Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

اےڈی کمرے سے باہر آیا تھا اور وہ آدمی اس کے سامنے کھڑا کانپ رہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اےڈی پلازہ سے باہر جانا اس آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔
اےڈی مجھے معاف کر دو۔۔۔ اس آدمی نے اےڈی کے قدموں میں بیٹھ کر گڑگڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں کروں گا معاف بلکل کروں گا۔۔۔۔ اےڈی نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔ ابھی وہ آدمی اےڈی کی بات کو صحیح سے سمجھ بھی نہیں پایا تھا۔۔۔۔
جب اےڈی نے اپنے قریب رکھی تیز دھاڑ والی تلوار سے اس آدمی کا سر دھر سے الگ کر دیا تھا۔۔۔۔ یہ سب ایک سیکنڈ کا کھیل تھا۔۔۔۔
کر دیا معاف اےڈی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ اےڈی کے قانون میں کسی بھی غلطی کی سزا صرف موت تھی۔۔۔۔
اب یہاں کا منظر بلکل تصویر والا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔
جون۔۔۔۔ اےڈی نے اپنے وفادار کو آواز دی جو ایک غیر مسلم تھا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔ جون بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا تھا۔۔۔۔
مال اپنے جگہ پر پہنچ گیا ہے۔۔۔۔؟ اےڈی نے جون کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
یس سر مجھے مسٹر ملک کی کال آئی تھی مال ان تک پہنچ چکا ہے۔۔۔۔ جون نے نظریں جھکا کر تابعداری سے جواب دیا۔۔۔
“گڈ۔۔۔۔” اےڈی نے کہا۔۔۔۔
سر مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی تھی اگر آپ برا نا مانے تو۔۔۔؟ جون نے بات کو ادھوری چھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
پوچھو۔۔۔!! اےڈی نے دوبارہ اپنا رخ جون کی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
سر کیا آپ بیسٹ کو جانتے ہیں۔۔۔۔؟
جون کا سوال سن کر اےڈی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
💖————💖
سمجھتے کیا ہیں خود کو میں کیا غلام ہوں ان کی جو مجھ پر اپنا حکم چلاتے رہتے ہیں۔۔۔۔
حجاب منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی۔۔۔ جب سجل نے اسے راستے میں روکا۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔ ؟ اور کس سے باتیں کررہی ہو۔۔۔۔؟ سجل نے اپنی لاڈلی سے پوچھا۔۔۔۔
کسی سے نہیں ماما آپ کا لاڈلا آیا ہے۔۔۔۔
حجاب نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔۔۔
اسد آیا ہے سجل نے خوشی سے کہا۔۔۔ جب اسے اپنے پیچھے سے اسد کی آواز سنائی دی۔۔۔
کیسی ہیں آپ آنی۔۔۔؟ اسد نے سجل کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔ تم کہاں غائب تھے اتنے دنوں تک۔۔۔۔؟ سجل نے مسکراتے ہوئے اسد سے پوچھا۔۔۔۔
بس آنی آپ تو جانتی ہے کتنا کام ہوتا ہے۔۔۔ ہم لوگ آج ہی گھر آۓ ہیں۔۔۔۔ مجھے انکل سے کچھ کام تھا کیا وہ گھر پر ہیں۔۔۔؟ اسد نے پوچھا۔۔۔
ہاں بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔۔ تم وہاں چلے جاؤ میں تمھارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔۔۔ سجل نے کہا اور کچن میں چلی گئ اسد علی کے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
معاذ کہاں غائب ہوتے ہو آجکل۔۔۔؟ گھر میں نظر ہی نہیں آتے۔۔۔
