240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 11)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

سورج کی سنہری روشنی چھن سے پردہ توڑ اسنے چہرے کو چھو رہی تھی اس نے کسمسا کر کروٹ لی تھی مگر روشنی نے اپنا راستہ بدل لیا تھا۔۔

اسنے آنکھوں پر ہاتھ رکھ اس روشنی کو روکنا چاہا تھا مگر ناکام رہی تھی نیند ٹوٹ چکی تھی اس نے ہلکے سے آنکھیں کھول کر کمرے میں روشنی کو دیکھا تھا گھڑی اس وقت صبح کے چھ بجا رہی تھی برابر پر نظر پڑی تو دلشیر غائب تھا۔

اتنی صبح اٹھنا اسکے معمول میں شامل تھی مگر یہاں آکر اس نے نوٹ کیا تھا کہ اس میں کچھ اچھی تبدیلیاں نہیں آرہی تھیں۔۔

ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا تھا اسنے سر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا تھا۔۔

سفید کرتے شلوار میں وہ سر پر ٹوپی پہنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔

“مارننگ۔۔ اتنی جلدی اٹھ گئیں؟”الماری سے قرآن پاک کے کر وہ آکر سامنے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔

“مجھے کیوں نماز کے لئے نہیں اٹھایا مجھے بھی نماز پڑھنی تھی۔۔”

“میڈم میں آپ کو اٹھا کر گیا تھا اگر آپ کو یاد ہو تو۔۔”۔اسکے کہنے پر اسے یاد آیا کہ کوئی اسے اٹھا رہا تھا مگر وہ اپنا خواب سمجھ کر واپس سو گئی تھی۔۔

وہ تلاوت شروع کرچکا تھا صبح کے وقت خاموش فضا میں اسکی پرسوز آواز دل میں سکون پیدا کر رہی تھی پریشے نے سر پر دوپٹہ ڈال آنکھیں موندی تھیں۔۔

کتنا سکون تھا اس آواز میں کہ دل سے سارے غم،درد چھٹتے محسوس ہورہے تھے۔۔

اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔

تلاوت کر اس نے قرآن پاک شیلف میں رکھا تھا اور اس کے قدموں میں آکر بیٹھا تھا اور اپنے انگلیوں کی پوروں سے اس کے آنسو چنے تھے۔۔

“مجھے معاف کر سکتی ہو جو میں نے کیا؟؟ اسکی بات پر پریشے نے حیرت سے اسے دیکھا تھا اس کی بے یقینی پر وہ ہولے سے مسکرایا۔۔

“جو میں ہوں اور جیسا میں دیکھتا ہوں دونوں الگ الگ شخص ہیں۔”اپنی بات پر وہ خود ہنسا تھا۔۔

“میں صرف اپنا آپ ان لوگوں پر ظاہر کرتا ہوں جن سے میں محبت کرتا ہوں اور تم وہ واحد ہو جن سے میں محبت کرتا ہوں۔۔ “اسکا ہاتھ تھام وہ دھیمی آواز میں اس سے بات کر رہا تھا یہ وہ دلشیر تو نہیں تھا جو کسی حادثے کی طرح اس کی زندگی میں آیا تھا اور اسکی زندگی بدل دی تھی۔۔

“دلشیر کیا میں اب کبھی اپنے گھر نہیں جاسکتی کبھی اس گھر جہاں میرا بچپن گزرا میری زندگی چاہے وہاں جتنی بھی تلخ گزری ہو مگر میں نے وہاں زندگی کے کی خوشیاں بھی محسوس کی ہیں۔۔”

“کیوں نہیں جا سکتی میں نے شادی کی ہے تم سے قیدی نہیں بنایا یہ تمہاری زندگی ہے میں کسی بھی چیز میں تم پر زور زبردستی کبھی نہیں کرسکتا میں چاہے لاکھ برا سہی مگر مجھے اپنے حقوق وفرائض دونوں جا علم ہے۔۔ “اسکے ہاتھوں کو تھام کر اسنے لبوں سے لگایا تھا۔۔

“چلو اب ریسٹ کرلو میں اسٹڈی میں ہوں کچھ بھی چاہیے ہو مجھے آواز دے دینا۔ “اسکا گال تھپک کر وہ اسکے پاس سے اٹھا تھا۔

“سنیں دلشیر۔۔”اسکے پکارنے پر اسکے اسٹڈی کی طرف جاتے قدم تھمے تھے۔۔

“ہممم بولو”.. اسنے گردن موڑ کر مسکرا کر اس سے پوچھا تھا کتنا خوبصورت انداز تھا اسے پکارنے کا۔۔

