240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 7)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

“اےےے نیچے اتارو۔۔۔ “وجدان صاحب کی چیخیں پورے کمر میں گونج رہی تھیں اور وہ خود الٹے لٹکے ہوئے تھے.

“بچاؤ کوئی تو بچاؤ مجھے۔۔۔”

خالی کمرہ ان کا منہ چڑا رہا تھا اور وہ بے بسی سے ہوا میں لٹکے اس وقت کو کوس رہے تھے جب اس انسان سے پنگا لے بیٹھے تھے۔

“ارے کوئی تو بچاؤ مجھے میرا سر گھوم رہا ہے رحم کھاؤ مجھ پر میں مر جاؤ گا دل کا دورہ پڑ جائے گا مجھے پھر الزام تم لوگوں پر آئے گا۔۔۔”

پاگلوں کی طرح چیختے انہوں نے اپنا گلا خراب کرلیا تھا.

“,پولیس میں کیس ہوگا تو تم سب پھنسو گے رحم کھاؤ مجھ پر”۔۔۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر ان کی آواز کو بریک لگی تھی۔

اور آنے والے کو دیکھ انکے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔۔۔

اندر داخل ہوتے دلشیر نے ایک کہربار نظر ہوا میں لٹکے اس آدمی پر ڈالی تھی اور نفرت سے ہنکار بھرا تھا۔۔

“اے دیکھوں مجھے نیچے اتارو مجھے معاف کردو۔۔”

کرسی گھسیٹ کر وہ ان نے سامنے بیٹھا تھا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھی تھی۔

کلیم اور جواد اسکے دائیں بائیں کھڑے ہوئے تھے۔

“معاف کردوں؟؟؟ معافی کے قابل ہو تم؟؟؟”

اسنے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا تھا۔

“تمہیں تو سسر صاحب ایسی سزا دونگا نا کہ ساری زندگی یاد کرو گے شروع ہوجاؤ میرے لڑکوں”.ان دونوں کو بول کر اسنے مزے سے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا تھا۔

“ککیا۔۔۔ کیا کرنے والے ہو تم لوگ میرے ساتھ دیکھو میری بات سمجھو ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں نا”ان کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ وہ جلدی جلدی سے بولے تھے مگر وہاں ان کی زن کون رہا تھا۔۔۔

ان دونوں نے پانی سے بھری بالٹیاں ان کے اوپر انڈیلی تھیں کہ ان کا سانس اٹک گیا تھا۔

اہ۔۔۔۔اہ۔۔۔گہرے گہرے سانس بھرتے انہوں نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔۔

“مت کرو معاف کردو.”

“کیوں معاف کردو؟؟ اتنے سے میں ہی بس ہوگئی ہاں وعدہ خلافی کرنے والوں اور دھوکہ دینے والوں کے لیے کوئی معافی نہیں ہے سزا تو تمہیں ملے گی اور بھرپور ملے گی کہ آئندہ جھوٹ بولتے ہوئے دھوکہ دیتے ہوئے کسی کی زندگی برباد کرتے ہوئے تم ہزار بار اس سزا کو یاد کروگے اور اتنے بڈھے تو ہو نہیں تم کہ سزا کو برداشت نا کرسکوں کیونکہ ایک لڑکی تو وہاں منتظر ہے نا تمہاری.”

اسکی بات پر وجدان صاحب کی آنکھیں پھٹی تھیں

“دیکھو میں نے جو کیا غلط کیا میں مانتا ہوں مگر دیکھو یہ شادی میری بیٹی کی مرضی سے ہورہی تھی یقین نہیں آتا تو جاؤ اور پوچھ لو ابھی کہ ابھی اس سے میں تو راضی ہی نہیں تھا اس نے خود کہا تھا بابا کہ مجھے شادی کرنی ہے۔”

ان کے جھوٹ کر اس کے ماتھے کہ بلوں میں اضافہ ہوا کیونکہ اسے پتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں مگر پریشے اس سے جان چھڑانے کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہے اس بات کا بھی اسے یقین تھا۔۔

