No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ٹائیگر نے نور کو اس کے گھر کے پاس چھوڑ دیا تھا۔۔۔ اور زین کو کال کرکے نور کا بتایا اور اپنے کام کے پیسوں کا بھی کہا۔۔۔۔
بہت جلد تجھ سے ملوں گا میری چھمک چھلو۔۔۔۔!!!
نور جب گاڑی سے نکلی تھی تو پچھے سے ٹائیگر نے ہانگ لگاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
نور نے پہچھے مڑ کر دیکھا تھا اور ایک سخت گھوری ٹائیگر پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئ تھی۔۔۔۔
نور کے جانے کے بعد ٹائیگر کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہوگئے تھے۔۔۔۔
اےڈی اب مزہ آۓ گا کھیل کھیلنے میں تیرے لیے یہ چھوکری بہت اہم ہے نا اب دیکھ میں تجھے کیسے تڑپاتا ہوں۔۔۔۔!!!! ٹائیگر نے نفرت سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
نور گھر میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے اپنی ماں کے گلے لگی تھی۔۔۔۔ حیاء تو بس روئی جارہی تھی۔۔۔۔
ماما میں ٹھیک ہوں پلیز رونا بند کریں ورنہ میں پاپا کو بتا دوں گی کہ آپ رو رہی تھیں۔۔۔۔!!! نور نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور میر کے نام پر حیاء خاموش بھی ہوگئ تھی نور کے گھر آنے پر سب نے خدا کا شکر ادا کیا تھا۔۔۔۔
کبیر نور کو دیکھتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا سب لوگ بہت خوش تھے۔۔۔۔
💖————💖
شکر ہے نور صحیح سلامت میر کے گھر واپس آنے سے پہلے آگئ ہے۔۔۔!!! احد نے زین کو کہا۔۔۔۔
ہاں اور کسی بھی وقت میر آتا ہی ہو گا۔۔۔۔ ٹائیگر کو پیسے بھی دینے ہے۔۔۔!!! زین نے کہا۔۔۔۔
ہاں یار اس بے چارے کو تھوڑے زیادہ پیسے دے دینا کچھ پیسے اپنا حلیہ ٹھیک کرنے میں بھی لگا لے گا۔۔۔۔!!! احد نے انسانی ہمدردی کے تحت کہا۔۔۔۔
اور زین حیران سا احد کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
تم جانتے بھی ہو ٹائیگر کتنا بڑا غنڈہ ہے اور وہ اےڈی کی قید سے نور کو لایا ہے۔۔۔۔ تو وہ کوئی عام انسان تو ہو گا نہیں کیونکہ اےڈی کی آنکھوں میں دھول جھونکنا کسی عام انسان کا کام نہیں ہے۔۔۔۔ اور دوسری بات تم جانتے بھی ہو ٹائیگر نے کتنے پیسے مانگے ہیں۔۔۔؟؟؟ زین نے احد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔؟؟؟ احد نے نا میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
اس نے ایک کروڑ مانگا ہے اور تم کہہ رہے ہو میں اسے تھوڑے زیادہ پیسے دے دوں۔۔۔۔؟؟؟؟ زین نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا ایک کروڑ۔۔۔؟؟؟ اپنے اوپر تو وہ جنگلی انسان لگاتا نہیں ہے تو اتنا پیسا کرتا کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ احد نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
یہ تو تم اس سے ہی جاکر پوچھو۔۔۔۔؟؟ زین نے کہا۔۔۔۔
نور اور سحر اگر گھر واپس آئی ہے تو وہ ٹائیگر کی وجہ سے آئی ہے۔۔۔ پیسہ بچوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔۔۔۔!!! احد نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ہمممم۔۔۔ اور تم نے نور کو سمجھا دیا تھا کہ میر کو کچھ نا بتاۓ۔۔۔؟؟؟ زین نے احد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ہاں میں نے سمجھا دیا تھا۔۔۔۔ وہ میر کو کچھ نہیں بتاۓ گی۔۔۔۔ اور میں نے پری (احد کی بیوی) کو بھی کہہ دیا ہے وہ بھی حیاء بھابی کو سمجھا دے گی۔۔۔ کیونکہ نور سے زیادہ حیاء بھابی کو سمجھانا ضروری ہے ۔۔۔۔۔!!
