Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

کیا بھائی منہ کیوں لٹکا ہوا ہے تمہارا کتنی کالز کی تمہیں بندہ ایک ہی کال اٹھا لیتا ہے۔۔۔۔؟ زید نے کبیر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جو لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
تمہیں کچھ کام تھا۔۔۔؟؟ کبیر نے زید کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
اسد جاکر آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
بھائی کام نہیں ہے تم اپنا کیا وعدہ بھول رہے ہو۔۔۔ اور جانتے ہو وعدہ خلافی کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔۔۔۔؟؟ زید نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
اسد جانتا تھا کہ زید کس بارے میں بات کررہا ہے اس لیے مسکرا پڑا تھا۔۔۔
میں نے کون سا وعدہ کیا تھا آپ پلیز مجھے یاد کروانا پسند کریں گے۔۔۔۔؟؟؟ کبیر نے کہا۔۔۔۔
ہاں بلکل یہ نیک کام میں ضرور کرنا چاہو گا۔۔۔ تو کل رات نو بجے شرط ہارنے پر کبیر خان نے زید یعنی مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے کسی اچھے اور مہنگے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلاۓ گا۔۔۔۔
زید نے لفظ با لفظ کبیر کو ساری بات بتائی۔۔۔۔
زید اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی آرام سے بول دیتے۔۔۔۔!!! کبیر نے زید کو گھورتے ہوئے کہا جو اپنی بتیسی دکھا رہا تھا۔۔۔۔
تو پھر چلے پھر مجھے گھر آکر ماما کے ہاتھ کی بنی بریانی بھی کھانی ہے۔۔۔۔!! زید نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔
زید میرے خیال سے تم کھانا کھانے ہی جارہے ہو۔۔۔؟؟ اسد نے اپنے پیٹو بھائی سے کہا۔۔۔۔
جانتا ہوں اور تم میرے کھانے پر نظر نا رکھا کرو
اور ہاں میں تم دونوں کا باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں جلدی آجانا۔۔۔۔!!! زید نے پہلے اسد کو کہا پھر کبیر کو جلدی آنے کا کہہ کر باہر چلا گیا۔۔۔۔۔
کبیر کے چہرے پر نا چاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
کبیر سب ٹھیک ہے۔۔۔۔؟ اسد نے کبیر کے پاس آتے ہی پوچھا۔۔۔۔
کبیر نے پہلے اسد کے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر کہا۔۔۔۔
ڈیڈ چاہتے ہیں میں نور سے شادی کر لوں۔۔۔!! کبیر نے لمبا سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔۔۔
تو اس میں مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟ اسد نے پوچھا وہ جانتا تھا کہ کبیر نور کو پسند نہیں کرتا۔۔۔۔
لیکن آج تک اسے نور کو ناپسند کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔۔
اسد میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جو سمجھ دار ہو۔۔۔ اور نور سے شادی کرنا اسے گود لینے کے برابر ہے۔۔۔!! نور سے شادی کرنے سے بہتر ہے میں کنوارہ ہی رہوں۔۔۔!!!! کبیر نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
یو نو کبیر مجھے لگتا ہے صرف یہ ایک ہی وجہ نہیں ہے تمھاری نور سے شادی ناکرنے کی۔۔۔ میرے خیال سے وجہ کافی بڑی ہے۔۔۔؟؟ اسد نے کبیر کے چہرے پر نظریں گاڑھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اس سے پہلے کبیر کوئی جواب دیتا زید کمرے کے اندر آیا تھا اور دونوں کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا تھا۔۔۔۔
تم دونوں نے تو باتیں کرنے میں لڑکی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔!!!
