Ishq Ki Khatir By Rimsha Hayat Readelle50137 Episode 43
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
احد گھر آگیا تھا اور آتے ہی اسے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ آج کبیر اور نور گھر آرہے ہیں میر نے پہلے ہی گھر میں سب کو ان دونوں کے آنے کا بتا دیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ سب کے لیے ایک سرپرائز بھی ہے حیا تو بہت خوش تھی آج کافی دنوں بعد وہ اپنی بیٹی سے ملنے والی تھی۔۔۔۔
احد کو بس کبیر کے گھر آنے کا انتظار تھا آخر وہ وقت بھی آگیا تھا جب نور کبیر کے ہمراہ وائٹ پیلس میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
میرے چہرے کے نشان کے بارے میں کسی نے پوچھا تو میں کیا جواب دوں گی۔۔۔۔؟
نور نے پریشانی سے کبیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
کوئی تم سے کچھ نہیں پوچھے گا۔۔۔۔!!!
کبیر نے تسلی دیتے ہوئے کہا اور نور کا ہاتھ پکڑ کے آگے بڑھا نور کو خوشی کے ساتھ ساتھ ٹینشن بھی ہو رہی تھی پتہ نہیں گھر والے اس کے چہرے کے نشان کو دیکھ کر کیا کہے گے۔۔۔۔
کبیر نے ہال میں داخل ہوتے ہی سب کو مشترکہ سلام کیا تھا اور اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔۔۔
حیاء نے سب سے پہلے نور کو گلے لگایا تھا اور اس کے چہرے کے نشان کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگے تھے۔۔۔۔
میر نے پہلے ہی سب کو بتا دیا تھا کہ نور کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا تھا لیکن کوئی بھی نور سے اس نشان کے بارے میں نہیں پوچھے گا۔۔۔۔
میر نے ایک سٹوری بنا کر سب کو نور کے نشان کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔۔۔
اور سب لوگ مطمئن بھی ہو گئے تھے میر نہیں چاہتا تھا کہ اےڈی کے بارے میں بتا کر کسی کو بھی پریشان کرے۔۔۔۔
ماما کیسی ہیں آپ۔۔۔؟ نور نے مسکرا کر حیاء سے پوچھا۔۔۔۔
میری جان میں ٹھیک ہوں اور میں نے تمہیں بہت مِس کیا اب میں تمہیں کہی نہیں جانے دوں گی۔۔۔۔!!!
حیا نے نور کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہا جبکہ آنکھوں میں ابھی بھی پانی تیر رہا تھا۔۔۔۔
ماما یار آپ پلیز رویا نا کریں۔۔۔۔!!!
نور نے مسکرا کر کہا اور پیار سے اپنی ماں کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
حیا نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے نور باقی سب سے بھی ملنے لگی تھی۔۔۔۔
کبیر بھی ملا تھا لیکن جب اپنے باپ کے پاس آیا تو احد نے بھی زور سے اسے گلے لگایا تھا۔۔۔۔
بیٹا جی اگر آپ کے پاس وقت ہو تو رات کو میرے کمرے میں تشریف لائیے گا آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔!!! احد نے مسکراتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔!!!
کبیر نے بھی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے بس اتنا ہی کہا تھا۔۔۔۔۔
کبیر ابھی میر سے نہیں ملا تھا نور کو دیکھ کر میر کے چہرے پر جو تکلیف آئی تطی اس کو کبیر نے بہت اچھے سے محسوس کیا تھا۔۔۔۔
آخر میں نور میر کے پاس آئی تھی اور اپنے کنٹرول کیے ہوئے آنسوؤں کو اب مزید روک نہیں سکی تھی
اور میر کے گلے لگے بے آواز رونے لگی تھی۔۔۔۔
بس میرا بچہ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔!!! میر نے پیار سے نور کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے میرے پاس۔۔۔۔!!!
