Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


میرا بچہ کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟
میر نے پیار سے نور سے پوچھا جو کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
پاپا آپ۔۔۔!! نور نے خوشی سے کہا۔۔۔
میں فری تھی تو سوچا بک پڑھ لوں آپ بیٹھیے نا۔۔۔۔!! نور نے جلدی سے کہا۔۔۔
نور میں آپ سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں۔۔۔۔!! میر نے نور کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
جی پاپا۔۔۔!! نور نے کہا۔۔۔
بیٹا آپ کے پاپا اور آپ کے چاچو چاہتے ہیں کہ آپ کبیر کی دلہن بنو۔۔۔۔!!!
میر نے نور کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا جو ایک دم بدلے تھے۔۔۔۔۔
پاپا مجھے نہیں کرنی کھڑوس سے شادی۔۔۔!!! نور نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
اور آپ میرے ساتھ زبردستی تو نہیں کریں گے نا۔۔۔؟ نور نے پہلے ہی کنفرم کرنا چاہا۔۔۔
میں اپنی جان کے ساتھ کبھی بھی زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔ اگر آپ کو کبیر اچھا نہیں لگتا تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔!!! میر نے پیار سے اپنی لاڈلی کو کہا۔۔۔
کبیر نے جو کچھ نور کے بارے میں کہا تھا۔۔۔ اس کے بعد تو نور کبھی بھی کبیر سے شادی نا کرتی۔۔۔۔
اور اب تو نور کبیر کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔
💖————💖
احد میر کے کہنے پر گھر واپس آیا تھا میر کو احد سے ایک ضروری کام تھا اس لیے احد کو گھر آنا پڑا تھا۔۔۔۔
کبیر نے جب احد کو کمرے میں اکیلا دیکھا تو اپنے باپ کے پاس گیا تھا۔۔۔۔ اور احد کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
ڈیڈ پلیز ایک بار میری بات سن لیں۔۔۔۔ میں شرمندہ ہوں میں نے جو کچھ بھی کہا ان سب باتوں کے لیے میں آپ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اور آپ یہی چاہتے ہیں نا کہ میں نور سے شادی کر لوں۔۔۔۔ میں اس سے شادی کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔۔۔
لیکن پلیز آپ مجھے معاف کر دے میں آپ کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔!!! کبیر نے احد کو کہا۔۔۔۔
اس کے چہرے پر شرمندگی دیکھ کر احد کو اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔
کبیر تمہاری باتوں نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔۔ لیکن کیا کروں بیٹے ہو تم میرے کب تک تم سے ناراض رہ سکتا ہوں۔۔۔۔!! احد نے کبیر کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اور اب تو نور نے بھی تم سے شادی کرنے سے منع کر دیا ہے۔۔۔۔ اور میر کبھی بھی نور کی زبردستی شادی نہیں کرے گا تم یہ بات جانتے ہو۔۔۔۔!!!
اور ویسے بھی تمہیں نور پسند نہیں تھی تو اچھی بات ہے کہ اس نے خود انکار کر دیا ہے۔۔۔!!!
میری خواہش تھی کہ نور گھر میں ہی رہے۔۔۔۔ لیکن جو کچھ انسان سوچتا ہے ویسا کبھی بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔!!!
احد نے مایوسی سے کبیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور کبیر کو پتہ نہیں کیوں یہ بات سن کر خوشی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ جبکہ اسے خوش ہونا چاہیے تھا۔۔۔
مجھے کچھ ضروری کام ہے میں چلتا ہوں۔۔۔۔!!! احد نے اٹھتے ہوۓ کبیر کا کاندھا تھپتھپاتے ہوۓ کہا اور کمرے سے چلا گیا۔۔۔۔
نور کیسے انکار کر سکتی ہیں۔۔۔۔؟
لیکن کبیر تم بھی تو یہی چاہتے تھے۔۔۔ اور جو کچھ تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔۔۔ اس کے بعد تو وہ کبھی بھی تم سے شادی ناکرتی۔۔۔۔!!!
