Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

نور ابھی بھی وہی کھڑی تھی جب حجاب نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ نور نے حجاب کی طرف دیکھا۔۔۔۔
یہاں زیادہ روشنی نہیں تھی اس لیے حجاب کو نور کے آنسو نظر نہیں آۓ تھے۔۔۔۔
نور دیکھو میں کیا لے کر آئی ہوں۔۔۔۔!!! حجاب نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نور کو کہا۔۔۔
نور نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔۔
یہ کیا ہے آپی۔۔۔؟ نور نے پوچھا۔۔۔۔
چلو میں بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔!!!
حجاب نے نور کا ہاتھ پکڑا اور نور کو زید کے کمرے کی طرف لے گئ۔۔۔۔۔
💖————💖
آپی ہم زید بھائی کے کمرے میں کیوں آۓ ہیں۔۔۔۔؟؟ نور نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
بس دیکھتی جاؤ۔۔۔!!
حجاب نے کہا اور زید کے منہ پر پینٹنگ کرنے لگی حجاب بہت احتیاط سے زید کے چہرے پر پینٹنگ کررہی تھی۔۔۔۔ زید کی نیند بہت پکی تھی
اپنے کام سے مطمئن ہو کر حجاب جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئی تھی۔۔۔۔
آپی اس سب کا کیا فائدہ ہو گا زید بھائی تو صبح اٹھ کر اپنا منہ دھو لے گے۔۔۔۔!!! نور نے حجاب کو کہا۔۔۔
ارے نہیں پگلی بڑے پاپا نے نیچے سب کو اکٹھا کرنا ہے۔۔۔۔ انہوں نے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔ اور جب زید نیچے آۓ گا اور اس طرح میرا بھی بدلا پورا ہو جاۓ گا۔۔۔۔!!! حجاب نے ساری بات نور کو بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اوووو اچھا پھر تو بہت مزا آۓ گا۔۔۔۔ نور نے بھی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
💖————💖
تھوڑی دیر بعد میر نے سب کو بلایا تھا۔۔۔۔
سب آگئے تھے لیکن ابھی زید نہیں آیا تھا۔۔۔۔
حجاب نے سحر کو بھی اپنے کارنامے کے بارے میں بتا دیا تھا سحر کو بھی زید کا انتظار تھا جو ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔۔
اسد زید کہاں ہے۔۔۔۔؟ زین نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔۔۔۔
بابا وہ آتا ہی ہو گا وہ دیکھیے آگیا ہے۔۔۔۔
اسد نے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
لیکن جب اس کی نظر زید کے چہرے پر پڑی تو پورے ہال میں اسد کا قہقہہ گونجا تھا۔۔۔۔ سب نے حیرانگی سے اسد کی طرف دیکھ رہے تھے کیونکہ اسد اس طرح بہت کم ہنستا تھا۔۔۔۔ لیکن جب سب کی نظر زید کی طرف گئ تو ان کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔۔
کبیر کو ہنستے ہوۓ نور نے دیکھا تھا۔۔۔۔ اور اسے یہ بات تسلیم کرنی پڑی تھی کہ کبیر کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے۔۔۔۔ اس لیے وہ زیادہ نہیں مسکراتا کہی کسی کی نظر نا لگ جاۓ نور نے دل میں سوچا۔۔۔۔ نور کا سارا دھیان کبیر کی طرف تھا۔۔۔۔
جب ہنستے ہوئے کبیر کی نظر نور پر پڑی تو نور نے ہڑبڑا کر جلدی سے اپنی نگاہوں کا رخ تبدیل کیا تھا۔۔۔۔
نور کو دیکھ کر کبیر کی ہنسی غائب ہوگئ تھی۔۔۔۔
بیٹا میں جانتا ہوں میرا ایک بیٹا تھوڑا کھسکا ہوا ہے بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔!!! زین نے سنجیدگی سے زید کو کہا جو خود حیران سا کھڑا سب کو ہنستا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
لیکن بابا ہوا کیا ہے۔۔۔۔؟ اور سب لوگ مجھے دیکھ کر ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔؟؟؟ زید نے بھی حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
حجاب نے زید کے چہرے کے سامنے آئینہ کیا تھا
اور زید نے جب آئینے میں عجیب وغریب مخلوق کو دیکھا تو اس کی اپنی چیخ نکل گئ تھی۔۔۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔۔؟ زید نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
