Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Ishq Qalbi Maan (Episode 5)
Rate this Novel
Ishq Qalbi Maan (Episode 5)
Ishq Qalbi Maan By Fari Shah
گاڑی میں بیٹھتے اسنے سب سے پہلے بینڈیج کھول کر خود سے الگ کی تھی دل تو کر رہا تھا ابھی کہ ابھی اسکی گاڑی سے اتر جائے مگر ناجانے یہ کوسنے انجان راستے تھے گم ہونے کے ڈر سے وہ چپ ہوکر بیٹھی رہی۔۔
جانے پہچانے راستوں پر گاڑی دیکھ اسکا دل پرسکون ہوا تھا اس آدمی سے اب کوئی امید نہیں تھی اسے وہ ایک نمبر کا سرپھیرا لگا تھا
جاہل انسان میرا ٹائم ضائع کیا شکر ہے کچھ غلط نہیں ہوا میرے ساتھ۔۔
ہونٹوں کو بے دردی سے چباتی وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی
بس بس یہی گاڑی روکیں۔۔ اپنے گھر سے کافی دور اس نے گاڑی رکوائی تھی کسی قسم کا مزید تماشہ وہ ہر گز نہیں چاہتی تھی۔۔
میڈم یہ سر نے دیا ہے۔۔ اسنے اترنے کے لئے دروازہ کھولا تھا تبھی اسکے ڈرائیور نے ایک بیگ اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔
اپنے سر کو بولنا میں خیرات نہیں لیتی اور اب اگر اسکے میرا دماغ خراب کیا یا میرے راستے میں آئے تو میں پولیس میں کیس کردوں گی۔۔
دلشیر کے آگے بس نہیں چلا تھا تبھی اپنا غصہ ڈرائیور کر نکالا تھا۔۔
تم سب کے خلاف کیس کرونگی میں دیکھنا۔
جلدی سے گاڑی سے اترتے وہ تقریباً بھاگتے ہوئے آگے بڑھی تھی
غلط انسان سے پنگا لے رہی ہیں آپ۔۔ اسے دیکھ ڈرائیور نے افسوس سے سر جھٹکا تھا اور گاڑی واپسی کے لئے گھمائی تھی۔۔۔
وہ ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوئی تھی تھوک نگل کر اسنے آنے والے لمحے کے لئے خود کو تیار کیا تھا
صحن میں اس وقت سبھی بیٹھے تھے سوائے اسکے بابا کے۔۔۔
اسلام وعلیکم۔۔ ہولے سے سلام کرتے اسنے بیگ سائیڈ پر رکھا تھا
دوست کیسی ہے اب تمہاری؟؟ نرگس بیگم کے پوچھنے پر وہ بوکھلائی تھی
ہاں۔۔ کیا اماں؟؟ اس جنگلی انسان نے تو کہا تھا ڈرائیور سمجھائے گا اس نے تو کچھ کہا ہی نہیں یا میں نے اسے موقع نہیں دیا؟؟ لبوں پر زبان پھیر کر اسنے خود کو کوسا تھا
تمہاری میڈم نے بتایا تھا دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اب کیسی ہے وہ؟؟
جی۔۔جی۔۔ اب بہتر ہے اماں میڈم نے کیا بولا تھا آپ کو؟؟ خود کو جھوٹ بولنے کے لیے تیار کرتے اسنے ان سے سوال کیا تھا
بتا رہی تھیں کہ وہ گر گئی ہے اور تو اسے اسپتال لے کر گئی ہے
جی اماں۔۔
دیکھ پریشے میں تجھے اس لئے اب کچھ نہیں کہتی کہ میری نہیں ہمت کسی سے الجھنے کی عظمی پہلے ہی ناراض ہے مجھ سے تو کوئی ایسا کام نا کرنا کہ میں سختی کرنے پر مجبور ہوجاؤ۔۔
جی اماں۔۔ اسنے شرمندگی سے سر جھکایا تھا اور دل میں ناجانے کتنی گالیوں سے دلشیر کو نوازہ تھا جو بلا کی تھی اس سے چمٹ گیا تھا
آج تیرے ابا کے دوست آئے تھے رشتے کے لئے وہ تو شکر ہے کہ کسی وجہ سے وہ آ نا سکے ورنہ تماشہ لگ جانا تھا اور اپنے ابا کو تو بہت اچھے سے جانتی ہے تو احتیاط کر ورنہ میں نا خود رکوں گی نا عظمی رکے گی تیرے ابا کے آگے بولنے سے۔۔
