Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

کبیر پھر ایک سیکنڈ بھی نور کے کمرے میں نہیں رکا
تھا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
نور ابھی بھی بت بنی وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔ جب اس کے کاندھے پر زارا نے ہاتھ رکھا۔۔۔۔
زارا سب کچھ سن چکی تھی اسے اپنے بھائی کی سوچ پر بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔
نور میری جان میری طرف دیکھو زارا نے نور کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
آپی مجھے نیند آرہی ہے مجھے سونا ہے۔۔۔۔!!! نور نے بیڈ کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
نور کو اس حالت میں دیکھ کر زارا کو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔۔
زارا نے نور کا چشمہ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لائٹ بند کرکے کمرے سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
💖————💖💖
بھائی یہ کیا حرکت کی ہے آپ نے مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔۔؟؟
زارا نے کبیر کو کہا وہ نور کے کمرے سے نکلنے کے بعد کبیر کے کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔
زارا جاکر اپنی کزن کو سمجھاؤ جیسے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔۔۔!!! کبیر نے غصے سے کہا۔۔۔
سچ میں بھائی نور نے آپ سے بتمیزی کی اور جو آپ نے اس پر الزام لگایا اس کا کیا۔۔۔۔؟
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ آخر مرد اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔۔؟
جب دل کیا عورت پر ہاتھ اُٹھا دیا اور جب دل کیا اُس پر الزام لگا دیا۔۔۔۔ اور جب یہی باتیں مردوں کو کہی جاۓ تو ان سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔۔؟؟؟
سوری بھائی آپ میرے بھائی ہے لیکن میں کبھی بھی اس بات پر خاموش نہیں رہو گی کہ میرا بھائی کسی معصوم کے ساتھ زیارتی کرے۔۔۔!!
اور جو الزام آپ نے نور پر لگایا ہے آپ نے ایک بار بھی سوچا کہ اُس معصوم پر کیا گزری ہوگی۔۔۔۔؟؟؟
آپ کی بھی تو بہن ہے اگر میں ایک رات نور کی طرح باہر رہتی میرے ساتھ ایسا کوئی حادثہ پیش آتا تو کیا میں بھی ناپاک ہوجاتی۔۔۔۔؟؟؟؟
رازا نے بھی غصے سے ایک ایک لفظ کبیر کو باور کرواتے ہوئے کہا آج اسے پہلی بار اسے کبیر پر غصہ آیا تھا۔۔۔۔۔
زارا اب یہ زیادہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ اور تم کیوں اس کی اتنی سائیڈ لے رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟ کبیر نے زارا کے پاس آتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
بھائی وہ بہن ہے میری اور میں بلکل بھی برداشت نہیں کروں گی کہ کوئی بھی میری بہن کو تکلیف پہنائے۔۔۔۔ چاہے وہ میرا سگا بھائی ہی کیوں نا ہو
اور آج مجھے بھی لگ رہا ہے کہ آپ نور کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔!!!! زارا نے کہا اور کمرے سے نکل گئ۔۔۔۔
کبیر نے غصے میں سامنے لگے بڑے سے آئینے پر زور سے مکا مارا اور شیشہ چکنا چور ہو گیا تھا۔۔۔۔ کبیر کے ہاتھ سے بھی خون نکلنے لگا تھا لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔۔
💖————💖
نور کو نیند نہیں آرہی تھی ناچاہتے ہوۓ بھی اس کے آنسو رک نہیں رہے تھے۔۔۔۔
جب اسے کسی کے گرنے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔
نور نے جلدی سے اُٹھ کر اپنا چشمہ لگایا تھا اندھیرے میں اسے سامنے ایک ہیولا کھڑا نظر آیا تھا۔۔۔۔
نور نے جلدی سے لیمپ اون کیا تھا۔۔۔ لیکن سامنے کھڑے ٹائیگر کو دیکھ کر نور بلکل بھی نہیں ڈری تھی۔۔۔۔ کیونکہ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ انسان کہی بھی آسکتا ہے۔۔۔۔ اس لیے اس نے حیران ہونا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر نے سب سے پہلے دروازہ لوک کیا تھا۔۔۔۔
تم آدھی رات کو میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟
نور نے ٹائیگر سے پوچھا جو کمرے کی ساری لائٹس اون کر چکا تھا۔۔۔۔
تیرے چہرے پر نشان کیسا ہے شہزادی۔۔۔۔؟؟
ٹائیگر نے نور سے پوچھا جس کی آنکھیں رونے سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟ نور نے ٹائیگر کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میرے کو اپنی بات دہرانا پسند نہیں ہے شہزادی۔۔۔۔!!!
