Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

سحر اور نور کو مارکیٹ گئے دو گھنٹے ہوگئے تھے لیکن ابھی تک وہ واپس نہیں آئی تھیں۔۔۔۔
ہانی نے کافی بار سحر کو فون بھی کیا تھا لیکن سحر کا نمبر بند جارہا تھا۔۔۔۔
ہانی کافی پریشان ہوگئ تھی۔۔۔۔
حیاء تو خود رونے والی ہو گئی تھی۔۔۔۔ وہ میر کو فون کرنے والی تھی لیکن ہانی نے روک دیا تھا کہ پہلے زین بھائی سے بات کر لیتے ہیں اور ویسے بھی میر مُلک سے باہر تھا۔۔۔۔
ہانی نے زین کو فون کرکے ساری بات بتائی تھی اور عادل کو وہ پہلے ہی کال کر چکی تھی۔۔۔۔
زین اور احد دونوں پریشانی سے گھر آۓ تھے
وہ دونوں اُسی مارکیٹ میں سحر اور نور کو تلاش کر چکے تھے۔۔۔۔ لیکن دونوں کہی نہیں ملی تھیں۔۔۔ ایک آدمی نے بتایا تھا کہ کچھ آدمی دو لڑکیوں کو لے کر جارہے تھے۔۔۔۔
اور جب اس آدمی نے لڑکیوں کے حلیے کے بارے میں بتایا تو زین اور احد کو یقین ہو گیا تھا کہ نور اور سحر کو کسی نے کیڈنیپ کر لیا ہے۔۔۔۔
بھائی نور اور سحر کا معلوم ہوا۔۔۔۔؟؟ عادل نے بے تابی سے زین سے پوچھا۔۔۔۔
نہیں لیکن تم فکر مت کرو ہم بہت جلد ان کو ڈھونڈ لے گے۔۔۔۔!!! احد نے عادل کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔
بھائی اگر وہ کسی مصبیت میں ہوئی تو۔۔۔۔؟ عادل نے پریشانی سے کہا۔۔۔
اللہ پر بھروسہ رکھوانشاءاللہ وہ دونوں ٹھیک ہونگی تم فکر مت کرو۔۔۔۔!!! زین نے عادل کو کہا۔۔۔
💖————💖
زین کیا کرنا ہے۔۔۔۔؟ مجھے تو یہ اےڈی کا کام لگ رہا ہے۔۔۔ کیونکہ اس شہر میں ایک اےڈی ہی مشہور ہے جو لڑکیوں کو سپلائی کرتا ہے۔۔۔۔!!
اور ہوسکتا ہے نور اور سحر کو بھی اس نے اغوا کروایا ہو۔۔۔؟؟ احد نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
دونوں خود بھی بہت پریشان تھے میر بھی یہاں نہیں تھا۔۔۔۔
اگر وہ یہاں ہوتا تو اگر یہ کام اے ڈی کا تھا تو اس کی جان لے لیتا۔۔۔۔
میر کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے لیکن ایک انسان ہماری مدد کرسکتا ہے۔۔۔۔!!! زین نے احد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کون۔۔۔؟
کہیں تم اس جنگلی ٹائیگر کی بات تو نہیں کر رہے۔۔۔۔؟؟ احد نے زین کو کہا۔۔۔
ہاں میں اسی کی بات کررہا ہوں اسے صرف پیسہ چاہیے اور پیسے دے کر اس سے جتنا مرضی مشکل کام کروا لو۔۔۔۔!!! زین نے کہا۔۔۔۔
تمھیں یقین ہے کہ وہ ہماری مدد کرے گا ہوسکتا ہے وہ منع کر دے۔۔۔؟ احد نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
میں نے کہا نا اسے پیسوں سے مطلب ہے اور وہ ہمارا کام ضرور کرے گا۔۔۔۔!!! زین نے یقین سے کہا۔۔۔۔
💖————💖
ماما کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟ کبیر نے پری سے پوچھا۔۔۔
بیٹا سحر اور نور مارکیٹ گئ تھیں اور ابھی تک واپس نہیں آئیں۔۔۔ پتہ نہیں دونوں کس حال میں ہونگی۔۔۔؟؟ پری نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔؟ کہا جاسکتی ہیں ہوسکتا ہے اپنی کسی دوست کی طرف چلی گئ ہوں۔۔۔۔؟ اسد نے بھی پریشانی سے کہا۔۔۔۔
نہیں بیٹا احد ہر جگہ معلوم کر چکے ہے وہ کہی نہیں ہے۔۔۔۔!!!