اریبہ نے اپنے بیٹے کو کہا جو ناشتہ کررہا تھا۔۔۔۔
ماما آپ کو معلوم تو ہے میرے پیپرز ہیں۔۔۔۔ اور مجھے اپنا خود کا بزنس بھی شروع کرنا ہے تو بس اسی میں لگا ہوا ہوں۔۔۔ معاذ نے کہا۔۔۔۔
احمد اپنے دھیان ناشتہ کررہا تھا۔۔۔ جیسے ناشتے کے علاوہ کچھ بھی اس کے لیے ضروری نہیں ہے۔۔۔۔
تمہاری پھپھو بھی تمہارے بارے میں پوچھ رہی تھیں کافی دنوں سے تم ان سے بھی نہیں ملے۔۔۔۔ اریبہ نے کہا۔۔۔
ماما آپ فکر مت کریں آج میں فری ہوں اور آج میں سوچ رہا ہوں پھپھو کی طرف جاؤ۔۔۔۔ معاذ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
یہ تو بس اچھی بات ہے میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی مجھے سجل سے کچھ بات بھی کرنی ہے۔۔۔۔ اریبہ نے خوشی سے کہا۔۔۔
بیگم صاحبہ آپ بھی گھر میں ٹک جایا کریں ابھی رات کو ہی تو تم سب ملی ہو۔۔۔ بلکہ روزانہ تم لوگ ملتی ہو۔۔۔۔ احمد نے چاۓ کا سیپ لیتے ہوۓ مسکراتے نظروں سے اریبہ کو کہا۔۔۔۔
آپ سب دوست بھی تو ملتے ہو میں نے کبھی آپ کو روکا ہے۔۔۔۔ اریبہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اریبہ کو دیکھ کر معاذ اور احمد دونوں ہنس پڑے تھے۔۔۔۔
ماما یار پاپا مزاق کررہے ہیں آپ کو بس تنگ کر رہے ہیں۔۔۔۔ معاز نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
ہاں یار میری اتنی مجال جو میں اپنی بیگم صاحبہ کو کچھ کہوں۔۔۔ احمد نے کہا اور وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔۔
کیونکہ اریبہ اپنی سخت نظروں سے احمد کو گھور رہی تھی۔۔۔
اوکے ماما پھر چلے۔۔۔؟ معاذ نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں چلو۔۔۔۔ اریبہ نے کہا اور معاز کے ساتھ چل پڑی۔۔۔۔
اتنے سالوں بعد بھی ان کی دوستی میں زرا سا بھی فرق نہیں آیا تھا بلکہ ان کی دوستی مزید گہری ہو گئ تھی۔۔۔۔
💖————💖
اریبہ اور معاذ سجل کے گھر میں داخل ہوۓ تو اریبہ اندر چلی گئ تھی۔۔۔۔ معاذ بھی جانے لگا تھا جب اسے سحر اور حجاب کے ہنسنے کی آوازیں آئی تھیں۔۔۔
حجاب اور سحر دونوں کھیل رہی تھی۔۔۔ سحر نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی اور حجاب کو پکڑ رہی تھی۔۔۔۔
سحر نے سیمپل سی آسمانی رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔
اس کی بڑی بڑی گرے آنکھیں کسی کو بھی دیوانہ کرنے کا ہنر رکھتی تھی۔۔۔۔
معاذ کھڑا دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں اس کی نظر بار بار بھٹک کر سحر کی طرف جارہی تھی۔۔۔۔ وجہ وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔
معاذ انہی سوچوں میں گم تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔۔۔۔
معاذ نے اپنا رخ موڑ کر فون اٹھایا تھا۔۔۔
معاذ ابھی بات کر کے مڑا ہی تھا جب اسے اپنے بازو پر نرم ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا تھا۔۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا نا میں پکڑ لوں گی تمہیں۔۔۔۔ سحر نے خوشی سے چلاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
لیکن تمہارا بازو اتنا سخت کب سے ہوگیا۔۔۔؟ سحر نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
سحر کی بات سن کر معاذ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئ تھی۔۔۔۔
