240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 1)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

اس نے گھر کا گیٹ کھولا تو سامنے ایک آدمی کو کھڑا پایا تھا

جی کہیے کس سے ملنا ہے؟؟اس نے حیرت سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تھا جس کے ہاتھ میں بہت بڑا سا پھولوں کا گلدستہ تھا کیا یہ گھر پریشے وجدان کا ہے؟؟

اس اجنبی آدمی کے منہ سے اپنا نام سن اسے جھٹکا لگا تھا

آپ کون ہیں اور کیا کام ہے ؟؟ گھر میں دیکھتے اس نے جلدی سے پوچھا تھا مبادہ کوئی دیکھ لیتا اور مصیبت گلے پڑ جاتی۔

یہ دلشیر خان نے آپ کے لئے بھیجوائے ہیں۔ ۔

اس آدمی کے منہ سے اپنا نام اور پھر کسی دلشیر کا نام سن کر اسکے سہی والے طوطے اڑے تھے

یہاں کوئی پریشے نہیں رہتی ہے جائیں یہاں سے۔۔ اسکے منہ پر دروازہ بند کرتی وہ جلدی سے اندر آئی تھی اور کمرے کا دروازہ بند کرتے گہرے سانس بھرے تھے

یاللہ اب یہ کون تھا۔۔ دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھتے اس نے سوال کیا تھا

اللّٰہ پاک اب کوئی مصیبت میرے گلے نا پڑے ورنہ اس بار ابا نے میری چمڑی ادھیڑ دینی ہے

اسکے چہرے پر خوف سے سائے لہرائے تھے۔۔

تبھی درازہ ایک بار پھر بجا تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ باہر جاکر دروازہ کھول سکے۔۔

نہیں نہیں میں نہیں کھول رہی اگر کسی نے دیکھ لیا تو میری جان مصیبت میں پڑ جائے گی۔۔

وہیں کمرے میں بیٹھے اس نے فیصلہ کیا تھا اور جلدی سے یونیفارم تبدیل کر اپنے کاموں میں لگی تھی باہر جو کوئی بھی تھا دوسری دستک کے بعد واپس لوٹ گیا تھا

گھر کے سارے کام کرتے اسنے جلدی سے تازہ روٹیاں ڈالی تھیں ورنہ آج ذلالت پکی تھی ماں کے انتقال کے بعد سے جیسے ڈرنا اسکی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا کبھی باپ کی مار کا ڈر تو کبھی سوتیلی ماں کی مار۔۔

وہ محض اٹھارہ سال کی تھی اور اسکا غم اسے دنیا سے بڑا لگتا تھا روز روز کی سسکتی زندگی اور اب اس میں ایک نئی مصیبت جو آج اس پر نازل ہوئی تھی

سارے کام سے فارغ وہ بیڈ پر گری تھی پورا جسم تھکن سے چور تھا

اس سے پہلے کے وہ نیند کی وادیوں میں اترتی دروازہ زور سے بجنا شروع ہوا تھا

وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھی تھی دوپٹہ سر پر لیتے اسنے بھاگ کر دروازہ کھولا تھا

کہاں مر گئی تھی ہٹ حرام کب سے دروازہ بجا رہی ہوں میں۔۔

اسے پرے دھکیلتی وہ اندر داخل ہوئی تھی

اماں میں کام کر رہی تھی ۔۔ اسکی ڈانٹ سن کر اس نے ہولے سے جواب دیا تھا اور جلدی سے دروازہ بند کرتے کچن میں آئی تھی چائے کا پانی چڑھا کر اس نے ایک گلاس پانی کا بھرا تھا اور لاکر اپنی ماں کے ہاتھ میں تھمایا تھا

جا بھی اب کیا میرے سر پر سوار ہے۔۔ اسے یونہی کھڑے دیکھ وہ ناگواری سے بولی تھی۔

اماں یہ گلاس۔۔

اپاہج نہیں ہوئی کہ یہ گلاس بھی نا رکھ سکوں سب جانتی ہوں ایسے کر کے دنیا کی نظر میں مظلوم بنی پھرتی ہے۔۔

جا دفع کر اپنی شکل پانی کا گلاس اسکے ہاتھ میں تھماتے وہ چڑ کر بولی تھی

جا چائے بنا اور ساتھ میں پاپڑ بھی تل لینا۔۔

ایک اور حکم صادر کرتے وہ وہیں تخت پر نیم دراز ہوئی تھی اور اپنے درد کو بھولتی اسنے کچن کا رخ کیا تھا

اب آرام تو نصیب ہونے سے رہا چائے بنا کر اسنے جلدی سے پاپڑ تلے تھے باہر سے اب شور کی آواز آنے لگی تھی جس کا مطلب تھا باہر اماں کے لاڈلے لاڈلیاں آگئی ہیں۔۔

