Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

نور تم رو کیو رہی ہو۔۔۔؟ پاپا نے کہا تھا نا جب کوئی پریشانی آۓ تو اس کا مقابلہ کرنا چاہیے اور ڈرنا نہیں چاہیے۔۔۔۔!!! نور نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے خود کلامی کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔۔
پہلے تو اس نے اتنا دھیان نہیں دیا تھا لیکن اب ایک ایک چیز کو نور غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
یہ گھر کتنا خوبصورت ہے۔۔۔!!! نور نے گھر کو دیکھتے ہوئے دل میں کہا۔۔۔
اسے گھر میں کوئی نظر نہیں آیا تھا۔۔۔۔
نور نے پہلے تو یہاں سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈا لیکن ناکام رہی۔۔۔۔۔
اُف کتنا بڑا گھر ہے۔۔۔۔ میں کیا کروں نور نے سوچتے کہا۔۔۔؟؟؟
نور کھڑی یہی سوچ رہی تھی جب اسے سامنے سے جون آتا ہوا نظر آیا جو کافی گھبرایا ہوا تھا۔۔۔۔
نور جون کو دیکھ کر خوش ہوگئ تھی۔۔۔۔
بھائی صاحب کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں۔۔۔؟؟
نور نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے معصوم سی شکل بنا کر جون سے پوچھا۔۔۔۔
میڈم ابھی مجھے اےڈی سر سے بہت ضروری بات کرنی ہے میں آتا ہوں۔۔۔!!! جون نے جلدی سے کہا اور وہاں سے جانے لگا جب نور نے کہا۔۔۔
اگر آپ میری بات سنے بغیر یہاں سے گئے تو میں آپ کے سر کو کہوں گی کہ آپ میری یہاں سے نکلنے میں مدد کرنے والے تھے۔۔۔۔!!! نور نے جلدی سے کہا۔۔۔
اور جون رُک کر اپنے سامنے کھڑی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔ جو شکل سے جتنی معصوم لگتی تھی اتنی معصوم بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
جی آپ کو کیا پوچھنا ہے۔۔۔۔؟ جون نے ادب سے پوچھا۔۔۔۔
یہ ہوئی نا اچھے بچوں والی بات۔۔۔۔!!! نور نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
اب مجھے یہ بتاؤ تمیارے سر کا نام کیا ہے۔۔۔۔؟ نور نے جون سے پوچھا۔۔۔۔
اےڈی۔۔۔!! سب ان کو اےڈی کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔!! جون نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
وہ جلدی سے نور کے سوالوں کے جواب دے کر اےڈی کے پاس جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
اےڈی یہ کیسا نام ہے۔۔۔۔؟ نور نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
میڈم آپ کو کچھ اور پوچھنا ہے۔۔۔۔۔؟
جون نے چہرے پر الجھن لیے نور سے پوچھا۔۔۔۔
اس سے پہلے نور مزید کچھ اور پوچھتی اےڈی کی غصے سے بھری آواز نور اور جون دونوں کے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔۔۔
کچھ پل کے لیے تو نور بھی ڈر گئ تھی۔۔۔۔
کس نے اےڈی کے کام میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔ اور تمہیں یہ بات سب سے پہلے مجھے بتانی چاہیے تھی۔۔۔۔ اور تم یہاں کھڑے باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے غصے میں جون کو کہا۔۔۔۔
وہ سر میں آپ کو بتانے آنے ہی والا تھا کہ میڈم نے مجھے روک لیا۔۔۔۔!!! جون نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نور کمرے میں جاؤ۔۔۔!! اےڈی نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔
پہلے تو نور کا دل کیا چپ چاپ کمرے میں چلی جاۓ لیکن پھر ڈھیٹ بنی کھڑی رہی۔۔۔۔
مجھے کمرے میں نہیں جانا میں بور ہو رہی ہوں۔۔۔۔!!! نور نے کہا۔۔۔۔۔
نور کمرے میں جاؤ۔۔۔!!!! اس بار اےڈی نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔ اس وقت اےڈی کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا تھا۔۔۔۔
نور آنکھوں میں آنسو لیے کمرے میں چلی گئ تھی نور کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اےڈی کو تکلیف محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
بھاڑ میں جاۓ سب کچھ۔۔۔!! اےڈی نے کہا اور نور کے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
نور سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
اےڈی نور سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا سنو وائٹ منہ کیوں لٹکا ہوا ہے۔۔۔۔؟
اےڈی نے پیار سے پوچھا پتہ نہیں کیوں اےڈی کو نور کی آنکھوں میں آنسو بلکل بھی اچھے نہیں لگے تھے۔۔۔۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ یہ نور ہے اس کی عشال نہیں ہے۔۔۔۔ اس کی شکل صرف عشال سے ملتی تھی۔۔۔۔
عشال کے جانے کے بعد اےڈی کی زندگی میں بہت ساری لڑکیاں آئی تھی۔۔۔۔ جن کو اےڈی نے بیڈ تک ہی رکھا تھا۔۔۔۔ لیکن نور کو دیکھ کر اےڈی کے اندر ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا تھا۔۔۔۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔!!! نور نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایم سوری۔۔۔!! اےڈی نے کہا۔۔۔
اےڈی کو نہیں یاد تھا کہ آخری بار اس نے سوری کس کو کہا تھا۔۔۔۔
لیکن اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو اس نے سوری بولا تھا۔۔۔ اور اسے برا بھی نہیں لگا تھا بلکہ اسے اچھا لگا تھا۔۔۔۔
اگر میں آپ کی سوری کو قبول نا کروں تو۔۔۔۔؟
اور ویسے بھی مجھ سے گھر میں کوئی بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا۔۔۔۔!!
