Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

سر وانیا میڈم کا کسی نے قتل کر دیا ہے ان کے گھر سے ہمیں ان کی لاش ملی ہے۔۔۔۔!!!
اےڈی کے آدمی نے مودبانہ انداز میں کہا جو ابھی ہسپتال سے سے واپس آیا تھا۔۔۔۔
وانیا کی موت کی خبر سن کر ایک پل کے لیے اےڈی کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے جو صرف ایک پل کے لیے ہی تبدیل ہوئے تھے اس کے بعد اس کا چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔
پتہ لگاؤ یہ کس کا کام ہے۔۔۔۔؟
اےڈی نے کرخت لہجے میں کہنے کے بعد اپنے باپ کا نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگایا۔۔۔
آپ کی بیٹی کا قتل ہو گیا ہے وانیا کے گھر سے اس کی لاش لے جائے اور اےڈی پلازہ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!!!
اےڈی نے بنا سلام دعا کے نومی کو وانیا کا بتایا اور اپنے باپ کی بات سنے بنا فون بند کر دیا۔۔۔
میری بات نا ماننے کی سزا تم دونوں کو ملی ہے جو کچھ تم دونوں کے ساتھ ہوا ہے اس کے ذمہ دار تم لوگ خود ہو۔۔۔۔!!!
اےڈی نے اپنے خیال میں وانیا اور عباس کا چہرہ لاتے ہوئے کہا اور چلتے ہوئے کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا اور باہر چلی گاڑیوں کو دیکھنے لگا اےڈی کے کمرے سے سڑک صاف دکھائی دیتی تھی اےڈی کو یہ منظر کافی دلچسپ لگتا تھا۔۔۔۔
ہمیشہ سے ہی اےڈی اپنے بھائی اور بہن کے زیادہ قریب نہیں تھا ان کے ہونے یا نا ہونے سے اےڈی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔
لیکن ان کی ضرورتوں کا خیال اےڈی ہی رکھتا تھا
وانیا اور عباس کو پیسوں سے مطلب تھا اےڈی کی بدولت ان کی ساری ضرورتیں پوری ہو رہی تھیں اےڈی لاسٹ ٹائم دونوں سے پانچ سال پہلے ملا تھا اور کبھی کبھار فون پر بھی ان سے بات ہو جاتی تھی۔۔۔۔
اےڈی نے سگریٹ سلگایا اور سامنے سڑک پر چلتی گاڑیوں کے منظر میں کھو گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
زوبیا تم کیا کرنے والی ہو مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر ہم پکڑے گئے تو۔۔۔۔؟
زوبیا کی فرینڈ نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تم کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔۔!!! زوبیا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
پھر بھی تم ایک بار سوچ لوں اگر معاذ نے معلوم کروا لیا تو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔!!! زوبیا کی فرینڈ نے کہا۔۔۔
تمہیں جو میں نے کہا ہے وہ کروں آگے میں سنبھال لوں گی رات تک مجھے ساری رپورٹ چاہیے۔۔۔۔!!!
زوبیا نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
💖————💖
زید اور برہان کبیر کو اسی فلیٹ میں لے آئے تھے جہاں پہلے سے ہی اسد بیٹھا تھا۔۔۔
کبیر کی حالت دیکھ کر اسے زرا بھی افسوس نہیں ہوا تھا اس کے خیال سے جو کچھ کبیر نے کیا ہے اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔
کمینمے مدد کر میری دیوداس بنا بیٹھا ہے۔۔۔۔!!!