شکر ہے کہ میر نے نور کو تھوڑا بہادر بنایا ہے۔۔۔ ورنہ اگر وہ بھابی کی طرح ہوتی تو اب تک بیٹھی رو رہی ہوتی۔۔۔۔!!! احد نے کہا۔۔۔
یہ باتیں اپنے بھائی کے سامنے نا کہہ دینا وہ اپنی بیٹی اور خاص طور پر اپنی بیوی کے بارے میں زرا سی بھی بات برداشت نہیں کرتا۔۔۔۔!! زین نے احد کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہاں یہ تو ہے۔۔۔۔!!! احد نے کہا۔۔۔
💖————💖
رات کو میر گھر واپس آگیا تھا اسے پورا یقین تھا کہ کوئی نا کوئی مسئلہ ضرور ہے۔۔۔۔ لیکن گھر آکر اسے ایسا محسوس نہیں ہوا تھا سب لوگ ٹھیک تھے۔۔۔۔
میر کو لگا ہو سکتا ہے میرا وہم ہو۔۔۔
پاپا آپ کب آۓ۔۔۔۔؟ نور نے اپنے باپ کے گلے لگتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
بس تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں۔۔۔۔!!
اور میرا بچہ کیسا ہے۔۔۔۔؟ کالج میں کسی نے پریشان تو نہیں کیا۔۔۔۔؟
پاپا آپ کو معلوم تو ہے وہ تو میں نے کالج نا جانے کے لیے آپ سے بولا تھا کہ لڑکیاں مجھے چشمش کہتی ہے۔۔۔۔ ورنہ ہر ایک کا مقابلہ میں خود کر سکتی ہوں۔۔۔۔!!!
نور نے میر کے سینے سے لگتے ہی کہا میر نور کی بات سن کر ہنس پڑا تھا۔۔۔۔
جانتا ہوں میرا بچہ بہت بہادر ہے۔۔۔۔!!! میر نے کہا اور نور کے بالوں پر بوسہ دیا۔۔۔۔
چلو اب مجھے اپنی ماما کے پاس بھی جانے دو ورنہ آپ کی ماما نے رو رو کر اپنا برا حال کر لینا ہے۔۔۔۔!! میر نے کہا۔۔۔
اوکے ڈیڈ۔۔۔!!! نور نے مسکراتے ہوۓ کہا اور میر پھر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
اےڈی کب سے نور کا انتظار کر رہا تھا لیکن ابھی تک نور نہیں آئی تھی۔۔۔۔
مولوی صاحب بھی آگئے تھے اور ڈرے سہمے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔
جون نور کیوں نہیں آئی ابھی تک۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے جون سے پوچھا۔۔۔۔
سر میں گیا تھا لیکن انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔۔۔۔!!! جون نے کہا۔۔۔۔
اےڈی غصے میں خود نور کے کمرے کی طرف گیا تھا۔۔۔۔
اےڈی نے دروازہ نوک کیا لیکن کسی نے نہیں کھولا غصے میں اےڈی نے دروازہ توڑ دیا تھا۔۔۔۔ لیکن جب اندر گیا تو نور اسے کہی بھی نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔
اےڈی نے ہر جگہ دیکھ لیا لیکن اسے نور کہی نہیں ملی اور سرخ جوڑا زمین پر گرا ہوا تھا۔۔۔۔
غصے میں اےڈی کمرے سے باہر آیا تھا۔۔۔۔
جون نور اس پلازہ سے باہر کیسے نکلی اتنی سخت سیکیورٹی ہونے کے باوجود کوئی آیا اور لڑکی کو لے کر چلا گیا اور تمہیں معلوم ہی نہیں ہوا۔۔۔۔؟؟؟
اےڈی نے غصے میں دھاڑتے ہوۓ جون کو کہا۔۔۔ کیونکہ کسی کی مدد کے بغیر اس پلازہ سے باہر جانا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
سر میں ابھی چیک کرتا ہوں۔۔۔!!! جون نے کہا۔۔۔
اےڈی کی نظر سامنے مولوی صاحب پر پڑی تھی جو ڈر کے مارے کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔
اےڈی نے پاس کھڑے گارڈ کی گن پکڑی اور مولوی صاحب کے دل کے مقام پر گولی ماری تھی۔۔۔۔
مولوی صاحب وہی زمین پر گر گئے تھے۔۔۔۔
مجھے ڈرپوک لوگ بلکل بھی پسند نہیں ہیں۔۔۔۔!!! اےڈی نے نیچے زمین پر گرے مولوی صاحب کو دیکھتے ہوئے نفرت سے کہا۔۔۔۔
جون مجھے نور کی ساری ڈیٹیل چاہیے۔۔۔۔ اور پتہ کروں کون ہمارے درمیان غدار ہے۔۔۔۔ جس نے نور کی یہاں سے باہر نکلنے میں مدد کی ہے۔۔۔۔؟؟؟
اےڈی نے اس آدمی کی طرف دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا جو ٹائیگر کا آدمی تھا۔۔۔۔
💖————💖
نور تم کہاں تھی تم جانتی ہو میں کتنا پریشان تھی تمھارے لیے۔۔۔؟؟؟ حجاب نے نور کو کہا۔۔۔
اور نور کو وہ سب پھر یاد آگیا تھا۔۔۔۔
کیا اےڈی مجھے تلاش کررہا ہو گا۔۔۔؟؟؟ نور نے دل میں سوچا۔۔۔
جب حجاب نے کہا۔۔
کہاں گم ہوگئ ہو۔۔۔۔؟ حجاب نے نور کے چہرے کے سامنے اپنا ہاتھ لہراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کہی نہیں آپی میں نے بھی آپ سب کو بہت مس کیا۔۔۔!!! نور نے حجاب کے گلے لگتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
نور کافی دنوں سے ہم لوگوں نے کسی کو تنگ نہیں کیا تو کیا خیال ہے پھر۔۔۔۔؟؟؟؟ حجاب نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے کہا۔۔۔۔
بہت اچھا خیال ہے آپی۔۔۔!!!