“چائے بنا لوں میں ؟؟”اسکے یوں اجازت لینے پر دلشیر کے ماتھے پر بل آئے تھے تبھی وہ واپس اسکے پاس آیا تھا۔

“یہ کیا بات ہوئی؟ یہ گھر مجھ سے زیادہ اب تمہارا ہے آئندہ کسی بھی چیز کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں نا۔۔؟”اسکے سر پر ہاتھ رکھتا وہ بولا تھا۔۔

“جی۔۔ “اسنے اثبات میں سر ہلایا تھا اور واپس سے اسٹڈی میں گم ہوا تھا جبکہ وہ خود فریش ہوتی نیچے کچن میں آئی تھی۔۔

جتنا بڑا کچن تھا اتنا ہی نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا اور یہ یقیناً نیلم اور ریشم کا کمال تھا۔۔

وہ چائے کا پانی رکھ کر کچن میں موجود کھڑکی تک آئی تھی جہاں سے لان کا منظر واضح تھا۔۔

“امی دیکھیں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنا بڑا گھر کبھی میرا ہوگا ٹھیک کہتی تھیں دادو صبر کرنے والوں کا صبر رائگاں نہیں جاتا ہے مجھے تو دلشیر پر حیرت ہورہی ہے کل تک جسے میں غنڈا بدتمیز اور ناجانے کیا کیا سمجھتی رہی ان کا سب سے حسین روپ تو میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔۔”

اسنے مسکرا کر دلشیر کو سوچا تھا۔۔

بعض اوقات ہم انسان کو پہچانے میں غلطی کردیتے ہیں جسے ہم بہت اچھا سمجھنے لگتے ہیں اکثر وہی ہماری آستین کا سانپ ثابت ہوتا ہے۔۔

چائے کا کپ تھامے اس نے دوسرے کپ میں دلشیر کے لئے چائے نکالی تھی کل ریشم نے اسے بتایا تھا کہ وہ چائے کافی کا بہت شوقین تھا۔۔

دونوں کپ ٹرے میں رکھے وہ اوپر آئی تھی اور آہستہ سے اسٹڈی کا دروازہ کھولا تھا۔

اندر وہ چئیر پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کرنے میں مصروف تھا آہٹ کر چونک کر اسنے مڑ کر دیکھا تھا اور اسے سامنے دیکھ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔

“پریشے۔۔۔کم کم۔۔۔”اس کے یوں مسکرا کر بلانے پر وہ دھیمے قدموں سے سے اسکے پاس آئی تھی اور ٹرے ٹیبل پر رکھی تھی۔

“میں اپنے لئے بنا رہی تھی تو سوچا آپ کے لئے بھی بنا دوں۔۔”اسے دونوں کپوں کی طرف دیکھتا پاکر اسنے جلدی سے صفائی دی تھی۔۔

اسکے انداز پر دلشیر اسکا ہاتھ تھام اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔

“دلشیر۔۔۔”اس اچانک حملے پر اسکا دل خوف سے سمٹا تھا۔۔

“ادھر بیٹھو۔۔۔” اسے اپنی گود میں بیٹھاتے اسنے دونوں اطراف سے ہاتھ اسکے گرد رکھے تھے کہ اسکے واپسی کا راستہ بند ہوگیا تھا ۔۔

“یہ کیا کر رہے ہیں راستہ دیں مجھے باہر جانا ہے۔۔”وہ منمنائی تھی۔۔

“ارے یار آج تک جتنے ڈرامے اور ناول پڑھیں ہیں انہیں وصول تو کرنے دو۔۔”اسکے گال کو نرمی سے چھوتا وہ آنکھ دبا کر بولا تھا۔۔

“مجھے چائے پینی ہے ٹھنڈی ہوجائے گی۔۔”اسکا حصار توڑنے کی ناکام کوشش کرتے وہ آخر میں تھک کر بولی تھی۔۔

“تو پیو نا یہ لو۔۔”کپ اسکی طرف بڑھاتے وہ مسکرایا تھا۔

مرتے کیا نا کرتے کے مصداق اسنے وہ کپ تھام کر لبوں سے لگایا تھا مگر تیسرے سپ پر ہی وہ کپ دلشیر کے ہاتھوں میں تھا۔

“یہ میرا کپ ہے آپ اپنا لیں نا۔۔”اسے اپنے کپ سے پیتے دیکھ اس نے غصے سے کہا تھا۔۔

“میاں بیوی میں تیرا میرا کیا جانی۔۔انکھ دبا کر کہتے وہ اسے غصہ دلا گیا تھا اس نے اس وقت کو کوسا تھا جب ہمدردی میں وہ یہاں آئی۔۔۔

