Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

سحر کو بہت تیز بخار ہو گیا تھا اریبہ بہت پریشان تھی اور جب اسے معلوم ہوا تھا تو اُسی وقت وائٹ پیلس آئی تھی زارا سحر کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
اریبہ نے معاذ کو کال کرکے سحر کے بارے میں بتایا تھا اور اسے ابھی وائٹ پیلس میں آنے کا کہا تھا اور مجبوراً معاذ کو وائٹ پیلس آنا پڑا تھا۔۔۔۔
کہاں ہوتے ہو تم ابھی کل ہی تمھارا نکاح ہوا ہے اور صبح سے تم گھر سے غائب ہو فکر ہے تمہیں اپنی بیوی کی وہ بخار میں پڑی ہے اور تمہیں ہوش نہیں ہے۔۔۔۔!!!
احمد نے معاذ کو دیکھا تو اس کی اچھی خاصی کلاس لی تھی جو نظریں جھکاۓ کھڑا تھا۔۔۔۔
تمھاری بیوی سے زیاد کیا ضروری ہے تمھارے لیے معاذ اب وہ تمھاری ذمہ داری ہے اور تمہیں ہی اب اس کا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔!!!
احمد نے اس بار سمجھانے والے انداز میں نرم لہجے میں کہا تھا۔۔۔ کیونکہ معاذ کے چہرے پر شرمندگی وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔
اور پھر احمد وہاں سے چلا گیا تھا اور معاذ سحر کے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔
اریبہ اور زارا دونوں سحر کے پاس کمرے میں تھیں معاذ کے آنے کے بعد زارا کمرے سے چلی گئ تھی اور تھوڑی دیر معاذ کو گھورنے کے بعد اریبہ بھی کمرے سے نکل گئ تھی۔۔۔۔
اریبہ کی نظروں نے معاذ کو اتنا تو باور کروا دیا تھا کہ اسے اپنی ماں کی باتیں سننے کے لیے بھی آپ کو تیار رکھنا ہے۔۔۔۔
اریبہ کے جانے کے بعد معاذ بیڈ سے تھوڑے فاصلے پر رکھے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ اور اس نے اپنی نظریں سحر کے معصوم سے چہرے پر مزکور کی ہوئی تھیں۔۔۔۔
جو دوائی لے کر دنیا جہاں سے بے خبر سوئی ہوئی تھی اور کافی کمزور بھی لگ رہی تھی۔۔۔۔
کہی میں سحر کے ساتھ زیادتی تو نہیں کر رہا۔۔۔۔؟؟؟
معاذ کے دماغ میں اچانک سوال آیا تھا جس کا جواب فلحال اس کے پاس بھی نہیں تھا۔۔۔۔
میں کل زوبیا سے نکاح کر رہا ہوں اور جب یہ بات گھر والوں کو اور سحر کو معلوم ہو گئ تو وہ کیا کرے گی
گھر والوں کو تو میں سنبھال لوں گا لیکن سحر۔۔۔۔؟؟؟
اسے بھی تو کوئی پرواہ نہیں ہے جب اسے پرواہ نہیں ہے تو پھر میں کیوں اس کے بارے میں سوچوں
میں کل زوبیا سے نکاح کروں گا پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا زوبیا میرا پیارا ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔۔!!!
معاذ نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں موندتے ہوئے سوچا۔۔۔۔۔
💖————💖
اےجے ہانپتا ہوا آدھی رات کو اےڈی پلازہ آیا تھا اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا کہ کہی ایلکس اس کے پیچھے تو نہیں آرہا۔۔۔۔
اےڈی پلازہ میں داخل ہوتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
سر آپ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟؟؟ جون نے پریشانی سے پوچھا کیونکہ اس وقت اسے اےجے بہت مختلف لگ رہا تھا۔۔۔۔
بال اسے کے بکھرے ہوئے تھے جو ہر وقت سیٹ ہوتے تھے کپڑوں پر مٹی لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اور شوز تو اسے کے پاؤں میں تھے ہی نہیں۔۔۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں میں اپنے روم میں جا رہا ہوں مجھے کوئی ڈسٹرب نا کرے۔۔۔۔!!!
