Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

بیسٹ کو کون نہیں جانتا جون۔۔۔۔ اےڈی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
سر میں نے سنا ہے وہ کافی خطرناک بندہ ہے۔۔۔۔ جون نے اےڈی کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ خطر ناک نہیں ہے جون۔۔۔ وہ بہت زیادہ خطرناک ہے۔۔۔ اور تم جانتے ہو مجھے خطروں سے کھیلنا کتنا پسند ہے۔۔۔
اےڈی نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
بہت کمال کا انسان ہے لوگوں کے دلوں میں آج بھی اس کا اتنا ہی ڈر ہے جتنا پہلے تھا۔۔۔
اور اب میں چاہتا ہوں لوگ مجھ سے ڈریں بیسٹ سے صرف برے لوگ ڈرتے تھے۔۔۔۔ اور ڈرتے ہیں لیکن مجھ سے معصوم لوگ بھی ڈریں گے۔۔۔ کیونکہ میں بیسٹ نہیں ہوں۔۔۔ میں اےڈی ہوں کرائم کی دنیا کا بادشاہ۔۔۔ میں وہی کرتا ہوں جو میرا دل کرتا ہے۔۔۔
میرے دل میں بیسٹ کی طرح ان معصوم اور فضول لوگوں کے لیے نرم گوشہ بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔ اےڈی نے سفاکی سے کہا۔۔۔
اور ٹائیگر کا آدمی جو تم سے ملا تھا اس آدمی کا کیا بنا۔۔۔۔ اےڈی نے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
سر اب تک تو ٹائیگر اسے مار بھی چکا ہو گا۔۔۔ اور ویسے بھی وہ آدمی ہمارے کسی کام کا نہیں تھا۔۔۔
اسے ٹائیگر کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا
جون نے کہا۔۔۔۔
جون تمہیں کیا لگتا ہے ٹائیگر کس طرح کا انسان ہے۔۔۔۔؟
اےڈی کے دماغ میں پتہ نہیں کیا چل رہا تھا۔۔۔۔ جو اس نے ٹائیگر کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔
سر وہ بہت عجیب قسم کا انسان ہے۔۔۔ تھوڑا کھسکا ہوا۔۔۔ اس کے اپنے رولز ہے جہاں اسے زیادہ پیسہ ملتا ہے۔۔۔۔ اس کے ساتھ کام کرتا ہے۔۔۔ اس کا ایک خاص آدمی ہے کالیا۔۔۔۔ جو ٹائیگر کا دوست بھی ہے۔۔۔۔
اور کالیا کو ٹائیگر کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔۔۔ لیکن کالیا بھی بہت شاطر انسان ہے۔۔۔ مرنا پسند کرے گا لیکن ٹائیگر کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتاۓ گا۔۔۔ اور نا ہی کبھی اس کے خلاف جانے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔
لیکن ٹائیگر کافی کام کا بندہ ہے۔۔۔۔۔ آج تک پولیس اسے گرفتا نہیں کرسکی کیونکہ وہ اپنا کام بہت صفائی سے کرتا ہے جون نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہمممممم پھر تو ملنا پڑے گا۔۔۔ ہمارے بہت کام آسکتا ہے۔۔۔۔ اےڈی نے جون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جیسی آپ کی مرضی سر۔۔۔ جون نے تابعداری سے سر جھکا کر کہا۔۔۔
💖————💖
کبیر تمہارے پاپا کی کال ہے۔۔۔ تمہارا فون بند جارہا تھا۔۔۔ پری نے فون کبیر کی طرف کرتے ہوئے کہا جس نے بیزاریت سے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ احد نے فون کیوں کیا ہے۔۔۔ فون کان سے لگاتے ہی احد کی غصے بھری آواز کبیر کو سنائی دی تھی۔۔۔۔
تم یہ کیا کرتے پھر رہے ہو جو تھوڑی بہت میری لوگوں کی نظر میں عزت ہے اسے بھی خراب کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔؟ احد نے غصے بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