اور ہر ایک لڑکی کو اپنی عزت نفس عزیز ہوتی ہے
اس سے بڑھ کر اس کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔!!! کبیر کے اندر سے آواز آئی تھی۔۔۔۔
لیکن جو بھی ہے اب تو میں نور سے ہی شادی کروں گا کیونکہ وہ میری ڈیڈ کی خواہش تھی۔۔۔۔ اور میں اپنے ڈیڈ کی خواہش ضرور پوری کروں گا چاہے کچھ بھی ہو جاۓ۔۔۔۔۔!!!
کبیر نے ساری باتوں کو جھٹکتے ہوۓ خود سے عہد کیا۔۔۔۔
💖————💖
میر اور زین بیٹھے ہوئے تھے جب میر کے آدمی نے اےڈی کے آنے کی اطلاع دی تھی۔۔۔۔
یہ کیا لینے آیا ہے۔۔۔؟؟؟ زین نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
میر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی جسے وہ جانتا ہو کہ اےڈی آنے والا ہے۔۔۔۔
جب وہ اندر آۓ گا تو پوچھ لینا۔۔۔!! میر نے سگریٹ جلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
💖————💖
تھوڑی دیر بعد اےڈی اپنی شاندار پرسنلٹی کے ساتھ اندر آیا تھا۔۔۔۔ اس نے آج بھی کالا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔
نیلی آنکھوں والا شہزادہ مغرور چال چلتے ہوۓ بیسٹ کے سامنے ہی بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
اےڈی کی پرسنلٹی سے زین بھی متاثر ہوا تھا۔۔۔۔میر اپنی جگہ سے نہیں اٹھا تھا وہی پر بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
اےڈی میر کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا تھا اور ایک ہاتھ سے سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔۔
دونوں جلاد آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔
دونوں کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔۔۔
“مجھے معلوم ہے کہ تم ہی بیسٹ ہو آہل میر خان۔۔۔۔!!!” اےڈی نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
یہاں آنے کا مقصد۔۔۔۔؟؟؟ میر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
اےڈی کو اپنا سوال اگنور کیے جانا بہت برا لگا تھا لیکن ابھی وہ کچھ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
اور سامنے بیٹھا انسان بھی کوئی عام انسان نہیں تھا بلکہ بیسٹ تھا۔۔۔۔ اور اس کا خطرناک بھیڑیا بھی اس کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا جسے دیکھ کر جون تو ڈر گیا تھا۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں ہم دونوں مل کر کام کرے۔۔۔۔!!!
اےڈی نے بیسٹ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
میں کسی کے ساتھ مل کر کام کرنا پسند نہیں کرتا۔۔۔!!!
بیسٹ نے بات کو ہی ختم کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
گڈ لیکن پھر تم میرے کام میں دخل اندازی نہیں کرو گے۔۔۔۔!!! اےڈی نے حکم دینے والے انداز میں کہا۔۔۔۔
مجھے ان لوگ سے سخت نفرت ہے جو مجھے حکم دیتے ہیں۔۔۔۔ اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا اےڈی صاحب تم شاید نئے ہو۔۔۔۔ کچھ عرصہ رک جاؤ سب کے بارے میں جان جاؤ گے کہ کون زیادہ خطرناک ہے۔۔۔۔!!!
بیسٹ نے تھوڑا اےڈی کی طرف جھکتے ہوۓ رازدانہ انداز میں کہا۔۔۔۔
ویل میں نے سنا ہے کہ تمہاری ایک خوبصورت سی بیٹی بھی ہے۔۔۔۔؟؟ اےڈی نے مسکراتی ہوئی نظروں سے بیسٹ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تو میں کنفرم کر دیتا ہوں تمہیں کہ ہاں میری ایک بیٹی ہے۔۔۔۔۔ اور جانتے ہو اپنی بیٹی کی طرف اُٹھنے والی ہر ایک غلط نگاہ والے کو میں چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہوں۔۔۔۔؟؟؟؟ بیسٹ نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
اور ہاں مجھے ایک ضروری کام ہے اگر تمہیں مجھ سے مزید کچھ کہنا ہے تو اگلی بار آجانا۔۔۔۔!!!