ہے کوئی گدھا۔۔۔۔!!!! کبیر نے زید کو دیکھتے ہوئے کہا بڑے سب بیٹھے بچوں کی نوک جوک کو انجوائے کررہے تھے۔۔۔۔
چڑیل یہ تمہارا کام ہے نا زید نے گھورتے ہوۓ حجاب کو کہا جو پہلے ہی میر کے پاس جاکر کھڑی ہو گئ تھی۔۔۔۔
بڑے پاپا دیکھیے زید بھائی مجھ پر الزام لگا رہے ہیں بھلا میں اپنے بھائی کے ساتھ ایسا کر سکتی ہوں۔۔۔۔؟؟؟
حجاب نے معصومیت سے میر کو کہا میر حجاب کی بات سن کر ہنس پڑا تھا۔۔۔۔
بلکل زید تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ سب حجاب نے کیا ہے۔۔۔۔؟ میر نے زید کو دیکھتے ہوئے مصنوعی غصے سے پوچھا۔۔۔۔
بڑے پاپا یہ غلط بات ہے آپ ہمیشہ اس چڑیل کی سائیڈ لیتے ہیں۔۔۔۔!!! زین نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
تو تمھیں کس نے کہا ہے کہ سوتے وقت فوت ہی ہو جاؤ تمھارے ساتھ کوئی کچھ بھی کر جاۓ اور تمہیں معلوم ہی نہیں ہو گا۔۔۔۔!! عادل نے بھی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
اچھا بچوں ہمیں آپ سب سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔!!! میر نے سب کی توجہ اپنے طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایک منٹ بڑے پاپا اب میں سیلفی تو لے لوں۔۔۔۔!!! زید نے ہنستے ہوئے کہا اور اسد اور کبیر کے ساتھ کھڑا ہوکر سیلفی لینے لگا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔
زید اور زارا آپ لوگوں کے والدین نے آپ دونوں کی شادی کا فیصلہ کیا ہے لیکن آپ لوگ کی رضامندی بھی ضروری ہے جو آپ لوگوں کا فیصلہ ہو گا وہی مانا جاۓ گا۔۔۔!!
میر نے زارا اور زید کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
رازا بیٹا آپ کو کوئی اعتراض ہے تو مجھے بتا دے۔۔۔؟؟ میر نے پیار سے زارا سے پوچھا۔۔۔
بڑے پاپا۔۔۔ ماما پاپا اور آپ لوگوں نے جو بھی میرے لیے سوچا ہے وہ بہتر ہی ہو گا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔!!! زارا نے فرمانبرداری سے جواب دیا۔۔۔۔
میر اب زید کی طرف دیکھ رہا تھا جو منہ کھولے سب کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
زید کی شکل دیکھ کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
تو زید تمہاری طرف سے میں نا سمجھو۔۔۔؟ میر نے زید سے پوچھا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ بڑے پاپا کیسی باتیں کررہے ہے آپ بھلا مجھے کیا اعتراض ہو گا۔۔۔؟؟ مجھے بلکل بھی اعتراض نہیں ہے۔۔۔!!
اگر آپ چاہے تو ابھی نکاح کردے مجھے پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔۔۔۔!!! زید نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
اوووو بھائی اپنی بریک پر پیر رکھ۔۔۔۔!! اسد نے زید کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
میر ہنس پڑا تھا۔۔۔
تو تم دونوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے چلو یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔ خوش رہو دونوں۔۔۔۔!!!
اور ہاں احمد چاہتا ہے سحر اس کے گھر کی بیٹی بنے۔۔۔۔ اور اریبہ معاذ سے بات بھی کر چکی ہے معاذ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے اور سحر بھی اس رشتے سے خوش ہے۔۔۔۔ تو سب لوگوں نے یہی سوچا ہے کہ دونوں کی شادی ایک ہی تاریخ پر ہوگی
جمعے کے مبارک دن دونوں کا نکاح ہو گا۔۔۔۔ تو جسے جو جو تیاری کرنی ہے وہ کر لے۔۔۔۔!!!! میر نے کہا۔۔۔۔
معاذ یہاں نہیں تھا اور سحر بہت خوش تھی حجاب اور نور اپنی دونوں بہنوں کے لیے بہت خوش تھیں۔۔۔۔ کبیر اور اسد زید کے لیے بہت خوش تھے۔۔۔۔
کبیر پہلے سے جانتا تھا کہ زید زارا کو پسند کرتا ہے اور کبیر کو لگتا تھا کہ اس کی بہن کو زید سے زیادہ کوئی خوش نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔۔
اگر میری بہن کو زرا سی بھی تکلیف پہنچائی تو نے تو۔۔۔۔؟؟ کبیر نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے زید کو کہا۔۔۔۔
بس بھائی ابھی تو تو میرا سالا بنا بھی نہیں ہے اور دھمکیاں پہلے سے ہی لگا رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ زید نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایک ہفتہ ہے تیرا سالا بھی بن جاؤ گا فکر مت کر۔۔۔۔ ویسے اگر تو مجھے اپنا سالا نہیں بھی بنانا چاہتا تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں ڈیڈ اور بڑے پاپا کو منع کر دیتا ہوں۔۔۔!!! کبیر نے کہا۔۔۔۔
نہیں نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو ہی تو میرا سالا ہے یار میں نے ہمیشہ سالے کے روپ میں تجھے ہی دیکھا ہے۔۔۔۔!!! زید نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
زید اب یہ زیادہ ہو رہا ہے۔۔۔۔!!! اسد نے زید کو کہا لیکن اس کا سارا دھیان حجاب کی طرف تھا جو پتہ نہیں کس بات پر ہنس رہی تھی۔۔۔۔
تینوں ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے میں لگے ہوۓ تھے۔۔۔۔
💖————💖
رات کافی ہو گئ تھی جب حجاب کی آنکھ کھلی تھی اسے پیاس لگی تھی لیکن جب جگ کی طر دیکھا تو اس میں پانی نہیں تھا۔۔۔۔
حجاب نے جگ اٹھایا اور کچن میں پانی لینے چلی گئ جب اسے باہر سے کسی کی باتوں کی آواز آئی تھی۔۔۔۔
حجاب نے پہلے سوچا اس کا وہم ہو گا اس وقت باہر کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔
لیکن تھوڑی دیر بعد اسے پھر سے باتوں کی آوازیں آنے لگی تھی۔۔۔۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر حجاب کچن سے باہر آئی تو اسے سامنے ایک کالا سایا نظر آیا تھا۔۔۔ کالے ساۓ کو دیکھ کر حجاب ڈر گئ تھی۔۔۔۔
جب اس نے کالے ساۓ کو اپنی طرف آتے ہوۓ دیکھا تو جب واپسی کے لیے مڑی تو پیچھے کھڑے اسد کے سینے سے جا گلی تھی۔۔۔۔
حجاب کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے حجاب چیختی اسد نے اپنا مضبوط ہاتھ حجاب کے منہ پر رکھا تھا اور کمر میں ہاتھ ڈال کر حجاب کو مزید اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔
حجاب نہیں جانتی تھی کہ سامنے اسد کھڑا ہے
حجاب کی ٹانگیں کانپ رہی تھی۔۔۔۔ اس نے اسد کی شرٹ کے کالر کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔
زوجہ محترمہ اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔؟ اسد نے حجاب کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا۔۔۔۔
اسد کی آواز سن کر حجاب کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔۔ لیکن اسد کی اگلی حرکت پر حجاب کو پھر سے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
اسد نے حجاب کے کان کی لو کو بہت پیار سے چوما تھا اور ہلکا سا اپنے دانتوں سے دبا کر حجاب کو چھوڑ کر پیچھے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
حجاب کو ابھی بھی اسد کا چہرہ اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آیا تھا۔۔۔
حجاب کو اسد کا چہرہ ابھی دیکھنا بھی نہیں تھا حجاب وہاں سے بھاگ گئ تھی اور اپنے کمرے میں جاکر اس نے سانس لیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
آج بھی سب وائٹ پیلس میں موجود تھے بچوں نے شاپنگ مال جانے کا پلان بنایا تھا۔۔۔۔
حجاب پوری کوشش کر رہی تھی کہ اسد کے سامنے نا آۓ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر رات کو اسد کو ہو کیا گیا تھا۔۔۔۔ جو وہ حجاب کے اتنے قریب آیا تھا ورنہ ہمیشہ اسے ڈانٹا ہی رہتا تھا۔۔۔۔
معاذ کے علاوہ سب مال جارہے تھے اس نے جانے سے منع کر دیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