نور نے بھی خوشی سے کہا اور پھر دونوں کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔۔
💖————💖
تم کیا کرنے والے ہو ٹائیگر۔۔۔۔؟ کالیا نے ٹائیگر سے پوچھا۔۔۔۔
جو ایلکس سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔
میں ایلکس سے باتیں کررہا ہوں اس کے بعد میرا ارادہ سونے کا ہے۔۔۔!!! ٹائیگر نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
میں اےڈی کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔۔۔؟؟ کالیا نے کہا۔۔۔
اےڈی۔۔۔ اےڈی۔۔۔۔
میں تو کچھ نہیں کروں گا جو بھی کرے گا اےڈی خود کرے گا آج سے اس کا برا وقت شروع ہو گیا ہے۔۔۔۔!!!
ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا اس کی ہنسی میں بھی درد تھا جو کالیا نے محسوس کیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
نور تم یہی کھڑی رہو میں ابھی آئی حجاب نے نور کو کہا اور وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
نور وہی پر کھڑی تھی جب اسے اپنے کان کے بہت قریب کبیر کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ نور ایک دم ڈر گئ تھی۔۔۔
کہاں تھی تم پورا ایک دن اور ایک رات۔۔۔۔؟
کبیر نے سیب کھاتے ہوۓ عام سے لہجے میں کہا۔۔۔
لیکن نور جانتی تھی کہ کبیر کا لہجہ عام بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔؟؟ نور کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہے کیونکہ احد نے منع کیا تھا کہ کسی کو بھی نہیں بتانا کہ تم کہاں تھی۔۔۔۔
رہنے دو مجھے جاننے میں دلچسپی بھی نہیں ہے۔۔۔۔ میں تو بس اتنا کہہ رہا تھا جس کے پاس بھی تھی اسی کے پاس رہتی۔۔۔۔ کم از کم مجھے بار بار تمھاری شکل تو نا دیکھنی پڑتی۔۔۔۔!!!
کبیر نے مسکراتے ہوۓ نور کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔ لیکن زیادہ دیر تک نور کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔
کبیر نے جب نور کہ آنکھوں میں آنسو دیکھے تو نور سے تھوڑا پیچھے ہوکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔
نور ابھی بھی کبیر کو ہی دیکھ رہی تھی ناجانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر بہہ گئے تھے۔۔۔۔
کبیر نے ایک نظر نور کی طرف دیکھا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
نور ابھی بھی وہی کھڑی تھی آج اسے کبیر کے لفظوں نے زیادہ تکلیف دی تھی۔۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ کیوں کبیر اس سے اتنی نفرت کرتا ہے۔۔۔۔؟؟
ہمیشہ وہ نور کو اپنے لفظوں کے وار سے زخمی کر کے چلا جاتا تھا۔۔۔۔
لیکن نور نہیں جانتی تھی کہ یہ تو ابھی شروعات ہے۔۔۔۔
💖————💖
کیبر نے اپنے کمرے میں آتے ہی اپنا غصہ بےجان چیزوں ہر اُترا تھا۔۔۔۔
بار بار کبیر کے سامنے نور کے آنسوؤں سے بھری آنکھیں آرہی تھیں۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟
نور کیوں۔۔۔؟
نہیں۔۔۔ میں نفرت کرتا ہوں تم سے اور ہمیشہ کرتا رہو گا۔۔۔۔!!!
کبیر نے پھر سے اپنے جزبات پر قابو پاتے اپنے خول میں آتے ہوۓ کہا۔۔