احساس نام کی چیز ہی نہیں ہے تم دونوں کے اندر ایک معصوم سے انسان کا بھوک سے برا حال ہو رہا ہے۔۔۔ اور ان دونوں کی باتیں ہی ختم نہیں ہو رہی۔۔۔۔ زید نے دونوں کا بازو گاڑی کے پاس آکر چھوڑا اور ساتھ گھورتے ہوئے اپنی بات بھی پوری کی۔۔۔۔
کیا اب ہمیں دیر نہیں ہو رہی۔۔۔؟؟ اسد نے زید کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا تو طنزیہ کہا۔۔۔
تو چلو میں نے کب روکا ہے تم دونوں ہی کھڑے میری شکل دیکھ رہے ہو۔۔۔۔!!! زید نے کہا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا۔۔۔
اسد اور کبیر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا پڑے تھے۔۔۔۔
لیکن اسد نے سوچ لیا تھا وہ کبیر سے پوچھ کر رہے گا کہ وہ نور سے اتنا ناپسند کیوں کرتا ہے۔۔۔۔
💖————💖
معاذ بیٹا میں نے تمہاری اور سحر کی شادی کی بات ہانی سے کی ہے۔۔۔۔!!
تم جانتے آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔ میری یہ دلی خواہش تھی کہ سحر میری بہو بنے اور دیکھو آج ہانی کی کال آئی تھی۔۔۔
ہانی اور عادل کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔!! اریبہ نے خوشی سے معاذ کو بتایا خوشی اریبہ کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔۔
معاذ جو آج اپنے اور زوبیا کے بارے میں اریبہ کو بتانے آیا تھا۔۔۔ اپنی ماں کی بات سن کر پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
معاذ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔۔۔؟؟ میں جانتی ہوں تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔ لیکن تمہاری مرضی بھی ضروری ہے۔۔۔۔!!! اریبہ نے پیار سے پوچھا۔۔۔۔
معاذ اپنی ماں کے چہرے پر خوشی صاف محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
اپنی ماں کا چہرہ دیکھ کر معاذ کا دل ناں کرنے کو نہیں کیا تھا۔۔۔
ماما جیسے آپ کی مرضی۔۔۔!! معاذ نے پیار سے کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
معاذ کا جواب سن کر اریبہ خوش ہوگئ تھی اور اریبہ نے سب سے پہلے سجل اور ہانی کو فون کرکے بتایا تھا۔۔۔
معاذ نے اپنی ماں کی خوشی کی خاطر ہاں کرکے بہت بڑی غلطی کی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ زوبیا کو پسند کرتا تھا۔۔۔ اور اس سب میں زیادہ تکلیف سحر کو ہونے والی تھی جسے ابھی تک کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔۔۔۔
💖————💖
اگلے دن سحر اور نور مارکیٹ گئ تھی۔۔۔ جب جون نے دونوں لڑکیوں کو دیکھا۔۔۔ اور ان کو اغواء کرنے کا سوچا۔۔۔۔
جون کے فون کرنے کے کچھ دیر بعد اس کے ادمی بھی وہی آگئے تھے۔۔۔
وہ دونوں لڑکیاں یہاں سے سیدھی اےڈی پلازہ جاۓ گی۔۔۔۔
کیونکہ صرف دو لڑکیاں ہی رہتی ہے باقی کا انتظام ہو گیا ہے۔۔۔
اور اگر یہ دونوں لڑکیاں ہمارے ہاتھ سے نکل گئ تو اےڈی ہماری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاۓ گا۔۔۔۔!!! جون نے اپنے آدمیوں کو سمجھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور دوبارہ اپنی نظریں نور اور سحر پر گاڑھ دی تھی
جون ایک موقع کی تلاش میں تھا۔۔۔ اور وہ موقع اسے مل گیا تھا۔۔۔۔ جب نور اور سحر اسے ایک سنسان جگہ کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی تھی۔۔۔
جون اور اس کے آدمیوں نے دونوں کو بے ہوش کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔۔۔۔ یہ کام ان کے لیے بلکل بھی مشکل نہیں تھا۔۔۔ اس لیے آسانی سے کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر دونوں لڑکیوں کو وہاں سے لے گۓ تھے۔۔۔۔