اگر میر بھائی یہاں ہوتے تو اب تک دونوں گھر پر ہوتی۔۔۔!!! پری نے کہا۔۔۔
ماما آپ پریشان نا ہوں ہم لوگ بھی ان کو ڈھونڈتے ہیں وہ مل جاۓ گی۔۔۔۔
کبیر نے کہا اور پھر اسد اور کبیر بھی گھر سے باہر نکل گئے۔۔۔۔
💖————💖
کبیر بھی کافی پریشانی تھا۔۔۔۔ جب اسد نے اس سے پوچھا۔۔۔
تم سحر کے لیے زیادہ پریشان ہو یا نور کے لیے۔۔۔۔؟
اسد کا سوال سن کر کبیر ایل دم چونکا تھا۔۔۔۔
دونوں کے لیے سحر میری بہن کی طرح ہے۔۔۔ اور نور بڑے پاپا کی بیٹی ہے۔۔۔ اور بڑے پاپا سے میں بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔ اور میں نہیں چاہتا نور کی وجہ سے وہ دکھی ہو اس لیے میں نور کے لیے بھی پریشان ہوں۔۔۔۔!!!! کیبر نے کہا۔۔۔۔
اتنی لمبی دلیل دینے کی ضرورت بھی نہیں تھی آرام سے کہہ دیتے ہاں فکر ہے مجھے نور کی بھی۔۔۔!!! اسد نے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مجھے نور کی فکر صرف بڑے پاپا کی وجہ سے ہے
ورنہ میں کبھی بھی اسے نا ڈھونڈتا۔۔۔۔!!! کبیر نے غصے سے کہا۔۔۔۔
اسد نے ایک دم کبیر کی طرف دیکھا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ کبیر نور سے اس حد تک نفرت کرتا ہے۔۔۔۔
اس معصوم نے تمھارا کیا بگاڑا ہے جو تم اس سے اتنی نفرت کرتے ہو۔۔۔۔؟
اسد نے بھی تھوڑا غصے میں پوچھا اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا کبیر اسد کی لاڈلی بہن کے بارے میں بات کررہا تھا بھلا اسد کیسے چپ ہوکر سن لیتا۔۔۔۔
اسد ہم اس بارے میں بات نا ہی کرے تو زیادہ بہتر ہے۔۔۔!!! کبیر نے کہا۔۔۔
اسد بھی خاموش ہو گیا تھا کیونکہ اس وقت نور اور سحر کو ڈھونڈنا زیادہ ضروری تھا۔۔۔۔
💖————💖
کیا ہوا ہے کیوں تم مجھے اتنی جلدی کلب سے واپس لے آۓ ہو۔۔۔؟ ابھی تو میں نے انجوائے بھی نہیں کیا۔۔۔
ٹائیگر نے غصے سے گھورتے ہوئے کالیا کو کہا۔۔۔
کچھ خاص لوگ تم سے ملنے کے لیے آۓ ہیں کالیا نے کہا۔۔۔۔
آج میں کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتا ابھی میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔۔
لیکن ہمیں تم سے بات کرنی ہے ٹائیگر۔۔۔!! زین نے کہا۔۔۔۔
زین کی آواز سن کر ٹائیگر اور کالیا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔
واہ واہ کالیا تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ بیسٹ کے پارٹنر آۓ ہیں۔۔۔ ٹائیگر نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
احد نے بڑے غور سے ٹائیگر اور کالیا کو دیکھا تھا۔۔۔ اور دونوں کو دیکھنے کے بعد احد نے دل میں یہ بات ضرور تسلیم کی تھی۔۔۔ کہ آج سے پہلے اس نے اتنی خوفناک شکلیں نہیں دیکھی۔۔۔۔
بیٹھیے کیسے آنا ہوا تم لوگوں کا میرے غریب خانے پر۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اس کی کالی بلی یعنی ایلکس بھی ٹائیگر کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
تم ہمیں جانتے ہو۔۔۔؟ احد نے پوچھا۔۔۔
آپ لوگوں کو کون نہیں جانتا۔۔۔؟ ٹائیگر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ٹائیگر ہمیں تمھاری مدد چاہیے اس کے بدلے تم جتنے پیسے چاہو گے تمہیں ملے گے۔۔۔۔!!! زین نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
بیسٹ کے ہوتے ہوئے مجھ سے تم لوگ مدد مانگ رہے ہو یہ بات مجھے ہضم نہیں ہورہی۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