بیسٹ نے مسکراتی ہوئی نظروں سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
اےڈی کی رگیں غصے سے تن گئ تھیں۔۔۔ اس کا دل کر رہا تھا ابھی بیسٹ کی جان لے لیں۔۔۔ لیکن اسے ابھی صبر کرنا تھا۔۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ یہ بیسٹ کو تڑپاۓ گا لیکن وجہ نور ہو گی۔۔۔۔
اےڈی غصے میں وہاں سے اٹھا اور تن فن کرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
حجاب، نور، سحر اور زارا آئسکریم کھانے کے لیے زید کے ساتھ باہر آئی تھیں۔۔۔۔ جب نور کو ٹائیگر نظر آیا۔۔۔۔
نور کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی جس سے وہ خود بھی انجان تھی۔۔۔۔
آپی مجھے واشروم جانا ہے میں آتی ہوں تھوڑی دیر تک۔۔۔!!! نور نے زارا کو کہا۔۔۔۔
اوکے گڑیا لیکن جلدی آجانا۔۔۔!! زارا نے کہا اور نور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
نور نے جس جگہ ٹائیگر کو دیکھا تھا وہاں اب ٹائیگر نہیں تھا۔۔۔۔
نور تھوڑا سا ہی آگے گئ تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھ۔۔۔۔۔
نور ایک دم بوکھلا گئ تھی اور سیدھا ٹائیگر کے سینے سے جالگی تھی۔۔۔۔
واہ میری شیرنی تو مجھ سے ملنے آئی ہے۔۔۔۔؟
ٹائیگر نے ایک ہاتھ سے نور کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور دوسرے ہاتھ سے نور کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ٹائیگر کے قریب آنے پر آج پہلی بار نور کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
نور نے پیچھے ہونے کی کوشش کی تو ٹائیگر نے اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔ اور کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔۔۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں تم سے ملنے آئی ہوں۔۔۔؟؟ نور نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔
شہزادی تیرے یہ جو خوبصورت نین کٹورے ہے نا سب کچھ بتا دیتے ہیں۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
تم یہاں کیا کرنے آۓ ہو۔۔۔۔؟ نور نے ٹائیگر سے پوچھا۔۔۔
ہاۓ میری چھمک چھلو کیا تو نے یاد کروایا۔۔۔۔!!ٹائیگر نے سرد آہ بھرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔؟ نور نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
اک چھوکری نے میرے کو یہاں بلایا تھا۔۔۔۔ لیکن مجھے دیکھتے ہی یہاں سے بھاگ گئ سالی۔۔۔۔!!!
ٹائیگر نے اپنا دکھ نور کو بتانے ہوۓ بےچارگی سے کہا۔۔۔۔
اور ٹائیگر کی بات سن کر نور ہنس ہنس کو لوٹ پھوٹ ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا اور چہرہ ہنسنے ہی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔۔
ٹائیگر نے آج پہلی بار نور کو ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
شہزادی میرے کو نہیں پتہ تھا تو ہنستے ہوئے بھی بہت پیاری لگتی ہے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے کھوۓ کھوۓ انداز میں کہا۔۔۔۔
ٹائیگر کی بات سن کر نور کی ہنسی کو بریک لگی تھی۔۔۔۔
دور کھڑے میر نے یہ منظر دیکھا تھا لیکن نور کے پاس نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔ اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اس لیے تو کہا ہے منہ دھو لیا کرو شکر کرو وہ تمہیں دیکھ کر بے ہوش نہیں ہو گئ۔۔۔۔!!! نور نے پھر سے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
میرے کو ایسا ہی رہنا اچھا لگتا ہے چھوکری اور میں اپنی قاتلانہ لُک کو کسی کے لیے بدل ن سکتا۔۔۔۔!! ٹائیگر نے فخر سے کہا۔۔۔۔
تمھاری قاتلانہ لُک نہیں ہے بلکہ جاہلانہ لُک ہے جس سے تم خود بھی بےخبر ہو۔۔۔۔!!!
نور نے ٹائیگر کو اصلیت دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
شہزادی تو کچھ زیادہ ہی میری بےعزتی کرنے لگی ہے۔۔۔۔ اور میرے کو یہ بات بلکل بھی برداشت نہیں ہے۔۔۔۔!!! ٹائیگر نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ اپنا حلیہ درست کر لو پھر میں کچھ نہیں کہو گی۔۔۔۔!!!
