹھیک تو ہیں؟؟”اسکے چہرے کو دیکھ اسنے آہستہ سے پوچھا تھا۔۔
“ہمم سب ٹھیک ہے بس تھک گیا ہوں تم بتاؤ سوئی کیوں نہیں ابھی تک؟؟ اسکی ہتھیلی پر اپنے لب رکھتے اسنے سوال کیا تھا۔۔
حیا سے پریشے کی پلکیں لزری تھیں۔۔
“نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا یہ سامان دیکھ لوں۔۔”اس کے یوں لب دبا کر کہنے کر وہ تھوڑا سا اٹھا تھا اور اسکی ٹھوڑی پر اپنے لب رکھے تھے۔۔وہ ایک دم گھبرا کر پیچھے ہوئی تھی۔۔
دل زور زور سے دھڑکا تھا۔۔
“کچھ کھائیں گے آپ؟؟”اس حرکت کو نظر انداز کر اسنے سوال کیا تو دلشیر نے ہاں میں سر ہلایا تھا ٹینشن اور غصے میں اسنے کچھ کھایا ہی نہیں تھا۔۔
“آپ فریش ہو جائیں میں آپ کے لئے کھانا لاتی ہوں۔۔”
“اوکے میڈم۔۔”اسکے گال پر پیار کرتا وہ مسکرا کر اٹھا تھا
وہ کچن میں کام کرنے میں مصروف تھی جب دلشیر نے پیچھے سے آکر اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا۔۔
“یا اللّٰہ میں ڈر گئی۔۔”دل پر ہاتھ رکھتے اس نے دلشیر کو گھورا تھا۔۔
“میں بھی ڈر گیا تھا کہ کہیں تم کھانا لینے باہر مارکیٹ میں تو نہیں چلے گئیں۔۔”اسکے درد کرنے پر اسنے ونک کرتے طنز کیا تو وہ دانت پیس کر رہ گئی۔۔
“کبھی کبھی دل کرتا آپ کو اٹھا کر پھینک دوں ٹائم لگتا ہے پاستہ بنانے میں۔۔۔”
پاستہ کے نام پر اسکے چہرے پر چمک آئی تھی یہ واحد چیز تھی جسے وہ کر حال میں کھانے کے لئے تیار رہتا تھا
“اوہو تو اب بیگم ہماری پسند نا پسند کا بھی خیال رکھ رہی ہیں گریٹ۔۔”اسکے کندھے کر ٹھوڑی ٹکاتے اسنے اسکے گال سے اپنی داڑھی مس کی تھی۔۔
“خوش فہمی نا پالیں زیادہ چلیں اوپر ریڈی ہے آپ کا پاستہ۔۔”اسکے بگاڑتے وہ ہنس کر بولی تھی۔۔
اوع وہ اسکے لئے یہی کافی تھا کہ وہ اسکے ساتھ ایڈجسٹ کر رہی ہے۔۔