ایک گاڑی میں زید تھا جو ڈرائیونگ کررہا تھا اس کے ساتھ زارا اور سحر تھیں۔۔۔۔
دوسری گاڑی میں کبیر اسد حجاب اور نور تھیں نور نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ اس گاڑی میں نا بیٹھے لیکن حجاب نے زبردستی نور کو اپنے ساتھ بیٹھایا تھا۔۔۔۔۔
نور بار بار اپنا چشمہ ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔۔۔
کبیر کی نظر بار بار بھٹک کر نور کی طرف جارہی تھی۔۔۔۔
جو سبز رنگ کی شلوار قمیض میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔ اس کی سبز آنکھیں اس کے کپڑوں سے میچ ہو رہی تھیں۔۔۔۔ بنا میک اپ کے بھی نور بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
اسد تم ڈرائیونگ کرو کبیر نے آدھے راستے گاڑی روکتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اسد نے کچھ نہیں کہا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گی تھا۔۔۔۔
اور اس نے شیشے کا رخ حجاب کی طرف کیا تھا اور یہ بات حجاب نے بھی نوٹ کی تھیں۔۔۔۔
چھچھورا کہی کا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ان کو۔۔۔ حجاب نے دل میں اسد کو کوستے ہوۓ کہا اور باہر دیکھنے لگی۔۔۔
نور نے بھی سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
تمہیں میں نے کتنی بار کہا ہے مجھے فون نا کیا کرو تمہیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔؟؟ زوبیا نے غصے سے کہا۔۔۔
تمہیں اپنی بیٹی کا بھی خیال نہیں ہے کیسی ماں ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ فون پر بات کرتے انسان نے زوبیا کو کہا تھا۔۔۔۔
میری کوئی بیٹی نہیں ہے سمجھے تم۔۔۔!! زوبیا نے غصے سے کہا۔۔۔۔
تم اتنی خودغرض کیسے ہو سکتی ہو۔۔۔؟؟؟ ہمارے درمیان جو بھی ہوا تھا تمھاری رضا مندی سے ہوا تھا۔۔۔۔ اور اب میں تم سے شادی کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔۔۔!!! فون پر بات کرتے انسان نے بےبسی سے کہا۔۔۔۔
شادی اور تم سے تم نے سوچ بھی کیسے لیا۔۔۔؟؟ زوبیا نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
میرے لیے ناسہی تم اپنی بیٹی کے لیے تو کچھ سوچو وہ اتنی چھوٹی ہے کیسے رہے گی وہ تمھارے بغیر۔۔۔۔؟ اُس انسان نے کہا۔۔۔
وہ میری بیٹی نہیں ہے بس میری ایک چھوٹی سے غلطی کی سزا ہے۔۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آگے جاکر یہ بچی میرے گلے گا کانٹا بن جاۓ گی۔۔۔۔ تو میں کبھی بھی تمھاری بات نا مانتی اور کبھی بھی اسے اس دنیا میں نا لاتی اور آئندہ مجھے فون مت کرنا۔۔۔۔!!! زوبیا نے غصے سے کہا اور فون بند کر دیا۔۔۔۔۔
💖————💖
سر میڈم کا پورا نام نور میر خان ہے۔۔۔۔ میڈم کے والد آہل میر خان بہت بڑا بزنس مین ہے۔۔۔۔ میڈم اکلوتی ہیں۔۔۔۔!!!
لیکن سر آہل میر خان مجھے کچھ عجیب لگا ہے۔۔۔۔؟؟ جون نے کہا۔۔۔۔
کیا مطلب عجیب کیوں لگا تمہیں وہ۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے پوچھا۔۔۔۔
سر مجھے لگتا ہے آہل میر خان کے دو چہرے ہے۔۔۔ ایک چہرہ وہ جو وہ دنیا کو دکھاتا ہے ایک وہ جو دنیا سے چھپا ہوا ہے۔۔۔!!! جون نے کہا۔۔۔
ہمممممم تو پھر تو معلوم کرنا پڑے گا کہ آہل میر خان کون ہے۔۔۔۔؟
تم معلوم کرو اور آہل میر خان پر نظر رکھو اور اگر اس میں کچھ گڑبڑ لگتی ہے تو مجھے بتاؤ۔۔۔۔!! اےڈی نے کہا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔!!! جون نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
بہت جلد تم میرے پاس ہو گی مائی سنو وائٹ
لیکن تم اےڈی پلازہ سے نکل کیسے گئ۔۔۔؟؟؟
بہت جلد میں یہ بھی پتہ لگا لوں گا اور اگر غدار میرا اپنا ہی کوئی آدمی نکلا تو اسے کتے کی موت دوں گا۔۔۔۔۔!!!