اماں میں نے کچھ نہیں کیا میں بھی گر گئ تھی بس اسی لئے اسکے ساتھ گئی تھی۔۔ اسنے جلدی سے اپنے زخمی ہاتھ ان کے آگے کئے تھے جسے دیکھ وہ لمحے کو چپ ہوئی تھیں
اچھا ٹھیک ہے اب جا اور کپڑے تبدیل کرکے دوا لگا پھر رات کے کھانے کی تیاری کر تیرے ابا بھی ہونگے آج کھانے میں
جی اماں۔۔ ہولے سے بولتے وہ اندر کمرے میں آئی تھی
دلشیر میں تمہیں قتل کرکے کہیں دور پھینک آؤ گی جاہل انسان میری زندگی جہنم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تم۔۔
کیا مصیبت ہے بھئی۔۔ وہ سٹپٹاتی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی
مر کیوں نہیں جاتی میں ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا دوسرا شروع۔۔ پہلے وہ دلشیر کم عذاب تھا کو جو اب یہ رشتہ اور ابا کا آنا۔۔۔۔
کپڑے تبدیل کرتے اسنے دوا لگا کر کپڑا ہاتھ پر باندھا تھا اور کچن میں آئی تھی
مر جائے بندہ مگر کام لازمی کرے۔۔ آج زندگی میں پہلی بار اسکے منہ سے شکوہ نکلا تھا
تیزی سے ہاتھ چلاتے اسنے کھانے کی تیاری کی تھی مگر دماغ کے تانے بانے آج کے واقعے میں الجھے ہوئے تھے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس شخص کا مقصد کیا ہے
ناجانے چاس سرپھرے انسان کے دماغ میں کیا چل رہا ہوگا اب۔۔۔۔
مجھے کیا اب اگر کچھ کرے گا تو میں منہ نوچ لونگی۔۔۔ خود کو مضبوط کرتے اسنے عزم کیا تھا
بوس آپ کی کافی۔۔ اسکے آگے کافی کا مگ رکھتے کلیم مؤدب انداز میں کھڑا ہوا تھا
ہمم۔۔۔ کیا رپورٹ ہے ؟؟
کافی کا سپ لیتے اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
سر ان کے فادر کے دوست جو آرہے تھے ان کی گاڑیوں کا بلاک کردیا گیا تھا اور انہیں وہاں پہنچنے ہی نہیں دیا
گڈ۔
بوس ایک بات پوچھوں ؟؟؟
تمہیں کب سے اجازت کی ضرورت پڑ گئی کلیم صاحب۔۔ اسنے مسکرا کر کہتے اسے دیکھا تھا
آپ نے میڈم کے لئے اتنا ارینجمنٹ کروایا تو آپ نے انہیں دیکھایا کیوں نہیں ؟؟
کیونکہ آپ کی میڈم کا دماغ اس وقت سورج پر بیٹھا تھا میری ارینجمنٹ کو جلا کر بھسم کر دینے تھا۔۔ اسکے لہجے میں عجیب سی خوشی تھی جسے محسوس کر کلیم بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
پہلی بار وہ اسے اتنا خوش دیکھ رہا تھا
بوس آپ تاخیر کیوں کر رہے ہیں جلد از جلد ان سے شادی کریں نا۔۔
کرونگا کلیم اور اب تو یہ اور ضروری ہوگیا ہے ویسے اس کے فادر کے حوالے سے کیا نیوز ہے؟؟
سر ان کے فادر پینٹر ہیں اس کے علاؤہ وہ دوسرے کئی کام کرتے ہیں جیسے ٹرک چلانا سامان کی سپلائی کرنا وہ مہینوں گھر نہیں آتے ان کا مزاج ایسا ہے کہ بہت کم لوگوں سے ان کی بنتی ہے جس شخص کو وہ میڈم کے رشتے کے لئے کا رہے تھے وہ انہیں بدلے میں کافی منافع دینے والے ہیں اب یہ منافع کیا ہے اس بات سے ابھی تک کوئی بھی باخبر نہیں ہے
بس اتنا پتا ہے کہ وہ ایک خود غرض انسان ہیں اور لاہور میں ایک عورت سے ان کے تعلقات بھی ہیں میں نے آدمی کو بھیجا ہے مجھے تو لگتا ہے کہ شاید وہ ان کی تیسری بیوی ہیں۔۔۔
کلیم نے رٹا ہوا سبق اسکے آگے گوش گزار کیا تھا