میر نے نور کا دھیان بھٹکانے کے لیے کہا وہ نہیں چاہتا تھا نور مزید رو کر خود کے ساتھ میر کو بھی تکلیف پہنچائے۔۔۔۔ میر نور کو روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھ سکتا تھا اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کبیر نے اس کی پھول جیسی بچی پر کتنا ظلم کیا ہے تو کبیر کی کوئی نا کوئی ہڈی پسلی اس وقت ضرور ٹوٹی ہوتی۔۔۔۔
وہ کیا۔۔۔۔؟
نور نے رونے کے درمیان ہی پوچھا میر نے نور کے آنسو صاف کیے اور پیار سے کہا۔۔۔۔۔
میرا بچہ اگر میں نے آپ کو بتا دیا تو وہ سرپرائز تو نہیں رہے گا نا۔۔۔۔!!!
میر نے نور کی ناک کو ہلکے سے کھنچے ہوئے کہا جو رونے سے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
ہاں یہ تو ہیں۔۔۔۔!!! نور نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میر نور کے انداز پر مسکرا پڑا تھا۔۔۔۔
کبیر نے میر سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی اور اسی میں اس کی بہتری تھی۔۔۔۔ کیونکہ میر سے کوئی بعید نہیں ابھی اس کی سب کے سامنے اس کی عزت افزائی کر دیتا۔۔۔۔
احد نے تو رات کو کمرے میں بلا کر عزت افزائی کرنی تھی میر نے تو سب کے سامنے کر دینی تھی۔۔۔۔
نور میر کے ساتھ ہی چپک کر بیٹھی ہوئی تھی سب لوگوں چھوٹی موٹی باتیں کرنے میں مصروف ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
نور بھی کافی حد تک بہل گئ تھی اس نے جو سوچا تھا کہ اسے سب کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا اس کے باپ نے سب کچھ سنبھال لیا تھا اور کسی نے بھی نور سے اس کے نشان کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔۔۔۔
یہ سب سوچتے ہوئے نور نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تھا جو زین سے کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔۔
اگر نور نے اپنے باپ سے میری شکایت لگا دی تو کبیر تیرا کیا ہو گا۔۔۔۔ کیا جواب دے گا تو سب کے سامنے۔۔۔۔۔!!!
کبیر نے نور کو دیکھتے ہوئے سوچا جو اپنے باپ کے ساتھ ہی چیک کر بیٹھی ہوئی تھی اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی میر سے الگ نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
کبیر اگر تو چاہتا ہے کہ تیری عزت سب کے سامنے بنی رہے تو یہاں سے نکل جا۔۔۔۔!!! کبیر نے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔۔۔۔
میر نے جب کبیر کو اٹھتے ہوئے دیکھا تو اسے کبیر پر مزید غصہ آیا تھا۔۔۔۔ جو یہاں سے بھاگنے کے چکر میں تھا میر اس کا ارادہ بھانپ گیا تھا۔۔۔۔
جو کچھ کبیر نے کیا تھا باقی کے لوگوں نے تو اسے معاف کر دیا تھا لیکن احد اور میر اتنی جلدی کبیر کو معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔۔۔۔
کبیر کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔؟ میر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
ہال میں میر کی بھاری آواز گونجی تھی اور اب سب کی نظریں کبیر پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
کہی نہیں بڑے پاپا۔۔۔۔!!! کبیر نے معصومیت سے جواب دیا اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