ڈیڈ کیا ہو گیا ہے کس بارے میں بات کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟ اور اب میں نے کیا کردیا ہے۔۔۔۔ احد نے انجان بنتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
واہ میرے شیر۔۔۔ تم نے تو کچھ نہیں کیا میں ہی پاگل ہوں جو فضول میں بولتا رہتا ہوں۔۔۔۔ احد نے کہا۔۔۔
ڈیڈ میں پھر ماما کو بتادیتا ہوں۔۔۔ کبیر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا بتانا ہے۔۔۔۔؟ احد نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔
یہی کہ اب آپ اپنا علاج کرواکر ہی واپس آۓ گے۔۔۔۔ کبیر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
اور احد شوکڈ سا کبھی فون کی طرف دیکھتا تو کبھی زین کی طرف دیکھتا۔۔۔۔ جو خود اپنی ہنسی روکنے میں ناکام ہو رہا تھا کیونکہ فون سپیکر پر تھا۔۔۔
احد نے پہلے زین کو گھور کر دیکھا پھر کبیر سے پوچھا۔۔۔۔
میں نے تمہاری فلم کا ٹریلر دیکھا ہے۔۔۔ احد نے ابھی یہی کہا تھا جب کبیر نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
اووو ڈیڈ ٹریلر آگیا میں اسد اور زید کو بتا دوں پھر آپ سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔ کبیر نے کہا اور فون بند کر دیا۔۔۔۔
کبیر مووی کا ہیرو تھا بھلا اسے کیسے نہیں معلوم ہو گا کہ اس کی مووی کا ٹریلر آگیا ہے بلکہ کبیر کے کہنے پر ہی ٹریلر آج ریلیز ہوا تھا۔۔۔۔
کبیر نے فون اس لیے بند کر دیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ احد نے کیا کہنا ہے۔۔۔۔ اور وہ ایک ہی بات بار بار اپنے باپ کو سمجھا کر تھک گیا تھا۔۔۔۔
احد ابھی بھی فون کو گھور رہا تھا جب زین کی آواز اسے ہوش میں لائی۔۔۔۔
اووو بھائی وہ فون ہے کبیر نہیں ہے زین نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
تم نے دیکھا ہے اس کی مووی کا ٹریلر کتنا بےہودا ہے۔۔۔۔ پتا نہیں اس لڑکے کو کب عقل آۓ گی۔۔۔۔ میر نے اسے زیادہ سر پر چڑھا دیا ہے۔۔۔۔
احد نے بےبسی سے کہا۔۔۔
احد کبیر تمہیں پہلے بھی کافی بار بتا چکا ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرتا جس سے اُسے شرمندہ ہونا پڑے۔۔۔۔
اور ویسے بھی جو کچھ ٹی وی میں دکھایا جاتا ہے وہ ہماری نظروں کا دھوکا ہوتا ہے۔۔۔ ہمیں لگتا ہے وہ کبیر ہے لیکن اس کی جگہ کوئی اور لڑکا ہوتا ہے۔۔۔ جو یہ سب سین کرتا ہے۔۔۔۔
تمہیں اپنے بیٹے پر بھروسہ ہونا چاہیے۔۔۔ اور دوسری بات تمہیں لگتا ہے کہ اب کبیر کسی سے مشورہ لیتا ہو گا۔۔۔۔ چاہے وہ میر ہی کیوں نا ہو۔۔۔۔
کبیر کا زیادہ لگاؤ میر سے ہے وہ میر کو فالو بھی کرتا ہے۔۔۔۔ اس کے جیسا بننا چاہتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ میر کے کہنے پر سب کچھ کرتا ہے۔۔۔۔
کبیر نے اپنی مرضی سے فلم انڈسٹری کو چُوز کیا ہے۔۔۔
کبیر اپنی مرضی کا مالک ہے۔۔۔ اس کا جو دل چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔۔۔ ہم اب اپنے بچو کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔۔ کیونکہ اب وہ بڑے ہوگئے ہیں۔۔۔۔ زین نے احد کو سمجھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
احد بھی بہت غور سے زین کی بات سن رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے اپنے بیٹے پر پورا یقین ہے لیکن مجھے اس کا فلموں میں کام کرنا بلکل بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔
