Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 16)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 16)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
وہ فریش ہوکر باہر آیا تو ثوبیہ بیگم کو کمرے میں پایا تھا جو ناجانے پریشے سے کونسی باتیں کرنے میں مصروف تھیں اسے دیکھ مسکرائی تھیں۔۔
“دلشیر بی جان اور آغا جان آگئے ہیں تم لوگ بھی آجاؤ ان سے ملنے۔۔”
ان کے بولنے پر وہ ہلاتا ان کے ہمراہ ہوا تھا
وہ دونوں ثوبیہ بیگم کے ساتھ چلتے بی جان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے جہاں وہ بیڈ پر نیم دراز تھیں چہرے پر نقاہت واضح تھی مگر دلشیر کو دیکھ انکا چہرہ روشن ہوا تھا۔۔
“دلشیر میرے بچے میری جان۔۔۔”اسے پاس بیٹھاتے وہ اسکے سینے سے لگی تھیں دلشیر نے ان کے گرد حصار باندھا تھا۔
“ہمیں تو لگا تھا اب ہم کبھی تمہارا چہرہ نہیں دیکھ پائینگے یونہی مٹی میں دفن ہوجائیں گے۔۔”
“اونہوں ایسے نہیں بولتے”انہیں ٹوکتا وہ ان کے ہاتھ تھام گیا تھا۔۔
“بی جان اس سے ملئے یہ ہمارے دلشیر کی دولہن ہے۔”ثوبیہ بیگم کے بولنے پر کمرے میں موجود سب چونکے تھے آغا جان نے غور سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا وہیں وحید صاحب کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“ارے آؤ بچے پاس آؤ میرے.”خاموشی کو توڑتی ہاجرہ بیگم نے سب سے پہلے اسے اپنے پاس بلایا تھا اور اسکے ماتھے پر پیار کیا تھا۔۔
“دلشیر نے تو بتایا ہی نہیں ہمیں کہ اس نے شادی کرلی اگر اب بھی ہماری طبعیت خراب نا ہوتی تو شاید ہمیں کبھی پتا بھی نہیں لگنے دیتا یہ۔۔”ان کا شکوہ سن وہ سر جھکا گیا تھا
پریشے نے گردں موڑ کر اسے دیکھا تھا ہر کوئی اس سے شکوے کر رہا تھا کیا وجہ تھی یہ تو اب اسے جاننا ہی تھا۔۔
“آپ کیسے ہیں آغا جان؟”آغا جان کو مخاطب کرتے وہ دلشیر کے ماتھے پر بل لانے کا باعث بنی تھی۔۔
“ہم ٹھیک ہیں آپ بہت شکریہ بیٹا۔۔”اسکے سر پر ہاتھ رکھتے وہ ہولے سے مسکرائے تھے۔۔
“آپ لوگ آرام کریں اب مجھے کچھ کام ہے پریشے میرا ڈریس نکال دو مجھے باہر جانا ہے۔۔”اسے اشارہ کرتا وہ باہر کی طرف بڑھا تھا وہ معذرت کرتی اسکے پیچھے آئی تھی دل دھک دھک بھی کر رہا تھا کیونکہ اسے محسوس ہوا تھا کہ آغا جان سے انکی خیریت پوچھنا اسے ناگوار لگا تھا۔۔
اسکی پیروی کرتی وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ سامنے صوفے پر منہ بنائے بیٹھا تھا پریشے کو اسے دیکھ کر ہنسی آئی کبھی بنا اسکی پرواہ کئے وہ ہنس دی تو دلشیر نے ایک گھوری سے اسے نوازہ تھا۔۔
“بہت دانت نہیں نکل رہے آج آپ کے”؟اسکے یوں پوچھنے کر اسنے دانتوں تلے لب دبایا تھا اور شرارت سے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔
“پریشے۔۔”اسکے خفا خفا انداز پر وہ مسکراتی اسکے پیر پر آکر بیٹھی تھی اور اسکے گرد بانہوں کو حصار باندھا تھا۔۔