اےجے نے اُٹھتے ہوۓ کہا لیکن اےجے اتنا بھاگا تھا کہ اب اس میں چلنے کی بھی سکت نہیں تھی
جون نے اےجے کو سہارا دیا تھا اور اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
خان آپ نے کہا تھا کبیر کچھ دنوں تک نور کو واپس لے آۓ گا لیکن۔۔۔۔ لیکن اتنے دن گزر چکے ہے وہ دونوں ابھی تک واپس کیوں نہیں آۓ۔۔۔۔؟ اور پتہ نہیں نور کسی ہو گی۔۔۔۔۔؟
کبیر تو نور کو پسند بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔۔!!! حیاء نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔
حیاء نے سوچ لیا تھا آج تو یہ میر سے پوچھ کر ہی رہے گی کیونکہ جب بھی حیاء نور کی بات کرتی میر بات کو ٹال دیتا تھا۔۔۔۔
ہنی میری جان یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو۔۔۔۔!!!!
میر نے پیار سے حیاء کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کبیر نے ہماری بیٹی کے ساتھ نکاح کیا ہے میں مانتا ہوں اس کا طریقہ کار غلط تھا لیکن اب ہماری بیٹی شادی شدہ ہے۔۔۔۔ وہ کبیر کے ساتھ ہے وہ کبھی بھی ہماری بیٹی کو تکلیف نہیں پہچاۓ گا۔۔۔۔ اور اب دونوں کی شادی ہو چکی ہے ہمیں تھوڑا وقت ان دونوں کو دینا چاہیے تاکہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکے۔۔۔۔!!!
میر نے حیاء کو سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
خان آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔۔!!! حیاء نے میری کی پوری بات سن کر مسکرا کہا۔۔۔۔
میں غلط کب کہتا ہو جانِ من۔۔۔۔!!! میر نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
حیاء نے میر کے کاندھے پر سر رکھ کر اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔۔
کبیر میں امید کرتا ہوں تم نے نور کو تکلیف نا پہنچائی ہو ورنہ تمھارے لیے بہت برا ہو گا بس کچھ وقت اور کبیر۔۔۔۔۔!!!! میر نے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔
💖————💖
تو تم ہو ٹائیگر کے آدمی ہو۔۔۔۔؟؟؟ تم اےڈی پلازہ کی باتیں اسے بتاتے تھے۔۔۔۔؟؟؟
اےڈی نے ٹائیگر کے آدمی کو دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا کہی سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ اےڈی غصے میں ہے اور جو بات اسے معلوم ہوئی تھی اسے غصہ کرنا چاہیے تھا لیکن یہاں ایسا بلکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
اس آدمی کو اےڈی سے ڈر لگ رہا تھا اور وہ آدمی کانپ بھی رہا تھا۔۔۔۔
تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا نہیں چاہو گے۔۔۔۔؟؟؟ اےڈی نے اپنی گن کو پکڑتے ہوۓ ٹھنڈے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
نہیں مجھے پتہ ہے میرا صفائی دینا یا نا دینا بے کار ہے کیونکہ تم نے مجھے مار دینا ہے۔۔۔۔!!! اس آدمی نے کہا۔۔۔۔
گڈ میرے ساتھ رہتے ہوۓ تم کافی حد تک سمجھدار ہو گئے ہو۔۔۔۔!!!
اےڈی نے کہا اور اُس آدمی کے ماتھے پر گن تان دی تھی اور ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر اےڈی نے گولی چلا دی تھی جو اس آدمی کی کھوپڑی کے آر پار ہو گئ تھی۔۔۔۔
ٹھاہ کی آواز کے بعد پورے پلازہ میں خاموش چھا گئ تھی۔۔۔۔
جون لے جاؤ اس یہاں سے۔۔۔۔!!!
اےڈی نے زمین ہر پڑے آدمی کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ٹائیگر تم میری سوچ سے بھی زیادہ چلاک ہو لیکن میں بھی اےڈی ہوں اچھے سے جانتا ہوں کہ تم جیسوں سے کام کیسے نکلوانے ہیں۔۔۔۔!!!