سواۓ کھڑوس کے۔۔۔!! نور نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں سوری بول تو رہا ہوں آج کے بعد میں بھی تم سے اُونچی آواز میں بات نہیں کروں گا۔۔۔۔!!! اےڈی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اوکے تو ٹھیک ہے۔۔۔ میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔ اب مجھے گھر جانا ہے۔۔۔!! نور نے پھر سے کہا۔۔۔۔
اچھا وہ کھڑوس کون ہے۔۔۔۔؟ جو تم سے اونچی آواز میں بات کرتا ہے۔۔۔؟؟ اےڈی نے نور کا دھیان بھٹکانے کے لیے پوچھا۔۔۔۔
آج کافی سالوں بعد نور سے باتیں کرتے اےڈی کے دل کو سکون مل رہا تھا۔۔۔۔
مردہ دل میں جان پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ میرا کزن ہے بہت بدتمیز اور کھڑوس ہے۔۔۔۔ ہمیشہ غصے میں رہتا ہے مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے۔۔۔۔ ہمیشہ مجھے ڈانٹتا رہتا ہے۔۔۔!!!
نور نے اےڈی کو کبیر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اگر کبیر نور کی بات سن لیتا تو حیران ضرور ہوتا۔۔۔۔
تمہیں دیکھ کر میرے دل میں جو پہلی بات آئی تھی کہ تم بہت معصوم ہو۔۔۔؟؟ لیکن اب مجھے اپنی راۓ تبدیل کرنی پڑے گی۔۔۔۔!!! اےڈی نے نور کے حسین مکھڑے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔؟ نور نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔
کچھ نہیں تم بور ہو رہی تھی نا چلو تمہیں گھر دکھاتا ہوں۔۔۔۔!!! اےڈی نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
نور کو بھی گھر دیکھنے کا تجسس تھا اس لیے اےڈی کے ساتھ چلی گئ۔۔۔۔
اےڈی جب نور کے ساتھ کمرے سے باہر آیا تو جون اےڈی کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔۔۔
کیونکہ اےڈی مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ اور ایسا آج پہلی بار ہوا تھا۔۔۔۔
اور اتنا نقصان ہونے پر بھی اےڈی خاموش تھا۔۔۔۔
💖————💖
کالیا باقی کی لڑکیوں کو ان کے گھر پہنچا دو۔۔۔۔ ٹائیگر نے سگریٹ کے کش لیتے ہوئے کہا۔۔۔
ان سب کا میں انتظام کر چکا ہوں لیکن دوسری لڑکی کو واپس کیسے لانا ہے جو اےڈی کے پاس ہے۔۔۔۔؟؟؟ کالیا نے ٹائیگر سے پوچھا۔۔۔
اےڈی اپنے پلازہ میں کسی بھی غیر کو نہیں رکھتا۔۔۔ اگر اس نے لڑکی کو اپنے پاس رکھا ہے تو اس کا مطلب ہے۔۔۔۔ ضرور وہ لڑکی اےڈی کے لیے خاص ہے۔۔۔۔ ورنہ وہ بھی باقی لڑکیوں کی طرح ٹرک میں ہوتی۔۔۔!! ٹائیگر نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔۔!!! کالیا نے بھی ٹائیگر کی بات سے متفق ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
اگر وہ لڑکی اےڈی کے لیے خاص ہے تو اسے واپس لانا تھوڑا مشکل ہے لیکن۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے بات کو روکتے ہوۓ کالیا کی طرف دیکھا جو ٹائیگر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔؟؟ کالیا نے پوچھا۔۔۔
لیکن تیرے بھائی کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
💖————💖
تو تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی تھی آج پھر تم اسی طرح کے لباس میں تھی۔۔۔۔!!!