برہان نے چیختے ہوئے کہا جو کبیر کو سنبھالنے کے چکر میں ہلکان ہو رہا تھا۔۔۔ زید کو ایک ضروری کام تھا اس لیے وہ دونوں کو باہر کی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔
اسد اور برہان دونوں نے کبیر کو صوفے پر ہی بیٹھا دیا تھا جو لیٹنے والے انداز میں صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
ایک آنکھ تو سوجھی ہوئی تھی اور بند تھی اور دوسری کو اس نے خود بند کر لیا تھا برہان نے ڈاکٹر کو فون کیا جو کبیر کی مرہم پٹی کر کے چلا گیا تھا۔۔۔۔
کبیر اس وقت اپنے روم میں آرام کر رہا تھا اسد اور برہان دونوں باہر تھے برہان اسد کے کان کھا رہا تھا جو اپنے خیالوں میں گم تھا۔۔۔۔
تجھے کیا ہوا ہے تیرا کیوں منہ لٹکا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟؟
برہان نے مزے سے پوچھا جبکہ تھوڑی تھوڑی بات تو اسے بھی سمجھ میں آگئ تھی اسد نے گھورنے پر ہی اکتفا کیا تھا۔۔۔
چل یہ ہی بتا دے کتنے تھپڑ پڑے ہیں بھابی سے۔۔۔۔؟؟؟
برہان نے جوس کے گلاس کو لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا تو اسد نے حیرانگی سے برہان کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
تجھے کیسے معلوم ہوا۔۔۔۔؟ اسد نے بے یقینی کے عالم میں پوچھا۔۔۔
اس کا مطلب تمہیں سچ میں تھپڑ پڑے ہیں واہ کیا بات ہے لیکن تجھے کتنے تھپڑ پڑے ہیں یہ میں نہیں بتا سکتا یہ تھوڑا مشکل ہے۔۔۔۔!!! برہان نے اپنی ڈاڑھی کھجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تمھارے اندازے تو ایک دم ٹھیک ہوتے ہیں برہان۔۔۔۔!!! اسد نے دانت پیستے ہوئے اس کی گردن کو دبوچتے کہا۔۔۔۔
یار تیری شکل دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا ہےمجھے کیا پتہ تو سچ میں اپنی بیوی کے ہاتھوں ذلیل پلس مار کھا کر آیا ہے۔۔۔۔!!! برہان نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
لیکن اس بار بھی غلط بول گیا تھا جس کا احساس اسے بعد میں ہوا تھا۔۔۔
مار نہیں صرف دو تھپڑ۔۔۔۔!!! اسد نے برہان کی بات کی درستگی کرتے گھور کر کہا۔۔۔
ہاہاہاہا یار کون مان سکتا ہے کہ تو ہی کالیا ہے بیوی کے سامنے جاتے ہی بھیگی بلی بن جاتا ہے۔۔۔۔!!!!
برہان نے ہنستے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا اس کی زبان پر کھجلی ہو رہی تھی اور اپنی عادت سے مجبور اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
برہان تمہیں آج میرے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔!!! اسد نے برہان کی بازو کو مروڑتے ہوئے کہا۔۔۔
اوئے موٹے میری بازو ٹوٹ جائے گی یار میں ایک بازو کے ساتھ بلکل بھی اچھا نہیں لگوں گا میرے سے تو کوئی لڑکی پھر شادی ہی نہیں کر گی میں کنوارہ رہ جاؤں گا۔۔۔۔!!! برہان نے چیختے ہوئے کہا۔۔۔
تجھے تو آج میں لنگڑا بھی کر دوں گا تو فکر مت کر۔۔۔۔!!!
اسد نے کہا جبکہ برہان کی بے تکی باتیں اسے ہنسنے پر مجبور کر رہی تھیں اسد نے برہان کا بازو چھوڑا اور اسے گلے لگایا۔۔۔
تو نہیں جانتا میں نے کتنا تیری ان فضولیات کو مس کیا یار میں تیرے واپس آنے پر بہت خوش ہوں۔۔۔۔!!! اسد نے غمگین لہجے میں برہان کی پشت کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔
اگر تیرا ارادہ مجھے سیڈ کرنے کا تھا تو دیکھ میں بلکل بھی اداس نہیں ہوا۔۔۔۔!!! برہان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
اسد برہان کی بات سن کر ہنس پڑا تھا۔۔۔۔
💖————💖
بڑے پاپا مجھےآپ سے بات کرنی ہے آپ فری ہیں۔۔۔۔؟
حجاب نے میر سے پوچھا جو کتاب پڑھ رہا تھا۔۔۔
اپنی پرنسز کے لیے میرے پاس ٹائم ہی ٹائم ہے۔۔۔۔!!!
میر نے کتاب کو بند کرتے مسکرا کر کہا حجاب مسکرا کر میر کے سامنے بیٹھ گئ۔۔۔۔
بیٹا جی آپ پریشان ہو جو بھی بات کرنی ہے بلا جھجھک کرو۔۔۔۔!!! میر نے حجاب کو کنفیوز دیکھا تو پیار سے کہا۔۔۔
بڑے پاپا مجھے نا آپ سے اسد کی شکایت لگانی ہے۔۔۔۔!!!