“اچھا چلو تو تمہاری بیٹی کو شادی کرنی تھی اور تمہیں شادی کروانی تھی تو نیک کام میں دیری کیسی ابھی ہوجاتی ہے۔۔۔ ایک کام کرتے ہیں پہلے تمہاری سزا ختم کرتے ہیں پھر شادیانے بجائے گی۔۔” گردن کو ڈانس کی طرح حرکت دیتے اس نے چٹکی بجائے تھی اور کلیم کو اشارہ کیا تھا ۔

اشارہ ملتے ہی کلیم نے برف کی سیل نیچے رکھ کر انکو نیچے کر کے اس سیل پر لٹایا تھا۔۔

ااااا۔۔۔۔۔ ہٹاؤ اسے۔۔ وہ چلائے تھے۔۔

“ہٹا دیتا اگر باپ بن کر فیصلہ کرتے ایک سوداگر بن کر اپنی بیٹی کا سودا کیا ہے نا یہ اس چیز کی سزا ہے اور دوسرا بیٹی بھی وہ جو میری امانت تھی۔۔۔ تم جیسے ان تمام باپوں کو ایسی ہی سزا ملنی چاہیے جن کی نظر میں بیٹی بوجھ ہوتی ہے اور وہ اپنے مفاد کی خاطر انہیں کسی بھی کھوٹے سے باندھنے میں لمحہ نہیں لگاتے۔۔۔” ان کے پیروں پر لکڑی سے مارتے وہ غصے سے کہتا ایک اور وار ان کی ٹانگوں پر کر گیا تھا۔۔

“لعنت ہے تم لوگوں پر تم جیسے انسان باپ جیسے عہدے پر فائز ہونے کے لائق ہی نہیں ہو اگر ہوتے تو آج یہاں نا ہوتے باپ ہونے کا مطلب یہ کہ کسی کے ساتھ بھی اپنی اولاد کو باندھ دو ان کو غیرت کے نام پر قتل کردو ان کے سر پر سوتیلی ماں لا کر ان کے فرائض سے نظریں چرا لو ہر اس باپ کو سزا ملنی چاہیے کو پیدا تو کردیتے ہیں مگر آپ ے باپ ہونے فرض ادا نہیں کرتے۔۔۔۔۔”

“دولت مال کی حرص میں حرام حلال کا فرق بھول جاتے ہیں شادی کے نام پر اپنی اولاد کو بیچ دیتے ہیں تم جیسے ناسوروں کو اس دنیا میں رہنا ہی نہیں چاہیے ارے باپ ہوتے تو اپنی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ سمجھ جاتے کہ وہ خوش ہے کہ نہیں بس پیسہ پیسہ پیسہ قبر میں لے جانا سارا پیسہ اور پھر اپنے کفن میں جیبیں رکھ لینا.”اسکی انکھیں لال سرخ ہورہی تھیں جو کچھ اسکے دل میں تھا وہ بولے جارہا تھا

“رحم کھاؤ اپنی اولاد پر پیسہ ہی ہر چیز نہیں ہوتا ہے یہ بات وقت تمہیں ثابت کردے گا اور بہت شوق تھا نا اسکی شادی کا تو آج ہی اس سے شادی کررہا ہوں میں تاکہ وہ سیٹھ تمہیں نوچ کھائے۔۔۔۔”

لکڑی کو زور سے زمین پر پھینکتا وہ کمرے سے باہر آیا تھا۔

سانس دھنکتی کی طرح چل رہا تھا ہاتھ کپکپا رہے تھے اسے نفرت ہونے لگی تھی ان نام نہاد رشتوں سے وہ خود بھی تو ایسے ہی ٹوٹے بکھرے رشتوں کا ستایا ہوا تھا کیسے یہ درد محسوس نا کرتا کوئی باپ اتنا لالچی ہوسکتا ہے اس بات کا اسے یقین تھا یہ پیسہ فساد تھا یہ ناسور تھا جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔۔

“جواد پریشے کہاں ہے؟؟ “

“بوس میڈم روم میں ہیں ہوش آگیا ہے اور اب روئے جارہی ہیں ریشم اور نیلم دونوں ان کے پاس ہیں آپ بے فکر رہیں..”