اےڈی نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا اس وقت اس کی نیلی آنکھیں مسکرا کرہی تھی اےڈی آگے کیا کرنے والا تھا یہ کوئی نہیں جاتا تھا۔۔۔۔
💖————💖
(ماضی)
برہان کو دوبارہ عشال ایک ریسٹورنٹ میں نظر آئی تھی۔۔۔۔
برہان عشال کی ایک جھلک دیکھ کر خوش ہو گیا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے برہان اپنے قدم عشال کی طرف بڑھاتا اسے عشال کے ساتھ ایک لڑکا بھی نظر آیا تھا۔۔۔۔
برہان نے اپنا رخ موڑ لیا تھا اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
عشال التمش کے ساتھ یہاں آئی تھی جب التمش سے کوئی لڑکی آکر ملی تھی اور اس کے گلے بھی لگی تھی۔۔۔۔ حیرت تو عشال کو اس بات پر ہوئی تھی کہ التمش بھی اس کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ عشال کا غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا اس کے اندر لاوا پک رہا تھا بس پھٹنے کی دیر تھی۔۔۔۔۔
التمش کو ایک کال آئی جیسے اٹینڈ کرنے وہ ریسٹورنٹ سے باہر گیا۔۔۔۔
اےڈی کے جاتے ہی عشال نے اس لڑکی کو کہا تھا کہ التمش سے کہنا میں گھر جارہی ہوں عشال نے کہا اور بنا اس لڑکی کی بات سنے ریسٹورنٹ سے نکل گئ تھی۔۔۔۔۔
عشال بہت جلد جزباتی ہو جایا کرتی تھی اور کوئی ایسا قدم اٹھا لیتی تھی جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا تھا۔۔۔۔
اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے اس لڑکی سے بھی پوچھ سکتی تھی کہ وہ کون ہے لیکن اس نے لڑکی سے کچھ نہیں پوچھا اور ریسٹورنٹ سے ہی باہر نکل گئ تھی اور اسے راستوں کا بھی معلوم نہیں تھا پھر بھی غصے میں چلتی جارہی تھی
جب اسے سنسان راستہ دیکھ کر اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے عشال وہاں سے جاتی کچھ لڑکے جو وہاں پر پہلے سے ہی موجود تھے اور عشال کو دیکھ کر اس کے ارد گرد چکر لانے لگے تھے۔۔۔۔
عشال کو ان کی نظروں سے خوف محسوس ہو رہا تھا جو عشال کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
ارے دیکھ آج تو لگتا ہے ہماری سنی گئ ہے دیکھ کتنی خوبصورت لڑکی ہمارے پاس خود چل کر آئی ہے۔۔۔۔!!! ان میں سے ایک لڑکے نے خباثت سے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
دوسرے لڑکے نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا جب کسی نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اس لڑکے نے برہان کی طرف دیکھا تو ایک دم اس کے چہرے پر خوف نمایا ہوا تھا اور باقی کے لڑکوں کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔
لگتا ہے تم سب کو ایک بار کی بات سمجھ میں نہیں آتی لیکن کوئی بات نہیں اب اچھے سے سمجھا دوں گا۔۔۔۔!!!
برہان نے اس لڑکے کا ہاتھ مڑوڑتے ہوۓ سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو پلیز اب دوبارہ ایسی کوئی غلطی نہیں ہو گی۔۔۔۔!!!! اس لڑکے نے گڑگڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
برہان نے اس لڑکے کا ہاتھ چھوڑا اور سارے لڑکے وہاں سے ایک سیکنڈ میں غائب ہوۓ تھے۔۔۔۔
عشال برہان کو ہی دیکھ رہی تھی جس نے وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیو پینٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
آپ کو گھر چھوڑ دوں۔۔۔۔؟؟؟ برہان نے عشال کو خود کو تکتے دیکھا تو اس سے پوچھا۔۔۔۔
جی آپ کی مہر بانی ہو گی۔۔۔۔!!!