“ایسے کیوں خفا ہورہے ہیں بھئی میں نے کیا کیا؟؟”پاؤٹ بناتے اسنے اپنی ناک سے اسکی ناک مس کی تھی وہ تو اس ادا کررہی قربان ہوگیا تھا۔۔مگت غصہ بھی تو لازم تھا جبھی منہ مزید پھلا لیا۔۔۔
‘مجھے نہیں اچھا لگا تمہارا ان لوگوں سے خیریت پوچھنا بی جان تک تو ٹھیک ہے اس سے زیادہ کسی سے فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ میرے گھر والے ہیں اور میں انہیں اچھے سے جانتا ہوں۔۔”
“تو مجھے بھی تو جاننے دیں نا کہ کیسے ہیں آپ کے گھر والے ایسے تو میں کیسے یہاں رہونگی ؟؟”
“تمہیں قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے ان لوگوں کو جاننے کی جتنا دور رہ سکتی ہو رہو میں نہیں چاہتا ماضی کی تلخی تم تک پہنچے۔۔”
“دلشیر آپ نے کہا تھا کہ ان لوگوں نے آپ کو گھر سے دور کیا تھا تو پھر اس بات کر اتنی بدگمانیاں کیوں آپ لوگ بیٹھ کر بات کیوں نہیں کرتے۔۔”اسکے پریشان انداز پر وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا۔۔
“ان باتوں کی ٹینشن نا لو تم آرام کرو میں زرا زمینوں پر جارہا ہوں پھر انشاء اللہ واپسی کی تیاری کرینگے۔۔”
لیپ ٹاپ بند کرتے اسنے محبت سے اسکے گالوں پر پیار کیا تھا۔۔
“ٹھیک ہے مگر جلدی آئیے گا۔۔”صوفے پر بیٹھتے اسنے دلشیر کو ہدایت دی تو وہ سر ہلاتا باہر بڑھ گیا۔۔
وہ یونہی بے مقصد کمرے میں بیٹھی بور ہورہی تھی تبھی دوپٹہ سلیقے سے سر کر جماتی وہ باہر آئی تھی اسکا رخ بی جان کے کمرے کی طرف تھا۔۔
کچھ سوچ کر اسنے دروازے پر دستک دی تھی اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہوئی تو انہیں کمرے میں اکیلے پایا وہ اسے دیکھ کر خوش ہوتی ابھی جگہ سے اٹھنے لگی تو اسنے پاس جاکر انہیں سہارا دیا تھا۔۔
“آرام سے بی جان۔۔”تکیہ سیٹ کرتے اس نے انہیں ٹھیک سے بیٹھایا تھا۔
“بہت شکریہ بچے جیتی رہو خوش رہو۔۔”اسکے سر پر ہاتھ رکھتے انہیں نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔
“تم سے تو ٹھیک سے بات ہی نہیں ہوسکی اتنے لوگ موجود تھے۔۔”
“جی تبھی تو میں اب آپ سے ملنے آئی ہوں۔۔”اسکے انداز پر وہ مسکرائی تھیں وہ چاہے کتنی ہی غصے والی کیوں نا ہوں دلشیر سے جڑی ہر چیز انہیں دل و جان سے عزیز تھی۔۔
“بی جان آپ سے ایک سوال پوچھوں؟؟
اسکے اجازت طلب کرنے پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔
“ایسا کیا ہوا ہے جو دلشیر آپ سب سے اتنے بدگمان ہیں اتنے ناراض ہیں”
اسکے سوال پر وہ تلخی سے مسکرائی تھیں۔۔
“بچے جب انسان رشتوں سے زیادہ دولت روپے پیسے کو اہمیت دینے لگتا ہے نا تب یہی سب ہوتا ہے پہلے پہل ہمیں بھی یہ سب صحیح لگتا تھا مگر اب عمر کے اس حصے میں آکر ہمیں اپنی کی گئی زیادتیوں کا بے احساس ہوتا ہے مگر اب ہمارے ہاتھ میں سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں ہے اور اس زندگی میں سب سے تکلیف دہ احساس ہی یہی ہے کہ انسان ساری زندگی ایک ناسور کی لپیٹ میں رہتا ہے۔۔”بولتے ہوئے انکے لہجے میں نمی سی گھل گئی تھی۔۔
“آپ ایسا کیوں بول رہی ہیں؟”