نور ابھی کچھ اور بھی کہتی کہ جب اس کی نظر سامنے زید پر پڑی جو شاید نور کو ہی دیکھنے آیا تھا۔۔۔۔
میں چلتی ہوں۔۔۔۔!!! نور نے کہا اور جلدی سے وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
ٹائیگر کھڑا ابھی بھی نور کی پشت کو گھور رہا تھا۔۔۔
اسے نور کا جانا اچھا نہیں لگا تھا اس کا دل کر رہا تھا جاکر زید کی جان لے لیں جس کی وجہ سے نور یہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
💖————💖
میری بلبل کسی ہے تو۔۔۔۔؟
کالیا نے حجاب کا راستہ روکتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
تم میری یونی میں بھی آگئے تمہیں اندر کس نے آنے دیا۔۔۔۔؟؟ حجاب نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے لڑکی۔۔۔۔!! کالیا نے حجاب کے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
ایک بات بتا مجھ سے شادی کرے گی۔۔۔۔؟؟ کالیا نے حجاب سے پوچھا۔۔۔۔
اور حجاب کو لگا شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔۔؟؟؟ حجاب نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
میں نے کہا مجھ سے شادی کرے گی۔۔۔۔؟؟؟ کالیا نے کہا۔۔۔
مجھے لگتا ہے شکل کے ساتھ ساتھ تمھارے پاس دماغ کی بھی کمی ہے۔۔۔۔؟؟؟
میں کیوں کرو تم سے شادی۔۔۔؟؟ میں شادی شدہ ہوں میرا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔۔ اور اگر میں نے اپنے شوہر کو تمہارے بارے میں بتا دیا تو جانتے ہو وہ تمھاری بوٹی کباب بنا دے گا۔۔۔۔؟؟؟
حجاب نے کہا لیکن جب نظر کالیا کے چہرے پر پڑی تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔
کالیا سرخ آنکھیں لیے حجاب کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
تمھارے شوہر کا نام کیا ہے۔۔۔؟؟ کالیا نے پوچھا۔۔۔
میں کیوں بتاؤ حجاب نے اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
بتانا تو تیرے کو پڑے گا میری بلبل۔۔۔۔!!! کالیا نے حجاب کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر کے ساتھ لگاتے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔۔
اسد۔۔۔۔!!!
حجاب نے جلدی سے کہا۔۔۔ حجاب جس جگہ کھڑی تھی۔۔۔۔ وہاں پر سٹوڈنٹس کا آنا بہت کم تھا۔۔۔
شاباش میری بلبل اب تو جب گھر جاۓ گی تو ایک خوش خبری تجھے ملے گی۔۔۔۔ تیرے لیے وہ خوش خبری نہیں ہو گی لیکن میرے لیے ہو گی۔۔۔۔ اور پھر تو میرے سامنے اپنے بےکار سے شوہر کا نام کبھی نہیں لے گی۔۔۔۔!!!
کالیا نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
حجاب ابھی بھی وہی کھڑی تھی۔۔۔
اور ہوش میں آتے ہی اس نے اسد کو فون کیا تھا جس کا فون بند جارہا تھا۔۔۔۔
💖————💖
زوبیا کافی دیر سے معاذ کو فون کر رہی تھی لیکن معاز فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
زوبیا نے سوری کا میسج کیا تھا پھر کہی جاکر معاذ نے زوبیا کی کال اٹینڈ کی تھی۔۔۔۔
معاذ میں جانتی ہوں میں نے غلط کیا ہے مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔!! زوبیا نے جھوٹے آنسو بہاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہم شام کو مل کر بات کرتے ہیں۔۔۔!!! معاذ نے کہہ کر فون بند کر دیا۔۔۔۔
معاذ کا جواب سن کر زوبیا کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
💖————💖
کیا ہوا ہے بےبی تم اتنا پریشان کیوں ہو۔۔۔؟؟
روز نے کبیر کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے پوچھا
روز ایک غیر مسلم لڑکی تھی۔۔۔۔ اور خوبصورت بھی بہت تھی۔۔۔۔
جو پیچھلے دو سال سے کبیر کی گرل فرینڈ تھیں۔۔۔۔
کچھ خاص نہیں ڈارلنگ۔۔۔ کیا عامر کی کال آئی۔۔۔۔؟ کبیر نے روز کا ہاتھ چومتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
ہاں یاد آیا کل صبح تمھاری میٹنگ ہے اس کے ساتھ کیا نام تھا اس کا۔۔۔؟؟؟ روز نے سوچنے والے انداز میں کہا۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے تم اس بارے میں نا سوچو جو بھی ہے میں صبح دیکھ لوں گا۔۔۔۔ تم ابھی مجھ پر دھیان دو۔۔۔!!!
