Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

نور کی آنکھ کُھلی تو اس کے کمرے میں کوئی نہیں تھا اور ماتھے پر بھی بینڈیج لگا ہوا تھا۔۔۔۔ اور اس کے سر میں بھی درد تھا۔۔۔۔
بےہوش ہونے سے پہلے اس نے ٹائیگر کو دیکھا تھا
لیکن اب کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
نور کو پھر سے کبیر کا رویہ یاد آیا تھا پھر سے اس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئ تھیں۔۔۔۔
لیکن اس کے کانوں میں ٹائیگر کی بات گونجی تھی۔۔۔۔
” آئندہ تمھارے خوبصورت نین کٹوروں میں پانی نا آۓ۔۔۔۔۔”!!!
نور نے جلدی سے اپنے آنسو ساف کیے تھے جیسے ٹائیگر اسے دیکھ رہا ہو۔۔۔۔
💖————💖
ایک دن بعد سحر اور معاذ، زارا اور زید کا نکاح تھا
اور اگلے دن ولیمہ تھا۔۔۔۔
زید تو بہت خوش تھا اسد تو زید کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔۔۔۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ زید زارا کو اتنا پسند کرتا ہے۔۔۔۔
اسد اور زید کو میر نے بلایا تھا۔۔۔۔
زید اور اسد لائبریری میں داخل ہوۓ تھے جو میر نے اپنے کام کے لیے بنائی تھی۔۔۔۔۔ زیادہ وقت میر لائبریری میں گزارتا تھا۔۔۔۔
اور اس میں احد اور زین کے علاوہ کسی کو بھی آنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔ اس لیے زید اور اسد حیران تھے۔۔۔۔
بڑے پاپا آپ نے ہمیں بلایا ہے۔۔۔۔؟ اسد نے میر سے پوچھا۔۔۔
تم دونوں کبیر کے ساتھ ہی ہوتے ہو۔۔۔۔ اور تم دونوں بھی فلم انڈسٹری میں ہو تو جو کچھ کبیر کرتا ہے تم دونوں کو بھی معلوم ہو گا۔۔۔۔؟؟؟
میر نے دونوں کے چہرے پر دیکھتے ہیں ہوۓ کہا۔۔۔۔
ہم سمجھے نہیں بڑے پاپا آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟ زید نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
کبیر ڈرگز سپلائی کرتا ہے کیا تم دونوں یہ بات جانتے تھے۔۔۔۔؟؟؟ میر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
کیا کبیر ڈرگز سپلائی کرتا ہے۔۔۔۔؟؟
زید نے حیرانگی سے پوچھا یقین تو اسد کو بھی نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ اگر یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی تو یہ دونوں کبھی بھی اس کی بات پر یقین نا کرتے۔۔۔۔ لیکن یہ بات ان کے بڑے پاپا نے کہی تھی جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔۔۔۔
زید اور اسد تو آنکھیں بند کر کے میر پر یقین کر سکتے تھے۔۔۔۔
اس کا مطلب ہے تم دونوں کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔۔۔۔؟؟؟ میر نے لمبی سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نہیں بڑے پاپا ہمیں اتنا معلوم ہے کہ کبیر کی کچھ گرل فرینڈز ہے لیکن ڈرگز کا ہمیں معلوم نہیں ہے۔۔۔۔!!! اسد نے کہا۔۔۔
یعنی کہ اس کی کچھ گرل فرینڈز بھی ہے بہت خوب۔۔۔۔!!! میر نے طنزیہ کہا۔۔۔۔
اور ہاں گھر میں یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔ یہاں تک کے زین اور احد کو بھی
نہیں۔۔۔۔!!! میر نے دونوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
جی۔۔۔۔!!!
