No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
تم میرے کمرے میں کیا کر کررہے ہو۔۔۔۔؟ اور تم میرے گھر میں اتنی سخت سکیورٹی ہونے کے باوجود کیسے داخل ہوئے۔۔۔۔۔؟
عابد نے اپنے سامنے بیٹھے ٹائیگر سے پوچھا
جو آرام سے ایک نرم صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ جیسے یہ اس کا اپنا گھر ہو۔۔۔۔
عابد ایک معزز خاندان کا لڑکا تھا۔۔۔۔
عابد کا خاندان سیاست سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔۔ سب کی نظروں میں عابد ایک نیک اور غریب لوگو کا درد محسوس کرنے والا انسان تھا۔۔۔۔
ایسا لوگوں کو لگتا تھا۔۔۔۔
تمہیں لگتا ہے تمھاری فضول سی سکیورٹی مجھے تم تک پہنچنے کے لیے روک سکتی ہے۔۔۔۔؟ ٹائیگر نے طنزیہ کہا۔۔۔۔
کالیا بھی ٹائیگر کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا۔۔۔۔
میں نے تمہیں کہا تھا اس لڑکی سے شادی کر لو جس کی زندگی تم خراب کر چکے ہو۔۔۔۔ ورنہ میرے پاس دوسرا آپشن تمہاری جان لینا ہو گا۔۔۔۔ لیکن لگتا ہے تمہیں انسانوں والی زبان سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔ اب مجھے تمہیں اپنی زبان میں سمجھانا پڑے گا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے عابد کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھے فون کرکے کہو گے۔۔۔۔ کہ میں اس جاہل لڑکی سے شادی کر لوں۔۔۔۔ تو کیا میں اُس سے شادی کر لوں گا۔۔۔۔؟ کھبی بھی نہیں۔۔۔۔ سوسائٹی میں میری عزت ہے۔۔۔۔!!! اس سے پہلے عابد مزید کچھ کہتا ٹائیگر نے ایک زور کا مکا عابد کے منہ پر مارا تھا۔۔۔۔
عابد کو لگا تھا اس کا جبڑا ٹوٹ گیا ہے۔۔۔۔
تمھاری عزت ہے اور اس لڑکی کا کیا جس کی عزت تم خراب کر چکے ہو۔۔۔۔
کیا لڑکیاں تمہارے لیے کھلونا ہے۔۔۔۔؟ اور تمہارے جیسے انسان کے منہ سے عزت کی باتیں بلکل بھی اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔ آج میں ان سب لڑکیوں کے ساتھ انصاف کروں گا۔۔۔۔ جن کی زندگیاں تم برباد کر چکے ہو۔۔۔۔۔
ٹائیگر نے عابد کے ہاتھ پر اپنا بھاری بوٹ رکھتے وزن ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
عابد کے منہ سے چیخ نکل گئ تھی۔۔۔۔
کالیا کیا کرنا چاہیے کسی موت دینی چاہیے اس عزت دار انسان کو۔۔۔۔؟
ٹائیگر نے کالیا کی طرف منہ موڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ٹائیگر مجھے لگتا ہے اسے ایسی سزا دینی چاہے۔۔۔۔ جس میں یہ سسک سسک کر مرے۔۔۔۔ اور مرنے سے پہلے اپنے سارے گناہوں کو بھی یاد کرے۔۔۔۔!!!! کالیا نے عابد کی طرف دیکھ کر نفرت سے کہا۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔۔ لیکن ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔۔ لیکن موت اس کی بھیانک ہی ہوگی۔۔۔۔!! ٹائیگر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
عابد آنکھوں میں خوف لیے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔
اسے حیرت ہو رہی تھی کہ ابھی تک کوئی اس کے کمرے میں آیا کیوں نہیں۔۔۔۔ کیونکہ اس کے کمرے میں کیمرے لگے ہوۓ تھے۔۔۔۔ اور اسکے باڈی گارڈ چوبیس گھنٹے عابد پر نظر رکھتے تھے کہ کہی وہ خطرے میں تو نہیں ہے۔۔۔۔
تم سوچ رہے ہو گے کہ تمھارے کتے ابھی تک آۓ کیوں نہیں۔۔۔۔؟ تو میں تمہیں بتا دیتا وہ ابھی نیند کے مزے لے رہے ہیں۔۔۔۔ بچاروں کو نیند نصیب نہیں ہوتی اس لیے میں نے سوچا تھوڑی دیر آرام کر لیں۔۔۔۔!! ٹائیگر نے عابد کو کہا۔۔۔۔۔
