Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 8)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 8)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
“آئیں میڈم آپ کو روم دیکھا دوں۔۔ “نیلم نے اسکا بازو پکڑ کر اسے آگے بڑھایا تھا جو پیچھے مڑ کر اپنے باپ کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جن سے اسے کبھی محبت نہیں ملی تھی جن کا ہونا نا ہونا اس کے لئے برابر تھا مگر پھر بھی اسے ان کے لئے برا لگ رہا تھا۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسکا بات اسکے ساتھ کیا کرنے والا تھا مگر پھر بھی وہ یہ سب نہیں چاہتی تھی۔
بنا کچھ کہے وہ نیلم کی ہمراہی میں چلتی اس کمرے تک آئی تھی جسے دیکھ کر ہی اسے وحشت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
وہ کمرہ دیکھ اسے لگا جیسے وہ کسی محل کے کمرے میں آگئی ہے۔
جہازی سائز بیڈ بے حد خوبصورت پردے جنہوں نے کھڑکیوں کو ڈھانپ رکھا تھا چھت پر لگے بڑے بڑے فانوس یہ کمرہ اس کمرے سے کئی گنا زیادہ خوبصورت تھا جہاں وہ اس سے پہلے موجود تھی۔۔
بیڈ کراؤن کو پھولوں سے سجایا ہوا تھا اسکا دل سکڑ کر رہ گیا تھا۔۔
آپ یہاں آرام کریں کوئی بھی کام ہو کچھ بھی چاہیے ہو آپ انٹر کام کردیجیے گا۔۔
بیڈ کی سائیڈ پر لگے انٹر کام کی طرف اشارہ کرتے نیلم باہر بڑھ گئی تھی
جبکہ اسکے جاتے ہی اسنے جلدی سے بھاگ کر دروازہ بند کیا تھا اور اندر سے چٹخنی چڑھائی تھی۔۔
اب میں بھی دیکھتی ہوں تم کیسے اندر آتے ہو اغوا کیا ہے نا مجھے۔۔
سب چیزوں کا جائزہ لیتے وہ بیڈ کر آکر لیٹی تھی اور خود کو کمفرٹر میں اچھے سے قید کیا تھا دل میں ڈر بھی تھا کہ وہ بدلہ ضرور لے گا مگر دل کڑا کئے وہ پڑی رہی۔۔
کیا کروں اگر سوگئی اور وہ آگیا تو؟ خود سے سوال کرتے اسنے پہلو بدلہ تھا۔
نہیں وہ کیسے آسکتا ہے میں نے دروازہ اچھے لاک کیا ہے۔۔
اگر وہ آگیا تو اس نے دروازہ توڑ دیا تو۔۔
یا اللّٰہ اگر اس نے پھر سے بابا کو لا کر مجھے بلیک میل کیا تو؟؟؟
خود سے سوال جواب کرتی وہ پاگل ہورہی تھی۔
نہیں اب نہیں آؤنگی میں بلیک میلنگ میں۔۔
لیکن فائدہ اب جب بلیک میلنگ میں نہیں آنا تھا تب تو آگئی نا۔۔ خود سے لڑتے وہ تھک گئی تھی تبھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
زندگی ہمیشہ سے ہی اسکے لئے مشکل رہی تھی اور اب جہاں سوال ساری زندگی کا تھا وہاں بھی اسکی مرضی کے بغیر فیصلے کئے گئے تھے۔۔
کیوں میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے مجھے پڑھنے کا شوق تھا مگر کوئی پڑھانے والا نہیں تھا اپنی محنت سے آگے بڑھی تو اپنا خواب پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں تھے اور اب جب ہر لڑکی کا شادی کو لے کر کوئی نا کوئی خواب ہوتا ہے تو یوں زبردستی مجھ پر رشتے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی کیا ہے میری زندگی۔۔ تکیے میں منہ دے کر وہ سسکی تھی
یا اللّٰہ مجھے ہمت دیں حوصلہ دیں تاکہ میں مضبوط رہوں۔
ہاتھ کی پشت سے گال رگڑتی اس نے دعا کی تھی۔۔
دیکھوں اب تو تمہاری شادی ہوگئی نا پریشے سے اب تو میری جان چھوڑ دو۔۔ وجدان صاحب نے صوفے پر بیٹھے اس مغرور شخص کو دیکھا تھا جس کی وجہ سے انکی ساری پلیننگ چوپٹ ہوگئی تھی انہوں نے ایک بے بس نظر سامنے پیسوں کے بیگ پر ڈالی تھی جو ان کے تھے مگر اب واپس دلشیر کے ہوگئے تھے۔۔
دیکھو۔۔۔
ابے یار سسر کتنا بولتے ہو۔ اسنے دو انگلیوں سے ماتھا مسلا تھا
کلیم یہ سارے پیسے واپس لو اور وہ لمحے کو ہنسا تھا
کوشش کرنا کہ انہیں کہیں اور کام نا ملے۔
دلشیر کی بات پر وہ بری طرح چونکے تھے۔