دونوں نے ایک زبان ہوکر کہا اور لائبریری سے باہر آ گئے۔۔۔۔۔
💖————💖
کیا یہ سچ ہے۔۔۔۔؟ زید نے حیرانگی سے اسد سے پوچھا۔۔۔۔
بڑے پاپا کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔۔!!! اسد نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
ہاں لیکن مجھے یقین نہیں آرہا کبیر کیوں ایسا کرے گا۔۔۔۔؟؟؟ زید نے پریشانی سے کہا۔۔۔
اس کا جواب تو کبیر ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔۔!!! اسد نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
💖————💖
کبیر کیا تم سچ میں ڈرگز سپلائی کرتے ہو۔۔۔۔؟
زید نے سنجیدگی سے پوچھا آج پہلی بار زید بھی سنجیدہ ہوا تھا۔۔۔۔
اگر تمہیں بڑے پاپا نے بتایا ہے تو تم جانتے ہو کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔۔۔؟؟ کبیر نے بھی سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
اور تم یہ واہیات کام کیوں کرتے ہو بتانا پسند کرو گے۔۔۔۔۔؟؟ اسد نے غصے سے پوچھا۔۔۔
تم دونوں میرے کام سے دور رہو تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔۔!!!
کبیر نے بھی غصے سے کہا وہ پہلے ہی پریشان تھا۔۔۔۔
ریلی کبیر تمھیں لگتا ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔۔۔۔ تمھارے لیے یہ جھوٹی بات ہو سکتی ہے لیکن ہمارے لیے یہ چھوٹی بات بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔!!!
ہمیں تم سے اس بات کی بلکل بھی امید نہیں تھی تمھارے ساتھ ہم ہمیشہ رہے ہیں۔۔۔۔ جو بھی تم کرتے ہو اس پر پردہ ڈالا ہے۔۔۔۔!!!
لیکن اب ہمیں پتہ چل رہا ہے ہمارا بھائی ہمارا دوست ڈرگز سپلائی کرتا ہے۔۔۔۔ کل کو ہمیں یہ بات بھی سننے کو ملے گی کہ کبیر خان لڑکیاں سپلائی بھی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔!!!
اسد نے کبیر کو گھورتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر کہا دونوں کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
اسد میں نہیں چاہتا ہمارے درمیان بحث ہو اس لیے اس بات کو چھوڑ دو۔۔۔۔!!! کبیر نے تحمل سے جواب دیا۔۔۔
واہ کبیر خان کیا بات کی ہے آپ نے اور تمھارے چہرے پر شرمندگی کے آثار ہی نظر نہیں آرہے۔۔۔۔ میں نے نہیں سوچا تھا کہ میرا بھائی اتنا گھٹیا کام بھی کرتا ہو گا۔۔۔۔!!!
اور تم نے بلکل ٹھیک کہا اب ہمیں اس بات پر بحث نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔!!! اسد نے کہا۔۔۔
اور سچ کہوں تو اب میرا دل بھی نہیں کررہا تم سے بات کرنے کو لگے رہو جو بھی کر رہے ہو کرتے رہو
لیکن اس طرح کے کام میں نا تو میں تمھارا ساتھ دوں گا نا ہی زید چلو زید۔۔۔۔!!!