اس نے جلدی چائے نکال کر صحن میں رکھی اور پاپڑ اور بسکٹ وہاں رکھے

اماں میں پہلے کھانا کھاؤں گی۔۔ یہ عظمی تھی اسکی سوتیلی بہن۔۔

ہاں میری بچی پہلے کھانا کھا لے۔۔ اسکی ماں نے اپنی لاڈلی کو پچکارا تھا ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ کچن میں آئی تھی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں مگر انہیں بے دردی سے رگڑتے اسنے اپنا کام جاری رکھا تھا۔۔

چنبیلی جلدی سے جا اور رجو کو بول صدقے کے لئے بکرے اور مرغیاں لاکر رکھے جا جلدی۔۔۔۔

ہاجرہ بیگم کی کڑک دار آواز پوری حویلی میں گونج رہی تھی۔۔

ارے اماں میٹھائیاں بھی منگوائی ہیں شرفو سے۔۔ آپ پتا دینا کہ کونسی لائی ہیں۔۔

یہ ثوبیہ بیگم تھیں جو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں اور ہوتی بھی کیوں نا آج انکا لاڈلہ اور چہیتا بیٹا اتنے سالوں بعد گھر واپس آرہا تھا

ارے بہو شرفو کو بول دیسی گھی اور میوہ سے بھری مٹھائیاں لائے۔۔

سن رجو سب کو بلاوا دے جاکر کہ آج حویلی میں سب کو کھانا ہے بڑی ضیافت کا انتظام ہے

خوشی ان کے ہر ایک انداز سے جھلک رہی تھی

شکر ہے آج بڑی بی بی کا مزاج اچھا ہے۔۔ آج بنا شامت آئے کام کرنے وہ سارے ملازم ہی خوش خوش تھے

تھوڑی ہی دیر میں حویلی کے باہر ایک جشن کا سا سماں ہوا تھا ڈھول تاشوں کی آواز تیز تر ہوتی جارہی تھی

پشتو زبان کے گیت سب گا کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے

تبھی ایک کالے رنگ کی گاڑی حویلی کے حدود میں داخل ہوئی تھی اور اسکے ساتھ ہی کئی اور گاڑیاں اسکے آگے پیچھے اندر آئی تھی

گاڑی کے اندر آتے ہی چاروں طرف سے پھولوں کی بارش کی گئی تھی

ڈھول کی تھاپ میں اضافہ ہوا تھا

گارڈز جلدی سے اپنی گاڑی سے اتر کر اس کالی گاڑی تک آیا تھا اور جلدی سے دروازہ کھول کر مودب انداز میں جھکا تھا

دلشیر خان زندہ باد۔۔ دلشیر خان زندہ باد۔۔

فضا میں اسکے نام کی پکار گونجی تھی

کچھ لوگ متجسس تھے اسکی ایک جھلک کے لئے۔۔

تبھی وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا جس نے بھی دیکھا وہ جیسے ٹہر سا گیا تھا

سرخ و سفید رنگت لمبا قد چوڑا سینہ چہرے پر موجود داڑھی مونچھوں میں سلیقے سے بال سیٹ کئے لائٹ گرین آنکھیں۔۔

سفید کلف لگے سوٹ میں وہ کندھوں پر شال ڈالے پوری شان سے سب کے درمیان کھڑا تھا

اسکے نام کا ڈنکا بجتا تھا ہر جگہ۔۔

دلشیر خان زندہ باد۔۔ دلشیر خان زندہ باد۔۔۔۔۔

اسکے آگے قدم بڑھانے پر ایک بار پھر فضا میں اسکے نام کی پکار گونجی تھی

سب کو پیچھے چھوڑتا وہ مضبوط قدموں سے حویلی کے اندر داخل ہوا تھا اسکے ہمراہ آئے اسکے گارڈز وہیں باہر ہی رہ گئے تھے

میرا شیر پتر۔۔ اسکے دہلیز پر آنے پر ہاجرہ بیگم لپک کر اسکے گلے لگی تھیں اور اسکا ماتھا چوما تھا

رجو۔۔ جا لے کر آ۔۔ رجو کو اشارہ کرتے انہوں نے کئی نوٹ اسکے اوپر سے وارے تھے

رجو نے کئی بکریاں اور مرغیاں اس پر سے وارے تھے

چلو ہٹو بھئی راستہ خالی کرو۔۔ اسکے آگے بڑھنے پر ثوبیہ بیگم نے دروازے پر کھڑے لوگوں کو وہاں سے ہٹنے کا کہا تھا

جا رجو چنبیلی گاؤں بھر میں مٹھائی تقسیم کر ارے میرا شہزادہ بیٹا آیا ہے۔۔۔

جی مالکن۔۔ حکم پاتے ہی وہ جلدی سے باہر بھاگی تھی

وہ اندر آئی تو وہ صوفے پر کروفر سے براجمان تھا ٹانگ پر ٹانگ رکھے ایک ہاتھ کو صوفے کی پشت پر پھیلائے۔۔

