Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 17) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 17) 2nd Last Episode
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ کھول کر دلشیر اندر داخل ہوا تھا اور چل کر اسکے پاس آکر دراز ہوا تھا۔۔
“کن سوچوں میں گم ہو جاناں۔۔”اسکے ماتھے سے بال سمیٹ کر دلشیر نے وہاں اپنے لب رکھے تھے۔۔
“کچھ نہیں بس اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہی ہوں کہ اسنے مجھے اتنا اچھا ہمسفر عطا کیا”اسکے ہاتھ تھام کر ان پر لب رکھتی وہ محبت بھرے لہجے میں بولی تھی دلشیر نے اسکی بات پر اسے اپنی آغوش میں بھرا تھا اور دونوں پر کمفرٹر ڈالا تھا۔۔
“کوئی تو مجھے قتل کرنے کی خواہش رکھتا تھا اب وہی انسان اللّٰہ کا شکر ادا کر رہا ہے۔۔”اسے مزید خود سے قریب کرتے وہ دلفریبی سے مسکرایا تھا پریشے نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ انگوٹھے کی مدد سے اسکے گال کو ہولے سے سہلایا تھا۔۔
“تب میں اس سب میں چھپی مصلحت سے انجان تھی نا جبھی ایسا بولتی تھی مگر اب مجھے خدا کے فیصلوں پر یقین ہے کہ وہ کبھی اپنے بندوں کے ساتھ غلط نہیں کرتا ہر ہونے والا حادثہ واقعہ اپنے آپ میں ہمیں ایک سبق دے کر جاتے ہے کبھی ہم اس سبق کو سمجھ لیتے ہیں کبھی ضائع کرکے ایک اور ٹھوکر کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔۔”
اسکی بات پر اسنے سمجھ کر سر ہلایا تھا۔۔
“مجھے نہیں پتا تھا میری جان اتنی سمجھدار ہے”اسکے چہرے پر جھک کر شریر سی گستاخی کرتا وہ وہ اسے لال کرگیا تھا۔۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا میں یوں اتنا بڑا قدم اٹھاؤ گا ائم سوری۔۔ “اسکے ماتھے پر مہر ثبت کرتا وہ اسکی آنکھوں کو چوم گیا تھا۔۔
“دلشیر۔۔”وہ اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی اسے سمجھانا چاہتی تھی مگر شاید وہ آج کچھ بھی سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھا تبھی اسکے چہرے پر جھک اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی تھی۔۔
“آج کچھ نا بولو سب ان دھڑکنوں کو سنو یہ جب جب دھڑکتی ہیں صرف تمہارا نام پکارتی ہیں ان آنکھوں کو دیکھوں جن میں۔ ہمہ وقت تمہارا عکس سمایا ہوتا ہے تمہیں دیکھنے کی آرزو۔۔ یہ کان جو تمہاری محبت بھری آواز کے شیدائی ہیں۔۔”اسکے ایک ایک نقش پر لب رکھتا وہ اسکے کان کی لوح کو چھوتے سرگوشی میں بولا تھا۔۔
“یہ لب۔۔۔اس نے جھک کر ان لبوں کو اپنی نرم سی گرفت میں لیا تھا اور پھر ازدی بخشتے اسکی ٹھوڑی پر اپنے لب رکھے تھے۔۔
“ان لبوں سے اپنا نام مجھے اتنا خوبصورت لگتا ہے جتنا کبھی نہیں لگا یہ زندگی رنگوں سے بھر گئی ہے اور یہ رنگ تمہارے ہیں تمہاری ہنسی خوشی آنسو،تمہارا مجھ سے لڑنا مجھے منانا مجھے ڈانٹنا مجھے سمجھانا۔۔۔”
“میں نے ہمیشہ اپنی زندگی میں ایک دوست کی کمی کو بے حد محسوس کیا ہے مگر اب تم ملی ہو تو لگتا ہے مجھے میرا دوست مل گیا جس سے میں اپنی زندگی کا ہر سرد و گرم شئیر کرسکتا ہوں اور مجھے پتا ہے وہ کبھی مجھے برا نہیں سمجھے گا۔۔”