یہ۔یہ کیا مذاق ہے دیکھوں اب تو میں نے اپنی بیٹی سے تمہاری شادی کردی ہے نا تو یہ سب کیوں ۔۔ پہلے سیٹھ سے ذلالت کی فکر کیا کم تھی دوسرا اس نے دئیے ہوئے سارے پیسے واپس لے لئے تھے اب نوکری بھی نہیں کرنے دے گا۔۔
میرا اوور آپکا مذاق ہے؟ اسنے سنجیدگی سے انہیں دیکھا تھا جو اب بری طرح جھٹپٹا رہے تھے
دیکھو میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا مجھے وعدہ نبھانا چاہیے تھا مگر میں سچی بول رہا ہوں مجھے خود پریشے نے کہا تھا کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہے۔۔
کوئی اور بات کرو۔۔۔ اس نے انہیں بیچ میں ٹوکا تھا
“میں بس یہ چاہتا ہوں مجھے جانے دو اور خدا نے لئے میرے لئے مشکلات مت کرو تمہیں پریشے کا واسطہ۔۔”انہوں نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔
“اسکا واسطہ دے تو دیا مگر تمہیں لگتا ہے میں کہ میں یہ واسطہ کنسیڈر کرونگا؟؟”اسکے آئی برو اٹھا کر سوال کرنے پر اسنے پہلو بدلہ تھا۔
“دیکھو اب تو تم نے یہ سارے پیسے بھی واپس لے لئے ہیں نا اب مجھے چھوڑ دو میں وعدہ کرتا ہوں میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گا.”
ان کی بات پر وہ دل کھول کر ہنسا تھا۔
“تمہیں لگتا ہے اگر تم کسی کو کچھ کہو گے تو مجھے فرق پڑے گا؟”
“میں دلشیر ہوں یہاں میرا سکہ چلتا ہے غلطی کی تم نے میرے بارے میں جانے بغیر مجھ سے پنگا لینے کی اب تمہاری ہر حرکت پر میری نظر ہوگی اب خیر تو تم مناؤ اپنی اور صاحب۔”سپاٹ لہجے میں کہتا وہ انہیں ٹھیک ٹھاک ڈرا گیا تھا۔
“میں وعدہ کرتا ہوں میری طرف اب کوئی غلطی نہیں ہوگی بس میری نوکری مت ختم کروانا خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔۔”وہ اس کے آگے گڑگڑائے تھے۔
دلشیر کو اس انسان پر حیرت ہوئی تھی جس نے لمحے کو بھی اپنی بیٹی کی فکر میں ایک لفظ نہیں بولا تھا اسے خود میں اور پریشے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا اسے نفرت ہونے لگی تھی اس دنیا کے لوگوں سے جن کے لئے پیسہ شہرت یہ سب ہی اہم تھا اولاد سے یہاں اب لوگ پیسہ کمانے کی دوڑ میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ اپنے پیچھے ناجانے کتنے رشتوں کو روندتے جارہے ہیں۔۔
“آئندہ مجھے پریشے کے آس پاس بھی نظر مت آنا جاؤ بخش دیا تمہیں اپنے بیوی کے صدقے۔۔”
اسکے کہتے وہ فل اسپیڈ میں وہاں سے غائب ہوئے تھے۔
“کلیم اس پر نظر رکھنا کوئی گڑبڑ نا کرے یہ انسان مجھے اس پر زرا بھروسہ نہیں ہے.”
“اوکے باس آپ بے فکر رہیں” اسے یقین دلاتا کلیم ان کے پیچھے گیا تھا جبکہ ان کے جاتے ہی اسکے ماتھے پر سوچوں کا جال بنا تھا۔
وہ گھر میں داخل ہوئے تو نرگس بیگم اور عظمی کو صحن میں بیٹھے پایا تھا کو انہیں دیکھتے ہی فوراً سے آگے بڑھی تھیں۔
“سہیل کے ابا پریشے کہاں ہے آپ لائے کیوں نہیں اسے کہاں لے گئے تھے وہ لوگ آپ لوگوں کو؟؟”
ان کے پہ در پہ سوالوں پر ان کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔
“سانس لے کیا آتے ہی سر کھا رہی ہے پتا بھی ہے کیا کچھ برداشت کرکے آرہا ہوں میں”اپنی دکھتی کمر پکڑ کر وہ بستر پر ڈھے سے گئے تھے۔
نرگس بیگم نے غور سے انکے پاؤں کو دیکھا تھا جہاں سے وہ لڑکھڑاتے ہوئے آئے تھے۔
“انہوں نے آپ کو مارا ہے سہیل کے ابا؟”
“اپنا منہ بند کرلے نرگس سر نا دکھا۔۔”وہ زچ ہوکر بولے تھے۔
“میں تو اپنا منہ بند کرلوں گی مگر تم یہ بتاو کہ پریشے کہاں ہے؟”
“شادی کردی ہے اسکے بس اب خوش۔۔ “وہ غصے سے اٹھ کر بیٹھے تھے