“یہ جانی کیا ہوتا ہے ہاں؟؟ کوئی تمیز ہی نہیں ہے آپ کو لڑکی سے کیسے بات کرتے ہیں۔۔”منہ پھلا کر کہتے اس نے رخ موڑا تھا۔۔

“اول تو میں لڑکیوں سے بات ہی نہیں کرتا یار۔۔”اس نے معصوم بننے کی بھرپور ایکٹنگ کی تھی ۔

“مجھے شک ہے اس بات پر۔۔”دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس نے منہ بنا کر کہا تھا جس پر اسکا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔

“ارے یار اکلوتی بیوی ہو میری تم اور اب میں نے اتنے ٹائم تک ڈراموں سے جو سیکھا ہے وہ کسی پر تو اپلائے کرنا ہے نا جانی۔۔۔چٹکی بجا کر اسنے اپنی انگلی کا رخ اسکی طرف کیا تھا کہ اچانک وہ انگلی پریشے کی گرفت میں آئی تھی۔۔

“اہہہہ۔۔۔ پریشے چھوڑو یار درد ہوتا ہے۔۔”

“ہاہاہاہا مرد کو درد نہیں ہوگا جانی۔۔۔”اسی کے انداز میں چٹکی بجاتے وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی اور اسکی کمزور پڑتی گرفت سے مکمل آزاد ہوتی اپنا کپ اٹھا کر کمرے سے بھاگی تھی۔۔

“اہ۔۔۔ ظالم عورت۔۔”اپنی انگلی سہلاتے اسنے دھائی دی تھی۔۔

“باس گاؤں والی زمین پر کچھ مسئلہ ہوگیا ہے آپ کو وہاں جانا ہوگا۔۔” وہ فریش ہوکر نیچے آیا تو کلیم کو اپنا منتظر پایا تھا۔۔

“کیوں خیریت ایسے اچانک کیا مسئلہ ہوگیا ہے ؟”اسنے کورٹ پہنتے اس سے پوچھا تھا سامنے ہی ڈائننگ ٹیبل پر پریشے بیٹھی تھی تبھی اسنے اپنی آواز آہستہ رکھی تھی۔۔

“باس بڑے خان نے وہاں کا کام کروادیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کی ہے آپ سرکاری طور پر وہاں کوئی کام نہیں کرسکتے۔۔”

کلیم کی بات پر اسکے ماتھے پر بل آئے تھے۔۔

“مقصد کیا ہے ان کا یہ سب کرنے کا؟ ڈیمانڈ کیا ہے؟؟

“آپ سے ملنا چاہتے ہیں وہ۔۔”کلیم کے بولنے پر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔

“ان کے تماشے ساری زندگی ختم نہیں ہونے والے تم آج کی میٹنگ فائنل کرو پھر شام میں نکلتے ہیں گاؤں کے لئے۔۔”اسے بولتا وہ اپنی چئیر پر آکر بیٹھا تھا۔۔

“آج تو اتنا کم ناشتہ ہے آج بلکل بھی پیٹ میں درد نہیں ہوگا نا۔۔؟”اسکے شرارت سے کہنے پر پریشے نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔

“چپ کر کے ناشتہ کریں زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔” غصے سے اسے کہتے اسنے دلشیر کے گلاس میں جوس ڈال کر اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔

“ارے جانی اتنا غصہ کیوں کرتی یار۔۔”

“میں کوئی جانی وانی نہیں ہوں آئی سمجھ مسٹر دلشیر۔۔”

“مجھے سکون سے ناشتہ کرنے دیں۔۔”چڑ کر کہتے اسنے اپنا سارا دھیان ناشتے کر لگایا تھا۔۔

“اچھا بس نہیں بولتا کچھ بھی مگر آخری بات سن لو۔۔”

“کیا؟”

“شام میں گاؤں جارہا ہوں کسی کام سے صبح تک واپس آجاؤ گا تو نیلم اور ریشم ہونگی گھر میں تو انہیں اپنے پاس روک لینا دوسرا کلیم بھی یہی ہوگا تو جو بھی کوئی مسئلہ ہو بلا جھجھک اسے بول دینا۔۔”

“اچھا۔۔”اس نے صرف اچھا بولنے پر اکتفا کیا تھا حالانکہ اس کا دل کیا بول دے کہ اتنے بڑے گھر میں وہ کیا کرے گی اکیلے ریشم اور نیلم سے بھی کتنی بات کرسکتی ہے مگر وہی بات کہ آنا اڑے آرہی تھی محترمہ کے۔۔