“بے فکر رہوں میں؟؟” اسنے سینے پر انگلی رکھ کر جواد سے پوچھا تھا جو اپنا سر جھکا گیا تھا۔

“اگر ایک لمحے کی بھی تاخیر ہوجاتی نا یا میں اس پر نظر نا رکھواتا تو وہ کسی اور کے نکاح میں چلی جاتی اور میں۔۔۔ “وہ لمحے کو رکا تھا

“میں ایک بار پھر سے خالی ہاتھ رہ جاتا۔۔۔ نکاح خواں کو لے کر آؤ اور سسر صاحب کو تیار کرو تاکہ ولی کے طور پر اپنے کام آسکیں۔۔”جواد کو حکم دیتا وہ لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔

اسے ہوش آیا تو خود کو ایک بار پھر اسی کمرے میں پایا جہاں اسے پہلے لے کر آیا گیا تھا۔۔

سارا منظر یاد کر اسنے ہاتھوں میں سر گرایا تھا۔۔

“یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ میری مدد کریں” روتے ہوئے اسنے اپنے سامنے بیٹھی اس دو عورتوں کو دیکھا تھا جو اسے ہی گھورنے میں مصروف تھیں۔۔

اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں ہوا تھا اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی.

“میڈم رونا بند کریں سر کو پتا چلا تو مزید غصہ ہونگے پہلے ہی انکا دماغ گھوما ہوا ہے”ریشم کے کہنے کر اسکے رونے میں مزید اضافہ ہوا تھا۔

اس سر پھرے انسان سے کوئی بعید نہیں تھی کہ وہ کیا کر جائے اور اب تو چوٹ اسکی انا پر پڑی تھی وہ جیسے سکون سے بیٹھتا۔۔

“نیلم؟؟ کلیم کی آواز پر نیلم نے اٹھ کر دروازہ کھولا تھا۔

“میڈم کو تیار کردو نکاح خواں آتے ہی ہونگے”کلیم کی بات نے اس نے سر پر بم پھوڑا تھا۔

“دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارے اس سڑے ہوئے بوس کا بول دو جا کر اس سے کہ میں مر جاؤں گی مگر ان سے کبھی شادی نہیں کرونگی ایسے زبردستی وہ مجھ سے شادی نہیں کرسکتے وہ جان لے لونگی اپنی بھی اور ان کی بھی۔”وہ پوری وقت سے چلائی تھی۔۔

کمرے میں داخل ہوتے دلشیر نے اس کی بات اچھے سے سنی تھی چہرے کر طنزیہ مسکراہٹ آئی تھی۔۔

اسے سامنے دیکھ اسکی چلتی زبان کو بریک لگے تھے۔

“جاؤ تم سب میڈم کو آج مجھے قتل کرنا ہے میں بھی تو دیکھوں جتنی طاقت ہے میڈم میں”سب کو بولتے اسنے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

“ہاں میڈم پریشے کوئی بھری چاقو تلوار بندوق ہتھوڑی یا مجھے مارنے کے لئے کوئی ہتھیار چاہیے تو بتائیں۔”اسکے میٹھے میٹھے لہجے میں چھپے طنز پر جہاں سب نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی وہی وہ پوری جان سے جلی تھی۔

دلشیر کے اشارے پر وہ سب کمرے سے نکلے تو وہ اسکی طرف آیا تھا اسے یوں پاس آتے دیکھ اس نے اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے تھے۔۔

“دور رہو مجھ سے میں واقعی آج تمہاری جان لے لونگی”.. اسے وارن کرتے اسنے انگلی آگے کی تھی مگر ہائے رے قسمت وہ انگلی اسکی شناخت گرفت میں آئی تھی۔

آہ۔۔۔۔ وہ درد سے چیخی تھی دلشیر نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔۔

“میرے سامنے بڑی زبان چلتی ہے اپنے ابا کے سامنے تو ابا کو آپ کہو گے میں وہ کرونگی”اسکے نقل اتارتے اس نے ہاتھ نچایا تھا۔۔

اسکی حرکت پر وہ رونا بھول کر عجیب نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی کہ آدمی تھا کہ کیا؟؟؟

“آپ سے مطلب میں کچھ بھی کروں یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے اور کان کھول کر سن لیں کہ میں آپ سے شادی نہیں کرونگی۔۔۔۔۔”

ایسے کیسے نہیں کروگی اگر تم نے مجھ سے “شادی نہیں کی نا تو تمہارا کوئی بھی فیملی میمبر سلامت نہیں بچے گا.”

