Ishq Ki Khatir By Rimsha Hayat Readelle50137 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
معاذ نے دروازہ کھولا تو سامنے بلال کھڑا تھا اور اس نے گود میں اپنی بیٹی کو بھی اُٹھایا ہوا تھا۔۔۔۔
آپ کون۔۔۔۔؟
معاذ نے سامنے کھڑے بلال سے پوچھا۔۔۔
میں زوبیا سے ملنے آیا ہوں میں اس کا کزن ہوں اور فرینڈ بھی ہوں۔۔۔۔!!!بلال نے سنجیدگی سے معاذ کو کہا۔۔۔
معاذ حیران کھڑا تھا کیونکہ زوبیا کے سارے فرینڈز کو جانتا تھا لیکن سامنے کھڑے انسان کو پہلی بار دیکھ رہا تھا اور کبھی زوبیا نے اپنے کسی کزن کا بتایا بھی نہیں تھا۔۔۔۔
ویسے آپ کون ہیں۔۔۔۔؟ بلال نے معاذ سے پوچھا۔۔۔
میں زوبیا کا شوہر ہوں ہمارا تھوڑی دیر پہلے نکاح ہوا ہے۔۔۔۔!!!معاذ نے کہا۔۔۔
معاذ کی بات سن کر بلال کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔
کیا میں اندر آسکتا ہوں۔۔۔۔؟؟بلال نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ کہا۔۔۔
معاذ نے بلال کو اندر آنے کا راستہ دیا تھا اتنے میں زوبیا بھی وہاں آگئ تھی۔۔۔۔
بلال اور اس کی گود میں بچی کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا بلال کی شکل دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اسے زوبیا کے نکاح کا معلوم ہو گیا ہے۔۔۔۔
زوبیا کو دلہن کے جوڑے میں دیکھ کر بلال کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو تمہیں زوبیا لیکن مجھے تو تم نے اپنی شادی کا بتایا ہی نہیں کم از کم میں تمھاری بیٹی کو ہی لے آتا وہ اپنی ماں کی شادی میں شامل ہو جاتی۔۔۔۔!!!
بلال نے زوبیا کے پاس کھڑے ہوتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم۔۔۔۔؟؟؟
معاذ نے غصے سے دھاڑتے ہوۓ بلال کا رخ خود کی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
یہ تو تم اپنی بیوی سے پوچھو جو پیسوں کی خاطر کسی بھی مرد کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار جاتی ہے۔۔۔۔!!!
بلال نے معاذ کے غصے کی پرواہ کیے بغیر کہا تھا۔۔۔۔
تم میری بیوی پر الزام لگا رہے ہو مسٹر وہ ایسی بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔!!!
معاذ نے کہا غصے کی زیادتی سے اس کی آنکھیں اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
تم سے زیادہ میں اسے جانتا ہوں معاذ میری کزن ہونے کے ساتھ یہ میری بیٹی کی ماں بھی ہے۔۔۔۔ ہم دونوں کی ملاقات لندن میں ہوئی تھی جب اس نے مجھے اپنے پیار کے جال میں پھنسایا تھا۔۔۔۔ یہ لڑکی جس مرد کے پاس پیسہ دیکھتی ہے اس کے پاس چلی جاتی ہے۔۔۔۔!!!
میرا جب سارا بزنس ڈوب گیا تو یہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی اب مجھے سمجھ آرہی ہے یہ پاکستان دوبارہ اس لیے آئی کیونکہ تمہیں یہ اپنے جال میں پھانس چکی تھی۔۔۔۔!!!