اسد نے پہلے کبیر کو کہا اور پھر زید کا ہاتھ پکڑ کر دونوں باہر چلے گئے۔۔۔۔
کبیر کی آنکھیں غصے کہ زیادتی سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔
تم دونوں کا بہت برا حال کرو گا میں آج تمھاری وجہ سے میرے بڑے پاپا میرے بھائی مجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔
کبیر نے نور اور ٹائیگر کو مخاطب کرتے ہوۓ اپنا عکس آئینے میں دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
💖————💖
عدنان کے آدمی نے حجاب کو اس کی یونی کے باہر سے اغوا کیا تھا۔۔۔۔ اور اسے ایک ہوٹل میں لے گیا تھا۔۔۔۔
پہلے عدنان نے اپنے آدمی کو خود کے فارم ہاؤس پر لانے کا کہا تھا۔۔۔۔ لیکن پھر اس کا پلان تبدیل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اسے نور کو ہوٹل میں رکھنا زیادہ بہتر لگا تھا۔۔۔۔
لیکن عدنان نہیں جانتا تھا جسے وہ نور سمجھ رہا ہے وہ حجاب ہے۔۔۔۔
سر کام ہو گیا ہے لڑکی ہوٹل کےکمرے میں بے ہوش پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔!!! عدنان کے آدمی نے کہا۔۔۔
اوکے۔۔۔!! عدنان نے مسکراتے ہوئے کہا اور ہوٹل کے لیے نکل پڑا۔۔۔۔
💖————💖
حجاب کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو انجان جگہ پر پایا تھا۔۔۔۔ جب اس کی نظر سامنے کھڑے آدمی پر پڑی جو حجاب کو گندی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔؟ اور مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو۔۔۔؟؟ حجاب نے بیڈ سے نیچے اُترتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اسے یاد تھا کہ یہ یونی سے باہر نکلی تھی جب کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھا تھا۔۔۔۔ اور پھر حجاب بیہوش ہوگئ تھی اس کے بعد جب اس کی آنکھ کھولی تو اس نے اپنے آپ کو اس انجان گھر میں پایا تھا۔۔۔۔
سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ کر حجاب کو خطرے کی بو آرہی تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ آدمی کوئی جواب دیتا کمرے کا دروازہ کھول کر عدنان اندار آیا تھا۔۔۔۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے حجاب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
حجاب کو عدنان کی گندی نظریں بہت کچھ باور کروا رہی تھیں۔۔۔۔
عورت اپنے اوپر اُٹھنے والی ہر نگاہ کے بارے میں جان جاتی ہے کہ کس کی نگاہ میں عزت ہے اور کسی کی نگاہ میں غلاظت ہے۔۔۔۔ تو حجاب کو کیسے نا معلوم ہوتا۔۔۔۔
جاؤ باہر۔۔۔۔!! عدنان نے پاس کھڑے آدمی کو کہا
جو عدنان کا حکم سنتے ہی کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
ویسے جیسی تم خود ہو ویسا ہی تمھارا نام بھی ہے نور۔۔۔۔!!!
عدنان نے قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔ نور کا نام سن کر حجاب کو لگا کہ نور بھی یہی پر ہے۔۔۔۔
نور کہاں ہے۔۔۔۔؟ کیا وہ بھی یہاں پر ہے۔۔۔؟؟ حجاب نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔
کیا مطلب تم نور نہیں ہو۔۔۔۔؟؟؟ عدنان نے چہرے پر حیرانگی لیے کہا۔۔۔۔
نہیں میں حجاب ہوں۔۔۔!! حجاب نے جلدی سے کہا۔۔۔
اسی وقت عدنان کا موبائل رنگ ہوا تھا اسی آدمی کا فون تھا جس نے حجاب کی تصویر عدنان کو سینڈ کی تھی۔۔۔۔
سر ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئ ہے۔۔۔۔ ہم نے غلط لڑکی کو اغوا کر لیا ہے۔۔۔۔!!! اس آدمی نے شرمندگی سے کہا۔۔۔۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے تم اتنے لاپرواہ کیسے ہو سکتے ہو۔۔۔۔؟؟ عدنان نے چلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
سر معاف کر دیں آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی۔۔۔!!! اس آدمی نے کہا۔۔۔
عدنان نے فون دیوار میں دے مارا تھا اسے لگا تھا آج اس نے اےڈی کو نیچا دکھا دیا ہے۔۔۔۔ لیکن ایک بار پھر عدنان اےڈی سے ہار گیا تھا۔۔۔۔
حجاب نے عدنان کو خود میں الجھے ہوۓ دیکھا تو دروازے کی طرف بھاگنے لگی۔۔۔۔
جب عدنان نے حجاب کا بازو پکڑنا چاہا۔۔۔ لیکن حجاب کے بازو سے کچھ کپڑا عدنان کے ہاتھ میں آگیا تھا۔۔۔۔
حجاب نے جلدی سے اپنے ڈوپٹے سے اپنی بازو کو کور کیا تھا۔۔۔۔ بس اس کے رونے کی کسر رہ گئی تھی۔۔۔
پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔!! حجاب نے بھاری آواز میں کہا۔۔۔
اب نور نہیں تو تم ہی سہی۔۔۔۔ اگر ہم شیر کے سامنے گوشت رکھ کر کہے گے کہ اسے کھانا نہیں ہے۔۔۔۔ یہ تو ناممکن سی بات ہو گی نا ڈارلنگ۔۔۔۔!!! عدنان نے کمینگی سے کہا۔۔۔
حجاب کو عدنان کے پیچھے ایک کھڑی نظر آئی تھی۔۔۔۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ اس وقت کون سی جگہ پر ہے۔۔۔۔ کتنی اونچائی پر ہے لیکن اسے اپنی عزت بچانے کے لیے یہ ہی صحیح لگا تھا۔۔۔۔
حجاب نے عدنان کو دھکا دیا اور کھڑی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
اگر تم نے میرے قریب آنے کی کوشش کی تو میں یہاں سے کود جاؤں گی۔۔۔۔!!!