احد کی سوئی ابھی بھی وہی اٹکی ہوئی تھی۔۔۔
تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ زین نے احد کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
معاذ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ پہلے کچھ بننا چاہتا تھا اور یہ بات وہ کافی بار زوبیا کو بتا چکا تھا۔۔۔
لیکن پھر بھی اسے شادی کرنے کی جلدی تھی۔۔۔۔
کچھ ماہ سے ہی زوبیا نے شادی کی جلدی ڈالی ہوئی تھی جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔۔۔
پہلے زوبیا کو بھی شادی کی جلدی نہیں تھی لیکن جب سے وہ لندن سے واپس آئی تھی اس وقت سے اس نے شادی پر زور دینا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
ساری باتیں سوچتے ہوۓ معاذ کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔۔۔۔
لیکن کوئی حل اسے نظر نہیں آیا تھا۔۔۔
💖————💖
ہانی اور کتنی دیر ہے یار مجھے آفس سے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔
عادل ابھی ایک منٹ پہلے ہی تیار ہوکر نیچے آیا تھا اور آتے ہی ہانی کو آوازیں دینے لگ گیا تھا۔۔۔۔
عادل کا ساتھ زید پورا پورا دے رہا تھا کیونکہ وہ بھی کھانے کا شوقین تھا۔۔۔
کب سے آپ کو جگا رہی ہوں جلدی اٹھ جایا کرو اور آرام سے ناشتہ کیا کرو۔۔۔
ہانی نے ناشتہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہانی یار تم فکر مت کرو تمہارا شوہر آفس سے چھٹی کر لے گا۔۔۔۔ لیکن کبھی بھوکا آفس نہیں جاۓ گا عادل نے جوس پیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
یہ بھی کوئی بتانے والی بات ہے ہانی نے ہاتھ روک کر عادل کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔
چھوٹے ماموں ویسے آپ کی سیکرٹری تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔
زید نے آنکھوں میں شرارت لیے عادل کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
جہاں ہانی کا ہاتھ زید کی بات سن کر رکا تھا وہی عادل کا نوالہ سیدھا اس کے حلق میں اٹک گیا تھا۔۔۔۔
زید نے جلدی سے عادل کو پانی دیا تھا کیونکہ ہانی خونخوار نظروں سے عادل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
عادل نے ہانی کو بتایا تھا کہ اس کی سیکرٹری
لڑکی نہیں ہے۔۔۔۔
اسی وقت زید کی کال آئی تھی زید نے فون کان سے لگایا اور عادل کو آنکھ مار کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
زید کے بچے تجھے میں آج زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
لیکن عادل پہلے تو تو زندہ بچ جا پھر زید کو بھی دیکھ لینا عادل نے دل میں سوچا۔۔۔۔
ہانی میری بات سنو زید جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔
اسے سے پہلے عادل اپنی صفائی میں مزید کچھ کہتا ہانی بول پڑی تھی۔۔۔۔
عادل ناشتہ کر لیں آفس سے دیر ہو جاۓ گی ہانی۔۔۔ کہہ کر خود بھی ناشتہ کرنے لگی تھی۔۔۔
عادل نے بھی اس وقت ہانی کو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں تھا کچھ دن پہلے زید گھر کافی لیٹ آیا تھا۔۔۔ زین نے جب اس کے لیٹ آنے کی وجہ پوچھی تو زید نے عادل سے مدد مانگی تھی۔۔۔
اور عادل نے صاف ہری جھنڈی دیکھا دی تھی اور پھر زین سے زید کی بہت اچھی کلاس ہوئی تھی۔