“مجھے نہیں پتا دلشیر نے تمہیں کچھ بتایا بھی ہے یا نہیں مگر میں ضرور بتانا چاہوں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں ہمیں ہمارا دلشیر واپس مل جائے ۔”
“آپ مجھے بتائیں میں پوری کوشش کرونگی کہ آپ کی مدد کرسکوں۔۔”انکا ہاتھ تھامے اس نے جذب سے کہا تھا۔۔
دلشیر اور فوزان بچپن کے دوست انکا رشتہ دوست سے بڑھ کر تھا دو دونوں ایک دوسرے کے لئے جان تک دینے کو تیار رہتے تھے
بیس سال ایک دوسرے کے ساتھ رہے تھے آغا اور وحید خان کو اسکا یوں غریبوں سے دوستی کرنا سخت ناپسند تھا مگر جب انہیں فوزان کے والد کی زمین کی ضرورت پڑی تو وہ اس پر دباؤ بڑھانے لگے تھے وحید صاحب کے بندے فوزان کے والد کو زردکوب کررہے تھے کہ انہیں کر حال میں یہ زمین چاہیے جبکہ یہ زمین ان کی کل جمع پونجی تھی ان کے باپ دادا کی آخری نشانی وہ قطعی اسے چھوڑ نہیں سکتے تھے۔۔
فوزان اور دلشیر دونوں ہی اس بات سے انجان تھے انہیں پتا تو تب چلا جب اس زمیں کو لے کر بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی فوزان اور اسکے والد بری طرح زخمی ہوئے تھے ۔
ان کو علاج کے لئے پیسے چاہیے تھے جو ان کے پاس نہیں تھے
ایسے میں دلشیر اپنے باپ اور دادا کے پاس آیا تھا مدد کے لئے مگر ان کی خود غرضی کے زمیں کے بدلے وہ ان کا علاج کرواسکتے ہیں ورنہ وہ ساری زندگی کے لئے معذور ہی رہیں۔
دلشیر کو دھچکا لگا تھا اپنے باپ دادا کا یہ روپ دیکھ کہ ایک زمین کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر وہ کسی کا ہنستا بستا گھر اجاڑ رہے تھے۔۔
وہ جتنی کوشش کرتا اسکے باپ دادا اسے اتنا ہی ناکام بنادیتے تھے ان کے لئے پیسہ ضروری تھا رشتہ نہیں۔۔
“آغا جان آپ کیوں کر رہے ہیں ایسا وہ میرا بچپن کا دوست ہے میں اسکی مدد نہیں کرونگا تو کون کرے گا بکھر جائیں گے وہ لوگ آپ لوگوں نے یہاں سب کو اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا ہے پلیز آغا جان ایسا مت کریں۔۔۔”وہ ان کے سامنے بیٹھا مدد مانگ رہا تھا
“بہت ہوگیا دلشیر اس سے دوستی پر ہمیں پہلے بھی بہت اعتراض تھا اور ٹھیک ہی تھا اس کے لئے اپنے باپ دادا کے سامنے یوں اکڑ رہے ہو زبان چلا رہے ہو۔۔”
آغا جان غصے سے چلائے تھے۔۔
“وحید اسکے گاؤں سے باہر جانے کی تیاری کرواؤ یہ فیصلہ ہمیں پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا وہ دو کوڑی کا لڑکا ہمارے خون کو ہمارے ہی خلاف کررہا ہے۔۔”آغا جان کے حکم پر وہ بپھر گیا تھا۔۔
“میں کہیں نہیں جاؤں گا سمجھ آئی میں اسکی مدد لازمی کروں گا آپ لوگوں کی نظر میں دولت اہم ہوگی مگر میری نہیں شرم آتی ہے مجھے خود کو اس گھر کا بیٹا کہتے ہوئے”.. وہ بھی دوبدو چلایا تھا جوان خون جوش تو مارتا ہی ہے اسکی بغاوت دیکھ آغا جان نے اسے گھر میں قید کروایا تو وہ اور ان سے بدگمان ہوگیا تھا اسے خود سے نفرت ہورہی تھی کہ وہ اپنے دوست کے لئے کچھ نہیں کرسکا اسپتال یہاں کوئی تھا نہیں اور شہر میں علاج ایک مشکل ترین عمل تھا نا پیسہ تھا نا ہمت۔۔