حجاب نے اپنے آنسو صاف کرتے عدنان کو دھمکاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
جسے حجاب کی بات سن کر کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔
اسے یقین تھا کہ حجاب کبھی بھی کھڑی سے نہیں کودے گی لیکن یہ صرف اس کا خیال ہی تھا۔۔۔۔ عدنان حجاب کی طرف اپنے قدم بڑھا رہا تھا۔۔۔
حجاب نے دھندلی آنکھوں میں بے بسی لیے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔۔۔۔ حجاب کو نہیں لگ رہا تھا کہ اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد یہ بچ پاۓ گی۔۔۔۔
میں جھوٹ نہیں بول رہی میں سچ میں یہاں سے کود جاؤ گی۔۔۔۔!! حجاب نے آخری کوشش کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تو کود جاؤ۔۔۔!!! عدنان نے حجاب کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
حجاب کی آنکھوں کے سامنے اپنے سب پیاروں کا چہرہ آیا تھا۔۔۔۔ اس کے بعد بنا کچھ سوچے حجاب کھڑکی سے کود گئ تھی۔۔۔
عدنان آنکھوں میں بے یقینی لیے کھڑی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے بلکل بھی یقین نہیں تھا کہ حجاب سچ میں کود جاۓ گی۔۔۔۔
نیچے اسد کے قدموں میں حجاب گری تھی اسد کے قدموں کو بریک لگی تھی۔۔۔۔ جو دونوں آنکھیں پھاڑے حجاب کے خون میں لت پت بےجان وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔!!!
💖————💖
اسد اس ہوٹل میں اپنے ایک دوست سے ملنے آیا تھا
اس لیے جلدی جلدی چل رہا تھا۔۔۔۔ جب اوپر سے کسی کا وجود اسد کے قدموں میں آ گرا تھا۔۔۔۔۔
پہلے تو اسد آنکھوں میں حیرانگی لیے اُس وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ لیکن جب اس نے گرنے والے کی شکل کی طرف دیکھا تو اسے لگا یہ سب خواب ہے۔۔۔۔
بھلا حجاب یہاں کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟؟؟
اسد گھٹنوں کے بل حجاب کے پاس بیٹھا تھا سب لوگ جمع ہو گئے تھے۔۔۔۔
کسی آدمی نے اسد کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
بھائی آپ انہیں جانتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
اس آدمی نے اسد کو کہا تھا جو ہوش کی دنیا میں آیا تھا۔۔۔۔ اور یہ سب خواب نہیں تھا اسد نے حجاب کو اپنی باہوں میں اُٹھایا اور اپنی گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔
💖————💖
سر آپ کی فیکٹری میں آگ لگ گئ ہے۔۔۔۔!!! جون نے کمرے میں داخل ہوتے پریشانی سے کہا۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟
اس فیکٹری کا تو کسی کو بھی نہیں معلوم تھا۔۔۔۔!!!اےڈی نے جون کو کہا۔۔۔
سر یہی بات مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی کہ فیکٹری کے تہہ خانے کا کسی کو کیسے معلوم ہوا۔۔۔؟؟؟ جون نے بھی پریشانی سے کہا۔۔۔
کون ہے جو اےڈی کو چیلنج کر رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے جون کو گھورتے ہوۓ کہا۔۔۔