بلال نے معاذ کو حقیقت سے روشناس کراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
زوبیا آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کیا ثبوت ہے تمھارے پاس۔۔۔۔؟ معاذ نے تحمل سے پوچھا۔۔۔۔
اسے زوبیا نے بتایا تھا کہ وہ چار سال کے لیے لندن پڑھنے کے لے جارہی ہے۔۔۔۔
ثبوت ابھی منگواتا ہوں بلال نے کہا اور اپنے دوست کو کال کرکے ثبوت منگواۓ تھے۔۔۔۔ زوبیا تھوڑی دیر بعد ہوش میں آئی تھی۔۔۔۔
معاذ یہ جھوٹ بول رہا ہے میں اسے نہیں جانتی اور تم نکالو اسے گھر سے تم نےا سے گھر میں داخل کیوں ہونے دیا۔۔۔۔!!! زوبیا نے معاذ کو کہا تھا۔۔۔
زوبیا اس نے تم پر الزام لگایا ہے میں بھی تو دیکھوں کیا ثبوت ہے ا سکے پاس مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے اس لیے بے فکر رہو۔۔۔۔!!! معاذ نے پیار سے زوبیا کو کہا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد بلال کا دوست ثبوت لے آیا تھا جس میں بلال کی زوبیا کے ساتھ بہت سی تصاویر تھیں اور ڈی این اے رپورٹ بھی تھی جس میں صاف لکھا تھا کہ بلال کی گود میں جو بچی ہے وہ زوبیا اور بلال دونوں کی تھی۔۔۔۔ اور جس ہوسپٹل میں زوبیا اپنا چیک اپ کرواتی تھی ان سب کی رپورٹ بھی موجود تھی اور وہ بھی تاریخ کے ساتھ۔۔۔۔
جیسے جیسے معاذ تمام رپورٹ کو دیکھتا جا رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوتے جا رہے تھے بلال اور زوبیا کی تصویریں جن میں دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈال کر کھڑے تھے۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے زوبیا تم اب بھی کہو گی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
معاذ نے تصاویر کو زوبیا کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے غصے میں پوچھا اس کا چہرہ سرخ ماتھے کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں اور جبڑے تنے ہوئے تھے۔۔۔۔ زوبیا نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا جب معاذ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے منع کیا تھا۔۔۔۔۔
مجھے آج خود پر افسوس ہو رہا ہے میں نے ایک ایسی لڑکی سے محبت کی جسے محبت کی میم کا مطلب بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔۔!!
تم نے مجھے اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے تمھاری ایک بیٹی ہے جسے چھوڑ کر تم مجھ سے شادی کر رہی تھی۔۔۔۔ تمھاری جیسی بےشرم لڑکی کبھی بھی میری بیوی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔!!!
معاذ نے زوبیا کی طرف دیکھتے ہوئے بے بسی سے کہا زوبیا نے معاذ کا ہاتھ پکڑنا چاہا جب معاذ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔۔۔۔
خبر دار اگر تم نے مجھے ہاتھ لگا تو۔۔۔۔!!! معاذ نے دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
زوبیا معاذ کی دھاڈ سن کر ڈر گئ تھی اس نے معاذ کو اتنا غصے میں آج سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
معاذ پلیز ایک بار میری بات سن لو۔۔۔۔!! زوبیا نے روتے ہوئے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
وہ تمھاری بیٹی ہے۔۔۔۔؟ ہاں یا ناں میں مجھے جواب چاہیے زوبیا۔۔۔۔؟؟؟
معاذ نے زوبیا کی بات سن کر سخت لہجے میں اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔
معاذ۔۔۔۔!!!
زوبیا نے کچھ کہنا چاہا جب معاذ نے زوبیا کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا اور اسے کی آنکھوں میں اپنی سرد گہری کالی آنکھیں گاڑھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
مجھے ہاں یا ناں میں جواب چاہیے۔۔۔۔؟؟
معاذ نے زوبیا کے دونوں بازوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ زوبیا کو معاذ کی انگلیاں اپنی بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔ زوبیا نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
اور یہ دیکھ کر معاذ نے اپنی گرفت زوبیا کی بازو پر ہلکی کر دی تھی اور زوبیا کو چھوڑ کر پیچھے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اب کچھ باقی نہیں رہا تھا زوبیا نے خود یہ بات تسلیم کی تھی کہ بلال کی گود میں جو بچی ہے وہ اس کی اپنی بچی ہے۔۔۔۔
اس وقت اس کی آنکھیں کسی بھی جزبے سے پاک تھی جن میں تھوڑی دیر پہلے غصہ اور نفرت تھی اب وہاں پر صرف سرد پن نظر آرہا تھا۔۔۔۔ زوبیا کو اس وقت معاذ اجنبی سا لگا تھا۔۔۔۔
زوبیا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔!!! معاذ نے یہی بات دو بار مزید دہرائی تھی۔۔۔۔
زوبیا بت بنی کھڑی تھی اس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے۔۔۔ بلال بھی خاموش کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اگر آج کے بعد تم میری نظروں کے سامنے آئی تو اپنے ہاتھوں سے تمھاری جان لے لوں گا۔۔۔۔!!!
معاذ نے ایک ایک لفظ زوبیا کو ذہن نشین کرواتے ہوئے کہا اور پھر گھر سے نکل گیا۔۔۔
بلال نے ملامت بھری نظروں سے زوبیا کو دیکھا تھا۔۔۔۔
میں یہاں اس لیے آیا تھا کہ تمہیں منا سکوں لیکن تم جیسی لڑکیاں کبھی بھی گھر نہیں بسا سکتی اور اب تو میں ہرگز ایسا نہیں چاہوں گا کہ تم جسی لڑکی میری بیٹی کی پرورش کرے آج سے میری بیٹی سے تمھارا کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔۔!!