عشال نے ہلکا سا مسکرا کر کہا برہان فرصت سے عشال کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔
چلیں۔۔۔؟؟ عشال نے کہا تو برہان ہڑبڑا کر ہوش کی دنیا میں آیا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔!!! برہان نے کہا اور عشال کو آگے چلنے کو کہا تھا اور خود اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔!!! گاڑی میں خاموشی تھی جیسے عشال کی آواز نے توڑا تھا۔۔۔۔
وہ تو میرا فرض تھا اگر آپ کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو میں اس کی بھی مدد کرتا۔۔۔۔!!! برہان نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
عشال بھی برہان کی بات سن کر مسکرا پڑی تھی۔۔۔۔
اور تھوڑی دیر بعد ہی عشال کا گھر آگیا تھا عشال نے گاڑی سے نکلنے سے پہلے ایک بار پھر برہان کا شکریہ ادا کیا تھا اور پھر وہاں سے چلی گئ تھی۔۔۔۔
برہان اس وقت تک اسے دیکھتا رہا تھا جب تک وہ گھر کے اند نہیں چلی گئ تھی۔۔۔۔
💖————💖
اےڈی واپس آیا تو ٹیبل پر وہی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی اسے عشال کہی نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔
عشال کہاں ہے۔۔۔۔؟ اےڈی نے اس لڑکی سے پوچھا۔۔۔
اُس لڑکی نے عشال کی بتائی ہوئی بات اےڈی کو بتا دی تھی۔۔۔۔
اےڈی کو غصہ تو بہت آیا تھا لیکن ضبط کر گیا تھا اور ریسٹورنٹ سے نکل گیا تھا اور باہر عشال کو تلاش کرنے لگا تھا۔۔۔۔
💖————💖
(حال)
کبیر نور کے لیے نیا چشمہ لے آیا تھا نور اپنے کمرے میں تھی اس کے سر میں درد تھا کیونکہ دو دنوں سے اس نے چشمہ نہیں لگایا تھا جس کی وجہ سے اس کے سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔۔
نور گھر والوں کو بھی بہت مس کر رہی تھی لیکن کبیر کو کہہ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ گھر کا سن کر اسے زیادہ غصہ آتا تھا۔۔۔۔
نور لیٹی ہوئی تھی جب کبیر کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
یہ تمھارا چشمہ اور میں کھانا لے کر آیا ہوں جاؤ کھانا لے کر آؤ۔۔۔۔!!!
کبیر نے نور کو دیکھتے ہوئے حکم دینے والے انداز میں کہا اور اسے چشمہ پکڑایا تھا۔۔۔۔ اور نور نے آرام سے پکڑ بھی لیا تھا اور کمرے سے باہر چلی گئ تھی کبیر کو نور سے اتنی فرمانبرداری کی توقع نہیں تھی۔۔۔۔
کمرے سے باہر آکر نور کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
تمہیں تنگ کرنے کی آج میری باری ہے کبیر خان
نور نے مسکراتے ہوۓ کہا اور کچن میں چلی گئ تھی۔۔۔۔ جو سالن کبیر لایا تھا نور نے اس میں ایک کاکروچ ڈال دیا تھا۔۔۔۔ اور یہ بات نور ہی جانتی تھی کہ اسنے کاکروچ کو کتنی محنت سے پکڑا اور پھر مارا تھا صرف اور صرف اپنے شوہر کبیر خان کے لیے۔۔۔۔
نور نے کھانے کی ٹرے اُٹھائی اور کچن سے باہر آگئ تھی۔۔۔۔ نور کمرے میں داخل ہوئی تو کبیر لیٹا موبائل یوز کر رہا تھا۔۔۔۔
نور نے ٹرے کو کبیر کے سامنے رکھا اور خود صوفے پر جاکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کبیر کبھی بھی اسے کھانے کا نہیں پوچھے گا۔۔۔۔
کبیر مشکوک نظروں سے کبھی نور کو تو کبھی اپنے سامنے رکھے کھانے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نور کا اتنی آسانی سے کبیر کی بات مان جانا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
