Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

کبھی کبھار تو مجھے تمھاری معصومیت پر حیرت ہوتی ہے۔۔۔۔!!!
کبیر نے نور کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں معصوم نہیں ہوں میں بہت چلاک ہوں۔۔۔۔!!! نور نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
نور کی بات سن کر کبیر اپنا قہقہہ روک نہیں پایا تھا کبیر کو ہنستے دیکھ نور کو بہت غصہ آیا تھا۔۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ میرا مزاح بنا رہے ہیں۔۔۔۔!!!
نور نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
اگر یہ بات تم مجھے پہلے کہتی تو مان بھی لیتا لیکن اب تمھارے بارے میں میرے احساسات بدل گئے تمھارا مذاق بنانا اب میں خود کی توہین سمجھتا ہوں بیوی ہو تم میری تمہیں تکلیف دے کر اب مجھے سکون نہیں ملتا۔۔۔۔!!!
کبیر کھوئے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا اور نور تو منہ کھولے کبیر کو دیکھ رہی تھی نور کو کبیر کی دماغی حالت پر شک ہوا تھا۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے آپ کو اپنا علاج کروا لینا چاہیے
ورنہ چاچو کو بہت دکھ ہو گا۔۔۔۔!!! نور نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
کبیر ایک پل کے لیے سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیا وہ سچ میں بیمار ہے۔۔۔۔ لیکن جب اسے نور کی بات سمجھ میں آئی تو اس نے نور کو ایک زبردست گھوری سے نوازہ تھا۔۔۔
اور اب مجھے لگتا ہے تمہیں معصوم کہہ کر میں نے غلطی کی ہے۔۔۔۔!!! کبیر نے کہا۔۔۔
مجھے نیچے جانا ہے۔۔۔۔!!! نور نے جب کبیر کو پیچھے ہٹتے ہوئے نا دیکھا تو کہا۔۔۔۔
لیکن میرا موڈ تم سے باتیں کرنے کا ہے ایسا کرتے ہیں کہی باہر چلتے ہیں۔۔۔۔!!! کبیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے کہی نہیں جانا آپ کا کیا بھروسہ اگر دوبارہ مجھے گھر نا آنے دیا تو۔۔۔۔؟؟؟
نور نے جلدی سے کبیر کی بات کی نفی کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
فکر مت کرو اب ایسا کچھ نہیں ہو گا اگر میرا ایسا کوئی ارادہ ہوتا تو کبھی بھی تمہیں وائٹ پیلس نا لاتا اور اگر تم میرے ساتھ باہر نہیں گئ تو پھر میں اس بارے میں ضرور سوچوں گا۔۔۔۔!!!
کبیر کی بات سن کر نور بھی گھبرا گئ تھی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تیار ہو کر آتی ہوں۔۔۔۔!!! نور نے جان چھڑوانے والے انداز میں کہا۔۔۔
نا میری جان اگر میں نے تمہیں اکیلا چھوڑ دیا تو نیچے جاکر تم اپنے باپ کے ساتھ چپک کر بیٹھ جاؤ گی۔۔۔۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے اس لیے میرے ساتھ نیچے چلو اور کتنا تیار ہونا ہے تم نے۔۔۔۔؟؟
کبیر نے نور کو سر سے پاؤں تک گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ نور کو کبیر کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا تھا۔۔۔
آپ مجھے ایسی نظروں سے نہیں دیکھ سکتے شرم آنی چاہیے آپ کو۔۔۔۔!!! نور نے غصے اور شرم کے ملی جلی کیفیت میں کہا۔۔۔
ایسی نظر مطلب کیسی نظر۔۔۔۔؟ کبیر نے مزے سے پوچھا۔۔۔۔
گندی نظروں سے بھی کوئی اپنی بیوی کو دیکھتا ہے۔۔۔۔؟؟؟ نور نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
یار اپنی بیوی کو ہی تو دیکھ رہا ہوں کون سا کسی باہر والی کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔!!! کبیر نے بنا نور کے غصے کی پرواہ کیے کہا۔۔۔
میں بابا کو بتاؤ گی۔۔۔۔!!! نور نے تھک ہار کر میر کی دھمکی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
واؤ تم میرے سسر صاحب کو کہو گی کہ میرا شوہر مجھے گندی نظروں سے دیکھتا ہے کیا تم سچ میں بڑے پاپا کو یہ بات کہہ سکتی ہو۔۔۔۔؟؟؟
کبیر نے پہلے مسکرا کر پھر آخری بات حیرانگی سے پوچھی جبکہ نور خود بھی سوچ میں پڑ گئ تھی کہ کیسی بے تکی بات اس نے کبیر کو کہہ دی تھی۔۔۔۔
نور اس سے پہلے مزید کچھ الٹا سیدھا بولتی پیچھے سے کسی کھانسنے کی آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔۔
کبیر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسد کھڑا اپنی گھوریوں سے کبیر کو نواز رہا تھا۔۔۔
کبیر خان یہ آپ کا بیڈروم نہیں ہے۔۔۔۔!!!!