کبیر نے روز کو مزید اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ روز کبیر کی بات سن کر ہنس پڑی تھی۔۔۔۔
💖————💖
بیسٹ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔ بس ایک بار ایک بار نور میرے ہاتھ آجاۓ پھر دیکھتا ہوں تمہیں آہل میر خان پھر کیا کرو گے۔۔۔۔؟؟؟
اےڈی نے غصے میں دھاڑتے ہوۓ اپنے کمرے کی چیزیں توڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
جون۔۔۔؟؟ اےڈی نے جون کو بلایا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔!! جون جلدی سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
مجھے آج رات کے لیے ایک لڑکی چاہیے۔۔۔!!! اےڈی نے سرخ چہرہ لیے جون کو سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
ی۔۔۔ یس۔۔۔ سر۔۔۔ ہوجاۓ گا آپ فکر مت کریں۔۔۔۔!!! جون نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
اےڈی نے شراب کی بوتل کھولی تھی اور اس حرام زہر کو اپنے اند انڈیلنے لگا تھا۔۔۔۔۔
💖————💖
حجاب گھر آئی تو اسے آتے ہی خبر ملی تھی کہ اسد کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔۔۔
حجاب کو اپنے پیروں تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے حجاب زمین بوس ہوتی علی( ججاب کے والد) نے اسے سنبھالا تھا۔۔۔۔
ججاب بیٹا آپ ٹھیک ہو۔۔۔۔؟ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔؟؟
علی نے پریشانی سے اپنی لاڈلی سے پوچھا۔۔۔
ڈیڈ اسد کیسے ہیں۔۔۔؟ ججاب نے پوچھا۔۔۔
بیٹا وہ ٹھیک ہے اب اور اللہ کا شکر ہے اسے زیادہ چوٹ نہیں لگی۔۔۔۔ پتہ نہیں کسی نے اس کی گاڑی کی بریک فیل کر دی تھیں۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے وہ گاڑی سے باہر کود گیا تھا ورنہ بہت برا ایکسیڈنٹ ہو سکتا تھا۔۔۔۔!!! علی نے کہا۔۔۔۔
اسد اب ٹھیک ہے یہ سن کر حجاب کو سکون ملا تھا یعنی کالیا اسی خوش خبری کی بات کر رہا تھا۔۔۔
یااللہ میں کہا پھنس گئ ہوں پلیز میری مدد کر۔۔۔!! حجاب نے دل میں کہا۔۔۔
ڈیڈ مجھے تھوڑا آرام کرنا ہے۔۔۔!! حجاب نے کہا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے میں تمہیں تمھارے کمرے میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔!!! علی نے کہا۔۔۔
نہیں ڈیڈ میں ٹھیک ہوں میں چلی جاؤ گی۔۔۔!! حجاب نے زبردستی کی مسکراہٹ اپنے چہرے پر لاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ علی نے کہا اور حجاب اپنے کمرے کی طرف چلی گئ۔۔۔۔۔
💖————💖
پتہ لگاؤ وہ لڑکی کون ہے جس کے پیچھے اےڈی پڑا ہوا ہے۔۔۔۔
مجھے وہ لڑکی اےڈی سے پہلے اپنے بستر پر چاہیے۔۔۔۔ تمہیں جیتنے پیسے چاہیے تمہیں مل جاۓ گے۔۔۔۔ لیکن وہ لڑکی مجھے ہر حال میں چاہیے۔۔۔۔!!!
عدنان نے اپنے بھروسے مند آدمی کو فون پر کہا۔۔۔
آگے سے شاید اسے اس بات کی یقین دہانی کروائی گئ تھی کہ کام ہو جاۓ گا۔۔۔ اس لیے عدنان نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔
اب دیکھتا ہوں میں اےڈی تم اس بار کیسے مجھ سے جیتو گے۔۔۔۔
عدنان نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاۓ کہا۔۔۔