حجاب نے آنکھیں بند کر کے جلدی سے بول دیا اسے خود بھی اپنی بات بچکانہ لگی تھی لیکن کیا کرتی اسد سے بدلہ بھی تو لینا تھا اس کی بات سن کر میر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ۔۔۔۔
حجاب کو جب بھی اسد کی شکایت کرنی ہوتی وہ ایسے ہی میر سے کہتی تھی اور میر پھر حجاب کے سامنے اسد کو ڈانٹتا اور حجاب خوش ہو جاتی تھی۔۔۔
اسد نے اس بار کیا کیا ہے۔۔۔۔؟ میر نے ہنسی دبا کر پوچھا۔۔۔
بڑے پاپا انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا ہے آپ کو معلوم ہے ان کی ایک گرل فرینڈ بھی ہے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دونوں کو ساتھ دیکھا ہے۔۔۔۔!!!
حجاب نے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور وہ مجھے بہت ڈانٹتے بھی ہے اور اب انہوں نے مجھے کہا ہے کہ وہ دوسری شادی بھی کرے گے۔۔۔۔!!!
حجاب نے اپنی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاتے ہوئے معصومیت سے کہا۔۔۔
حجاب آپ جانتی ہو نا آپ کے بڑے پاپا آپ کی پیاری پیاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے
رونا بلکل بھی نہیں ہے اور میں آپ کے سامنے اسد سے بات کروں گا آپ ٹینشن نا لو۔۔۔۔!!! میر نے پیار سے حجاب کو کہا۔۔۔
سچی بڑے پاپا۔۔۔۔؟؟ حجاب نے خوشی سے کہا۔۔۔
بلکل بس اس گدھے کو گھر آنے دو پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔!!! میر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
بڑے پاپا آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔!!! حجاب نے ہنس کر کہا۔۔۔
میر جانتا تھا کہ یقیناً اسد بھی کالیا بن کر حجاب سے ملا ہو گا اور اسے تنگ کرتا ہو گا
حجاب اب اپنے پسندیدہ کام کو سرانجام دے رہی تھی یقینی باتیں کرنا۔۔۔
اور میر مسکرا کر حجاب کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔
💖————💖
سحر اریبہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی دونوں باتیں کر رہی تھیں احمد ٹی-وی دیکھ رہا تھا۔۔۔
بی بی جی کوئی لڑکی آئی ہے وہ کہہ رہی ہے آپ سے ملنا ہے۔۔۔۔!!! ملازمہ نے اریبہ کو کہا۔۔۔
اسے لے اندر لے آؤ۔۔۔۔!!!
اریبہ نے ملازمہ کو کہاملازمہ وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
بیگم صاحبہ پوچھ تو لیتی کون ہے وہ لڑکی اگر وہ چورنی نکلی تو کیا کریں گی آپ آجکل کا زمانہ بہت خراب ہے۔۔۔۔!!! احمد نے سنجیدگی سے اریبہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
جی بلکل اس نے ہمارے گھر ہی تو چوری کرنے آنا ہے ہمارا گھر تو بہت پیچھے ہے پہلے آہل بھائی کا بنگلہ آتا ہے اس کے بعد علی بھائی کا گھر آتا ہے لیکن چور نے تو ہمارے گھر ہی آنا ہے اور ویسے بھی میر بھائی نے سیکیورٹی بہت سخت رکھی ہوئی ہے ان کی اجازت کے بغیر یہاں کوئی چور نہیں آسکتا۔۔۔۔!!!