💖————💖
ٹائیگر آج رات اےڈی کچھ لڑکیوں کو دبئی بھجوانے والا ہے۔۔۔۔؟ کالیا نے ٹائیگر کو کہا۔۔۔
کالیا پیسوں کے بغیر ہم کوئی بھی کام نہیں کرتے یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو۔۔۔!! ٹائیگر نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔
جانتا ہوں لیکن تمہیں بتانا بھی ضروری تھا۔۔۔۔!! کالیا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
چھوڑو ان سب باتوں کو آج تیرا یار تجھے عیش کرواۓ گا چل میرے ساتھ۔۔۔۔!! ٹائیگر نے کالیا کی گردن میں اپنا بازو ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
تو ہم لوگ تمہارے پسندیدہ کلب جارہے ہیں کالیا نے پوچھا۔۔۔
واہ میرے چیتے کیا اندازہ لگایا ہے تو نے۔۔۔!!! ٹائیگر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
اور دونوں پھر کلب کے لیے نکل گئے۔۔۔
💖————💖
اگر مجھے چھوڑ کر جانا تھا تو کیوں میری زندگی میں آئی تم۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟؟
تمھارے بغیر تمھارا اےڈی بہت اکیلا ہے پلیز واپس آجاؤ۔۔۔!!! اےڈی نے زمین پر گھٹنوں کے پل بیٹھتے ہوۓ اپنے سر کو اپنے ہاتھوں سے جکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
اس وقت اےڈی بلکل ایک معصوم سا بچہ لگ رہا تھا جو اپنی قمتی چیز کے گم ہو جانے پر رو رہا ہو اور اسے واپس مانگ رہا ہو۔۔۔۔
سال میں ایک یا دو بار اےڈی کے ساتھ ایسا ضرور ہوتا تھا اور ایسا زیادہ تر عشال کی سالگرہ کے دن ہوتا تھا۔۔۔۔ جب وہ بلکل ہی بےبس ہوجاتا تھا اس وقت اےڈی اپنا غصہ اپنے کمرے کی چیزوں پر نکالتا تھا کہ کیوں وہ اپنی عشال کو نہیں بچا پایا۔۔۔۔
اور پھر اگلے دن اےڈی ویسا ہی ظالم بن جاتا تھا
اےڈی اپنے دکھ اپنے تک رکھتا تھا۔۔۔ باہر سے نظر آنے والا ظالم اےڈی اندر سے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔۔۔۔
آج پھر اےڈی کو اپنی عشال کی یاد آرہی تھی کیونکہ آج عشال کی سالگرہ تھی۔۔۔۔
💖————💖
رات کو جب اےڈی اپنے کمرے سے نکلا تو پہلے والا اےڈی بن کر نکلا تھا۔۔۔۔ اپنے دکھ درد اپنے کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔۔۔۔ اور چہرے پر سنجیدگی لیے جون سے بات کررہا تھا۔۔۔۔
مال کب تک روانہ ہو رہا ہے۔۔۔۔؟ اےڈی نے پوچھا۔۔۔
سر بس کچھ دیر میں نکل جاۓ گا۔۔۔!!! جون کہا۔۔۔
ابھی اےڈی مزید کچھ کہتا جب اسے کسی لڑکی کی رونے کی آواز آئی۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔۔؟ اےڈی نے غصے سے پوچھا۔۔۔
وہ سر دو لڑکیاں ہم نے آج ہی اٹھائی ہے تو ان کو یہی پر کمرے میں بند کر دیا تھا کیونکہ مال یہی سے جانا تھا۔۔۔ جون نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
اےڈی نے جون کو گھورتے ہوئے دیکھا اور اسی طرف چلا گیا جہاں سے آواز آرہی تھی۔۔۔۔
اےڈی نے دروازہ کھولا تو نور سامنے بیٹھی رو رہی تھی سحر ابھی بھی بے ہوش تھی۔۔۔۔
اےڈی نے لائٹ اون کی اور سامنے بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا۔۔۔۔ جو آنکھوں میں خوف لیے سامنے کھڑے اےڈی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
نور اےڈی کو دیکھ کر ڈر گئ تھی۔۔۔۔
اور اےڈی کو تو لگ رہا تھا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے۔۔۔۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟
تم زندہ کیے ہوسکتی ہو۔۔۔۔؟
اےڈی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اےڈی اپنی پوری زندگی میں آج پہلی بار اتنا شوکڈ ہوا تھا۔۔۔۔