بلال نے کہا اور وہ بھی گھر سے نکل گیا تھا زوبیا وہی اکیلی کھڑی رہ گئ تھی۔۔۔۔
کچھ ہی وقت میں کیا سے کیا ہو گیا تھا تھوڑی دیر پہلے اسے لگ رہا تھا اسے سب کچھ مل گیا ہے لیکن اب اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
💖————💖
تمہیں کچھ کام تھا مجھ سے ٹائیگر۔۔۔۔؟؟؟
بیسٹ نے اپنے سامنے بیٹھے ٹائیگر سے پوچھا۔۔۔
اےڈی چاہتا ہے کہ بیسٹ کی جان لینے میں اس کی مدد کروں۔۔۔!!! ٹائیگر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ٹائیگر کی بات سن کر بیسٹ ہنس پڑا تھا۔۔۔
ایک اےڈی ہی نہیں ہے جو بیسٹ کو مارنا چاہتا ہے اور بھی کافی لوگ لائن میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔!!! بیسٹ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
جانتا ہوں لیکن اب میرے کو لگا رہا ہے وہ کچھ ایسا ضرور کرے گا جس وجہ سے میرے کو اےڈی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے گے۔۔۔۔!!ٹائیگر نے کہا تھا۔۔۔
ٹائیگر تمھارے دل کے زیادہ قریب کون ہے۔۔۔۔؟؟؟ کون تمھارا دل عزیز رشتہ ہے۔۔۔۔؟؟؟ جیسے تم خود سے بھی زیادہ چاہتے ہو۔۔۔۔؟؟؟ بیسٹ نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
بیسٹ کا سوال سن کر ایک پل کے لیے ٹائیگر نے بیسٹ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔ جو ٹائیگر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کالیا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے صرف ایک لفظ زبان سے ادا کیا تھا۔۔۔۔
وہ کالیا کو اغوا کرے گا تاکہ تمہیں اپنے ساتھ کام کرنے پر فورس کر سکے کیونکہ کالیا کے علاوہ تمھاری کوئی اور کمزوری نہیں ہے جس پر وہ وار کرسکتا اس لیے کالیا کو کہو سنبھل کر رہے۔۔۔۔!!!
بیسٹ نے سگریٹ کا گہرا کشش لیتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
یہ بات میرے بھیجے میں کیوں نہیں آئی۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے اپنا سر کھجاتے ہوۓ سوچا۔۔۔
دماغ میں آنے کے لیے دماغ کا ہونا ضروری ہے ٹائیگر اس لیے زیادہ نا سوچو۔۔۔۔!!بیسٹ نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
ٹائیگر نے حیرانگی سے بیسٹ کی طرف دیکھا تھا جیسے سوچ رہا ہو کہ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔۔۔۔!!!
تم اگر چاہتے تو اےڈی سے ہاتھ ملا سکتے تھے کیونکہ اگر تم کوئی ایسا کام کرتے ہو جو مجھے پسند نہیں آتا تو میں تمہیں ختم کرنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کروں گا پھر تم میری مدد کیوں کر رہے ہو۔۔۔۔!!!
بیسٹ نے ٹائیگر کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
آج ٹائیگر کو اس بات پر یقین آگیا تھا کہ کیوں سارے کہتے ہیں کہ بیسٹ بہت چلاک اور شاطر انسان ہے کیونکہ بیسٹ اپنی نظروں سے ہی اگلے انسان کے اندر تک جھانک لیتا ہے۔۔۔۔!!
اف سارے یہی سوال کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے دل میں سوچا۔۔۔۔
کیونکہ میرا بیسٹ سے کوئی پنگا نہیں ہے اور نا ہی میں بیسٹ سے کوئی پنگا لینا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ٹائیگر کی بات سن کر بیسٹ کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔۔۔
بہت اچھا سوچتے ہو تم ٹائیگر۔۔۔۔!!! بیسٹ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
ابھی مجھے ایک بہت ضروری کام سے جانا ہے ورنہ تم سے کچھ دیر اور ضرور بات کرتا۔۔۔۔!!! بیسٹ نے اپنا کوٹ پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کوئی نہیں بس جاتے ہوۓ میرے کو ایک بات بتاتے جاؤ۔۔۔۔؟؟ ٹائیگر نے بیسٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بیسٹ نے مڑ کر ٹائیگر کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو۔۔۔۔
کیا جاننا چاہتے ہو۔۔۔۔؟؟؟
وہ آپ ابھی تک اتنے ینگ کیسے ہو۔۔۔۔۔؟؟؟؟ ٹائیگر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
بیسٹ تھوڑی دیر کھڑا ٹائیگر کو گھورتا رہا تھا اور پھر بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
لگتا ہے بیسٹ کا یہ سیکرٹ ہو گا جو میں نے پوچھ لیا۔۔۔۔!!!