اےڈی نے غصے سے کہا۔۔۔۔
💖————💖
شاپنگ مال میں پہنچ کر سب اپنی اپنی شاپنگ کرنے لگ گئے تھے۔۔۔۔
حجاب نے نور کو اپنے ساتھ ہی رکھا ہواتھا۔۔۔
دونوں کپڑوں کی شاپ میں گئ تھی جب حجاب کو ایک گولڈن کلر کی میکسی پسند آئی۔۔۔۔
نور یار دیکھو یہ کتنا پیارا ڈریس ہے تم پر بہت سوٹ کرے گا جاؤ ٹرائی کرکے دیکھو۔۔۔۔؟؟ حجاب نے سوٹ نور کو پکڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
لیکن آپی یہ بہت ہیوی ہے اور اس کا گلہ کتنا بڑا ہے۔۔۔۔؟؟ نور نے کہا۔۔۔
نور یار ٹرائی کرنے سے کیا ہوجاۓ گا اگر تمہیں اچھا نہیں لگا تو نا لینا۔۔۔۔!!! حجاب نے کہا۔۔۔
نور نے ڈریس پکڑا اور چینجنگ روم میں چلی گئ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب نور باہر آئی تو کبیر بھی حجاب کے پاس کھڑا اسے کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔۔ جب وہ وہاں سے جانے کے لیے مڑا تو سامنے اس کی نظر نور پر پڑی تھی۔۔۔ اور ڈریس کا گلا دیکھ کر کبیر کو نور پر مزید غصہ آیا تھا۔۔۔۔ کبیر نے غصے میں نور کا بازو سختی سے دبوچا اور اسے چینجنگ روم کے پاس جاکر چھوڑا۔۔۔۔
تمھارے اندر زرا سی بھی عقل ہے یہ کیسا بے ہودہ لباس تم نے پہنا ہوا ہے۔۔۔؟ کبیر نے غصے سے نور کو کہا اس بار نور کو بھی کبیر پر بہت غصہ آیا تھا۔۔۔۔
آپ ہوتے کون ہیں مجھے یہ سب کہنے والے۔۔۔۔؟؟؟ میری مرضی میرا جو دل چاہے گا میں پہنو گی سمجھے آپ۔۔۔۔؟؟؟
نور نہیں جانتی تھی کہ اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی ہے لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ اب یہ کبیر کے سامنے بھی خاموش نہیں رہے گی کیونکہ کبیر ہمیشہ نور کو تکلیف دیتا تھا۔۔۔۔
تمھارے منہ میں زبان بھی ہے یہ بات مجھے آج معلوم ہوئی ہے۔۔۔!!! کبیر نے طنز کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور تم مجھے یہ ڈریس لے کر تو دکھاؤ پھر بتاؤ گا کہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں۔۔۔۔ اور اگر اس وقت میں گھر میں ہوتا تو تمہیں بہت اچھے سے بتاتا کہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں نور خان۔۔۔۔۔؟؟؟
کبیر نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
کبیر نے رومال سے اپنا چہرہ کور کیا ہوا تھا ورنہ لوگ نے اسے گھیر لینا تھا۔۔۔۔
اس طرح کوئی بھی کبیر کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ فیمس کبیر خان ہے۔۔۔۔۔ اور جب بھی کبیر باہر نکلتا تو اپنے چہرے کو کور کرکے نکلتا تھا۔۔۔۔
سمجھتا کیا ہے خود کو میں بھی یہی ڈریس لوں گی
دیکھتی ہوں کیا کرتا ہے۔۔۔۔ اگر اس بار کھڑوس نے مجھے تنگ کیا تو پاپا کو بتا دوں گی۔۔۔!!!
نور نے دل میں کہا اور چینجنگ روم میں داخل ہوئی
لیکن اپنے سامنے ٹائیگر کو دیکھ کر گھبرا گئ تھی۔۔۔۔
تم۔۔۔؟؟؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟ نور نے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ٹائیگر آنکھوں میں ستائش لیے نور کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
نور نے جلدی سے پاس پڑا اپنا ڈوپٹہ گلے میں ڈالا تھا۔۔۔۔
واہ میری چھمک چھلو کیا آئٹم لگ رہی ہے واہ۔۔۔!!! ٹائیگر نے نور کو سراہتے ہوئے کہا۔۔۔
تم لڑکیوں کی چینجنگ روم میں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟
اووو اچھا اچھا تم غلطی سے آگئے ہو گے۔۔۔۔ یہ لڑکیوں کا چینجنگ روم ہے لیکن یہ تو شاپ ہی لڑکیوں کے کپڑوں کی ہے۔۔۔۔ تو تم یہاں غلطی سے بھی نہیں آسکتے۔۔۔؟؟؟ تو نور مزید کچھ کہتی جب ٹائیگر نے نور کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر نور کو خاموش کروایا تھا۔۔۔
خاموش۔۔۔!!