اگر بیسٹ یہاں ہوتا تو اس وقت ہم لوگ تمھارے پاس نا ہوتے۔۔۔۔!! احد نے کہا۔۔۔
اوووو بیسٹ یہاں نہیں ہے بیسٹ کے بارے میں میں نے بہت سنا ہے۔۔۔۔ لیکن دیکھنے کا اتفاق مجھے آج تک نہیں ہوا۔۔۔!!!ٹائیگر نے کہا۔۔۔
کبھی ہو گا بھی نہیں۔۔۔!!! احد نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
زین اور احد نے بھی اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔۔۔
اور جس چہرے کے ساتھ وہ بیسٹ کے ساتھ پاۓ جاتے تھے۔۔۔ اس وقت اُسی چہرے کے ساتھ ٹائیگر کے سامنے موجود تھے۔۔۔۔
کیا کر سکتا ہوں میں تم لوگوں کے لیے۔۔۔؟ ٹائیگر نے پوچھا۔۔۔۔
ان دونوں لڑکیوں کو اےڈی کے آدمیوں نے اغوا کر لیا ہے۔۔۔ اگر تم ان دونوں کو صحیح سلامت واپس لے آتے ہو تو جتنے پیسے مانگو گے تمہیں ملے گے۔۔۔۔!!! زین نے ٹائیگر کے سامنے نور اور سحر کی تصاویر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے کام ہوجاۓ گاصبح ہونے سے پہلے دونوں لڑکیاں تمھارے پاس ہوگی۔۔۔۔!! ٹائیگر نے کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے اور پیسہ کام ہوجانے کے بعد ملے گا۔۔۔!! زین نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور وہاں سے جانے لگے جب احد نے زین کو کہا۔۔۔
زین مجھے ٹائیگر کو ایک مشورہ دینا ہے۔۔۔!!!احد نے آہستہ آواز میں کہا۔۔۔۔
زین رک کر احد کو دیکھنے لگا تھا جو پتا نہیں کون سا مشورہ ٹائیگر کو دینے والا تھا۔۔۔
مسٹر ٹائیگر اور کالیا میں تم دونوں کو ایک مخلصانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں۔۔۔!!! احد نے دونوں کی شکلوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
دونوں احد کی طرف دیکھ ریے تھے۔۔۔۔
اتنا پیسا کماتے ہو تم دونوں تھوڑا اپنے اوپر بھی لگا لیا کرو۔۔۔!! ورنہ کوئی بھی عام انسان تم دونوں کی شکلیں دیکھ لے تو پکا ہارٹ اٹیک سے مر جاۓ گا۔۔۔۔ اور گناہ الگ تم دونوں کے سر آۓ گا۔۔۔۔!!! احد نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا اور زین کا دل کیا احد کا سر پھاڑ دے جو کہی بھی شروع ہوجاتا تھا۔۔۔۔
زین اور احد کے جانے کے بعد ٹائیگر اور کالیا حیران سے کھڑے تھے۔۔۔۔ کیونکہ ایسا مشورہ آج تک ان کو کسی نے نہیں دیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
کالیا اےڈی کا ٹرک کتنے بجے نکل رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے تصاویر پکڑتے ہوۓ پوچھا لیکن دیکھی نہیں تھیں۔۔۔۔
ایک گھنٹے بعد نکل رہا ہے۔۔۔!! کالیا نے کہا۔۔۔
تم جاؤ گے مجھے لگتا ہے دونوں لڑکیاں اسی ٹرک میں ہوں گی۔۔۔ اور ایلکس تمھارے ساتھ جاۓ گا کافی دنوں سے اس نے بھی انسانی گوشت نہیں کھایا۔۔۔!!! ٹائیگر نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
💖————💖
کیا نام ہے تمھارا۔۔۔۔؟
اےڈی نے اپنے جزبات پر قابو پاتے ہوۓ اپنے سامنے کھڑی ڈری سہمی نور سے پوچھا
جو بار بار اپنا چشمہ ٹھیک کررہی تھی۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔۔۔!! نور نے اےڈی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
نام کیا ہے تمھارا۔۔۔؟ جواب دو اےڈی نے غصے میں پوچھا اور نور کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔
نو۔۔۔ نور۔۔۔ می۔۔۔ میرا۔۔۔ نا۔۔ نام۔۔۔ نو۔۔ نور۔۔ ہ۔۔ ہے۔۔۔!! نور نے ڈرتے ڈرتے کہا۔۔۔
اےڈی نور کو کچھ دیر دیکھتا رہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