سرآپ سے انسپکٹر بھی ملنے آیا ہے۔۔۔۔!! جون نے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔۔
وہ کمینہ کیا لینے آیا ہے کسی بھی کام کا نہیں ہے اسے کہو اگر اسے اپنی جان پیاری نہیں ہے تو میرے سامنے آجاۓ۔۔۔۔۔!! اےڈی نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نیلی آنکھیں اس وقت غصے کی زیادتی سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔
سر وہ کچھ اہم بات بتانا چاہتا ہے آپ کو۔۔۔۔!! جون نے کہا تھا۔۔۔
بھیجو اُسے اگر اس نے کام کی بات بتائی تو ٹھیک ہے ورنہ اُس انسپکٹر کا بھی آج آخری دن ہو گا۔۔۔۔!!!
اےڈی نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔ جب تھوڑی دیر بعد انسپکٹر مسکراتا ہوا اندر آیا۔۔۔
سلام صاحب مجھے آپ کو ایک ضروری بات بتانی ہے۔۔۔۔!!! انسپکٹر نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
بولو۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے سگریٹ کو جلاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
صاحب ٹائیگر اب ہمارے لیے کام کرے گا وہ مان گیا ہے۔۔۔۔ کل جو سامان آیا تھا جو فیکٹری میں رکھنا تھا۔۔۔۔ اسے لانے میں ٹائیگر نے ہماری مدد کی تھی۔۔۔۔!! انسپکٹر نے خوشی سے اےڈی کو بتایا۔۔۔
تو اس کا مطلب ٹائیگر اس فیکٹری کے بارے میں جان گیا ہے۔۔۔۔؟؟ اےڈی نے عام سے لہجے میں پوچھا۔۔۔
ہاں بلکل میں ہی تو اسے وہاں لے کر گیا تھا انسپکٹر نے کہا۔۔۔۔
اےڈی نے انسپکٹر کی بات سنی اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتا ہوا انسپکٹر کے پاس آکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
پھر تو تمہیں انعام ملنا چاہیے۔۔۔۔!!
اےڈی نے کہا اور اپنے بھاری ہاتھ سے انسپکٹر کو ایک زوردار تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔
انسپکٹر زمین پر جا گرا تھا پورے کمرے میں اےڈی کے تھپڑ کی آواز گونجی تھی۔۔۔۔
تمہارے جیسے گدھے پالنے سے بہتر ہے میں تم سب کی جان لے لوں۔۔۔۔!!!
اور تمہیں انعام کا لالچ تھا نا تمہیں انعام ملے گا۔۔۔۔
تمہیں میں ایسی موت دوں گا جس میں تم سسک سسک کے مرو گے۔۔۔۔ اور میرے سارے آدمی تمہیں دیکھے گے۔۔۔۔ تاکہ دوبارہ کوئی ایسی غلطی نا کر سکے۔۔۔۔!!! اےڈی نے غصے سے دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
جون باہر لے جاؤ اسے اور صرف دو بچھو اس کے جسم پر چھوڑ دو۔۔۔۔۔ تاکہ یہ کمینہ انسان تکلیف کو محسوس کر سکے اور تڑپ تڑپ کر مرے۔۔۔۔!!
اےڈی نے نفرت سے کہا اور جون انسپکٹر کو وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔۔۔
ٹائیگر اب تمھاری باری ہے تمہیں بتانا پڑے گا کہ اےڈی کا چیز ہے۔۔۔۔!! اےڈی نے ٹہلتے ہوۓ خود سے کہا۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