اسکی محبت بھری سرگوشیاں اسکا اقرار اسکے پورے وجود میں آسودگی بھر گیا تھا ایک عورت کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کیا مقام ہوگا کہ اسکا شوہر اس سے یوں اپنے دل کا حال کہہ رہا ہے اسے وہ مقام دے رہا ہے جو سب کو نصیب نہیں ہوتا۔۔
اسکی شہہ رگ پر لب رکھتے اسنے پریشے کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھائی تھیں اور اسے خود میں قید کرگیا تھا۔
یونہی تو رشتے مضبوط نہیں ہوتے دونوں طرف سے اس رشتے کی باریکیوں کو سمجھنا پڑتا ہے اور وہ دونوں ہی اپنے بیچ تعلق کو سمجھ چکے تھے وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی دلشیر سے مگر اسکے انداز سے وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ بات ابھی اسے ناگوار گزر سکتی ہے تبھی وہ چپ ہوگئی تھی۔۔
وہ اسکی زندگی بھر کی ساتھی بننا چاہتی تھی اسے یقین تھا ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب سب ٹھیک ہوجائے گا بس تھوڑا سا انتظار۔۔۔
وہ نماز ادا کرکے واپس آیا تو اسے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے پایا تھا چینج کر کے جب تک وہ باہر آیا تو دعا مانگنے میں مصروف تھی دلشیر خاموشی سے اسکے پہلو میں جاکر بیٹھا تھا۔۔
دعا مکمل کر اسنے پہلے دلشیر ہر پھونک ماری اور پھر خود پر۔۔
“آپ لیٹ ہوگئے آج ؟”اسے اپنی گود میں سر رکھتے دیکھ اسنے آہستہ سے اپنی انگلیاں اسکے بالوں میں الجھائی تھیں۔
“ہمم آج مسجد میں چند بچے بھی آئے تھے تو میں نے ان کے ساتھ تلاوت کی پھر میں اسکول کی طرف چلا گیا تھا کیونکہ پھر گھر جانا ہے تو وہاں جانے کا موقع نہیں مل پاتا۔۔”اپنے بالوں میں اسکی انگلیوں کی نرماہٹ محسوس کر اسنے سکون سے آنکھیں موندی تھیں..
“آپ کو بچے پسند ہیں دلشیر؟”اسکے سوال کر اسنے زرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا اور اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔
“مجھے بھی بچے پسند ہیں بہت زیادہ۔”اسکے سر ہلانے پر اسنے اشتیاق سے کہا تو وہ ایک دلنشین مسکان نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔۔
“پہلے پڑھائی مکمل کروں پھر بچوں کا سوچے گیں۔۔۔”اسکی سوچ پڑھتا وہ اسے بولا تو پریشے کا منہ کھلا تھا۔۔
“دلشیر۔۔”خفگی سے اسنے دلشیر کو پکارا تو ہنس دیا اور اسکا سر پر سے ہٹا ہاتھ واپس سر پر رکھا۔
“سکون مل رہا ہے ایسے۔۔”
“اچھا بتائیں نا آپ کتنے بچے چاہئے آپ کو؟”اسکے اگلے سوال پر اسنے آنکھیں کھول کر غور سے اسکا روشن صبیح چہرہ اپنی آنکھوں میں بھرا تھا اور اسکا دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر اپنے ہاتھ سے کور کیا تھا۔۔
“بچہ چاہے ایک ہو یا دو یہ اللّٰہ کا تحفہ ہوتے ہیں ہمارے لئے میری بس اتنی خواہش ہے کہ میرے بچے کبھی اپنوں سے دور نا ہوں وہ رشتوں کو اہمیت دینے والے بنیں نا کہ پیسے کہ پیچھے بھاگنے والے ان کے دل میں۔ رحمدلی ہو سختی نا ہو وہ دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنے والے ہوں نا کہ دوسروں کو تکلیف دینے والے ۔”