تم لوگ میرے ساتھ کیا کرنے والے ہو۔۔۔۔؟؟؟ عابد نے گھبراتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
تم فکر مت کرو زیادہ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔ اور ہاں صبح کے اخبار میں خبر آۓ گی کہ مشہور سیاست دان کے بیٹے عابد نے خودکشی کر لی۔۔۔۔ کیونکہ ان کو اپنی جیت کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔۔!!!! اور ان میں لوگوں کو فیس کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔۔
کالیا نے عابد کو کہا اور اسے ٹائیگر کے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔
کالیا نے عابد کا منہ کپڑے سے بند کیا اور ایک رسی کو پنکھے کے ساتھ باندھ دیا۔۔۔۔ اور وہ رسی عابد کے گلے میں ڈال دی تھی۔۔۔۔
عابد نا میں سر ہلارہا تھا لیکن یہاں اس کی سن کون رہا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر نے اس کرسی کو ٹانگ مار کر پیچھے کر دیا تھا جس پر عابد کھڑا تھا۔۔۔۔۔
کچھ دیر تڑپنے کے بعد عابد کا جسم بے جان ہو گیا تھا۔۔۔۔ کالیا نے عابد کے منہ سے کپڑا نکالا اور دونوں جہاں سے آۓ تھے۔۔۔۔۔ وہی سے واپس چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
💖————💖
سر ٹائیگر نے آپ سے ملنے سے منع کر دیا ہے وہ آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔!!
جون نے اےڈی کو کہا جو اخبار پڑھ رہا تھا۔۔۔۔
تم جانتے ہو نا اےڈی کو منع کرنے والے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے اخبار سے نظریں ہٹا کر جون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔!!! جون نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
اس وقت بھی اےڈی کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں بےتحاشا خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔ اس کی نیلی خوبصورت آنکھیں اس وقت غصے سے بھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
سر ٹائیگر کی جان لینا اتنا آسان کام نہیں ہے۔۔۔۔ جون نے نظرے جھکا کر کہا۔۔۔۔۔
ایسا کیا ہے ٹائیگر میں کہ اےڈی کا آدمی اس کی جان نا لینے کا کہہ رہا ہے۔۔۔۔؟ اےڈی نے جون کے پاس آتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
وہ سر میرے کہنے کا مطلب تھا اسے مارنے کے لیے پلان کرنا ہو گا۔۔۔۔ کیونکہ وہ بہت شاطر انسان ہے۔۔۔۔!!! جون نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
کچھ بھی کرو لیکن مجھے ٹائیگر کی لاش چاہیے۔۔۔۔ اس نے اےڈی کو منع کرنے کی ہمت کی ہے۔۔۔۔ آج ایک نے کی ہے کل دوسرا کرے گا۔۔۔۔ اور اگر آج میں اس ایک کو ہی ختم کر دوں تو کل دوسرا کوئی ایسا پیدا ہی نہیں ہو گا جو اےڈی کے مخالف آ سکے۔۔۔۔۔!!!! اےڈی نے ایک ایک لفظ چباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔!!! جون نے سر جھکا کر کہا۔۔۔
کتنی لڑکیاں ہو گئ ہے۔۔۔۔؟ اےڈی نے جون سے پوچھا۔۔۔۔
سر چالیس ہوگئ ہے۔۔۔۔ دس رہ گئ ہے جون نے کہا۔۔۔۔
ابھی دس رہتی ہے تم جانتے ہو تین دن بعد سب لڑکیوں کو دبئی بھیجوانا ہے۔۔۔۔ اگر مال نا پہنچا تو ہمیں کتنا نقصان ہو گا یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔۔؟ اےڈی نے غصے سے کہا۔۔۔۔
سر آپ فکر مت کرے دو دن میں سب انتظار ہو جاۓ گا۔۔۔۔!!!! جون نے گھبراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے میں مزید کوئی بری خبر نہیں سننا چاہتا۔۔۔۔۔