ٹائیگر نے نور کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نور نے کچھ نہیں کہا تھا اور نظریں جھکا لی تھیں۔۔۔۔
کس نے تجھے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی ہے ابھی مجھے بتا اس کا کام تمام کر دوں گا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے تھوڑا غصے سے کہا۔۔۔۔
اگر میرے بابا نے تمہیں میرے کمرے میں دیکھ لیا تو وہ تمہارا کام تمام کر دے گے۔۔۔۔ اس لیے یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔۔!!! نور نے ٹائیگر کو وارن کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ٹائیگر کو کسی سے ڈر نہیں لگتا اور نا ہی تیرے باپ سے ڈرتا ہوں۔۔۔!!! ٹائیگر نے سائیڈ دراز میں سے کچھ تلاش کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تمہارا نام ٹائیگر ہے۔۔۔۔؟ نور نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔!! ٹائیگر نے کہا۔۔۔
تمہیں دیکھ کر تو ٹائیگر بھی شرمندہ ہو گیا ہو گا۔۔۔۔؟؟؟ نور نے افسوس سے کہا۔۔۔
وہ کیوں۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے نور کے قریب آتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
تم زرا اپنی شکل آئینے میں تو دیکھو کس اینگل سے تم ٹائیگر لگتے ہو۔۔۔۔؟ نور نے کہا۔۔۔۔
شہزادی ایک دن تجھے اسی شکل سے پیار ہوجاۓ گا پھر کیا کرے گی۔۔۔۔؟؟؟ ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے میں کیوں تم سے پیار کروں اگر مجھے ٹائیگر سے ہی پیار کرنا ہے تو میں اصلی والے ٹائیگر سے نا کر لوں۔۔۔۔ تم تو مجھے سیکنڈ ہینڈ ٹائیگر لگتے رہو۔۔۔۔!!! نور نے منہ بسورتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
چھوکری تو میری اب بےعزتی کر رہی ہے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
شکر ہے تمھیں معلوم تو ہوا۔۔۔!! نور نے شکر کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔۔
اور ٹائیگر سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کس لڑکی سے اس کا پالا پڑا ہے۔۔۔۔۔
ٹائیگر نے تھوڑی سی کریم اپنی انگلی پر لگائی اور نور کے چہرے پر لگانے لگا جب نور جلدی سے پیچھے ہو گئ تھی۔۔۔۔
شہزادی کچھ نہیں کر رہا آرام سے کھڑی رہے۔۔۔!! ٹائیگر نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نور نے دوبارہ ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔
ٹائیگر بہت آرام سے نور کے گال پر کریم لگا رہا تھا ٹھنڈی کریم نور کو سکون دے رہی تھی۔۔۔۔
نور فرصت سے ٹائیگر کے چہرے کو دیکھ رہی تھی
اسے آج ٹائیگر کی عجیب سی شکل بھی بری نہیں لگی تھی۔۔۔۔
شہزادی تیرا ایسے میرے کو دیکھنا تجھے مشکل میں ڈال سکتا ہے۔۔۔۔!!
ٹائیگر نے نور کے کان کے پاس بھاری آواز میں کہا اور پھر پیچھے ہو گیا۔۔۔۔ نور بھی ہوش میں آئی تھی۔۔۔۔
اب بتا کس نے تجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔۔۔؟ اس کا تو میں قیمہ بنا دوں گا۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے دانت پستے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کسی نے کچھ نہیں کیا اور اب تم میرے کمرے سے جاؤ ورنہ میں شور مچا دوں گی۔۔۔۔!! نور نے ٹائیگر کو دھمکاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
نور کی بات سن کر ٹائیگر ہنس پڑا تھا۔۔۔۔
میری ہیروئین اگر تو نے شور مچانا ہوتا تو کب کا مچا چکی ہوتی۔۔۔۔!! ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
تم پلیز چلے جاؤ۔۔۔۔!! نور نے منت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
اچھا اچھا جا رہا ہوں اور میری بات اپنے دماغ میں ڈال لے تو۔۔۔۔ اگر آئندہ میرے کو تیرے ان خوبصورت نین کٹوروں میں پانی نظر آیا تو اس انسان کی میں جان لے لوں گا جس کی وجہ سے تو اپنی آنکھیں کو تکلیف دے گی۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلا گیا۔۔۔۔
ٹائیگر کے جانے کے بعد نور کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
یہ اتنا بھی برا نہیں ہے۔۔۔۔!! نور نے دل میں سوچا اور سونے کے لیے لیٹ گئ۔۔۔۔۔
ٹائیگر کے آنے سے اس کا موڈ خوشگوار ہو گیا تھا اب اسے نیند بھی سکون کی آنی تھی۔۔۔۔
💖————💖
کہاں سے آرہے ہو۔۔۔۔؟؟
کالیا نے ٹائیگر کو گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اوۓ میں تیری بیوی نہیں ہوں جو تو مجھ سے اتنے سوال جواب کر رہا ہے۔۔۔۔!! ٹائیگر نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔
ٹائیگر مجھے ایک بات صاف صاف بتا دو کیا تم نور کو پسند کرنے لگے ہو۔۔۔۔؟
تم نے تو کہا تھا اےڈی کو تکلیف پہنچانے کے لیے تم نور کا استعمال کرو گے۔۔۔۔ تو پھر چوبیس گھنٹے نور پر نظر رکھنا اسے تکلیف میں دیکھ کر اس کے پاس پہنچ جانا۔۔۔۔۔ نور کے لیے اپنی کروڑوں کی ڈیل کو لات مار دینا یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟
تم مجھے بتانا پسند کرو گے۔۔۔۔؟؟؟ کالیا نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں بلکل ٹائیگر اب تجھے نہیں بتاۓ گا تو کسے بتاۓ گا۔۔۔؟؟؟
شہزادی اب میری ہے مجھے وہ پسند آگئ ہے لیکن اتنی بھی پسند نہیں آئی کہ ٹائگر اپنے مقصد کو بھول جاۓ۔۔۔۔!!!