فوزان کے والد زندگی کی جنگ ہار گئے تھے فوزان کو اس گاؤں اور جہاں کے لوگوں سے نفرت ہوگئی تھی کہ جب ضرورت تھی کوئی ان کے لئے نہیں تھا اسے دلشیر نے نفرت ہوگئ تھی۔۔
“اسے زبردستی شہر بھیجا گیا وہ اپنے ہی گھر میں قیدی تھا اور ایک قیدی کی طرح اسے گھر سے دور کردیا تھا اس وقت اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کبھی ان لوگوں کے پاس واپس نہیں آئے گا۔۔
اس کے دل میں اتنی نفرت بھر گئی تھی کہ وہ ان لوگوں کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ چلا گیا تھا وہاں سے ہمیشہ کے لئے۔۔
ماضی کا حصہ سن اسے بھی بہت افسوس ہوا تھا اسے دلشیر حق بجانب لگا تھا مگر یوں اپنے رشتوں سے قطع تعلق ہونا تو اس مسئلے کا حل نہیں تھا
“اس وقت سب اپنی زندگی میں مگن تھے مگر اب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنا غلط تھے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سب برباد کیا ہے اپنا ہوتا کھویا ہے۔۔”
“وحید تو ابھی بھی ویسا کا ویسا ہی ہے مگر میں سمجھاتی ہوں اسے یوں زندگی برباد کردی ہے ہم نے سب کی۔۔”
ان کے رونے پر اسنے اپنے ہاتھوں سے انکا چہرہ صاف کیا تھا۔
“میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں پوری کوشش کرونگی وہ سب بھول کر آگے بڑھیں وہ بہت اچھے سے بی جان میں اچھے سے سمجھتی ہوں وہ کیوں ایسے ہیں وہ اپنے رشتوں کو لے کر بہت مخلص اور حساس ہیں جتنا وقت میں نے ان کے ساتھ گزارا ہے میں سمجھ سکتی ہوں کہ جب انکے دوست کے ساتھ وہ سب ہوا ہوگا تب انہوں نے خود کو کتنا بے بس محسوس کیا ہوگا وہ بے لوث محبت کرتے ہیں سب سے وہ بدلے میں کچھ مانگتے بھی نہیں ہیں بس دیتے ہی دیتے ہیں میرے دل میں ان کے لئے عزت و محبت ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور مجھے یقین ہے میں ضرور سب کو معاف کردیں گے اگر سب کو اپنی غلطی کا احساس ہو۔۔”
“مجھے یقین ہے بیٹا تم یہ کرلو گی تم ہمارا دلشیر ہمیں لوٹا دو گی۔۔”
“میں پوری کوشش کرونگی بی جان بس آپ دعا کیجئے گا ہمارے لئے اب آپ آرام کریں دلشیر آنے والے ہونگے میں جاتی ہوں۔۔”انہیں بیڈ پر لٹاتے وہ اپنے کمرے میں آئی تھی۔۔
“کتنا مشکل ہے یہ سب مجھے تو لگتا تھا میری ہی زندگی مشکل ہے مگر کسی کی بھی زندگی آسان نہیں ہوتی۔۔”
اور واقعی یہ سچ ہی تھا ہمیں ہی اپنی مشکلات بہت زیادہ لگتی ہیں ہمیں ایسا لگتا کہ ہمارا غم سب سے بڑا ہے ہم دنیا کے مظلوم ترین شخص ہیں ہمارے ساتھ ہی برا ہورہا ہے اگر ہم اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں احساس ہو کہ اس دنیا میں ہم سے بھی زیادہ دکھی لوگ موجود ہیں کو صرف اللّٰہ پر توکل کرکے بیٹھے ہیں۔۔
“تھینک یو سو مچ اللّٰہ تعالیٰ مجھے یہ سب سیکھانے کے لئے اگر دلشیر میری زندگی میں نہیں آتے تو میں یہ سب تو کبھی سیکھتی ہی نہیں میں خود کو یونہی مظلوم سمجھ کر اپنی زندگی میں صرف ناشکری ہی کرتی رہتی۔۔”
اسنے دل سے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا تھا۔۔