ٹائیگر نے نور کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
اب مجھے یہ بتا وہ لڑکا کون تھا۔۔۔؟ جس نے تیرا بازو پکڑا تھا۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے پوچھا۔۔۔
نور کو اب ڈر لگنے لگا تھا وہ تھی بھی اکیلی نور باہر جانے لگی جب ٹائیگر نے نور کا بازو پکڑ کر اسے دروازے کے ساتھ لگایا۔۔۔۔
میرے کو پتہ تھا تو ایسا ضرور کرے گی۔۔۔!! ٹائیگر نے نور کے کان کے پاس سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
نور کے دونوں بازو ٹائیگر کے ہاتھ میں تھے اور اس کا منہ دروازے کے ساتھ لگا تھا۔۔۔۔ ٹائیگر نور کے بہت قریب کھڑا ہوا تھا۔۔۔ درد کی وجہ سے نور کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔۔۔
ٹائیگر نے نور کا رخ اپنی طرف کیا تھا لیکن اس کے بازوں کو ابھی بھی ویسے ہی پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر نے ایک ہاتھ سے نور کا چشمہ اتارا تھا نور اپنی سبز بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو لیے ٹائیگر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ٹائیگر نے اپنی انگلی کی پوروں سے نور کے آنسوؤں کو بےمول ہونے سے پہلے چن لیا تھا۔۔۔۔۔
میرے ہاتھ چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔!!! نور نے روتے ہوئے کہا اور ٹائیگر ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا تھا۔۔۔۔
میں تیرے ساتھ کچھ نہیں کرنا چاہتا اور اگر تو نے دوبارہ باہر جانے کی کوشش کی تو پھر شہزادی میں تجھے کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔۔۔۔!!
ٹائیگر نے نور سے پیچھے ہوتے ہوئے ذومعنی الفاظ میں کہا۔۔۔۔
نور نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
وہ چھوکرا کون تھا۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے پوچھا۔۔۔
کون چھوکرا۔۔۔؟ اور یہ چھوکرا کیا ہوتا ہے۔۔۔؟ نور نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
ایک تو تم جیسے لوگوں کو انگریزی ہی لے ڈوبی ہے وہ لڑکا کون تھا۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے کہا۔۔۔۔
اچھا وہ۔۔۔۔؟ وہ تو میرا کزن ہے کھڑوس۔۔۔۔ لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو کہی تم نے اس سے کریم کا تو نہیں پوچھنا۔۔۔۔؟؟؟ نور نے ٹائیگر سے پوچھا۔۔۔
کریم۔۔۔۔؟؟؟ کون سی کریم۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
وہی کریم جو میرا کھڑوس کزن لگاتا ہے تم بھی وہی کریم لگانا چاہتے ہو نا تاکہ تم بھی اس کے جیسے وائٹ ہو جاؤ۔۔۔؟؟؟ نور نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
اور ٹائیگر کا دل کیا اپنے سامنے کھڑی بیوقوف لڑکی کا سر پھاڑ دے۔۔۔۔
تیرا کزن رنگ گورا کرنے والی کریم لگاتا ہے۔۔۔۔؟؟ ٹائیگر نے پوچھا۔۔۔۔
یہ تو مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔!!! نور نے اپنے کاندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اف لڑکی تو میرے دماغ کی دہی بنا دے گی۔۔۔۔ ٹائیگر نے غصے سے کہا۔۔۔۔
تمہارے پاس دماغ بھی ہے مجھے نہیں پتہ تھا اگر تمھارے پاس دماغ ہے تو اسے استعمال کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔۔؟؟؟ نور نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اللہ مجھے صبر دے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے دل میں کہا۔۔۔۔
جب اس کا موبائل رنگ ہوا اور اس نے فون اپنے کان سے لگایا۔۔۔۔
جب کالیا نے کہا کام ہو گیا ہے اب تم وہاں سے نکل آؤ۔۔۔!! ٹائیگر نے اپنا موبائل جیب میں رکھا اور نور کو کہا۔۔۔۔
میں یہاں تیرے کو ملا تھا یہ بات تو کسی کو نہیں بتاۓ گی اور اگر تو نے کسی کو میرے بارے میں بتایا تو۔۔۔؟؟؟
نہیں بتاؤ گی۔۔۔۔ پتا ہے مجھے تم کیا کرسکتے ہو۔۔۔۔!!! نور نے نحوست سے کہا۔۔۔۔
شاباش میری شہزادی۔۔۔۔ اور اپنی ان خوبصورت آنکھوں پر رو کر ظلم نا کیا کر تیری پانی سے بھری آنکھیں دیکھ کر کوئی بھی کمبخت دیوانہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے کہا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
💖————💖
کبیر مجھے تجھ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔؟؟
احد نے کبیر کو کہا جو سنوکر کھیل رہا تھا۔۔۔۔
ہاں میں سن رہا ہوں۔۔۔!! میر نے کہا۔۔۔
وہ میں چاہ رہا تھا کہ کیوں نا۔۔۔ وہ احد کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیسے میر سے بات کرے۔۔۔
احد ایسی کون سی بات ہے جسے کرنے میں تمہیں مشکل پیش آرہی ہے۔۔۔؟؟؟ میر نے احد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میر میں چاہتا ہوں کبیر اور نور کی شادی ہو جاۓ۔۔۔۔!!! احد نے ساری بات ایک ہی سانس میں کہہ دی تھی۔۔۔۔
کبیر سے پوچھا تم نے۔۔۔۔؟؟؟ میر نے سنجیدگی سے احد سے پوچھا۔۔۔۔۔
اس سے میں بات کر لوں گا میرا نہیں خیال کبیر کو کوئی مسئلہ ہو گا۔۔۔۔!!! احد نے کہا۔۔۔۔
ہممممم ٹھیک ہے اگر کبیر کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔!!!