بچے کچھ کھاؤ گے یا ابھی آرام کرنا ہے؟؟؟

ثوبیہ بیگم اسکے پاس بیٹھتے بولی تھیں

ابھی آرام کرونگا ویسے باقی کسی کو میرے آنے کی خوشی نہیں ہوئی لگتا ہے۔۔

لاونج میں بس ان دونوں کو دیکھ اسنے چبھے لہجے میں پوچھا تھا

نا بچے ایسی بات نہیں ہے پنچائیت کا آج ایم فیصلہ تھا اس لئے تمہارے بابا اور آغا جان کو وہاں جانا پڑ گیا باقی تمہارے چچا تو شہر میں ہیں سب نکل گئے ہیں شام تک سب پہنچ جائیں گے۔۔

ہمم۔۔ اسنے ہنکار بھر کر ایک نظر اپنے موبائل کو دیکھا تھا

میسج بھیج کر اس نے ایک نظر حویلی کا جائزہ لیا تھا وہ پورے دس سال باد اس حویلی میں آیا تھا وہ بھی ضروری کام سے مگر اس کے آنے کی خبر ناجانے کیسے حویلی والوں کو ہوگئی تھی مجبوراً اسے یہاں آنا پڑا تھا

پانی کا گلاس لبوں سے لگائے اس نے وہ گلاس ملازمہ کو واپس کیا تھا

تبھی اسکا خاص آدمی اسکے پاس آیا تھا

خان ضروری بات کرنی ہے۔۔

اسکے پاس آکر اسنے ہلکا سا جھک کر اسے کہا تھا

ہمم۔۔ بی جان میں اب آرام کرو گا۔۔ میرے ساتھ آئے لوگوں کی تواضع میں کوئی کمی نا رہے کیونکہ وہ میرے آدمی ہیں۔۔۔

ہاں ہاں بیٹا فکر ہی نہیں کرو رجو جا چھوٹے خان کو انکا کمرہ دیکھا۔۔ ثوبیہ بیگم کے بولنے پر رجو جلدی سے آگے بڑھی تھی

اسی گھر میں رہا ہوں بیس سال اپنے کمرہ کا راستہ پتا ہے مجھے۔۔ سپاٹ لہجے میں کہتے کلیم کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا

اب بولو کیا خبر ہے؟ سیڑھیاں چڑھتے اسنے گھڑی پر ایک نظر ڈالی تھی

آپ کے کہے کے مطابق ان کا پتا لگایا ہے اور آپ کی طرف سے گلدستہ بھی بھیجا تھا مگر۔۔۔ کلیم لمحے کو رکا تھا

مگر؟؟ اسنے آئی برو آچکا کر پوچھا تھا

انہوں نے بکے بنا لئے ہی دروازہ منہ پر بند کردیا۔۔

کلیم کے کہنے پر وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔۔

آئی لائک اٹ۔۔۔ اسکے انداز سے صاف لگ رہا تھا جیسے یہ سن کر اسے بہت مزہ آیا ہو۔۔

دلشیر خان کی ہونے والی بیوی کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔۔

وہ مزے سے بولا تھا اور سیگریٹ لبوں سے لگائی تھی

کلیم نے جلدی سے لائٹر آگے کر کے سیگریٹ کو جلایا تھا

باقی ڈیٹیلز؟؟

تھوڑی دیر میں مل جائیں گی۔۔

گڈ۔۔۔ مجھے انتظار ہے آج شام سے پہلے ساری ڈیٹیلز مجھے مل جانی چاہئے۔۔

کلیم کو وہی چھوڑ وہ اپنے کمرے میں آیا تھا اسکا کمرہ نئے سرے سے آراستہ کیا گیا تھا

کھڑکی تک آکر اسنے پردہ ہٹایا تھا

وہی گاؤں وہی لوگ سب کچھ وہی تھا بس وہ بدل گیا تھا بہت زیادہ۔۔

سیگریٹ کا گہرا کش لیتے اس نے دھواں فضا میں چھوڑا تھا

آنکھوں کے سامنے اچانک سے وہ معصوم سے چہرہ چھن کر کے آیا تھا چہرے پر ایک دم مسکراہٹ آئی تھی

دری سہمی ہرنی جیسی آنکھیں اسکے دل میں طوفان برپا کر گئی تھیں

آرہا ہوں تمہارے پاس بس ایک بار ان جھمیلوں سے جان چھوٹ جائے۔۔ دھویں میں اسکا عکس بنا کر مٹاتا وہ ایسے بولا تھاجیسے وہ اس کے سامنے ہو۔۔۔