سحر نے اپنی آنکھوں سے اپنا ڈوپٹہ نیچے کیا لیکن کچھ ہی فاصلے پر کھڑی ہنستی ہوئی حجاب کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔
اگر حجاب سامنے ہے تو یہ کون ہے۔۔۔۔؟ سحر نے دل میں سوچا۔۔۔۔
اور پھر اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جس سے اس نے ابھی بھی معاذ کا بازو پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
جب سحر نے معاذ کی طرف دیکھا تو جلدی سے معاذ کا بازو چھوڑ کر پیچھے کھڑی ہو گئ تھی۔۔۔۔
ایم سوری معاذ بھائی مجھے لگا حجاب ہے۔۔۔ سحر نے جلدی سے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اور وہاں سے بھاگ گئ۔۔۔
معاذ نے اپنا سر جھٹکا اور خود بھی اندر چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
نور آپ کا آج کالج میں پہلا دن کیسا گزرا۔۔۔؟
حیاء نے نور سے پوچھا جو چھپ چھپ کر چاکلیٹ کھا رہی تھی۔۔۔
ماما بہت اچھا گزرا۔۔۔ نور نے اپنی چاکلیٹ کو چھپا کر جلدی سے جواب دیا۔۔۔
یہ چاکلیٹ اسد نے نور کو لا کر دی تھی۔۔۔ نور اسد کی بہت لاڈلی تھی۔۔۔۔
نور آپ کیا چھپا رہی ہو۔۔۔۔؟ حیاء نے نور کے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کچھ بھی تو نہیں ماما۔۔۔ وہ میں کہہ رہی تھی آج گھر میں اتنی خاموشی کیوں ہیں۔۔۔۔؟ نور نے جلدی سے بات بدلتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی حیاء کو چاکلیٹ کا معلوم ہو۔۔۔ اگر حیاء کو معلوم ہو جاتا تو وہ نور سے چاکلیٹ لے لیتی۔۔۔ کیونکہ حیاء نور کو زیادہ چاکلیٹ نہیں کھانے دیتی تھی۔۔۔۔
کبیر اور زید اپنے کمروں میں آرام کر رہے ہیں۔۔۔۔ پری اور حور مارکیٹ گئ ہیں۔۔۔ حیاء نے کہا۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ حیاء بھی کافی سمجھدار ہوگئ تھی۔۔۔۔ لیکن کچھ بیوقوفیاں ابھی بھی کرتی تھی۔۔۔۔ جیسے دیکھ کر میر کہتا تھا میری بیوٹی کبھی بھی نہیں بدل سکتی۔۔۔
کبیر کے نام پر نور کے چہرے پر خوف آگیا تھا۔۔۔۔
ماما کھڑوس بھی گھر پر ہے۔۔۔؟ نور نے ہڑبڑی میں جو منہ میں آیا بول دیا۔۔۔۔
نور بڑا بھائی ہے آپ کا ایسے نہیں کہتے۔۔۔ حیاء نے گھورتے ہوۓ نور کو کہا۔۔۔
میر کے پیار نے حیاء کو مزید نکھار دیا تھا۔۔۔ حیاء نور کی بڑی بہن ہی لگتی تھی۔۔۔۔
سوری ماما۔۔۔ نور نے آہستہ آواز میں کہا۔۔۔۔
حیاء نور کی طرف دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔۔۔
💖————💖
معاز کو سجل کے گھر آۓ ایک ہی گھنٹہ ہوا تھا۔۔۔ جب اسے زوبیا کی کال آئی کہ وہ ملنا چاہتی ہے اور ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔
معاذ سجل کو ضروری کام کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ وہ تو شکر تھا اریبہ پاس نہیں تھی ورنہ کبھی بھی معاذ کو جانے نا دیتی۔۔۔۔
معاذ کے جانے سے سحر اداس ہو گئ تھی جو حجاب نے بھی نوٹ کیا تھا۔۔۔
💖————💖
اتنی ایمرجینسی میں کیوں بلایا ہے مجھے سب ٹھیک ہے۔۔۔۔؟ معاز نے پریشانی سے زوبیا سے پوچھا۔۔۔۔۔
معاذ تم اپنے گھر والوں سے میری بات کب کر رہے ہو۔۔۔۔؟
زوبیا نے معاذ کی بات کو اگنور کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔ اور زوبیا کا بات کو اگنور کرنا معاذ کو بہت برا لگا تھا۔۔۔۔ لیکن اس نے کہا کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
یار پہلے میں اپنا بزنس سیٹ کر لوں پھر پاپا سے بات کروں گا تم فکر مت کرو۔۔۔۔ معاذ نے پیار سے کہا۔۔۔۔