لیکن اگر میری بیٹی کی آنکھ میں ایک بھی آنسو کبیر کی وجہ سے آیا تو تم بہتر جانتے ہو میں پھر کیا کروں گا اس لیے کبیر کو سب کچھ اچھی طرح سمجھا دینا میں اپنی بیٹی کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو بھی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔!!!
میر نے احد کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا احد میر کو گھور رہا تھا۔۔۔۔۔
تمھاری باری ہے۔۔۔!!! میر نے سنوکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
زین بیٹھا کافی پی رہا تھا اور دونوں بھائیوں کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔
💖————💖
شام کو سب لوگ شاپنگ کر کے واپس آگئے تھے۔۔۔۔
جب احد نے کبیر کو اپنے کمرے میں بلایا اسد بھی اس کے ساتھ تھا اس لے کبیر اسے بھی ساتھ لے آیا۔۔۔۔
کبیر کمرے میں داخل ہوا تو اسد واپس جانے لگا تھا۔۔۔ اسے لگا تھا کہ احد نے اکیلے میں کبیر سے بات کرنی ہے۔۔۔۔ لیکن احد نے اسد کو روک لیا تھا۔۔۔
بیٹا تم کہا جارہے ہو آجاؤ تم بھی اور دروازہ بند کر دو۔۔۔۔!! احد نے کہا۔۔۔
اسد نے دروازہ بند کر دیا تھا۔۔۔۔
ڈیڈ کیا بات کرنی ہے آپ نے۔۔۔؟؟ کبیر نے احد سے پوچھا۔۔۔۔
کبیر میں نے میر سے بات کر لی ہے اور میں سوچ رہا ہوں زید اور معاذ کے نکاح کے ساتھ تمھارا اور نور کا بھی نکاح کروا دوں۔۔۔!!! احد نے کبیر کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اسد بھی کبیر کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ کیا طوفان آنے والا ہے۔۔۔۔
کبیر کو اس وقت سمجھ نہیں آیا کہ کس وجہ سے انکار کرے اس لیے جو اس کے منہ میں آیا اس نے بول دیا۔۔۔۔۔
ڈیڈ میں نور سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔۔!!! کبیر نے تحمل سے کہا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔؟ احد نے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
بس ڈیڈ میں نے آپ کو کہہ دیا ہے کہ میں نور سے شادی نہیں کرسکتا تو نہیں کرسکتا۔۔۔۔!!! کبیر نے دبے دبے غصے سے کہا۔۔۔۔
اور میں بھی یہی پوچھ رہا ہوں کہ تم نور سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔۔۔۔؟؟ آخر برائی کیا ہے نور میں۔۔۔؟؟
گھر کی بچی ہے سلجھی ہوئی ہے خوبصورت ہے اور سب سے بڑی بات تمھارے بڑے پاپا کی بیٹی ہے اور کیا چاہیے تمہیں۔۔۔۔؟؟؟ احد نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔
ڈیڈ وہ پوری رات گھر سے باہر رہی تھی آپ کیسے اس بات کی گارنٹی دے سکتے ہیں کہ وہ پاک ہیں۔۔۔۔؟؟؟ کبیر نے غصے میں چلاتے ہوئے کہا۔۔۔
احد نے کبیر کی بات سننے کے بعد اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا تھا۔۔۔۔
تم جانتے ہو آج مجھے بھی شرمندگی ہو رہی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے۔۔۔۔ کیونکہ میرا بیٹا اتنی گھٹیا سوچ کا مالک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
اور بہت پیار کرتے ہو نا اپنے بڑے پاپا سے اگر وہ تمھاری یہ بکواس اپنی لاڈلی بیٹی کے لئے سن لے تو تمھاری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاۓ گا۔۔۔۔
احد نے کبیر سے بھی زیادہ اونچی آواز میں دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اسد کھڑا کبیر کی سوچ پر افسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ اسے بہت دکھ ہوا تھا کہ وہ نور سے نفرت کرنے میں اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ وہ نور کے بارے میں ایسی گھٹیا بات بھی کہہ گیا تھا۔۔۔۔
کاش تمھارے جیسا بیٹا ہونے سے بہتر تھا میری کوئی اولاد ہی نا ہوتی۔۔۔۔
آج تم نے مجھے میرے بھائی سے بھی نظریں ملانے کے بھی قابل نہیں چھوڑا۔۔۔۔!!!