اریبہ مزید بھی کچھ بول رہی تھی لیکن احمد بات کرکے پچھتایا تھا اس نے خود کو کوسا کیوں اس نے اریبہ کو چھیڑا اریبہ کی باتیں اس وقت تک بند نہیں ہونی تھی جب تک وہ لڑکی اندر نا آجاتی۔۔۔
سحر کو احمد کی شکل دیکھ کر ہنسی آرہی تھی
سحر نے جب ملازمہ کے ساتھ آتی زوبیا کو دیکھا تو تو اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
بیٹا کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟ آریبہ نے سحر کو اچھلتے ہوئے دیکھا تو حیرانگی سے پوچھا اتنے میں زوبیا بھی وہاں آگئی۔۔۔۔۔
زوبیہ اس وقت کالے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس تھی زوبیا نے اریبہ اور احمد کو سلام کیا سحر کو دیکھ کر زوبیا بھی ایک پل کے لیے حیران ہوئی تھی اسے سمجھنے میں ایک سیکنڈ لگا کہ سامنے کھڑی لڑکی ہی معاذ کی بیوی ہے جو اسے مال میں ملی تھی۔۔۔۔
تم سے دوبارہ مل کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔۔!!! زوبیا نے اپنا ہاتھ سحر کے کی طرف بڑھاتے ہوئے خوش اخلاقی سے کہا۔۔۔۔
لیکن مجھے تمہیں دیکھ کر زرا سی بھی خوشی نہیں ہوئی۔۔۔۔!!!
سحر نے سچ گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا اور احمد کے پاس جا کر کھڑی ہوگئ زوبیا نے شرمندگی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔
اریبہ اور احمد کے چہرے پر ناسمجھی سے زوبیا کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
آنٹی انکل میں آپ کے بیٹے کی گرل فرینڈ ہوں۔۔۔۔!!!
زوبیا نے اریبہ اور احمد کے چہروں پر نا سمجھی کے تاثرات دیکھے تو اپنا تعارف کروانا بہتر سمجھا۔۔۔۔
معاذ اور میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ہم دونوں کا نکاح بھی ہو گیا تھا لیکن اس نے آپ لوگوں کی وجہ سے مجھے طلاق دے دی کیونکہ وہ میری وجہ سے لوگوں کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔!!!
بات کرتے ہوئے زوبیا بھر پور ایکٹنگ کر رہی تھی اور آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسو لیے اریبہ کو دیکھ رہی تھی اس کی آواز بھی روند گئ تھی وہاں کھڑے تینوں نفوس اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہے تھے اور اس کی بات پر یقین کرنا تینوں کے لیے مشکل تھا۔۔۔۔
میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اور میں معاذ کے بچے کی ماں بھی بننے والی ہوں میں اس حالت میں کہاں جاؤ گی اس لیے میں آپ لوگوں کے پاس آئی ہوں۔۔۔۔ معاذ نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا اور مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔!!!
زوبیا نے روتے ہوئے کہا سحر نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی کو روکا تھا اس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
زوبیا اور معاذ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور اس بات پر مہر معاذ نے خود لگائی تھی تو بچہ۔۔۔۔؟ معاذ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔؟؟
سحر کے دماغ میں طرح طرح کے سوال اٹھ رہے تھے لیکن جواب کسی ایک سوال کا بھی نہیں تھا
آنسو بے اختیار اس کی آنکھوں سے بہہ کر زمین پر گر رہے تھے۔۔۔
کیا ثبوت یے تمھارے پاس ہم کیوں تمھاری بات پر یقین کریں۔۔۔؟
اریبہ نے زوبیا سے پوچھا جس نے اپنی رپورٹ اور کچھ تصاویر جو معاذ اور اس کی تھیں اریبہ کی طرف بڑھائی تھیں رپورٹ کو احمد پڑھنے لگا تھا اور تصاویر ایسی تھیں جیسے دیکھ کر اریبہ کی آنکھیں پھٹ پڑی تھیں۔۔۔۔
رپورٹ صاف بتا رہی تھی جو کچھ زوبیا نے کہا ہے وہ سچ ہے اور نکاح نامہ دیکھنے کے بعد تو احمد کو اپنے سینے میں درد سا اٹھتا ہوا محسوس ہوا اس نے معاذ کی تربیت ایسی تو ہرگز نہیں کی تھی احمد وہی صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
آنٹی میں اب چلتی ہوں اگر معاذ نے مجھے یہاں دیکھ لیا تو اسے برا لگے گا اور میں نہیں چاہتی میری وجہ سے وہ پریشان ہو۔۔۔۔!!!