زید اور اسد دونوں کبیر کی حالت سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور کبیر کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔۔۔
کبیر نے اپنی گھوری سے دونوں کو نوازہ تھا لیکن یہاں فرق کسے پڑ رہا تھا۔۔۔۔
زین تھوڑی دیر بعد عشال کے ساتھ وہاں آیا عشال اتنے لوگوں کو دیکھ کر تھوڑا کنفیوژ ہو گئ تھی میر نے عشال کو دیکھا تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا اب اس کے دائیں طرف نور اور بائیں طرف عشال کھڑی تھی میر احد اور زین کے سوا سب لوگ شوکڈ سے کھڑے ہوگئے تھے زیادہ صدمہ تو حیا کو پہنچا تھا اور سب سے پہلے ہوش میں بھی وہی آئی تھی۔۔۔۔
خان آپ نے مجھے دھوکہ دیا ہے آپ نے باہر شادی کر لی اور یہ آپ کی بیٹی ہے۔۔۔۔!!! حیا نے بھاری آواز میں میر کو کہا۔۔۔۔
میر پہلے تو حیا کی بات سن کر حیران ہوا تھا اسے حیا کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی یہاں تک کہ یہاں کھڑے کسی بھی فرد کو حیا کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔۔
لیکن تھوڑی دیر بعد میر بات کی تہہ تک پہنچا تو اسے حیا کی بات سمجھ میں آگئ تھی اور اس کا دل قہقہہ لگانے کو کر رہا تھا اسے اس وقت اپنی معصوم سی بیوٹی پر مزید پیار آیا تھا۔۔۔۔
یااللہ حیا تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمھیں دھوکا دے سکتا ہوں۔۔۔۔!!! میر نے حیا کو اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔۔
عشال کو میر نے حیا کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کی ماں بہت معصوم ہے لیکن اب اسے میر کی بات پر پورا یقین آگیا تھا اور جتنا میر نے بتایا تھا حیا اس سے زیادہ معصوم تھی عشال آگے بڑھ کر حیا کے گلے لگ گئ تھی۔۔۔۔
ماما میں آپ کی بیٹی ہوں۔۔۔۔!!
عشال نے آہستگی سے حیا کے کان کے پاس کہا حیا کو ایک عجیب سے احساس نے گھیر تھا۔۔۔۔
حیا عشال کی ماں تھی تو کیسے نا وہ اپنی بیٹی کو پہچانتی اور اچانک حیا کے دماغ میں یہ بات آئی تھی کہ یہ اس کی وہی بیٹی ہے جس کے بارے میں اسے کہا گیا تھا کہ وہ مردہ پیدا ہوئی تھی اس کا مطلب وہ زندہ تھی۔۔۔۔
حیا یہ ہماری بیٹی ہے عشال نومی نے ڈاکٹر کو پیسے دے کر یہ سب کچھ کروایا تھا ہماری بیٹی کو ہم سے دور کرنے کی کوشش کی تھی وہ مجھ سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔!!!
لیکن ہماری بیٹی کی زندگی اللہ نے لکھی ہوئی تھی اور دیکھو ہماری بیٹی ہمارے پاس ہے۔۔۔۔!!! میر نے حیا کو سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
حیا نے ہوش میں آتے ہی عشال کا ماتھا چوما تھا۔۔۔ ہانی نے آگے بڑھ کر عشال کو خود سے لگایا تھا۔۔۔
میں تمھاری خالہ ہوں عشال۔۔۔۔!!! ہانی نے مسکراتے ہوئے عشال کو کہا حیا تو عشال پر بار بار اپنا پیار نچھاور کر رہی تھی۔۔۔۔
عشال بھی مسکرا پڑی تھی حجاب بہت خوش ہو رہی تھی کہ اس کی ایک اور کزن آگئ ہے وہ بھی بلکل نور جیسی لیکن نور کے لیے حجاب کو دکھ ہو رہا تھا۔۔۔۔
عشال ساری فیملی سے مل رہی تھی یہ اس کی اپنی فیملی تھی جس کے بارے میں اسے معلوم نہیں تھا سب لوگ بہت اچھے سے اس سے مل رہے تھے۔۔۔۔
عشال نے بت بنی نور کو دیکھا تو اسے دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔۔۔
تمہیں ابھی بھی لگ رہا ہے میں بھوت ہوں۔۔۔۔!!!