اسکی دھمکی پر اس نے سہم کر اسے دیکھا تھا اسے یقین تھا یہ شخص کو کہتا ہے وہ کر کے دیکھاتا ہے۔۔

“میرے بابا کہاں ہیں؟؟ کچھ یاد آنے پر اسنے جلدی سے پوچھا تھا۔

“مہمان خانے میں ہیں”مہمان خانے کو سوچ اسکے لبوں پر مسکراہٹ مچلی تھی جسے اس نے بڑی مہارت سے چھپایا تھا۔

“تیار ہوجاؤ اگر زیادہ میرا دماغ کھایا نا تو تمہیں کتوں کے حوالے کردوں گا اپنے اور مہمان خانے میں موجود تمہارے بابا کو بھی۔”

اسے دھمکی دیتے وہ باہر آیا تھا اور اب اسے پورا یقین تھا کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گی جس سے اس کے بابا کو نقصان پہنچے۔

اور ہوا بھی یہی تھا تھا تھوڑی دیر بعد وہ ریشم اور نیلم کے ساتھ نیچے آئی تھی دلشیر کی پسند کا سوٹ پہنے۔۔

ریشم نے اسے دلشیر کے سامنے والے صوفے پر بیٹھایا تھا۔

تبھی سامنے سے اسے اسکا باپ آتا نظر آیا تھا۔۔

“بابا۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں نا؟؟”ان کو لڑکھڑاتے دیکھ اسنے ان کا ہاتھ تھاما تھا۔

دلشیر کا دل کیا دو رکھ کر لگائے اسے محبت اپنی جگہ مگر اپنی زندگی برباد کرنے والے کی اسے ابھی بھی فکر تھی شاید اسی لئے بیٹی رحمت ہوتی ہے۔

“میں ٹھیک ہوں بیٹا دلشیر نے میرا بہت اچھے سے خیال رکھا ہے۔”مسکراتے ہوئے اسنے دلشیر کا دیکھا تھا جو انہیں گھورنے میں مصروف تھا۔

“انہوں نے آپ کو تو کچھ نہیں کیا نا؟؟”

“اگر آپ لوگوں کی محبتیں ہوگئی ہوں تو نکاح شروع کریں؟”

دلشیر کی سخت لہجے پر وہ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھی تھی اور وجدان صاحب کی حالت سے اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس سرپھرے آدمی نے انہیں نقصان پہنچایا تھا۔۔۔

“سوچا تھا فلموں جیسے کڈنیپ کرکے نکاح کرونگا مگر یہاں تو یہ باپ ہی پیچھا نہیں چھوڑ رہا”وجدان صاحب کو گھورتے اسنے مولوی کو نکاح کا حکم۔ صادر کیا تھا

اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں تھے دلشیر کا خوشی سے چہرہ چمک رہا تھا جبکہ دوسری طرف اس پاگل انسان کو دیکھ اسے خوف محسوس ہوا تھا جو اب خوشی سے وجدان صاحب جو گلے لگایا ہوا تھا مگر وجدان صاحب کے تاثرات ہی الگ تھے

“بابا میں اپنے بابا سے مل لوں؟؟”روتے ہوئے اس نے دلشیر نے کہا تھا جو سنجیدہ تاثرات کے ساتھ ان سے الگ ہوا تھا اور اس کے الگ ہوتے ہی وجدان صاحب کی جان میں جان آئی تھی ورنہ تو لگا تھا آج پسلیاں ٹوٹ ہی جانی تھیں۔۔

“مجھے معاف کردو بیٹا یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے نا میں ایسا کرتا نا تمہاری زندگی برباد۔۔۔۔مطلب آباد ہوتی”دلشیر کی گھوری پر انہوں نے فوراً سے بیان بدلہ تھا

کلیم دلشیر کے اشارے پر انہیں لے کر آگے بڑھا تھا اس نے بےبسی سے اپنے باپ کو جاتے دیکھا تھا۔۔