“وہ اللّٰہ کے سامنے جھکنے والے بنے وہ عاجزی کے ساتھ رہیں کبھی اکڑ کر نا چلیں۔۔
انہیں دنیا کی آسائشوں سے زیادہ اپنے باپ کی چھوٹی سی جھونپڑی سکوں دے کیونکہ میں جانتا ہوں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہتی وقت سب بدل دیتا ہے میں چاہتا ہوں چاہے جو بھی حالات ہوں وہ اسے سمجھیں اسے قبول کریں اور ہر حال میں اللّٰہ کا شکر ادا کریں۔۔”
اسکی اتنی خوبصورت خواہش پر اسنے نم آنکھوں سے جھک کر اسکے کشادہ ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے اور اسکے ہاتھ تھام عقیدت سے انہیں چھوا تھا۔
“انشاء اللہ مجھے یقین ہے جب بھی ہماری اولاد ہوگی آپ ایک بہترین بابا بنیں گے اور ہمارے بچوں کی بہترین تربیت کرینگے۔۔” اسکے یقین کر وہ کھل کر مسکرایا تھا اسے اور چاہیے بھی کیا تھا اپنی شریک حیات کے چہرے پر مسکراہٹ بس۔۔
“دلشیر آپ ایک بار ہاسپیٹل کی جگہ بھی دیکھ آئیں نا کل آپ نے کہا تھا۔۔”
اسکے یاد دلانے پر اسنے سر ہلایا تھا
“مجھے یاد ہے بس نکلنے سے پہلے وہاں کا ایک چکر لگا کر آؤ گا تم پیکنگ اسٹارٹ کردو لنچ کرتے ہی یہاں سے نکلیں گے۔۔”
“اوکے باس ابھی تو چلیں اٹھیں مجھے بھوک لگ رہی ہے.”اسے سونے کی تیاری کرتا دیکھ وہ جلدی سے بولی تھی مگر وہ اونہوں کرتا کروٹ بدل گیا تھا۔۔
“دلشیر۔۔اٹھیں نا۔۔”
“سونے دو یار پوری رات تم مجھے سونے نہیں دیتی ہو۔۔”اسکے اتنے بڑے جھوٹ کر پریشے کی آنکھیں پھیلیں تھیں۔۔۔
“میں نہیں سونے دیتی دلشیر آپ جھوٹ کب بولا کریں۔۔۔”اسکا سر تکیے کر رکھتے اسنے دلشیر کی ناک دبائی تھی اس سے پہلے وہ بدلے میں کچھ کرتا وہ ایک دم اس سے دور ہوئی تھی۔۔
“ہاہاہا بچ گئی۔۔۔”اسے زبان چڑاتی وہ بھاگ کر ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تھی۔ ۔
“ڈرپوک عورت باہر آؤ نا میں بتاتا ہوں پھر تمہیں۔۔”
“میں ڈرپوک نہیں ہوں آپ کی حرکتیں چھچھوری ہیں دلشیر خان۔۔”اندر بند ہوئے اسنے دھائی دی تھی جس پر قہقہ لگاتا اپنا منہ تکیے میں دے گیا تھا۔۔
دلشیر کے سونے کے بعد وہ اپنی ساری پیکنگ کرکے نیچے آئی تھی مگر وہاں کوئی نہیں تھا ملازمہ سے پوچھ کر وہ حویلی کے پچھلے صحن کی طرف آئی تھی جہاں بڑی بڑی چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں اور ان میں سے ایک پر بی جان اور ثوبیہ بیگم بیٹھی دھوپ سینک رہی تھیں ان کے پاس اردگرد گاؤں کی عورتیں بیٹھی تھیں
وہ آہستہ سے چلتے ان کے پاس آکر بیٹھی تھی۔
“رجو جا پریشے بچے کے لئے ناشتہ لے کر آ۔۔”
“بیٹا دلشیر نہیں اٹھا ابھی تک؟”رجو کو بولتے انہیں نے پاس بیٹھی پریشے سے پوچھا تھا
“نہیں بی جان وہ نماز پڑھ کر سوگئے تھے میں پیکنگ کر رہی تھی اس لئے لیٹ آئی نیچے۔۔”
انہیں جواب دے کر وہ ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوگئی تھی
رجو کے ناشتہ لانے پر اسنے ناشتہ کیا تھا تبھی فریش فریش سا صحن کے پاس آیا تھا۔۔
“پریشے.”