اور آج زید نے اپنا بدلہ لے لیا تھا۔۔۔
💖————💖
ٹائیگر اےڈی تم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔ کالیا نے کہا۔۔۔
منع کردو ابھی میرا موڈ کسی سے بھی ملنے کا نہیں ہے۔۔۔۔ ٹائیگر نے کہا۔۔۔
اس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے۔۔۔۔ کالیا نے ٹائیگر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کالیا تم جانتے ہو میرے کام کے کچھ رولز ہے میں پیسے کے لیے کسی کی بھی جان لے سکتا ہوں۔۔۔
لیکن میں بچوں اور عورتوں کو نقصان نہیں پہنچاتا اور اےڈی یہ سب کرتا ہے جو کہ مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔ ٹائیگر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں منع کر دیتا ہوں۔۔۔
ہممم رات کو ہمیں ایک خاص انسان سے ملنے جانا ہے۔۔۔۔ ٹائیگر نے کہا۔۔۔۔
خاص کا سن کر کالیا کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔ کیونکہ جب ٹائیگر کسی خاص انسان کا کہتا تھا۔۔۔ اس کا مطلب تھا کسی کی موت آنے والی ہے۔۔۔۔
یہ بات میں کیسے بھول سکتا ہوں کالیا نے کہا۔۔۔ اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
💖————💖
تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟ کبیر نے جب اپنے کمرے میں نور کو دیکھا تو غصے میں پوچھا۔۔۔۔
کیونکہ جو کوئی بھی اس کے کمرے میں آتا تھا کبیر کی موجودگی میں آتا تھا۔۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ می۔۔۔ میرا۔۔۔ پپ۔۔۔ پپی۔۔۔ آپ ک۔۔ کے۔۔ رو۔۔ روم۔۔۔ می۔۔۔ میں۔۔ آیا۔۔ تھ۔۔ تھا۔۔۔۔
نور نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کیوں کبیر کے سامنے آجانے سے نور اٹک اٹک کر بولنے لگتی تھی۔۔۔ شاید کچھ زیادہ ہی وہ کبیر سے ڈرتی تھی۔۔۔۔
کبیر کے ماتھے کی سخت تیوری نور کو مزید خوف میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔۔
کبیر کچھ کہنے ہی لگا تھا لیکن پھر اسے نور کی شکل دیکھ کر ترس آگیا تھا۔۔۔ نور کی شکل دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اگر کبیر نے اسے زرا سا بھی ڈانٹا تو ابھی بے ہوش ہوجاۓ گی۔۔۔۔
کبیر بنا کچھ کہے واشروم چلا گیا تھا۔۔۔۔
اور یہ بات نور کے لیے بھی حیران کن تھی۔۔۔۔
نور نے جلدی سے اپنے پپی کو تلاش کیا جو بیڈ کے نیچے تھا اور کمرے سے نکل گئ تھی۔۔۔۔
نور کی سالگِرہ پر اسد نے اسے پپی گفٹ کے طور پر دیا تھا اور نور کو وائٹ پپی بہت پسند آیا تھا۔۔۔
مجھے لگتا ہے کھڑوس کی طبیعت خراب ہے۔۔۔ اس لیے مجھے نہیں ڈانٹا اور تم اب کبھی بھی کھڑوس کے کمرے میں نہیں جاؤ گے۔۔۔ نور نے پپی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کمرے سے باہر آتے ہی نور کی زبان چلنے لگی تھی۔۔۔۔
مجھے کیا مجھے تو خوش ہونا چاہیے کہ کھڑوس نے مجھے نہیں ڈانٹا۔۔۔۔ نور نے دل میں سوچا اور اپنے پپی کے ساتھ کھلنے لگی۔۔۔۔
💖————💖
زہِ نصیب محترمہ کہاں غائب ہوتی ہیں آپ آجکل۔۔۔۔؟ ہم آپ کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔۔۔ اور آپ ظالم بنی اپنے کمرے میں بند رہتی ہے۔۔۔۔