نور کو میں اےڈی کے خلاف استعمال کروں گا اور پھر اےڈی تڑپے گا۔۔۔۔ اور اسے تڑپتے دیکھ میرے کو سکون ملے کا یہاں ٹھنڈ پرے گی میرے یہاں۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور جب نور کو معلوم ہوا کہ تم نے اسے اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا ہے تاکہ تم اےڈی سے بدلہ لے سکو تو پھر کیا کرو گے۔۔۔۔؟؟؟ کالیا نے پوچھا۔۔۔
اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا تم بے فکر رہو۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
وہ اےڈی کی قید میں تھی ٹائیگر تو تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔ اےڈی نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا ہو گا۔۔۔۔؟؟؟ کالیا نے ٹائیگر کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جس کے چہرے پر اب ہنسی کی جگہ غصہ آگیا تھا۔۔۔۔
میرے کو پتہ ہے کہ اےڈی ایک کمینہ انسان ہے لیکن مجھے اس بات پر بھی یقین ہے کہ اےڈی نے میری شہزادی کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔۔۔۔!!! اگر اس نے ایسا ہی کچھ کرنا ہوتا تو اس کے ساتھ نکاح نا کرنے کا سوچتا۔۔۔۔!!!
ٹائیگر نے کالیا کی طرف سے ہوۓ کہا۔۔۔ جس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس چھوٹی سی لڑکی نے میرے یار کو دیوانہ بنا دیا ہے۔۔۔۔؟؟ کالیا نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں اس چھوکری کا دیوانہ نہیں ہوا میرے کو بس وہ اچھی لگی ہے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
ایک دن تم اس بات کو خود تسلیم کرو گے۔۔۔۔!!! کالیا نے مسکراتے ہوئے سوچا۔۔۔۔
💖————💖
اسد اور حجاب کا نکاح پانچ سال پہلے ہی ہو چکا تھا۔۔۔
اسد حجاب کو پسند کرتا تھا یہ بات اس نے کسی کو نہیں بتائی تھی لیکن کبیر جان گیا تھا۔۔۔۔
حجاب ہمیشہ اسد سے چڑتی تھی کیونکہ اسد اسے ہر بات پر ٹوکتا تھا جو حجاب کو پسند نہیں تھا۔۔۔۔
💖————💖
کیا تمہاری شادی ہونے والی ہے۔۔۔۔؟
اور اب تم مجھے اپنی شادی کی خوشی میں میرا منہ میٹھا کروانے آۓ ہو یہاں۔۔۔۔؟
زوبیا نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔ سب لوگ زوبیا کی طرف دیکھنے لگے تھے معاذ اور زوبیا ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ جب معاذ نے زوبیا کو ساری بات بتا دی۔۔۔۔
معاذ نے زوبیا کا ہاتھ پکڑا اور ریسٹورنٹ سے باہر لے آیا۔۔۔
زوبیا میری بات سنو میں سحر سے بات کروں گا مجھے یقین ہے وہ منع کر دے گی۔۔۔۔!!! معاذ نے زوبیا کو سمجھتاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تم ایسا کرنا نکاح کر کے مجھے آکر بتا دینا کہ میں نے اپنی ماما کے کہنے پر نکاح بھی کر لیا ہے۔۔۔۔
نہیں نہیں تم ایسا کرو اپنی ماں کے پلو سے لگ کر بیٹھ جاؤ کیونکہ ان کے بغیر تو تم کوئی کام نہیں کرتے۔۔۔!!!