عشال نے نور کو دیکھتے ہوئے پوچھا اور نور کو مزید حیرانگی ہوئی تھی کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔۔؟؟؟
میں تمھاری جڑواں بہن ہوں میرا نام عشال ہے۔۔۔۔!!! عشال نے مسکرا کر کہا۔۔۔
لیکن نور ابھی بھی کچھ نہیں بولی تھی نور کے چہرے کا نشان دیکھ کر عشال کے اندر اےڈی کے لیے مزید نفرت بڑھ گئ تھی۔۔۔
تمہیں میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا۔۔۔۔؟؟؟
آخر کار عشال نے خود سے ہی اخذ کر لیا تھا کہ شاید نور کو عشال کی موجودگی اچھی نہیں لگی
عشال کی بات پر نور ٹرانس کی کیفیت سے باہر آئی تھی عشال مڑ کر وہاں سے جانے لگی جب نور نے عشال کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے میں تو بس یقین کرنا چاہ رہی تھی کیا واقعی میری سیم شکل کی ایک بہن بھی ہے بس مجھے یقین نہیں آرہا تھا مجھے تمھارا یہاں آنا بہت اچھا لگا سچ میں۔۔۔۔!!!
نور نے جلدی سے اپنی صفائی دیتے ہوئے معصومیت سے کہا عشال نور کی اتنی لمبی چوڑی دلیل پر کھل کر ہنسی تھی اور نور کے دوسرے گال کو پیار سے چوما تھا۔۔۔۔ نور عشال کی اس حرکت پر ایک دم سرخ ہو گئ تھی۔۔۔۔
تم سچ میں بہت معصوم ہو یار لیکن اب میں تمہیں بہادر بناؤ گی۔۔۔۔!!!
عشال نے ہنستے ہوئے عشال کے گال کو کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔۔
پلیز تم میرے گال نا کھینچنا۔۔۔۔!!!
نور نے منہ بناتے ہوئے کہا اتنے میں زارا، حجاب اور سحر بھی دونوں کے پاس آگئ تھیں اور اپنا تعارف کروانے لگی تھیں بڑوں کا تعارف تو میر پہلے ہی کروا چکا تھا۔۔۔۔
چلو اب تم نے بتا دیا ہے نا اب میں ایسا ہی کیا کروں گی۔۔۔۔!!! عشال نے مزے سے کہا۔۔۔
میں نے منع کیا ہے۔۔۔۔!!! نور نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
عشال نور اس حرکت سے بہت چڑھتی ہے اور مجھے تو اس کے گال کھینچنے پر بہت مزا آتا ہے بلکل ایسے۔۔۔۔!!!
حجاب نے عشال کے گال کھینچتے ہوئے کہا نور عشال کو دیکھ کر ہنس ہنس کر سرخ ہو گئ تھی
عشال نے گھور کر حجاب کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
ساری کزن ایک دوسرا کی ٹانگ کھینچنے میں لگی ہوئی تھیں۔۔۔۔
کبیر کی تو نظر نور سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی نور کا سرخ ہنستا مسکراتا چہرہ سیدھا کبیر کے دل میں اتر رہا تھا۔۔۔
کبیر ٹک ٹکی باندھے نور کو ہی دیکھ رہا تھا اور یہ بات سب نے نوٹ کی تھی لیکن کبیر کو ہوش کہاں تھی۔۔۔۔
میر اپنی دونوں بیٹیوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ بہت خوش تھا اسے صرف ایک بات کا ڈر تھا کہ پتہ نہیں نور اور عشال ایک دوسرے کو قبول کر سکے گے یا نہیں۔۔۔۔!!
عشال نے بھی خود کو بہت تبدیل کر لیا تھا گھر کے بڑے اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر مطمئن تھے لیکن وہ آگے آنے والی مصبیت سے واقف نہیں تھے۔۔۔۔
💖————💖
کون ہو تم اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔۔؟
عباس نے اپنا بازو کالیا کی مضبوط گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے غصے میں کہا۔۔۔
تمھاری خاطر تواضع کرنی ہے تھوڑی سی۔۔۔۔!!!