اور اسکی سوتیلی ماں؟؟ وہ تو ظلم نہیں کرتی نا اس پر۔۔۔
سر ان کی ماں کبھی اچھی کبھی بری ہے محلے والوں سے زیادہ تو کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے جاؤ۔۔ اسکے کہنے پر کلیم سر ہلا کر مڑا تھا
کلیم۔۔ اسے باہر جاتے دیکھ دلشیر نے ایک دم اسے پکارا تھا
جی سر۔۔۔
نہیں کچھ نہیں جاؤ تم۔۔ نفی میں سر ہلاتے وہ اٹھ کر کھڑکی تک آیا تھا
تاحد نگاہ چلتی گاڑیاں۔۔
اس کا دماغ ناجانے کا سوچ رہا تھا مگر اتنا طے تھا کہ وہ دلشیر تھا وہ جو کرتا تھا نا وہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔
کتنی دیر یونہی وہ بے مقصد سڑک پر چلتی گاڑیوں کو دیکھتا رہا تھا
پھر موبائل نکال کر کسی کو کال ملائی تھی
سنو۔۔۔ ایک ایڈریس دے رہا ہوں لمحے لمحے کی خبر چاہیے مجھے۔۔
دوسرے طرف موجود شخص کو آرڑر دیتے وہ واپس اپنی سیٹ پر آیا تھا
اس عشق نے ہمیں نکما کردیا ورنہ آدمی ہم بھی تھے بڑے کام کے۔۔۔
ٹیبل پر موجود فائلز کو دیکھ اس نے با آواز بلند شعر پڑھ کر قہقہ لگایا تھا
مغرب کی نماز پڑھ کر وہ یونہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی تھی منڈیر سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا دل کو جیسے سکون پہنچا رہی تھی
گھٹنوں کے گرد بازو باندھتے اسنے اپنا سر اس پر ٹکایا تھا
دادو بولتی تھیں آپ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں اور آپ کے جیسا کوئی بھی مجھے پیار نہیں کرسکتا امی۔۔
آپ کہاں ہیں آپ کو میرا خیال کیوں نہیں آیا ایسے چھوڑ کر چلے گئیں
بابا سے تو مجھے کوئی امید نہیں مگر آپ ہوتیں تو آج میں اپنے دل کی ہر بات آپ سے کرتی آپ جانتی ہیں میرے دل پر کتنا بوجھ ہے مجھے صحیح غلط میں فرق کرنا نہیں آتا میرے ساتھ ہونے والے واقعات مجھے پاگل کر رہے ہیں میں پہلے ہی دل میں خوف لئے بڑھی ہوئی ہوں اب یہ خوف ایک اور خوف نے ساتھ مل کر میری جان لے لے گا۔۔
آج بابا آئیں گے کھانے پر مجھے تو خوش ہونا چاہیے مگر میں خوش نہیں ہوں لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں بابا کی لاڈلی ہوتی ہیں مگر مجھے دیکھیں انہیں تو میرا وجود ہی نہیں پسند جبھی تو اب مجھے اس گھر سے نکالنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں کیا میں اتنی بری ہوں امی کہ کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا۔۔
مجھے دیکھنا پسند نہیں کرتا میرے پاس دوست نہیں ہیں جن سے میں بات کر سکوں میرے پاس خوش رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہی نہیں ہے آج میری سالگرہ ہے مگر دیکھیں یہاں وش کرنا تو دور کسی کو یاد تک نہیں ہے آپ جانتی ہیں میں کبھی شکوہ نہیں کرتی مگر آج روبی نے یہ احساس دلایا ہے کہ خوشی کسے کہتے ہیں
وہ تو اتنی پکی دوست بھی نہیں میری مگر اسے یاد تھا وہ میری خوشی کی وجہ بنی آج میری دعا ہے وہ ہمیشہ خوش رہے اور وہ جو چاہے اسے مل جائے۔۔ اس نے صدق دل سے دعا دی تھی
اسے یہاں بیٹھے بیٹھے عشا ہوگئی تھی اسے حیرت ہوئی تھی کہ وہ اتنی دیر یہاں بیٹھی رہی۔۔