زوبیا معاذ کی کلاس فیلو تھی اور کالج سے یہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔۔
زوبیا ایک خوبصورت لڑکی تھی جسے اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا۔۔۔۔
معاذ میری موم مجھ سے روز تمہارے بارے میں پوچھتی ہیں کہ تم نے اپنے گھر بات کی یا نہیں۔۔۔ میں موم کو کیا جواب دوں۔۔۔۔ زوبیا نے اپنی پریشانی بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
زوبی جو سچ ہے تم وہ بتا دو پہلے میں اپنا بزنس سیٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اس کے بعد میں اپنے گھر والوں سے تمہاری بات کروں گا۔۔۔۔ معاذ نے حل بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
معاز تم سمجھ نہیں رہے موم کی کزن کا ایک بیٹا ہے لندن میں رہتا ہے۔۔۔۔ وہاں اس کا اپنا بزنس بھی ہے اگر تم نے دیر کی تو پھر موم میری بھی بات نہیں سنے گی۔۔۔۔ تمہیں جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا ہو گا۔۔۔
زوبیا نے کہا اور وہاں سے چلی گئی اور پیچھے معاذ کو گہری سوچ میں ڈال گئ تھی۔۔۔۔
💖———–💖
زین اور احد کو کچھ ضروری کام تھا اور وہ دونوں کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر گئے تھے۔۔۔۔
💖————💖
سجل تمہیں معاذ کیسا لگتا ہے۔۔۔؟ اریبہ نے سجل سے پوچھا اس وقت دونوں سجل کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔
اریبہ کیسی باتیں کررہی ہو معاذ اپنا ہی بچہ ہے
بھلا اچھا کیوں نہیں ہو گا۔۔۔۔؟ سجل نے ناسمجھی سے جواب دیا۔۔۔
اسے اریبہ کی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔
سجل میں اور احمد چاہتے ہیں ہانی اور عادل بھائی سے سحر کا ہاتھ اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیں۔۔۔ میری شروع سے خواہش تھی کہ سحر میرے گھر کی بہو بنے میری بیٹی بنے۔۔۔۔
اریبہ نے سجل کو ساری بات بتاتے ہوئے کہا۔۔۔
اریبہ یہ تو بہت اچھی بات ہے یار اور جہاں تک مجھے لگتا ہے عادل بھائی اور ہانی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔۔۔۔ سجل نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ سحر کو میں اپنی بیٹی بنا لوں۔۔۔۔ اریبہ نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
پھر دونوں ارد گرد کی باتیں کرنے لگی تھیں۔۔۔
اریبہ نے اپنے بیٹے کے لیے کچھ اور سوچا تھا اور معاذ کچھ اور ہی سوچے بیٹھا تھا۔۔۔
اب یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا آگے کیا ہونے والا تھا۔۔۔
💖————💖
کبیر اپنے کمرے سے ابھی نکلا ہی تھا جب سامنے سے آتے ہوۓ طوفان سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔۔
کبیر تو اپنی جگہ کھڑا رہا لیکن نور نیچے گرنے لگی تھی کہ کبیر نے نور کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا تھا۔۔۔
اندھی ہو چار چار آنکھیں ہوتے ہوئے بھی تمہیں نظر نہیں آتا چشمش۔۔۔۔ کبیر نے گھورتے ہوۓ نور کو کہا۔۔۔
اس وقت کبیر نے کالی پینٹ اور بلیو شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
عام سے حلیے میں بھی بہت پیارا لگ رہا تھا لیکن نور کو اس بات کی پرواہ کہاں تھی۔۔۔۔