کالیا نے ہنس کر کہا اور کلب کی بیک سائیڈ پرعباس کو لے آیا تھا جس نے کافی پی لی تھی اور نشے میں تھا۔۔۔۔
کالیا جس جگہ عباس کو لایا تھا وہاں پر کسی کا بھی آنا نا آنے کے برابر تھا۔۔۔۔
ٹائیگر دیوار کے ساتھ کھڑا سگریٹ کے کش لے رہا تھا جیسے اس سے ضروری اسے کوئی کام نا ہو کالیا نے ٹائیگر کے پاس جاتے ہی عباس کا بازو چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
عباس لڑکھڑا کر ٹائیگر سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا تھا اور کالیا کو گھورنے لگا تھا جس کا چہرہ اسے دھندلا سا نظر آرہا تھا۔۔۔۔
کالیا نے عباس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی
ٹائیگر نے اےڈی کا سارا غصہ عباس کو مار کر نکلا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر نے عباس کو اتنا مارا تھا کہ اب اس میں ہلنے کی بھی سکت نہیں تھی۔۔۔۔
دونوں آنکھیں سوجھ گئ تھیں منہ اور ناک سے خون نکل رہا تھا اور اس کے ایک بازو کو بھی ٹائیگر نے توڑ دیا تھا تکلیف سے عباس چیخنے لگا تھا۔۔۔۔
عباس کی حالت ٹائیگر نے بہت بد تر بنا دی تھی عباس کو مارتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے جس کا چہرہ آرہا تھا وہ نور تھی۔۔۔۔
بس کر ابھی اس کی باری نہیں آئی۔۔۔۔!!!
کالیا نے ٹائیگر کو پیچھے کرتے ہوئے کہا اور اسے وہاں سے لے گیا۔۔۔۔
عباس وہی پڑا کراہ رہا تھا اس کا نشہ تو اچھے سے اتر گیا تھا لیکن آنکھوں پر پٹی ہونے کی وجہ سے وہ مارنے والے کو نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔۔
💖————💖
کبیر نے دروازہ نوک کیا اور اجازت ملنے پر ایک لمبی سانس لے کر روم میں داخل ہوا تھا احد آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا۔۔۔
ڈیڈ اب آپ کی طبیعت کیسی ہے۔۔۔۔؟ کبیر نے تھوڑی دیر بعد خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
احد نے آنکھیں کھول کر کبیر کو دیکھا تھا جو سنجیدگی سے احد کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
یہاں آؤ احد نے کبیر کو اپنے پاس بلاتے ہوئے کہا کبیر بیڈ پر کچھ فاصلے پر ہی بیٹھ گیا تھا اور احد کی طرف دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر احد سنجیدگی سے کبیر کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔
تم نے نور سے نکاح اس لیے کیا کیونکہ اس نے تم سے شادی کرنےسے منع کر دیا تھا۔۔۔۔؟
مجھے ہاں یا ناں میں جواب چاہیے۔۔۔۔!!! احد نے کہا۔۔۔
کبیر نے ہاں میں سر ہلا تھا۔۔۔۔
نور کی زندگی خراب کرنے کا مقصد مجھے بتا سکتے ہو کبیر خان۔۔۔۔؟؟
احد نے کبیر کی آنکھوں میں اپنی سرد آنکھیں گاڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
کبیر کو شک ہو رہا تھا کہ سامنے بیٹھا انسان اس کا باپ احد خان نہیں بلکہ آہل میر خان ہے اگر ایسا ہے تو اس کی خیر نہیں تھی۔۔۔
میں تمھارا باپ ہی ہوں بےغیرت انسان۔۔۔۔!!! احد نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
کبیر نے ایک دم سیدھا ہوا تھا اور احد کو بتانے لگا تھا کہ وہ اب نور کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔۔
ڈیڈ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے نور کے ساتھ میں اس وقت اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہوں گا لیکن اب نور کے لیے میرے احساسات بدل گئے ہیں نور میری بیوی ہے اور اب چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نور کو خود سے کبھی بھی الگ نہیں کروں گا۔۔۔۔!!!