ٹائیگر نے خود سے اندازے لگاتے ہوۓ کہا اور وہاں سے جانے لگا جب اسے احد اور زین اند آتے ہوۓ نظر آۓ تھے۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟؟ زین نے ٹائیگر سے پوچھا۔۔۔۔
اپنی شادی کا کارڈ دینے آیا تھا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا زمانہ آگیا ہے کیسے کیسے لوگوں کی شادی ہو رہی ہے۔۔۔۔ ویسے تمہیں لڑکی دے کس نے دی کہی وہ لڑکی اندھی تو نہیں۔۔۔۔؟؟؟
احد نے پہلے افسوس کرنے والے انداز میں پھر حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
اندھی ہونے کے ساتھ ساتھ گونگی اور بہری بھی ہے۔۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے گونگی اور بہری پر زور دیتے چباکر کہا۔۔۔۔
پھر بھی مجھے اس لڑکی کی قسمت پر افسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔ اللہ اسے صبر دے اور تمھارے ساتھ رہنے کی ہمت دے آمین۔۔۔۔!!! احد نے دکھی انداز میں کہا۔۔۔۔۔
زین اپنی ہنسی کنٹرول کیے کھڑا تھا۔۔۔
ٹائیگر کھا جانے والی نظروں سے احد کو گھور رہتا ہوا وہاں سے ہی چلا گیا تھا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی زین کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
شہزادی میں تیرا کب سے انتظار کر رہا ہوں کدھر تھی تو۔۔۔۔؟؟؟
ٹائیگر نے نور کے کان کے پاس آہستہ آواز میں شرگوشی نما کہا۔۔۔
نور اپنے بے حد قریب ٹائیگر کی آواز سن کر ڈر کر ایک دم اُچھل پڑی تھی۔۔۔۔ اور اپنے دل پر ہاتھ رکھے ٹائیگر کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔
ایسے نا تو میرے کو دیکھ شہزادی سینے سے لگا لوں گا۔۔۔۔!!
ٹائیگر نے لوفرانہ انداز میں گانے کو اپنے مطابق گاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نور بنا کچھ بولے بیڈ پر جاکر بیٹھ گئ تھی کیونکہ پوچھنا بے کار تھا کہ تم یہاں کیوں آۓ ہو۔۔۔۔؟ آگے سے جواب الٹا ہی آنا تھا۔۔۔۔
شہزادی تو خوش نہیں ہے میرے کو دیکھ کر۔۔۔۔؟؟ ٹائیگر نے نور کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
میں تمہیں دیکھ کر کیوں خوش ہو نگی۔۔۔۔؟؟؟ نور نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
کیونکہ میں ٹائیگر ہوں اس لیے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے مسکرا کر کیا۔۔۔۔
کس اینگل سے۔۔۔۔؟؟؟ نور نے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
دونوں باپ بیٹی بھگو بھگو کے مارتےہے۔۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر تم یہاں کیا کرنے آۓ ہو مجھے نماز پڑھنی ہے تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!! نور نے ٹائیگر کو کہا۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میرے لیے دعا کرنا کہ میرے کو وہ لڑکی مل جائے جائے جس کو میں پسند کرتا ہوں کرےگی نا دعا۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے اپنی ڈیمانڈ بتانے کے بعد پوچھا۔۔۔۔
ہاں کروں گی اب جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!! نور نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔۔
کس نے کہا میں جارہا ہوں تم نماز پڑھ لوں تب تک میں تیرے لیے اچھی سی بریانی بناتا ہوں تیرے کو بہت پسند آۓ گی۔۔۔۔!!!
ٹائیگر اپنی بات مکمل کر کے کمرے سے نکل گیا نور ابھی بھی منہ کھولے دروازے کو دیکھ تک رہی تھی جہاں سے ٹائیگر باہر گیا تھا۔۔۔۔
بات تو ایسے کر رہا ہے جیسے اس کا اپنا گھر ہے اگر وہ کھڑوس آگیا نا تو اسے تو جان سے مار دے گا۔۔۔۔!!!
نور نے پریشانی سے سوچا اور وضو کرنے چلی گئی۔۔۔