کبیر کے سامنے آجانے سے اس کی تو جان حلق تک آگئ تھی۔۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔۔ نور بہت مشکل سے اٹک اٹک کر اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔۔ جب کبیر نے ہاتھ کے اشارے سے نور کو مزید کچھ بھی بولنے سے منع کیا۔۔۔۔
ویسے تو تمھاری زبان قینچی کی طرح چلتی ہے۔۔۔۔ میرے سامنے آجانے سے تمہاری زبان میں تالے کیوں لگ جاتے ہیں۔۔۔؟
کبیر نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
نور بار بار اپنا چشمہ ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔ اگر بولنے کی کوشش کرتی تو کبیر خاموش کروا دیتا۔۔۔ نور اس وقت اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کررہی تھی۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔۔۔
کبیر اسے آگے جانے کا راستہ بھی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اور سر سے پیر تک نور کا معائنہ کر رہا تھا۔۔۔ جس نے وائٹ کیپری اور لال کرتا پہنا ہوا تھا۔۔۔۔ گلے میں ایک چھوٹا سا سٹولر تھا جو نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔
اگر کچھ بولنا نہیں ہے تو یہاں کھڑی میری شکل کیوں دیکھ رہی ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔ کبیر نے غصے سے کہا اور نیچے چلا گیا۔۔۔
نور آنکھوں میں آنسوؤں لیے کبیر کو جاتے ہوۓ دیکھ رہی تھی جو ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا۔۔۔۔
💖————💖
تم اے۔ڈی کے آدمی سے ملے تھے۔۔۔۔؟
ٹائیگر نے ٹھنڈے لہجے میں اپنے سامنے گرے آدمی سے پوچھا۔۔۔۔
ٹائیگر مجھے ایک بار صفائی کا موقع دو۔۔۔۔
اس آدمی نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔ ڈر اس کی آواز میں صاف واضع تھا۔۔۔۔
” مجھے اپنی بات دہرانا بلکل بھی پسند نہیں ہے۔۔۔۔ تم اے۔ڈی کے آدمی سے ملے تھے۔۔۔ ” ہاں“ یا ” ناں “ میں مجھے جواب چاہیے۔۔۔۔
ٹائیگر نے اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔ لیکن سامنے گرے آدمی کو معلوم تھا کہ ٹائیگر کا لہجہ عام بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔
وہ آدمی جانتا تھا کہ اب جھوٹ بولنا بے کار ہے اس لیے اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
” گڈ۔۔۔۔” ایلکس آگے کا کام تمہارا ہے۔۔۔
ٹائیگر نے اُس آدمی کی طرف دیکھ کر طنزیہ کہا۔۔۔۔ اور کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ کے گہرے کش لینے لگا۔۔۔۔
ٹائیگر کی آنکھوں میں ایک دم چمک آئی تھی۔۔۔۔ جیسے سامنے کا منظر اسے بہت لطف دینے والا ہو۔۔۔۔
ٹائیگر کے پاس کھڑا آدمی اپنے ساتھی کا بدتر حال دیکھ کر اندر تک کانپ گیا تھا۔۔۔۔ ایلکس نے اسے چیخنے کا بھی موقع نہیں دیا تھا۔۔۔۔
اُس آدمی کا جسم اب بے جان ہو گیا تھا۔۔۔۔ اور ٹائیگر کا ایلکس بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر اپنے مالک کے پاس شاباشی کے لیے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
ٹائیگر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ایلکس کے سر پر پیار کرنے لگا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر آپ کو یہ کالی بلی اتنی پسند کیوں ہے۔۔۔۔؟ ٹائیگر کے آدمی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔۔
” یہ ایک بلیک پینتھر تھا۔۔۔۔