کالیا نے حجاب کے منہ پر اپنا وزنی ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا۔۔۔۔
بات کرتے ہوۓ کالیا کے ہونٹ حجاب کے کان سے ٹکراۓ تھے جس سے حجاب ایک دم کانپ سی گئ تھی۔۔۔۔
حجاب اس وقت اپنے کمرے میں تھی اس نے کالیا کی باتوں کو سیریس نہیں لیا تھا۔۔۔۔ اور اب اسے لگ رہا تھا کہ اس غنڈے کی بات مان لینی چاہیے تھی۔۔۔۔
حجاب نے اپنا پورا زور لگا کر اپنے منہ سے کالیا کا ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔۔ اور باہر بھاگنے لگی جب کالیا نے حجاب کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔
حجاب نے کالیا کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ کر خود کو سنبھالا تھا۔۔۔۔ ورنہ اس نے سیدھا کالیا کے سینے سے جا لگنا تھا۔۔۔۔
نا میری بلبل اپنے لیے مصیبت کھڑی نا کرو۔۔۔!! کالیا نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تم نا۔۔۔ ہنسا نا کرو کیونکہ ہنستے ہوئے تم زیادہ خوفناک لگتے ہو۔۔۔!! حجاب نے منہ بگاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
حجاب کی بات سن کر کالیا کا قہقہہ بےساختہ تھا۔۔۔۔
تم میرے کمرے میں کیسے آۓ۔۔۔۔؟ حجاب نے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے تم اس بارے میں نا سوچو۔۔۔!!! کالیا نے حجاب کا بازو چھوڑا اور اس کے بیڈ پر جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
میں نے اگر تمہارے بارے میں اپنے بڑے پاپا کو بتا دیا تو وہ تمھیں جان سے مار دے گے۔۔۔۔!!! حجاب نے کالیا کو دھمکاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تمہارے بڑے پاپا تم آہل میر خان کی بات کررہی ہو نا۔۔۔؟؟؟ لیکن وہ تو یہاں ہے ہی نہیں تو پھر تم کس کو بتاؤ گی۔۔۔؟؟ کالیا نے مزاق میں بات کو لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تم کون ہو اور میرے بارے میں اتنا سب کیسے جانتے ہو۔۔۔۔؟ حجاب نے پوچھا اب اسے ڈر لگ رہا تھا کیونکہ سامنے بیٹھا ہوا غنڈہ حجاب اور اسے گھر والوں کے بارے میں سب جانتا تھا۔۔۔۔
میں نے کہا نا ان سب باتوں کو چھوڑو اور جو بات میں کہنے آیا ہوں اس پر غور کرو۔۔۔۔ آئندہ مجھے تم ڈھنگ کے کپڑوں میں نظر آؤ۔۔۔۔ اگر ایسا نا ہوا تو جو کچھ میں کروں گا اس کی ذمہ دار صرف اور صرف تم ہوگی۔۔۔۔ اور کسی کو بھی میرے بارے میں بتانے کی غلطی نا کرنا۔۔۔۔ آگے تم خود سمجھدار ہو۔۔۔!! کالیا نے سنجیدگی سے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا۔۔۔۔
یااللہ یہ کون ہے۔۔۔۔؟ کس مصبیت میں پھنس گئ ہوں اگر میں نے کسی کو بتایا تو کہی یہ غنڈہ اس انسان کو نقصان نا پہنچا دے۔۔۔۔ میں کیا کروں پہلے ہی سب نور کی وجہ سے پریشان ہیں۔۔۔۔!!! حجاب نے بےبسی سے کہا۔۔۔۔
💖————💖
میں کیا کروں کیسے ماما کو منع کروں۔۔۔۔؟؟ معاذ نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔۔
پھر اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ میں منع نہیں کرسکتا لیکن سحر تو منع کرسکتی ہے نا۔۔۔۔؟؟؟
ہاں یہ ٹھیک ہے میں اسے بتا دوں گا میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں پھر وہ شادی سے منع کر دے گی
یہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں کل ہی سحر سے بات کروں گا۔۔۔۔!!! معاذ نے دل میں سوچا۔۔۔۔
معاذ کو سحر کے اغوا ہونے کا علم نہیں تھا۔۔۔۔
💖————💖
یہ ہے وہ لڑکی۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے تصویر کو دیکھتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں یہی ہے کالیا نے جواب دیا۔۔۔۔!!!