کبیر نے سنجیدگی سے کہا احد کبیر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
بیٹا جی اگر نور ہی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہے گی تو تم زبردستی تو اس کے ساتھ ہرگز نہیں کر رو گے۔۔۔۔!!! احد نے کہا۔۔۔۔
ڈیڈ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ نور میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا نہیں فرق پڑتا ہے تو اس بات سے کہ میں کیا چاہتا ہوں نور کی اس معاملے میں کوئی بھی بات میرے لیے اہم نہیں ہے اور ہاں میں زبردستی کر سکتا ہوں بیوی ہے میری۔۔۔۔!!! کبیر نے سخت مگر آہستہ آواز میں کہا۔۔۔
جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!! احد نے کبیر کی بات کا جواب دیے بنا اسے روم سے باہر جانے کا کہا تھا۔۔۔
کبیر اپنے باپ کی بات سن کر ہنس پڑا تھا اور احد کے گلے لگنے کے بعد روم سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
یااللہ میرے بیٹے کو تھوڑی سی عقل عطا کر دے۔۔۔۔!!! احد نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔
💖————💖
عشال اور نور کا ارادہ کچھ دن ایک ہی روم میں رہنے کا تھا نور تو عشال کو دیکھ کر بہت خوش تھی اور ان سب باتوں میں وہ اپنی تکلیف بھول چکی تھی بھول تو عشال بھی بہت کچھ گئ تھی یہاں آکر اس نے کب سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے اتنی اچھی فیملی دے گا۔۔۔۔
دونوں باتیں کر رہی تھیں اور حجاب بھی اپنی سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔
جب زارا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور حجاب ایک دم ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا تم اتنی خاموش کیوں ہو۔۔۔۔؟ زارا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔
وہ میں کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔۔!!!
حجاب نے اپنا رخ زارا کی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا۔۔۔۔؟
زارا نے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ حجاب بہت کم ہی سیریس ہوتی تھی اور اس وقت بھی اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی جو زارا کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
میں سوچ رہی ہوں کہ کس طرح زید بھائی کو تنگ کیا جائے اور سارا الزام زارا میڈم پر آجائے۔۔۔۔!!!
حجاب نے کہا جبکہ سنجیدگی ابھی بھی ویسے ہی اس کے چہرے پر بر قرار تھی اور زارا ہکی بکی سی منہ کھولے حجاب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
تم کبھی نہیں سدھر سکتی تم سے تو شیطان بھی پناہ مانگتا ہو گا۔۔۔۔!!!
زارا نے دانت پستے ہوئے کہا زارا کو ہمدردی مہنگی پڑ گئ تھی۔۔۔۔
اتنی تعریف پر میں زارا میڈم کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔۔۔۔!!! حجاب نے مسکرا کر ہلکا سا اپنے سر کو خم دیتے ہوئے کہا جبکہ باقی سب حجاب کی بات سن کر ہنس پڑی تھیں۔۔۔۔
💖————💖
کمینوں میں جارہا ہوں باہر مجھے نہیں رہنا یہاں بندہ ایک بار چکر ہی لگا لیتا ہے لیکن تم لوگوں کو کہاں پرواہ ہے میری۔۔۔۔!!!
برہان دروازہ کھولتے ہی زید اور کبیر پر برسنے لگا تھا۔۔۔۔
ہو گیا تیرا اب دروازے سے ہٹ۔۔۔۔!!!!