احد نے بےبسی سے زمین پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کبیر اپنے باپ کو بےبس دیکھ کر ٹرپ ہی تو گیا تھا وہ ایسا تو کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اپنے باپ کو تکلیف دے۔۔۔۔
کیبر احد کے پاس آنے لگا جب احد نے ہاتھ کے اشارے سے کبیر کو روک دیا۔۔۔۔
چلے جاؤ یہاں سے آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔۔۔!!! احد نے کہا۔۔۔
ڈیڈ پلیز۔۔۔!! کبیر نے کچھ کہنا چاہا جب احد نے اسد کو کہا۔۔۔۔
اسد لے جاؤ اسے یہاں سے ورنہ یہ ابھی تک یہ نہیں جانتا کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔۔!!! احد نے اسد کی طرف دیکھتے ہوئے غصے میں کہا۔۔۔۔
اسد کبیر کو وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
💖————💖
اسد میری بات سنو۔۔۔؟؟؟
کبیر نے کچھ کہنا چاہا جب اسد نے اسے روک دیا۔۔۔۔
کبیر ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے تو بہتر یہی ہے کہ تم تھوڑا آرام کر لو۔۔۔۔!!!
اسد نے کہا اور بنا کبیر کا جواب سنے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
میں کیسے ڈیڈ کو تکلیف دے سکتا ہوں۔۔۔؟؟؟ کبیر یہ تو نے کیا کر دیا۔۔۔؟؟؟ کبیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جب کبیر کو اپنے پیچھے نور کی آواز سنائی دی۔۔۔
آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔۔؟
نور نے کہا اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی آنسو خود بخود بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
نور کی شکل دیکھ کر کبیر کو معلوم ہو گیا تھا کہ نور سب کچھ سن چکی ہے۔۔۔۔
کبیر کو سامنے نور کا ہی کمرا نظر آیا تھا اس لیے نور کا بازو پکڑ کر اسے وہاں لے گیا تھا۔۔۔۔۔
اب بولو کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔۔؟؟ کبیر نے نور کا بازو چھوڑتے ہوئے نفرت سے کہا۔۔۔۔
بکواس میں نہیں آپ کر رہے تھے کیا کہہ رہے تھے آپ چاچو کو کہ میں پوری رات باہر رہی ہوں تو پتہ نہیں میں پاک ہوں یا نہیں۔۔۔؟؟؟
آپ بنا سچ جانے کیسے اتنا بڑا الزام لگا سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟ نور نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
آج پہلی بار کبیر نے نور کو اتنا غصے میں دیکھا تھا۔۔۔ اور وہ بول بھی کبیر کے سامنے رہی تھی جس کے سامنے آجانے سے اس کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی۔۔۔۔۔
ہاں کہا میں نے اور اس میں جھوٹ بھی کیا ہے میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کیوں کروں جو ایک رات پوری گھر سے باہر رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟
کبیر نے بھی غصے سے ایک ایک لفظ چباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تو آپ کو کیا لگتا ہے کبیر خان کہ میں آپ سے شادی کرنے کے لیے مری جارہی ہوں۔۔۔۔؟؟ تو یہ آپ کی بھول ہے مجھے بھی آپ کے جیسے مرد سے شادی کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔۔۔؟؟
چلوں مان لیا میں ایک رات باہر رہی تو میں ناپاک ہو گئ اور آپ کا کیا۔۔۔۔؟
آپ بھی تو کافی راتیں باہر گزارتے ہو کام کا بہانا بنا کر۔۔۔۔ تو کسی کو کیا پتہ کہ کام کے بہانے کیا کرتے ہو۔۔۔؟؟؟
اور جس فیلڈ میں آپ ہو تو اس لحاظ سے تو آپ بھی ناپاک ہوۓ پتہ نہیں کتنی لڑکیوں کے۔۔۔۔!!! نور آگے بھی مزید کچھ کہتی جب کبیر کا بھاری ہاتھ نور کے نرم گال پر پڑا تھا۔۔۔۔۔
نور اپنی گال پر ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے کبیر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
آج تک اسے کبھی کسی نے مزاح میں بھی نہیں ڈانٹا تھا۔۔۔۔ اور کبیر نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔!!!