اسکے پکارنے پر وہ اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی۔۔
“ہاسپٹل جارہا ہوں چلنا ہے؟ اسکے پوچھنے پر اسنے جلدی سے سر ہلایا تھا اور بی جان کو بتا کر اسکے ساتھ ہاسپٹل آئی تھی۔۔
پورا گھوم کر وہ اسے واپس حویلی اتار کر اسکول کے کام سے گیا تھا واپس آکر ان دونوں نے گھر کے لئے نکلنا تھا۔
وہ اندر آئی تو آغا جان اور وحید صاحب کا ملازمہ سے پوچھا تو اسنے بتایا وہ دونوں اس وقت بیٹھک میں ہوتے ہیں وہ سر ہلاتی بیٹھک کی طرف آئی تھی اور دروازہ ناک کرکے اندر آنے کی پرمیشن لی تھی آغا جان کے اجازت دینے کر وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی دل میں ڈر بھی تھا کہ پتا نہیں وہ لوگ کیا کہیں اگر برا مان گئے تو مگر اسے یہ کام تو کرنا ہی تھا جبھی ہمت کرتی وہ اندر آئی تھی۔۔
“آغا جان۔۔۔ بابا مجھے آپ لوگوں سے کچھ بات کرنی ہے۔۔”
“ہمیں کوئی بات نہیں کرنی اور میں تمہارا بابا نہیں ہوں لڑکی۔۔”وحید صاحب کے تیز لہجے میں کہنے پر اسکا دل اداس ہوا تھا
“چپ رہو وحید ہر وقت کا غصہ۔۔ بیٹھو بیٹا کہوں جو کہنا ہے۔۔”آغا جان کے نرم انداز پر کم ہوا حوصلہ ایک بار پھر بلند ہوا تھا کبھی وہ آہستہ سے ان کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔
“میں جانتی ہوں مجھے کوئی حق نہیں آپ کے گھر کے معاملات میں بولنے کا مگر میں چاہتی ہوں کہ آپ لوگ ایک ساتھ مل کر رہیں آغا جان ماضی میں جو ہوا میں اس پر آپ سے کوئی بات نہیں کرونگی کیونکہ وہ ماضی تھا گزر گیا مگر میں آپ سے ایک بات پوچھتی ہوں بابا کہ یہ زمین کا ٹکڑا چاہے لاکھوں میں ہو کیا دلشیر سے زیادہ ضروری ہے خدانخواستہ اگر کل کو آپ دلشیر کو کچھ ہوگا تو کیا آپ اس زمین کو دلشیر پر فوقیت دینگے؟؟”
“دماغ خراب ہے کیا یہ کیسا سوال ہے ہم کیوں اپنے بیٹے پر اس بے جان زمین کو اہمیت دینگے؟؟”انکے تیش میں آنے پر وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔
“تو پھر دلشیر سے اتنی ناراضگی کیوں؟”
“ہم دلشیر سے ناراض نہیں ہیں وہ ہم سے دور ہوا ہے اس زمین کی خاطر۔۔”ان کے ناراض لہجے پر اس نے گہرا سانس بھرا تھا۔
“بابا آغا جان میں یہی بات آپ لوگوں کو سمجھانا چاہ رہی ہوں ماضی میں جو ہوا اس نے دلشیر کو ایک گہرا زخم دیا ہے آپ کو شاید نہیں پتا مگر دلشیر اپنے رشتوں کو لے کر بہت حساس ہیں آپ لوگوں سے ناراضگی کے باوجود وہ بی جان اور آپ کی طبعیت کا سنتے ہی فوراً یہاں آگئے کیونکہ وہ آپ لوگوں سے محبت کرتے ہیں وہ بس ناراض ہیں آپ لوگوں سے کیونکہ ایک ضد ہی وجہ سے انکا دوست ان کا سب سے پیارا رشتہ ان سے دور ہوگیا ہے آغا جان موت کسی کا انتظار نہیں کرتی نا یہ زندگی کسی کے لئے رکتی ہیں ہاں مگر گزرے کل کی باتیں دل میں رہ جاتی ہیں جو کبھی نہیں مٹتی ان تلخ یادوں کو اپنی جڑیں پھیلانے سے پہلے ہی کاٹ دینا چاہیے ابھی بھی وقت ہے جو جس کا حق ہے اسے دیا جائے آپ یقین نہیں کریں گے میں ابھی اسپتال سے آرہی ہوں جو دلشیر بنا رہے ہیں آپ کی نظر میں وہ اس زمین کو ضائع کر رہے ہیں مگر میں دیکھ کر آئی ہوں اس کام پر کتنے لوگ انہیں دعائیں دے رہے ہیں ان سے محبت کررہے ہیں اور یہ بات تو آپ بھی جانتے ہیں مرنے کے بعد اگر کچھ ساتھ جائے گا تو وہ صرف ہمارے اعمال ہونگے ۔”
میں چاہتی ہوں آپ لوگوں ایک بار وہاں جائیں اور دیکھیں کہ دلشیر نے کیا کمایا ہے آپ کو ان پر فخر ہوگا۔۔ اس سے زیادہ بس میں یہی امید کرسکتی ہوں کہ آپ لوگ ایک قدم بڑھائیں گے یقین جانیئے سب ٹھیک ہو جائے گا بس ایک کوشش۔۔”اپنی بات ختم کرکے وہ اٹھی تھی ان لوگوں کو گہری سوچ میں چھوڑ کر۔۔