زید نے زارا کو دیکھ کر معصوم سی شکل بنا کر شاعرانہ انداز میں سینے پر ہاتھ باندھ کر ادب سے کہا۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے آپ کو اپنا علاج کروانا چاہیے۔۔۔ اگر آپ کہے تو میں بڑے پاپا سے بات کروں۔۔۔ زید بھائی زارا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ظالم لڑکی پہلی بات مجھے بھائی نا کہا کروں تمھارا کھڑوس بھائی ہی کافی ہے۔۔۔۔ اس رشتے کے لیے مجھے تمہارا بھائی بننے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے۔۔۔۔ ہاں ایک اور بھی رشتہ بن سکتا ہے ہمارے درمیان زید نے شوخی سے کہا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔؟ زارا نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
چھوڑو تم اس بات کو تم نہیں سمجھو گی۔۔۔۔ اور دوسری بات بڑے پاپا نے تو سچ میں مجھے پاگل خانے بھیج دینا ہے۔۔۔۔
ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی اور ابھی میں نے اپنے چنو منو کے ساتھ بھی کھیلنا ہے۔۔۔ ان سب کا کیا ہو گا پھر۔۔۔۔؟
زید کے منہ میں جو آیا اس نے بول دیا تھا۔۔۔۔
تو پھر فضول گوئی سے پرہیز کریں اور خبر دار میرے بھائی کو کھڑوس کہا تو بہت برا پیش آؤ گی۔۔۔۔
اور اگر میں نے بڑے پاپا کو آپ کی ان حرکتوں کے بارے میں بتا دیا تو وہ آپ کو اس گھر سے نکالنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاۓ گے۔۔۔۔
زارا نے زید کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
اُف یہاں تو ہر کوئی بلیک مِیل کرنے میں لگا ہوا ہے۔۔۔ اب تمھارا بھائی کھڑوس ہے تو کھڑوس ہی کہوں گا نا۔۔۔۔
زید بیٹا ان سب باتوں کو چھوڑو جو کارنامہ تم نیچے سر انجام دے کر آۓ ہو پہلے عادل ماموں سے تو بچ جاؤ۔۔۔ وہ تو تجھے کچا چبا جاۓ گے زید نے دل میں سوچا اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔
زید زارا کو پسند کرتا تھا اور اس کی حرکتوں سے زارا کو بھی کچھ کچھ معلوم ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن پھر بھی زارا زید کو تنگ کرنے کے لیے بھائی ہی کہتی تھی۔۔۔۔
گھر میں میر سب سے بڑا تھا۔۔۔ اس لیے سارے بچے میر کو بڑے پاپا کہتے تھے۔۔۔
💖————💖
ہنی ایک بات پوچھو میر نے حیاء کے کاندھے پر اپنی تھوڑی رکھتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔۔ حیا نے بس اتنا ہی کہا تھا۔۔۔۔
تم مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہو یا نور سے۔۔۔؟ میر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
میر کی بات سن کر حیاء کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔
نور سے۔۔۔ حیاء نے بنا سوچے جواب دیا تھا۔۔۔۔
حیاء کی بات سن کو میر کھل کر ہنسا تھا۔۔۔ اور یہ سچ بھی تھا دونوں نور سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔۔۔۔۔
لیکن میر نور اور حیاء دنوں سے بہت پیار کرتا تھا۔۔۔ کیونکہ دونوں ہی میر کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔۔۔۔
ابھی میر مزید کچھ کہتا جب اس کا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔۔ میر نے بیزاری سے موبائل کی طرف دیکھا حیاء میر کی شکل دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔۔۔
میر نے اپنا موبائل اٹھایا اور وہاں سے باہر چلا گیا کیونکہ کے بات کرنی ضروری تھی۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