“اور جانی سنو نا”اسکے شرارت سے کہنے پر اسنے ایک مکا اسکے بازو پر رسید کیا تھا۔

“ہاہاہا۔۔ اچھا سنو اپنی پڑھائی اسٹارٹ کردو بہت چھٹیاں ہوگئی ہیں پھر اچھا سا رزلٹ کے کر آؤ تاکہ ڈاکٹر بن سکو۔۔”اس کی بات پر اسنے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔

“آپ کو کیسے پتا کہ مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق ہے؟؟”اسکے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی۔

وہ مدہم سا مسکرایا تھا۔

“جانی آپ سے محبت کی ہے اور شادی سے پہلے آپ کے سارے شوق بھی معلوم کئے ہیں تاکہ آپ کو ہم سے کوئی شکایت نا ہو۔۔”اس کی باتوں سے وہ متاثر ہوئی تھی مگر یہ لفظ جانی۔۔۔۔

پتا نہیں کیوں اسے سخت چڑ ہونے لگتی تھی اس لفظ سے۔۔

“دلشیر جانی مت بولیں پلیز۔۔۔”اس نے التجا کی تھی۔

“ارے تم مجھے جانی بول رہی ہو مجھے یقین نہیں آرہا”مصنوعی حیرت سے کہتے اسنے پریشے کی شکل دیکھ قہقہ لگایا تھا اور اسکے بال بگاڑے تھے۔۔

“اگر یہ جانی نہیں بولوں گا تو تمہارے یہ سڑے ہوئے تاثرات کیسے دیکھوں گا؟؟”

“آپ دنیا سے نرالے انسان ہیں پہلے یوں زبردستی شادی کی اور اب۔۔ “اسکے یوں غصے سے کہنے پر وہ لمحے کو چپ ہوا تھا پریشے کو اپنے لفظوں کا احساس ہوا تو بے ساختہ زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔۔

“چلو میں چلتا ہوں کلیم کو بول دیا ہے بکس کا وہ لے آئے گا آتے ہوئے۔۔”اسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ گھر سے نکلتا چلا گیا اور اپنے پیچھے اسے افسوس کرنے کے لئے چھوڑ گیا۔

“کیا ضرورت تھی فضول بولنے کی وہ ویسے بھی سفر پر جارہے ہیں اففف پریشے تم تو ابا اور اماں جی ڈانٹ پھٹکار کے ہی لائق ہو زیادہ پیار اور توجہ تمہیں کبھی ہضم ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔اپنی عقل پر ماتم کرتی وہ اٹھ کر باہر کی طرف آئی تھی تاکہ اسے دیکھ سکے تبھی سامنے والے سے بری طرح ٹکرائی تھی۔۔

“اہہہ۔۔۔۔ “

“اوئے پریشے آر یو اوکے یار؟؟ اسکا چہرہ اوپر کرتے اسنے ماتھے پر دیکھا تھا۔۔

دلشیر کی آواز پر اسنے سر اٹھایا تھا وہ تو چلا گیا تھا نا۔۔

“آپ تو چلے گئے تھے نا؟؟”اسکے یوں اچانک واپس آجانے پر اسے حیرت ہوئی تھی۔۔

“ہمم یہ لو یہ کارڈ ہے فری ٹائم میں کلیم اور ریشم یا نیلم نے ساتھ جا کر اپنے کالج کے لئے جو بھی لینا ہے لے لینا اور پرانا کچھ بھی اپنے گھر سے واپس لانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ سامان اب وہاں نہیں ہے۔۔”

“کیوں میرا سامان کہاں گیا ؟؟”آپ گئے تھے وہاں؟؟؟”

اسنے حیرت سے اس سے پوچھا تھا۔

“سامان منگوایا تھا تو ان لوگوں نے ردی میں ڈال دیا ہے سب۔۔”اسکے جواب پر وہ لمحے کو چپ ہوئی تھی۔

“اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب میری زمہ داری ہے تمہیں پڑھانا تمہارا ہر خواب پورا کرنا سمجھ آئی۔۔؟”اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اس نے محبت سے کہا تھا جس پر اسنے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔

“گڈ گرل کوئی ٹینشن فکر نہیں کرنا کیونکہ اب میں بھی ہوں ساتھ۔۔۔”اسکے ماتھے پر لب رکھتے اسنے جذب کے عالم میں کہا تھا اور اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا۔۔۔