زوبیا نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے غمگین لہجے میں کہا اور وہاں سے چلی گئ گھر سے باہر نکل کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
اب تم کیا کرو گئے معاذ احمد اگر میں خوش نہیں ہوں تو تمہیں بھی خوش نہیں رہنے دوں گی۔۔۔۔!!! زوبیا نے نفرت سے سوچا۔۔۔۔
اریبہ بھی احمد کے پاس ہی بیٹھ گئ تھی اور خود کو قصور وار سمجھ رہی تھی اسی نے معاذ کو سحر کے ساتھ شادی کرنے کا کہا تھا اور اپنی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔۔
سحر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی وہ مزید یہاں کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔
چھوٹے چاچو کیا ہوا ہے آپ دونوں کو۔۔۔؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے اسد جو معاذ سے ملنے آیا تھا ان دونوں کو ایسے دیکھ پوچھنے لگا۔۔۔
چھوٹے چاچو آپ کو معاذ پر بھروسہ ہونا چاہیے وہ کبھی بھی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے آپ کا سر جھک جائے ہمیں تصویر کا ایک رخ دیکھایا جا رہا ہے آپ ٹینشن نا لیں میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔!!!
اسد نے احمد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔
بیٹا سارے ثبوت سامنے ہیں تم ان کو کیسے جھٹلا سکتے ہو۔۔۔۔!!! احمد نے کمزور سے لہجے میں کہا۔۔۔
چاچو ضروری نہیں ہے جو ہمیں دیکھایا جا رہا ہو وہی سچ ہو کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوتا ہے آپ دونوں اپنے بیٹے پر بھروسہ رکھیے آگے اللہ بہتر کرے گا۔۔۔۔!!! اسد نے کہا۔۔
اور گھر سے نکل گیا اس نے سب سے پہلے معاذ کو فون کرکے ملنے کا کہا اسد نکاح نامہ سمیت تصاویر اور رپورٹ بھی اپنے ساتھ لے آیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
عشال اپنی سوچوں میں گم کھڑی تھی برہان کب سے کھڑا عشال کو دیکھ رہا تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ عشال کے رو برو ہو سکے اسے ہمیشہ اس بات کی گلٹ رہتا کہ وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی اسے بچا نہیں سکا تھا۔۔۔
یہاں تک پہنچنے میں برہان کی مدد اسد نے کی تھی اور خود معاذ سے ملنے چلا گیا تھا۔۔۔
برہان نے خود میں ہمت پیدا کی اور کھڑکی کو نوک کیا عشال اپنے خیالوں سے باہر آئی اور آواز کی طرف متوجہ ہوئی جب اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو وہاں برہان کھڑا تھا۔۔۔
عشال پہلے تو ناسمجھی سے برہان کو دیکھتی رہی جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو سامنے کھڑا انسان کون ہے اسے زیادہ اپنے ذہن پر زور ڈالنا نہیں پڑا تھا۔۔۔ وہ کیسے برہان کو بھول سکتی ہے برہان ہی تو اس کے گھر میں آیا تھا اور اسے اےجے کی درندگی سے بچایا تھا اگر یہ نا آتا تو آگے کی سوچ ہی عشال کی روح فنا کرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔
تم۔۔۔؟ یہاں کیسے۔۔۔؟
عشال کے منہ سے بے ترتیبی الفاظ نکلے تھے برہان ہوش میں ہوتا تو عشال کے سوال کا جواب دیتا۔۔۔۔
ہیلو مسٹر میں تم سے بات کر رہی ہوں تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟ عشال نے اس بار تھوڑا سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔
وہ میں بس تمہیں ایک بار دیکھنا چاہتا تھا بس اب میں جا رہا ہوں۔۔۔۔!!! برہان نے ہوش میں آتے جلدی سے کہا اور کھڑکی سے باہر کودنے لگا۔۔۔۔
روکو۔۔۔۔!!!
عشال کی آواز نے برہان کے چلتے قدموں کو روکا تھا برہان کو خوشگوار حیرت ہوئی اور اس نے مڑ کر عشال کی طرف دیکھا۔۔۔
عشال کو میر پہلے ہی برہان کے بارے میں بتا چکا تھا اور یہ بھی کہ اےڈی نے برہان کو مارنے کی کوشش بھی کی تھی۔۔۔۔
عشال چھوٹے چھوٹے قدم لیتے برہان کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
اگر تم دوبارہ اس طرح میرے روم میں آئے تو ڈیڈ کو بتا دوں گی اور اب جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!! عشال نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ظالم لڑکی۔۔۔۔!!! برہان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
عشال نے اس کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی اور اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آکر غائب ہوئی تھی۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