دیکھیں امی آج میں نے کتنا سارا وقت آپ کے ساتھ گزارا ہے اب میں جارہی ہوں۔۔
مسکرا کر اسنے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا تھا اور سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے تھی
تبھی دروازہ زور سے بجا تھا
دروازہ کھولو سارے مر گئے ہو کیا؟؟؟ اپنے ابا کی تیز آواز پر وہ بھاگ کر دروازے تک آئی تھی اور جلدی سے دروازہ کھولا تھا
کہاں مگر تھی اور ماں کہاں ہے تیری تو کیوں دروازہ کھولنے آئی۔۔
ان کے یوں چلانے پر اس نے بے بسی سے لب کاٹے تھے
میں باتھ روم میں بھی سہیل کے ابا۔۔
ہاں تو ایک کام کر وہی جا کر مر جا ویسے بھی میرے تو کسی کام کی نہیں تو۔۔
اور تو میرا منہ کیا دیکھ رہی جا دفع کر اپنی شکل ۔۔۔
انکی توپوں کا رخ اسکی طرف ہوا تو وہ جھٹ سے وہاں سے اندر بھاگی تھی۔۔
سہیل جلدی سے اٹھ جاؤ ابا باہر ہیں۔۔
بیڈ پر پڑے سہیل کو اسنے جلدی سے اٹھایا تھا
اسے کیوں اٹھا رہی ہو آئے ہیں تو آنے دو زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے ذلیل ہی کرینگے۔
غصے سے کہتے عظمی نے ڈائجسٹ اٹھائی تھی
اسے ایک لمحے کو رشک آیا تھا اس پر کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتی تھی کاش وہ بھی ایسے ہوتی۔۔
کہاں مر گئے ہو سارے باپ گھر آیا ہے اور انڈر دفن ہوئے پڑے ہو۔۔
عظمی چلو۔۔ کانپتے دل کے ساتھ وہ بھاگ کر باہر آئی تھی
جا پریشے کھانا گرم کر ابا کے لئے اپنے۔۔ نرگس بیگم کے کہنے پر انہوں نے کچن میں جاتی اپنی بیٹی کو دیکھا تھا
“میرا دوست آئے گا کل نکاح کی تاریخ لینے تیاری کرلینا”
اپنے ابا کی بات پر اسکے ہاتھ کپکپائے تھے ہاتھ میں موجود پلیٹ گرتے گرتے بچی تھی اس نے ہاتھ کی پشت سے آنکھیں رگڑیں تھیں
ایسے کیسے ابھی عمر ہی کیا ہے اسکی؟ نرگس بیگم نے ان کی بات سے اختلاف کیا تھا
عمر ہے یا نہیں وہ تیرا مسئلہ نہیں ہے پریشے میری بیٹی ارے تو خوش ہو جا اب سوتیلی اولاد سے جان چھوٹ جائے گی
یہ کیا بول رہے ہوں میں کیوں خوش ہونگی؟؟
ارے ارے بھولی کو تو دیکھو کیا میں نہیں جانتا کیسے مارتی تھی اسے تو۔۔۔
وجدان میں نے کبھی اسے سوتیلی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں مارا یہ بات تم مانو یا نہیں۔۔
ارے جا آئی بڑی بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پریشے کی شادی میری مرضی سے ہوگی تو اپنا منہ بند رکھ
کہا مر گئے ہو کھانا لگاؤ۔۔انہیں سائیڈ کرتے وہ باتھ روم میں بند ہوئے تھے
نرگس بیگم سر پکڑ کر بیٹھی تھیں
اپنے آنسوؤں سے بھرا چہرہ صاف کرتے اسنے کمرے میں کھانا لگایا تھا
اماں کھانا لگا دیا ہے۔۔ اسکی آواز پر نرگس بیگم نے اسے دیکھا تھا
رویا رویا چہرہ سرخ متورم آنکھیں۔۔۔
چلو تم آتے ہیں ہم۔۔
وہ سر جھکائے خاموشی سے کمرے میں آگئی تھی
وہیں دوسری طرف اس نے غصے سے پوری میز الٹ دی تھی
یہ اور صاحب اب ایسے نہیں مانیں گے کلیم زرا سسر صاحب سے ملاقات کا بندوبست تو کرو ان سے تو اب بات کرنا بنتا ہی ہے۔۔
دانت پیس کر کلیم سے کہا تھا
اسکے ارادے دیکھ کلیم کو وجدان صاحب کر ترس آیا تھا