اےڈی نے کہا اور جون نے بھی وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
ہانی میں تم سے سحر کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔؟؟ اریبہ نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہاں کہو اریبہ کیا کہنا ہے۔۔۔۔؟؟ ہانی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
میں چاہتی ہوں سحر میرے گھر کی بہو بنے۔۔۔۔ اریبہ نے ہانی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اریبہ کی بات سن کر ہانی خاموش ہو گئ تھی۔۔۔۔
ہانی اگر تمہیں معاذ پسند نہیں ہے۔۔۔۔ تو بھی کوئی بات نہیں اریبہ نے ہانی کی خاموشی کا کوئی اور ہی مطلب نکالا تھا۔۔۔۔
اریبہ معاذ کو میں اپنا بیٹا ہی سمجھتی ہوں تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ مجھے معاز پسند نہیں ہو گا۔۔۔۔!! ہانی نے خفا ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
ہانی مجھے لگا کہ تمھیں سحر کے لیے معاذ پسند نہیں ہے۔۔۔ پلیز میری بات کا غلط مطلب نا لینا۔۔۔۔!! اریبہ نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
نہیں اریبہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں عادل سے بات کروں گی اور اگر ہمارے بچوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں کچھ بھی کہنے والے۔۔۔۔!! ہانی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
ہانی کی بات سن کر اریبہ بھی خوش ہوگئ تھی۔۔۔۔
💖————💖
احد اور زین گھر آ گئے تھے۔۔۔۔ جب احد نے کبیر کو اپنے کمرے میں بلایا۔۔۔۔
ڈیڈ آپ کب آۓ۔۔۔۔؟
کبیر نے آتے ہی احد سے پوچھا۔۔۔ اور اپنے باپ کے گلے لگا۔۔۔۔
رات کو ہی میں آگیا تھا۔۔۔ اور میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!احد نے کہا۔۔۔
جی۔۔۔۔!!! کبیر نے احد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم نور سے شادی کر لو میں نے نور کے پیدا ہوتے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ میری بیٹی بنے گی اسے میں کہی باہر نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔!! احد نے کبیر سے کہا۔۔۔۔
ایم سوری ڈیڈ میں نور سے شادی نہیں کرسکتا۔۔۔۔ کبیر نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔؟؟ کیا مسئلہ ہے نور میں جو تم اس سے شادی نہیں کرسکتے۔۔۔۔؟؟ احد نے بھی غصے سے پوچھا۔۔۔۔
ڈیڈ یہ میری لائف ہے اور میں شادی بھی اپنی مرضی سے کروں گا۔۔۔۔
مجھے نور پسند نہیں ہے اور میں اُس لڑکی سے شادی کروں گا جس سے میرا دل چاہے گا۔۔۔۔
آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے اور نا ہی نور کو میرے سر پر مسلط کرسکتے ہیں۔۔۔۔
کبیر نے بھی غصے سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اور اسی وقت نور بھی کبیر کو سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی تھی۔۔۔۔
کبیر نے ارد گرد دیکھا اسے وہاں کوئی نظر نہیں آیا
کبیر نے نور کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔۔۔۔
نور ایک دم بوکھلا گئ تھی لیکن جب اس نے اپنے سامنے کھڑے غصے سے بھرے کبیر کو دیکھا تو اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
کبیر نور کے پاس آیا تھا۔۔۔ اور ایک جھٹکے سے نور کو اپنے قریب کیا۔۔۔ اور نور کا ہاتھ اس کی کمر کے ساتھ لگایا۔۔۔ نور کو کافی تکلیف ہوئی تھی جس سے اس کی ہلکی سی چیخ بھی نکل گئ تھی۔۔۔۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو نور خان۔۔۔۔ اگر بڑے پاپا یا میرے ڈیڈ نے تم سے پوچھا کہ کیا تم کبیر سے شادی کرنا چاہتی ہو تو تم صاف صاف منع کر دو گی سمجھ گئ۔۔۔۔؟؟؟