اسے دیکھ کر کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتا ہے پھر اےڈی کیا چیز ہے۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
تم جانتے ہو اےڈی کس طرح کا آدمی ہے لڑکیوں کو ٹشو کی طرح استعمال کرتا ہے۔۔۔۔!!! تمہیں اس لڑکی کو جلد از جلد واپس لانا ہو گا ایسا نا ہو دیر ہوجاۓ۔۔۔!!! کالیا نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
اےڈی سے تو میں اسے بچا لوں گا۔۔۔ لیکن پھر مجھ سے اسے کون بچاۓ گا۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے بھی سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
تم جانتے ہو بیسٹ کے آدمی ان دونوں لڑکیوں کی خاطر ہمیں اتنا پیسا دینے کے لیے تیار تھے۔۔۔۔ تو ضرور یہ لڑکی بھی بیسٹ کی کچھ نا کچھ لگتی ہو گی۔۔۔۔ اس لیے اس سے دور رہنا کیونکہ بیسٹ سے پنگا لینا ہمارے حق میں بہتر نہیں ہے۔۔۔۔!!! کالیا نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
ٹائیگر ابھی بھی نور کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
معصومیت کی دکان میری شہزادی میں تجھے لینے آرہا ہوں۔۔۔۔!!!! ٹائیگر نے نور کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
💖————💖
نور نے اےڈی کے ساتھ مل کر پورا پلازہ دیکھا تھا جو اسے بہت پسند آیا تھا۔۔۔۔
میں نے آپ کا گھر دیکھ لیا ہے اب آپ مجھے گھر جانے دیں۔۔۔۔ آپ کیوں مجھے میرے گھر جانے نہیں دے رہے۔۔۔؟؟؟ آخر تھک ہار کر نور نے اےڈی سے پوچھا۔۔۔۔
میں تمھیں پہلے بھی بتا چکا ہوں سنو وائٹ اب تم یہاں سے کہی نہیں جاسکتی۔۔۔۔ اب تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی۔۔۔۔ میری بیوی بن کر۔۔۔!!! اےڈی نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بیوی۔۔۔؟؟؟ آپ کا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔؟؟؟ میں آپ سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔!!!
اور میں کیوں کرو آپ سے شادی۔۔۔۔؟ نور نے اےڈی کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نور وہ واحد لڑکی تھی جو اےڈی سے اس طرح بات کر رہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اےڈی ایسا چاہتا تھا کہ نور کا جیسے دل چاہے اس سے بات کرے۔۔۔۔
اور تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔؟؟
اےڈی نے اپنے سینے ہر ہاتھ باندھتے ہوۓ نور کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
کیونکہ یہ حق تو ماں باپ کا ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ جہاں مرضی چاہے میرا نکاح کرے۔۔۔۔ اور میں اپنے پاپا کے بغیر کبھی بھی کسی سے بھی نکاح نہیں کروں گی۔۔۔۔۔!!! نور نے کہا۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے ہم لوگ نکاح کر لیتے ہیں۔۔۔ پھر تمہارے پاپا کے سامنے بھی کر لے گے۔۔۔۔!!! اےڈی نے حل بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا مجھے گھر جانا ہے
آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔۔!!!! نور نے غصے میں چلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
سنو وائٹ اگر میں تمہارے ساتھ پیار سے بات کررہا ہوں تو اس بات کا فائدہ نا اٹھاؤ۔۔۔۔ ورنہ بہت برا پیش آؤ گا۔۔۔۔!!! اےڈی نے ایک ایک لفظ چباکر کہا۔۔۔۔
اور ہاں تیار رہنا آج ہمارا نکاح ہے اور جہاں تک بات ہے زبردستی کی تو میں تمہارے ساتھ زبردستی بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔ کیونکہ اب تمہارا مجھ سے پیچھا چھڑوانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔۔۔۔!!!
اے ڈی نے کہا اور نور کو وہی چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