اسد نے سنجیدگی سے کہا اسے کبیر پر بہت غصہ تھا اس کی وجہ سے وانیا نام کی مصبیت اس کے گلے پڑ گئی تھی۔۔۔۔
آہ بیڈروم میں تو آتی ہی نہیں ہے۔۔۔۔!!!
کبیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئےبےشرمی سے کہا۔۔۔۔
کبیر کی بات سن کر نور کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا اور وہاں سے بھاگنے لگ تھی جب کبیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا۔۔۔۔
اسد آج میں اپنی بیوی کے ساتھ باہر گھومنے جا رہا ہو‌ واپسی پر بات ہوتی ہے۔۔۔۔!!!
کبیر نے مسکرا کر کہا اور نور کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گیا۔۔۔۔
کمینمے تجھے تو میں دیکھ لوں گا میری زندگی عزاب بنا کر خود اپنی بیوی کے ساتھ گھوم رہا ہے۔۔۔۔!!!!
اسد نے کبیر کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا لیکن اسے اس بات کی خوشی تھی کہ کبیر نور ساتھ اچھے سے پیش آرہا ہے۔۔۔۔
💖————💖
ہم لوگوں نے کسی کو بھی نہیں بتایا اگر بابا نے پوچھا تو میں کیا جواب دو‌ں گی۔۔۔۔؟؟؟
نور نے گاڑی میں بیٹھے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔
فکر مت کرو تم اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہو اور اسد ہے نا وہ بتا دے گا۔۔۔۔!!!
کبیر نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا اور نور بھی پھر تھوڑی مطمئن ہو گئ تھی۔۔۔
کبیر نے نور کو پہلے شاپنگ کروائی اور ساری چیزیں اپنی پسند کی لی تھی نور خاموشی سے کبیر کی حرکتیں دیکھ رہی تھی جو اسے آج حیران کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔
شاپنگ کرنے کے بعد کبیر نور کو ایک ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا۔۔۔۔
نور کبیر کو ہی دیکھ رہی تھی جب کبیر نے آڈر دے کر نور کی طرف دیکھا جس نے کبیر کے دیکھنے پر بھی اپنی نظریں اس کے چہرے سے نہیں ہٹائی تھیں۔۔۔۔
لگتا ہے آج تمھارا نظروں سے قتل کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔!!!
کبیر نے تھوڑا نور کی طرف جھکتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔۔۔۔
نور کبیر کے سوال کا جواب دینے ہی والی تھی جب کسی لڑکی کی آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔
کبیر نے اُس لڑکی کی طرف دیکھا تو وہ اور کوئی نہیں بلکہ روز تھی نور نے روز کی طرف دیکھا تھا لیکن روز کو دیکھ کر کبیر ابھی بھی مطمئن سا بیٹھا ہوا تھا جیسے اسے روز کے یہاں آنے سے کوئی فرق نا پڑا ہو روز نور کو بھسم کر دینے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ روز نے نور کو دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
نور نے چہرے پر حیرانگی لیے پہلے روز کو دیکھا پھر کبیر کو دیکھا۔۔۔
ایک منٹ کہی تم اس کی نئی گرل فرینڈ تو نہیں ہو۔۔۔۔؟؟؟
ہو بھی سکتی ہو کبیر کی چوائس تبدل ہوتی رہتی ہے جب تم سے دل بھر جائے گا پھر کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔۔۔۔ لیکن مجھے کبیر پر حیرت ہو رہی ہے تمھاری خوبصورتی میں جو یہ داغ ہے یہ ہی تمہیں باقی سب سے مختلف اور عجیب بنا رہا ہے۔۔۔۔ مجھے تو تمہیں دیکھ کر الجھن ہو رہی ہے پتہ نہیں کبیر تمہیں برداشت کیسے کرتا ہو گا کہی تم بھی اس کے پیسوں کے پیچھے تو نہیں آئی ہو۔۔۔۔!!!