کبیر نے بیزاریت سے کہا اور برہان کو راستے سے ہٹا کر خود اندر آگیا۔۔۔۔
ویسے برہان تم بہت اچھی ایکٹنگ کر لیتے ہو کیوں نا تم فلموں میں کام کرو۔۔۔۔!!!
کبیر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے برہان کو کہا جو غصے میں کھڑا اپنے عزیز کمینمے دوستو کو دیکھ رہا تھا نہیں دیکھ نہیں بلکہ گھور رہا تھا۔۔۔۔
اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو مجھے ان فضول مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!!! برہان نے بھی بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
زید کی کال آگئ تھی اس لیے وہ یہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا اب کبیر اور برہان ہی موجود تھے۔۔۔
عشال زندہ ہے۔۔۔۔!!!
کبیر نے برہان کے سر ہر بمب پھوڑا تھا۔۔۔
کبیر یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟ برہان نے بے یقینی کے عالم میں پوچھا۔۔۔۔
کیونکہ عشال اس کی آنکھوں کے سامنے مری تھی۔۔۔
میں سچ کہہ رہا ہوں بڑے پاپا اسے گھر لے آئے ہیں مجھے تو خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ عشال نور کی جڑواں بہن ہے۔۔۔۔!!!
اور اےڈی کے ساتھ نکاح کا گھر میں کسی کو بھی معلوم نہیں ہے بڑے پاپا نے کسی کو بھی بتایا نہیں ہے برہان پہلے ہی کبیر کو بتا چکا تھا کہ عشال اور اےڈی کا نکاح ہو چکا تھا۔۔۔۔!!!
کبیر پھر نومی کی حرکت برہان کو بتانے لگا تھا کہ کس طرح اس نے عشال کو مارنے کی کوشش کی تھی اور یہ بھی بتایا کہ نومی اےڈی کا ڈیڈ بھی ہے۔۔۔۔
برہان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کس طرح خوشی منائے آج اس خبر نے اسے بہت خوش کیا تھا کبیر آج اتنے دنوں بعد برہان کو خوش دیکھ رہا تھا اسے خوش دیکھ کر کبیر نے اسے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی تھی۔۔۔۔
کبیر میں ایک بار عشال سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!!
برہان نے خوشی سے کبیر کو کہا جس نے صاف منع کر دیا تھا۔۔۔ اور اب برہان نے کبیر کو اس بات کے لیے راضی کرنا تھا اور وہ جانتا تھا کہ کبیر ضرور مان جائے گا۔۔۔۔
💖————💖
اگلے دن نور نے فل بلیک سوٹ پہنا تھا اور ساتھ بلیک ہی ڈوپٹہ لیا تھا چہرے کا زخم اب کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا۔۔۔۔
نور کا ارادہ نیچے جانے کا تھا جب کسی فولادی ہاتھ نے اس پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا تھا نور کو معلوم تھا کہ یہ کبیر ہی ہوسکتا ہے اس لیے چونکی نہیں تھی۔۔۔۔
نور نے کبیر کے چہرے کی طرف دیکھا جو گہری نظروں سے نور کے چہرے کو دیکھ رہا تھا کبیر کی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے نور نے اپنی نظریں جھکا لی تھیں۔۔۔
کل رات تم روم میں کیوں نہیں آئی۔۔۔۔؟؟ کبیر نے مدہم سی آواز میں پوچھا۔۔۔
کس کے۔۔۔؟ نور نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
میرے یار۔۔۔۔!!! کبیر نے شوخی سے جواب دیا۔۔۔
میں کیوں آپ کے کمرے میں آؤں گی۔۔۔۔؟ نور نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
مجھے کمرے کی صفائی کروانی تھی۔۔۔۔!!! کبیر نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
گھر میں بہت سارے ملازم ہے آپ کسی کو بھی کہہ دے وہ کر دے گا۔۔۔۔!!!
نور نے آسان حل بتاتے ہوئے کہا۔۔۔