💖————💖
اےڈی نور والے کمرے سے باہر آگیا تھا اور باہر آکر اس نے اپنی ٹائی ڈھیلی کی تھی۔۔۔۔
سر ا سارا انتظام ہوگیا ہے بس وہ دونوں لڑکیاں رہ گئ ہے ابھی جون مزید کچھ کہتا کہ اےڈی بول پڑا تھا۔۔۔۔
جس لڑکی نے چشمہ لگایا ہوا ہے وہ یہی رہے گی دوسری کو لے جاؤ۔۔۔!!! اےڈی نے کہا۔۔۔
لیکن سر۔۔۔؟
جون تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے جون کو سرد لہجے میں کہا۔۔۔
ی۔۔ یس۔۔۔ سر۔۔۔!!! جون نے کہا اور سحر کو لینے کے لیے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
کیسے۔۔۔ کیسے۔۔۔؟؟
سیم شکل کی دو لڑکیاں کیسے ہو سکتی ہیں۔۔۔ وہ میری عشال نہیں ہے یہ بات میں جانتا ہوں۔۔۔ لیکن پھر کیوں میں نے اسے یہاں رکھا ہے۔۔۔۔!!! اےڈی نے ٹہلتے ہوۓ خود سے کہا۔۔۔۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ قسمت اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔
آخر تنگ آکر اےڈی اس فیصلے پر پہنچا تھا کہ وہ اب نور کو کہی جانے نہیں دے گا۔۔۔
کیونکہ نور کی شکل عشال کے جیسی تھی اور شاید یہی بات تھی۔۔۔ کہ اےڈی نا چاہتے ہوۓ بھی نور کو اپنے آپ سے دور نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
اےڈی نور کے کمرے میں گیا تھا۔۔۔ جہاں نور رونے کا شغل فرمارہی تھی۔۔۔۔
سنو وائٹ کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔؟ اس بار اےڈی نے پیار سے پوچھا۔۔۔۔
اےڈی کے پیار سے بات کرنے پر نور کو بھی حوصلہ ملا تھا۔۔۔
وہ انکل میری آپی کو لے گئے ہیں۔۔۔!!! نور نے روتے ہوئے کہا۔۔۔
اور جس انداز میں نور نے کہا تھا اےڈی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
وہ اپنے گھر چلی گئ ہے سنو وائٹ تم پریشان نا ہو۔۔۔!!!اےڈی نے نور کے آنسوؤں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
گھر۔۔۔؟؟
مجھے بھی گھر جانا ہے۔۔۔!! نور نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
اےڈی نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔۔۔
سنو وائٹ تم نے کچھ کھایا بھی نہیں ہو گا پہلے کھانا کھا لوں پھر بات کرے گے چلو میرے ساتھ۔۔۔!!! اےڈی نے بھی کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
پھر آپ مجھے گھر جانے دے گے۔۔۔؟ نور نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
اےڈی نے مڑ کر دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
میری عشال اتنی معصوم تو بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔!!! اےڈی نے دل میں سوچا اور عشال کا سوچ کر اس کے چہرے پر ایک بار پھر سے مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
اےڈی کمرے سے باہر نکل گیا تھا اور پیچھے پیچھے نور بھی نکل گئ تھی۔۔۔
💖————💖
اےڈی کا آدمی بہت احتیاط سے لڑکیوں کو لے جارہا تھا۔۔۔ جب دور سے اسے ایک کالی بلی نظر آئی تھی۔۔۔ جو سڑک کے درمیان کھڑی تھی۔۔۔۔
اس آدمی نے ٹرک کو روکا اور باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
اس آدمی کو وہ ایک چھوٹی سی بلی ہی لگی تھی لیکن پاس جاتے ہوئے اس کا سائز بڑا ہوتا جارہا تھا۔۔۔ اس آدمی نے جب ایلکس کو دیکھا جو بہت بڑا اور خونخوار لگ رہا تھا۔۔۔ تو وہ آدمی الٹے پاؤں واپس مڑنے لگا لیکن ایلکس نے اسے بھاگنے کا موقع نہیں دیا اور اُس پر جھپٹ پڑا۔۔۔!!