روز بولتی جارہی تھی وہ کبیر کو پسند کرتی تھی اور جب اس نے کبیر کے ساتھ کسی اور لڑکی کو دیکھا تو خود کے غصے کو کنٹرول نہیں کر پائی اور نور کے پاس آکر اسے باتیں سنانے لگی۔۔۔۔
مجھے کبیر کے لیے بہت افسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔!!! روز نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
نور کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئ تھیں کبیر کب سے بیٹھا روز کی بکواس سن رہا تھا لیکن اب اس کی بس ہو گئ تھی۔۔۔۔
کبیر نے بنا کسی کی پرواہ کیے روز کو بازو سے پکڑا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔ کبیر کی گرفت اتنی سخت تھی کہ روز کو لگا کہ اگر مزید دو منٹ کبیر نے اس کے بازو کو نا چھوڑا تو اس کے بازو کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔
تم سے بہتر تو مجھے کوئی نہیں جانتا روز اس لیے جو بکواس تم نے میری بیوی کے سامنے کی ابھی کہ ابھی اس سے معافی مانگو ورنہ تم بہتر جانتی ہو کہ کبیر خان تمھارے ساتھ کیا کرےگا۔۔۔۔!!!
کبیر نے روز کی طرف دیکھ کر غراتے ہوئے کہا غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں جن میں صاف وارننگ نظر آرہی تھی۔۔۔۔
روز کبیر کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر کانپ سی گئ تھی اور بیوی کا لفظ سن کر حیران بھی ہوئی تھی۔۔۔۔
اس نے نور سے معذرت کی اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئ نور حیران سی روز کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جو تھوڑی دیر پہلے نور کو مارنے کے در پر تھی لیکن اب بھیگی بلی بنی یہاں سے چلی گئ تھی۔۔۔
آپ نے اسے کیا کہا۔۔۔؟
نور نے کبیر سے پوچھا جس کی آنکھوں میں اب وہ سرد پن نہیں تھا جو روز سے بات کرتے وقت تھا۔۔۔۔
میں نے اسے کہا کہ میری بیوی سے سوری بولو میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ میرے علاوہ میری بیوی کو کوئی تکلیف پہنچائے۔۔۔۔!!! کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
آپ سچ میں پاگل ہو۔۔۔۔!!! نور نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
پاگل تو ہوگیا ہوں تمھارے پیار میں۔۔۔۔!!!
کبیر نے کافی کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا کبیر کی آنکھوں کی چمک نور کو بہت کچھ باور کروارہی تھیں
نور نے کبیر سے نظریں چرائی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی کبیر کو نور کا خود سے نظریں چرانا ایک آنکھ بھی نہیں بھایا تھا۔۔۔۔
کھانے پر دھیان دو۔۔۔۔!!!
کبیر نے اسے خیالوں میں کھویا دیکھا تو اسے ٹوکنا ضروری سمجھا نور کھانا کھانے لگی تھی لیکن ایک بات تو سچ تھی کہ نور کو کبیر کا یہ انداز اچھا لگا تھا۔۔۔۔ یہ وہ کبیر تو تھا ہی نہیں یہ کوئی اور ہی تھا جو نور کی خوشی چاہتا تھا۔۔۔۔
💖————💖
یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہوئی ہو سحر۔۔۔۔؟ زارا نے سحر کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ویسے ہی کچھ وقت تنہا رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔!!! سحر نے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
تم نے اپنے رشتے کے بارے میں کیا سوچا ہے۔۔۔۔؟ زارا نے سحر سے پوچھا جس نے زارا کے سوال پر لمبا سانس لیا تھا۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا زارا زندگی نے مجھے ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ میں خود کو بے بس محسوس کر رہی ہوں۔۔۔۔!!! سحر نے افسردگی سے کہا۔۔۔
بےشک زندگی تم نے گزارنی ہے لیکن میں تمھاری بہن ہوں تو میں یہی کہوں گی تم معاذ کو ایک موقع تو دے کر دیکھو ہر انسان کو ایک موقع تو ضرور ملنا چاہیے وہ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہے تو اسے ایک موقع تو ضرور دینا چاہیے۔۔۔۔!!! زارا نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
لیکن زارا وہ سب کچھ میں کیسے بھول جاؤں جو کچھ معاذ نے میرے ساتھ کیا ہے اتنا آسان نہیں ہے میرے لیے جتنا نظر آرہا ہے۔۔۔۔!!! سحر نے بےبسی سے کہا۔۔۔
ٹھیک کہا تم نے سحر لیکن تم اپنا دل بڑا کر کے اسے معاف کر دو اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
اور جب تک تم خود نہیں چاہو گی اس وقت تک تم کچھ نہیں بھول سکتی میرا مقصد تمہیں سمجھانا تھا آگے تم خود بھی سمجھدار ہو جو تمھارا فیصلہ ہو گا بے شک وہ درست ہو گا۔۔۔۔!!!