کبیر نے نور کی آنسوؤں سے بھری بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نور نے کوئی جواب نہیں دیا اس وقت اگر اسے کسی چیز کی فکر تھی۔۔۔۔ تو وہ کبیر کے ہاتھ میں پکڑے اس کے اپنے ہاتھ کی تھی۔۔۔۔
کبیر نے نور کا ہاتھ مروڑا ہوا تھا۔۔۔۔ جس سے نور کو زیادہ تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔۔
بولو جواب دو منع کرو گی۔۔۔۔۔؟
کبیر نے اونچی آواز میں نور سے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔ نور نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
گڈ گرل۔۔۔۔!!! اور اگر مجھے معلوم ہوا کہ تم نے ہاں کر دی ہے تو تمہاری ٹانگیں میرے ہاتھوں سے ہی ٹوٹے گی۔۔۔۔!!! کبیر نے نور کو چھوڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
نور نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو سرخ ہورہا تھا اور ہل بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
اور تم یہ بات بھی کسی کو نہیں بتاؤ گی کہ یہ سب کہنے کے لیے میں نے کہا تھا۔۔۔۔!! کبیر نے آنکھوں سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اب جاؤ یہاں سے۔۔۔!! کبیر کہہ کر اپنے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
نور وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں آکر اپنے ہاتھ کو دیکھ کر رونے لگی تھی۔۔۔۔
کافی دیر رونے کے بعد نور نے اپنے ہاتھ کو ہلانے کی کوشش کی لیکن ہاتھ میں بہت درد تھا۔۔۔۔
نور زارا کے پاس گئ تھی کیونکہ وہ ہی اس وقت نور کی مدد کر سکتی تھی۔۔۔۔
💖————💖
سر میڈم آج اکیلی آئی ہیں۔۔۔!!اور اب اُن کو کچھ لڑکے تنگ کررہے ہیں۔۔۔۔
کالیا کو اس کے آدمی نے بتایا۔۔۔
کالیا نے اپنے آدمی کو حجاب پر نظر رکھنے کا کہا تھا۔۔۔۔ اور وہ حجاب کے پل پل کی خبر کالیا کو دیتا تھا۔۔۔۔
کالیا نے حجاب کو ایک ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا اور حجاب اسے پسند آگئ تھی۔۔۔۔
جاہل انسان جاکر میڈم کی مدد کر۔۔۔۔!! کالیا نے غصے سے کہا۔۔۔۔
سر میں مدد کر دیتا لیکن وہ خود ہی کافی ہے اُن لڑکوں کے لیے۔۔۔۔!!! کالیا کے آدمی نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا جہاں حجاب دو لڑکوں کی دھلائی کر رہی تھی۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔؟ کالیا نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔
سر میڈم خود ہی اتنی بہادر ہے کہ اکیلی ان لڑکوں کی دھلائی کر رہی ہیں۔۔۔۔!! اس آدمی نے بے یقینی کے ملی جلی کیفیت میں کہا۔۔۔
کیونکہ حجاب ایک دبلی پتلی سے لڑکی تھی اور دو لڑکوں کی ایک ساتھ دھلائی کرنا کالیا کے آدمی کو حیران کر گیا تھا۔۔۔۔
اپنے آدمی کی بات سن کر کالیا کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
سر میڈم کو لینے کوئی آگیا ہے۔۔۔۔ اور وہ ان کے ساتھ چلی گئ ہے۔۔۔۔!! اس آدمی نے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے کالیا نے کہہ کر فون بند کر دیا کیونکہ کالیا بھی حجاب کی یونی کے باہر آگیا تھا۔۔۔۔ اور اس نے حجاب کو بھی دیکھا تھا جب وہ لڑکوں کو مار رہی تھی۔۔۔۔
کالیا کو جو چیز سخت ناپسند لگی تھی وہ حجاب کے کپڑے تھے۔۔۔۔ جس نے بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور ڈوپٹہ تو تھا ہی نہیں۔۔۔۔