زوبیا کے منہ میں جو آرہا تھا بولتی جارہی تھی
اور اس بار معاذ سے زوبیا کی بات برداشت نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
زوبیا اپنی حد میں رہو میں بلکل بھی برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی بھی میری ماں کے بارے میں بکواس کرے۔۔۔۔
اگر تمھاری باتیں میں خاموش ہوکر سن لیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمھارے منہ میں جو بھی آۓ بولتی جاؤ۔۔۔۔!!
معاذ نے زوبیا کو ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور غصے میں وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
معاذ احمد اتنی آسانی سے تو میں تمھارا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔!!! زوبیا نے دل میں سوچا۔۔۔۔
💖————💖
سر آہل میر خان کے بارے میں معلوم ہو گیا ہے۔۔۔۔ ہم نے اس کے ایک آدمی کو پڑا تھا بہت مشکل سے اس نے اپنا منہ کھولا ہے۔۔۔۔
جون نے خوشی سے اےڈی کو بتایا۔۔۔
کون ہے آہل میر خان۔۔۔۔؟ اےڈی نے پوچھا۔۔۔
سر وہ بیسٹ ہے۔۔۔۔ اور نور میڈم بیسٹ کی بیٹی ہے۔۔۔۔!!! جون نے کہا۔۔۔
انٹرسٹنگ یہ تو بہت اچھی خبر ہے جون نور بیسٹ کی بیٹی ہے۔۔۔!!!! اےڈی نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
سر آپ خوش ہو رہے ہیں کہ میڈم بیسٹ کی بیٹی ہے۔۔۔۔ اب تو میڈم کو واپس لانا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟ جون نے حیرانگی سے اےڈی کو کہا۔۔۔
جون اب ہی تو مزا آۓ گا جب دشمن اپنی ٹکر کا ہو تو کھیل زیادہ دلچسپ لگتا ہے اور کھیلنے میں مزا بھی آتا ہے۔۔۔۔!!! اےڈی نے کہا۔۔۔
لیکن جون کو ابھی بھی اےڈی کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔
💖————💖
آہل اےڈی کو معلوم ہو گیا ہے کہ آہل میر خان ہی بیسٹ ہے۔۔۔۔!!! زین نے میر کو کہا۔۔۔
بچہ ہے ابھی وہ اور مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔!!! میر نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
آہل وہ بھی لڑکیوں کو سپلائی کرتا ہے اور بھی برے کام کرتا ہے تو پھر تم اےڈی کو ختم کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔؟؟؟ زین نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
وہ میرا شکار نہیں ہے وہ کسی اور کا شکار ہے۔۔۔۔ اور جس کا وہ شکار ہے مجھے پورا یقین ہے کہ اےڈی کو وہ بہت بری موت دے گا۔۔۔۔!!!
اور اگر اےڈی نے مجھ سے پنگا لینے کی کوشش کی۔۔۔ یا میری فیملی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔۔۔ تو پھر اےڈی کو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔۔۔۔!!!
میر نے صوفے پر بیٹھتے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
احد کہاں ہے۔۔۔۔؟ میر نے پوچھا۔۔۔
اسے کچھ کام تھا اس لیے شہر سے باہر گیا ہے۔۔۔۔!!!
زین نے کہا اب زین میر کو کیا بتاتا کے باپ بیٹے میں کیا کچھ ہوا ہے اور کبیر کی وجہ سے احد دوسرے شہر گیا ہے۔۔۔۔
💖————💖
اےڈی کیسا ہے تو۔۔۔۔؟؟؟
اےڈی کے پارٹنر نے کہا اور اےڈی کے گلے لگنے لگا جب اےڈی نے ہاتھ کے اشارے سے عدنان کو وہی روک دیا۔۔۔۔
عدنان کو غصہ تو بہت آیا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائی رکھی تھی۔۔۔۔
عدنان بھی اےڈی کے ساتھ ہی کام کرتا تھا لیکن اسے اےڈی پسند نہیں تھا۔۔۔۔ عدنان کی کوشش ہوتی تھی کہ جو چیز اےڈی کے پاس ہے وہی اس کے پاس بھی ہو۔۔۔۔ اور اب بھی عدنان اس لیے یہاں آیا تھا کیونکہ اسے معلوم ہوا تھا کہ اےڈی کو ایک لڑکی پسند آئی ہے۔۔۔۔ اب عدنان کی کوشش تھی کہ وہ اُس لڑکی کو حاصل کر لے جسے اےڈی پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
تم آرام کرو رات کو بات ہو گی۔۔۔!!! اےڈی نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
تجھے تو میں دیکھ لوں گا۔۔۔!!!
عدنان نے اےڈی کی پشت کو گھورتے ہوئے نفرت سے کہا اور اےڈی پلازہ کے اندر چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
چلو جی ایک اور امیدوار آگیا ہے نور کے لیے۔۔۔😁
اب نور کسے ملتی ہے۔۔۔۔؟
یہ تو ابھی کسی کو نہیں معلوم۔۔۔۔😁