بلیک پینتھر ٹائیگر کی نسل میں سے ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ اس کا رنگ کالا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور آنکھیں مختلف رنگ کی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
یہ دیکھنے میں ایک بہت بری کالی بلی کی طرح کا لگتا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ بلی کی طرح معصوم بلکل بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔ انسان کو چیر پھاڑ کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاتا۔۔۔۔ اس کے تیز دانت اور نوکیلے پنجے انسان کو دوسرا سانس لینے کا موقع نہیں دیتے۔۔۔۔“
لیکن یہ پینتھر اپنے مالک کا وفادار تھا۔۔۔۔ اس کے حکم کے بغیر یہ کچھ نہیں کرتا۔۔۔۔ ٹائیگر نے اس کا نام ایلکس رکھا تھا۔۔۔۔ جو ایلکس کو خود بھی بہت پسند تھا۔۔۔ اگر ایلکس کو کوئی کالی بلی کہتا تو اسے بہت برا لگتا۔۔۔۔ اس لیے ایلکس کے سامنے کوئی اسے کالی بلی نہیں کہتا تھا۔۔۔۔
ایلکس نے گھور کر اس آدمی کو دیکھا تھا شاید اسے اپنا نام سننا زیادہ پسند تھا۔۔۔۔
وہ آدمی ایک دم ڈر گیا تھا۔۔۔۔
میرا مطلب ہے۔۔۔ ایلکس۔۔۔۔
اس آدمی نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
گڈ۔۔۔۔ آئندہ اگر تم میرے ایلکس کا نام بھولے تو یہ خود تم سے حساب لے گا۔۔۔۔
اور جہاں تک بات ہے مجھے یہ اتنا پسند کیوں ہے۔۔۔۔ تو وہ اس لیے کہ یہ مجھے میرے ایک بہت ہی عزیز انسان نے تحفے کے طور پر دیا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اگر کوئی لڑکی ٹائیگر کو ہنستے ہوۓ دیکھ لیتی تو یقیناً اُس نے بے ہوش ہو جانا تھا۔۔۔۔
کیونکہ ٹائیگر ہنستے ہوئے زیادہ خوف لگتا تھا۔۔۔۔
” کالا رنگ۔۔۔ لمبے گھنگھرالے بال۔۔۔ جن میں اتنا تیل لگا ہوا تھا کہ پانچ چھ لڑکیاں باآسانی اپنے بالوں کو اُتنا تیل لگا سکتی تھیں۔۔۔۔ کالی آنکھوں میں بھر بھر کر سُرما ڈالا ہوا تھا۔۔۔۔ گلے میں ایک ٹائیگر کی شکل والا لوکٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔ ہاتھ کی ساری انگلیوں میں عجیب وغریب انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں۔۔۔۔ سر پر رومال باندھا ہوا تھا۔۔۔ اور سگریٹ ہمیشہ اس کی انگلیوں میں موجود ہوتا تھا۔۔۔“
اور وہ آدمی سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔ جس نے ٹائیگر کو ایلکس تحفے کے طور پر دیا ہے۔۔۔۔ خود اس کے پاس کیا ہو گا۔۔۔۔؟ اور خود کتنا خطر ناک ہوگا۔۔۔؟
زیادہ مت سوچو بہت جلد تمہیں اس انسان اور اس کے پالتو سے بھی ملا دوں گا۔۔۔۔
اور مجھے یہ جگہ صاف چاہیے ٹائیگر نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جہاں خون ہی خون پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔ ایلکس وہی زمین پر بیٹھا اس آدمی کو گھور رہا تھا۔۔۔ جس کا جسم اب بےجان تھا۔۔۔۔
💖————💖
کالیا کہاں ہے۔۔۔؟
ٹائیگر نے اپنے آدمی سے پوچھا۔۔۔۔
ٹائیگر وہ نئے آنے والے ہتھیاروں کو چیک کر رہا ہے ابھی آتا ہی ہو گا۔۔۔ اس آدمی نے کہا۔۔۔
ہمممم۔۔۔
اتنے میں کالیا بھی آگیا تھا جس نے بھی اس کا نام کالیا رکھا تھا بلکل ٹھیک رکھا تھا۔۔۔
کالیا دیکھنے میں ٹائیگر سے زیادہ خوفناک نظر آتا تھا۔۔۔۔
کالیا ٹائیگر کا وفادار تھا ایسا کہنا زیادہ بہتر ہوگا دون دوات بھی تھے۔۔۔۔
کالیا کو دیکھ کر ٹائیگر اس کے گلے لگا تھا۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