“مارا ہے اس آدمی نے مجھے خوش ہوجا تو یہی تو چاہتی تھی نا اور تجھے کیا غم ہورہا اولاد تو وہ میری تھی تو کیوں فکر رہی ہے سوتیلی ہے سوتیلی بن کر رہ ہزار بار سمجھایا ہے تجھے تیری اولاد نہیں ہے وہ۔۔ زرا دو گھڑی سانس لینا حرام کردیا ہے جان عذاب کو آگئی ہے پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جو اس گھر میں قدم رکھا ساری خوشیاں ہی غارت ہوکر رہ گئی ہیں۔۔”غصے میں بولتے انہوں نے نرگس کو ایک طرف دھکیلا تھا اور خود کمرے میں بند ہوئے تھے۔
نرگس نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا تھا اور پھر عظمی کو۔
“ابھی مت چھیڑو انہیں جان کا عذاب بنا دینگے اس گھر میں رہنا۔” انکا ہاتھ کر کہتے عظمی نے وہیں پلنگ پر بیٹھایا تھا۔۔
اپنا موڈ فریش کرتے اسنے ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا تھا اور دلکشی سے مسکرایا تھا
“تو میں تمہارا نصیب تھا جبھی تو کوئی اور پسند نہیں آج تک.”خود سے کہتے اسنے بالوں میں ہاتھ چلایا تھا اور پھر خود کر پرفیوم اسپرے کرتا اسنے اپنے قدم اوپر کی طرف بڑھائے تھے۔
دل خوشیوں سے بھرا ہوا تھا اسنے مسکرا کر دروازے کے ہینڈل کر ہاتھ رکھا تھا مگر۔۔ اسے دھچکا لگا تھا اندر سے دروازہ لاک تھا۔۔
اسکے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا جبھی واپس نیچے آکر اس نے دوسری کی اٹھائی تھی اور واپس اوپر آیا تھا۔۔
ایک بار پھر دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی مگر اگر صرف لاک ہوتا تو کھلتا نا وہ محترمہ تو پورا انتظام کرکے سوئی تھیں اسکی چالاکی پر وہ کافی محفوظ ہوا تھا لبوں پر ایک بار پھر بھرپور مسکراہٹ آئی تھی۔
“چوہے بلی کا کھیل چاہتی ہو تو کوئی بات نہیں مگر پھر بعد میں مجھ سے شکوہ مت کرنا۔”اسکے عکس سے مخاطب ہوتے وہ ہنس کر دوسرے کمرے میں آیا تھا اور دیوار کے پاس آکر اسنے ایک بٹن پریس کیا تھا کہ وہ دیوار ہٹتی چلے گئی اور اسکے کمرے کا دروازہ نمایاں ہوا تھا۔۔
اسنے دلشیر کو کچھ زیادہ ہی ہلکے میں لے لیا تھا۔۔
سیٹی بجاتا وہ دوسرے راستے سے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا اسکے کمرے میں آتے ہی وہ دروازہ بند ہوا تھا اور اسکی جگہ دیوار نے لی تھی۔۔
اسنے ایک طائرانہ نظر پورے کمرے میں ڈالی تھی ہر چیز لاک تھی یہاں تک کہ باتھ روم کا دروازہ بھی۔ اسے بے اختیار ہنسی آئی تھی۔
اردگرد ہوتی نظر بیڈ پر آکر رکی تھی جہاں وہ گھٹری کی صورت میں کمفرٹر میں دبکی پڑی تھی ۔
اسکا دل پوری تیزی سے دھڑکا تھا وہ جو اسے پہلی نظر میں چاروں شانے چت کرگئی تھی آج پورے حق سے اسکے بیڈ پر براجمان تھی۔۔
وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی مگر اسے خود پر یقین تھا۔
اس کو اغوا کرکے شادی کرنے کا اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر حالات نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔
گہرا سانس بھرتا وہ اپنے کپڑے لئے باتھ روم میں بند ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں فریش فریش سا وہ باتھ روم سے باہر آیا تھا بالوں کو تولیے کی مدد سے سکھاتا وہ بیڈ پر نیم دراز ہوا تھا اور غور سے کمفرٹر میں موجود اسے دیکھنا چاہا۔
ایک تو وہ پورا حق رکھتا تھا اسے دیکھنے کا دل بھر کر دیکھنے کا کبھی کمفرٹر کا کونا کھینچ کر اسنے پرے کیا تھا کہ اسکا چہرہ ایک دم سامنے آیا تھا اسکا دل پوری اسپیڈ سے دھڑکا تھا۔
“غلط کیا ہے تم نے جانتا ہوں ناراض ہو شاید نفرت بھی کرتی ہو مگر میں سب ٹھیک کردوں گا کیونکہ میں دلشیر ہوں۔۔ “اسکے ماتھے پر جھک کر لب رکھتا وہ اسکے ساتھ ہی کمفرٹر میں گھسا تھا۔
اور وہ اس شیر کی جگہ پر سو کر خود کو تیس مار سمجھنے کی غلطی کرنے والی پریشے صبح بری طرح پچھتانے والی تھی۔۔