سنسان سڑک پر اس آدمی کی درد ناک چیخے گونج رہی تھیں لیکن سواۓ کالیا کے کوئی بھی سننے والا نہیں تھا۔۔۔۔ وہ آدمی تھوڑی دیر بعد ہی مر گیا تھا۔۔۔
کالیا نے فون کر کے اپنے کچھ آدمیوں کو بلا لیا تھا
جو ساری لڑکیوں کو لے گۓ تھے۔۔۔۔
کالیا نے ٹائیگر کو فون کیا اور اسے بتایا کہ ایک لڑکی ٹرک میں تھی دوسری نہیں تھی۔۔۔
ہوسکتا ہے دوسری کا کام اےڈی تمام کر چکا ہو۔۔۔؟ ٹائیگر نے کہا۔۔۔
ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔۔۔؟ یا پھر وہ ابھی بھی اےڈی پلازہ میں ہو۔۔۔؟؟
اگر ایسا ہے تو اےڈی پلازہ جانا تھوڑا مشکل ہے۔۔۔؟ کالیا نے کہا۔۔۔
ہمممم دیکھتے ہیں۔۔۔!! ٹائیگر نے کہا اور فون بند کر دیا۔۔۔۔
ٹائیگر نے ابھی تک نور کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
💖————💖
کبیر اور اسد نے بھی سحر اور نور کو کافی جگہ تلاش کیا تھا۔۔۔
لیکن ان کو بھی دونوں کہی نہیں ملی تھیں اور پھر دونوں مایوس ہو کر گھر واپس آگئے تھے۔۔۔۔
💖————💖
سحر گھر آگئ تھی لیکن نور ابھی گھر نہیں آئی تھی۔۔۔۔ احد اور زین نے کہا تھا نور بھی ٹھیک ہے اور وہ کل تک آجاۓ گی۔۔۔!!
زین نے یہ جھوٹ حیاء کی وجہ سے بولا تھا جس نے رو رو کر اپنا حال برا کیا یوا تھا۔۔۔۔
اور میر بھی یہاں نہیں تھا جو حیاء کو سنبھال لیتا۔۔۔!!
💖————💖
ٹائیگر نے زین کو کہا تھا کہ اس نے معلوم کیا ہے نور اےڈی پلازہ میں ہے۔۔۔!!!
تو نور کو واپس لانے میں کچھ دن بھی لگ سکتے ہیں۔۔۔ کیونکہ اےڈی پلازہ میں جانا آسان کام نہیں تھا۔۔۔!!
اور یہ بات زین بھی جانتا تھا کہ اےڈی پلازہ میں جانا کتنا مشکل ہے۔۔۔!!
💖————💖
نور بڑی مشکل سے جلدی جلدی کھانا کھا رہی تھی اےڈی نور کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔!!
سنو وائٹ آرام سے کھانا کھاؤ۔۔۔!! اےڈی نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیونکہ جلدی کے چکر میں آدھا کھانا نور کے کپڑوں پر گر رہا تھا۔۔۔۔
میں نے کھا لیا ہے مجھے اب گھر جانا ہے۔۔۔!! نور نے کہا۔۔۔۔
سنو وائٹ اب تم گھر نہیں جاسکتی آج سے تمھارا گھر یہی ہے۔۔۔۔!!! اےڈی نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھے گھر جانے دیں گے۔۔۔؟؟؟ نور نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو لیے کہا۔۔۔۔
سنو وائٹ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔!!! اےڈی نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔!!
آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔ مجھے اپنی ماما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ میرے پاپا آپ کو چھوڑے گے نہیں۔۔۔ اگر آپ نے مجھے گھر جانے نہیں دیا تو۔۔۔!!! نور نے کھڑے ہوتے ہوۓ غصے میں چلاتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے فرق نہیں پڑتا کہ تمھارے پاپا میرے ساتھ کیا کرے گے۔۔۔۔ میں نے ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا تم اب یہاں سے کہی نہیں جاؤ گی۔۔۔!!!
اےڈی نے بھی نور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
نور اُسی کمرے میں بھاگ گئ تھی اور رونے لگی تھی۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