لگتا ہے مجھے ہی تمہاری ڈریسنگ ٹھیک کروانی پڑے گی میری پیاری بلبل۔۔۔۔ کالیا نے مسکراتے ہوۓ کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
ماما میں ڈرائیور کے ساتھ اپنی دوست کی طرف جارہی ہوں حجاب نے سجل کو کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے جلدی آجانا اور اپنا خیال رکھنا۔۔۔!! سجل نے کھانا بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی ماما حجاب نے کہا۔۔۔۔ اور گھر سے باہر آگئ سامنے ہی اسے اسد اور زید نظر آۓ تھے۔۔۔۔ حجاب اسد کی نظروں میں نہیں آنا چاہتی تھی اس لیے جلدی سے وہاں سے نکل گئ۔۔۔۔
اسد اور زید اپنے دھیان میں چل رہے تھے انہوں نے حجاب کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
حجاب کی گاڑی ابھی آدھے راستے ہی پہنچی تھی جب اچانک ایک جھٹکے سے رک گئ۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟ گاڑی کیوں روک دی۔۔۔۔؟ حجاب نے ڈرائیور سے پوچھا۔۔۔۔
پتہ نہیں میڈم ابھی چیک کرتا ہوں ڈرائیور نے کہا اور گاڑی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
حجاب نے چاروں اور نظر دوڑائی باہر سڑک بلکل سنسان تھی۔۔۔۔ حجاب یہی دیکھ رہی تھی جب اچانک حجاب کی طرف کا دروازہ کھلا اور کوئی اند آکر بیٹھا تھا۔۔۔۔
حجاب ایک دم ڈر گئ تھی۔۔۔۔
لیکن جب اس نے کالیا کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کی چیخ نکل گئ تھی۔۔۔۔ حجاب پیچھے گاڑی کے دروزے کے ساتھ جالگی تھی۔۔۔۔ اور اس عجیب و غریب انسان کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔
کالیا گھور کر حجاب کے کپڑوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کالیا نے تھوڑا حجاب کے قریب ہوکر اسے بالوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا تھا۔۔۔۔
تمہیں میں پہلی اور آخری بار سمجھا رہا ہوں۔۔۔ آئندہ اگر تم مجھے اس طرح کے بے ہودہ لباس میں نظر آئی۔۔۔۔۔ تو تمھیں اٹھا کر اپنے ساتھ اپنی دنیا میں لے جاؤ گا ٹھیک ہے میری بلبل۔۔۔۔؟؟ کالیا نے حجاب کے گال کو تھپتھپاتے ہوۓ کہا اور جیسے آیا تھا ویسے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
حجاب ابھی بھی شوکڈ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
جب اسے ڈرائیور کی آواز ہوش میں لائی میڈم آپ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟ ڈرائیور نے پوچھا۔۔۔۔۔
تم تم کہاں تھے حجاب نے آنکھوں میں خوف لیے ڈرائیور سے پوچھا۔۔۔۔
میڈم میں باہر ہی تھا گاڑی کو دیکھ رہا تھا ڈرائیور نے کہا۔۔۔۔
اچھا جلدی چلو یہاں سے۔۔۔!!! حجاب نے ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اوکے میڈم۔۔۔!!! ڈرائیور نے کہا۔۔۔۔
اور حجاب سوچ میں پڑ گئ تھی کہ وہ خوفناک آدمی کون تھا۔۔۔۔
💖————💖
زارا نے نور کے ہاتھ پر پٹی باندھ دی تھی۔۔۔۔
زارا نے نور سے پوچھا تھا کہ کیا ہوا ہے لیکن نور نے سچ نہیں بتایا۔۔۔۔ اور یہ کہا کہ وہ گر گئ تھی۔۔۔
اور آج سحر نور کو اپنے ساتھ مارکیٹ لائی تھی سحر کو کچھ چیزیں خریدنی تھیں۔۔۔۔
دونوں اپنے دھیان چیزیں خرید رہی تھی جب جون کی نظر سحر اور حجاب پر پڑی۔۔۔۔
اور جون کو تو پہلے ہی کچھ لڑکیوں کی تلاش تھی۔۔۔ اور شکار سامنے تھا جون کے چہرے ہر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔ اس نے اپنے آدمیوں کو وہاں آنے کا کہا اور فون بند کر دیا۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔۔💞💞