زارا نے سحر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا سحر نے زارا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
اوکے میں اس بارے ایک بار ضرور سوچوں گی۔۔۔۔!!! سحر نے کہا۔۔۔
اور زارا بھی سحر کی بات سن کر تھوڑا مطمئن ہو گئی تھی۔۔۔۔
💖————💖
معاذ اپنی گاڑی کی طرف جارہا تھا جب کوئی لڑکی اس کے ساتھ ٹکرائی تھی چونکہ معاذ کی نظریں موبائل پر تھیں اس لیے اس نے بنا دیکھے سوری کہا اور آگے بڑھنے لگا جب اسی لڑکی نے معاذ کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا۔۔۔۔
معاذ حیرانگی سے مڑا لیکن اپنے سامنے زوبیا کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ناپسیندگی کے تاثرات آگئے تھے جسے زوبیا نے بھی محسوس کیا تھا۔۔۔۔
لگتا ہے تمہیں یہاں میری موجودگی اچھی نہیں لگی لیکن مجھے پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔!!! زوبیا نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
ٹھیک کہا تم نے مجھے تمھارا چہرہ اس وقت زہر لگ رہا ہے تو یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔۔!!! معاذ نے سنجیدگی سے زوبیا کو کہا۔۔۔
اتنی بےعزتی کے بعد بھی زوبیا ڈھیٹ بنی مسکرا رہی تھی۔۔۔
معاذ احمد میں تمہیں صرف یہ بتانے آئی تھی کہ اب تم تیار رہنا۔۔۔۔!!!
زوبیا نے مسکرا کر معاذ کو کہا اور وہاں سے چلی گئ معاذ کو زوبیا کی بات بلکل بھی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔۔
بھاڑ میں جائے یہ میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔۔!!!
معاذ نے نفرت سے سوچا اور اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا زوبیا کیا کرنے والی تھی یہ تو آنے والے وقت نے بتانا تھا۔۔۔۔
💖————💖
سر عباس سر ہسپتال میں ہیں کسی نے ان کو بہت بری طرح مارا پیٹا ہے ان کی حالت کافی بری ہے۔۔۔۔!!!
اےڈی کے آدمی نے اےڈی کو اطلاع دیتے ہوئے کہا۔۔۔
آتے ہی یہ کمینہ کسی کے ہاتھ چڑ گیا ہے کس ہسپتال میں ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے غصے سے پوچھا۔۔۔
ملازم نے اےڈی کو ہسپتال کا نام بتایا اور اےڈی ہسپتال کے لیے نکل گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
ٹائیگر کل بیسٹ نے ہم دونوں کو بلایا ہے۔۔۔۔!!! کالیا نے پریشانی سے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن تو کیوں اتنا پریشان ہے۔۔۔۔؟ ٹائیگر نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
وہ تو تجھے کل پتہ چل جائے گا۔۔۔۔!!! کالیا نے کہا۔۔۔
ہم پہلے بھی تو بیسٹ سے مل چکے ہیں۔۔۔۔!!!
پہلے کی بات اور تھی ٹائیگر اس بار مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔۔۔۔!!! کالیا نے کہا۔۔۔
کیسی گڑبڑ۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے کالیا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
تم جانتے ہو بیسٹ نے ہمیں ملنے کے لیے کہا بلایا ہے۔۔۔۔؟ کالیا نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
سالے بات تیری ہوئی ہے تو مجھے کیسے پتہ ہو گا کہ بیسٹ نے ہمیں کہاں ملنے کے لیے بلایا ہے۔۔۔۔؟؟ ٹائیگر نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
بیسٹ نے اپنے ٹارچر روم میں ہمیں بلایا ہے۔۔۔!!!
واہ چلو ہمیں بھی بیسٹ کے ٹارچر روم دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
ٹائیگر مجھے بیسٹ کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔۔!!! کالیا نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
کالیا زیادہ سے زیادہ بیسٹ کیا کر سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اس بار ٹائیگر نے بھی سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
تم اچھے سے جانتے ہو ٹائیگر کہ بیسٹ کیا کچھ کر سکتا ہے تم اسے بہت ہلکا لے رہے ہو۔۔۔ کل اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر بیسٹ سے ملنے جانا مجھے نہیں لگتا وہ ہمیں زندہ چھوڑے گا۔۔۔۔!!!
کالیا نے ٹائیگر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا جس پر ٹائیگر نے کالیا کو گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔
میرے ساتھ تو بھی ان گناہوں میں برابر کے شریک ہے اس لیے تو بھی اپنے گناہوں کی معافی مانگ لینا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں اپنے گناہوں کی معافی مانگ چکا ہوں اس لیے تو تجھے بھی مشورہ دیا ہے۔۔۔۔!!! کالیا نے بھی ڈبل گھوری سے ٹائیگر کو نوازتے ہوئے کہا۔۔۔
کالیا کی بات سن کر ٹائیگر بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ آخر بیسٹ نے کیا بات کرنی ہے لیکن یہ تو کل ہی معلوم ہونا تھا۔۔۔۔