کبیر نے غور سے روٹی کی طرف دیکھا تو روٹی بھی ٹھیک تھی اور سالن بھی ٹھیک ہی لگ رہا تھا۔۔۔۔
کبیر نے کندھے اچکاۓ اور ایک نوالہ توڑ کر اس سالن کی طرف اس نے ہاتھ بڑھایا تو وہ مرا ہوا کاکروچ اس کے نوالے میں آگیا تھا۔۔۔۔
کبیر کی قسمت ابھی تھی کہ پہلے نوالے میں ہی وہ کاکروچ آگیا تھا۔۔۔۔
کبیر نے کاکروچ کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر اپنی نظروں کے سامنے کیا تھا۔۔۔۔
نور اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔
کبیر نے اپنی خونخوار نظروں سے نور کو گھورنا چاہا لیکن نور کے چہرے ہر نظر پڑتے ہی اس کا سارا غصہ کہی غائب ہو گیا تھا کبیر نور کو دیکھ رہا تھا جو اب ہنس رہی تھی۔۔۔۔۔
کبیر اپنی جگہ سے اٹھا اور چلاتا ہوا نور کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ جب نور کی ہنسی کو بریک کبیر کے پاس کھڑے ہونے سے لگی تھی۔۔۔۔
کبیر نے کاکروچ کو ابھی بھی پکڑا ہوا تھا نور نے کاکروچ کو دیکھا تو اب اس کے چہرے پر ہنسی کی جگہ خوف نے لے لی تھی۔۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ کبیر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
کاکروچ ہے۔۔۔۔!!! نور نے جلدی سے کہا
وہ مجھے بھی معلوم ہے یہ سالن میں کیا کر رہا تھا۔۔۔۔؟؟؟ کبیر نے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
اسے بھی بھوک لگی ہو گی کھانا کھانے آیا ہو گا۔۔۔۔!!! نور نے کبیر کا ہاتھ اپنے سے دور کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کبیر نور کا بے تکا جواز سن کر کھل کر ہنسا تھا۔۔۔۔ نور کو لگ رہا تھا کہ کبیر کو کھانا نہیں ملا اس لیے بھوک کی وجہ سے ایسی حرکت کررہا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ کبیر کا ہنسا مشکل نہیں ناممکن تھا اس لیے تو نور اسے کھڑوس کہتی تھی۔۔۔۔۔
نور نے کمرے سے باہر دوڑ لگا دی تھی۔۔۔۔
پاگل لڑکی۔۔۔۔!!! کبیر نے نور کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
💖————💖
معاذ مولوی صاحب کب آۓ گے۔۔۔۔؟؟؟ زوبیا پیچھلے ایک گھنٹے میں پانچ بار پوچھ چکی تھی۔۔۔۔
یار آتے ہی ہونگے۔۔۔۔!!! معاذ نے پھر سے وہی جواب دیا تھا۔۔۔۔
معاذ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے یہ سب اچھا کیوں نہیں لگ رہا جبکہ زوبیا تو اس کی محبت تھی اور اپنی محبت کو ہمیشہ کے لیے آج معاز اپنا بنانے والا تھا۔۔۔۔
لیکن پھر یہ بےچینی کیسی تھی معاذ انہی سوچوں میں گم بیٹھا ہوا تھا جب مولوی کے آنے کی اسے اطلاع ملی تھی۔۔۔۔
زوبیا آج بہت خوش تھی آج وہ معاذ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئ تھی لیکن زوبیا تقدیر کے فیصلوں سے بے خبر تھی کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔
نکاح نامے پر سائن کرتے وقت معاذ کی بے چینی مزید بڑھ گئ تھی اس نے اپنی شرٹ کے دو بٹن کھو دیے تھے اس کی آنکھوں کے سامنے سحر کا چہرہ لہرایا تھا۔۔۔۔
معاذ نے ہر ایک بات کو اگنور کرتے ہوئے نکاح نامے پر دستخط کر دیے تھے۔۔۔۔
زوبیا اور معاذ کا کا نکاح ہو چکا تھا اور تھوڑی دیر بعد معاذ کے دوست بھی چلے گئے تھے۔۔۔۔
ابھی اس کے دوست گئے ہی تھے جب دوبار دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔۔۔ اس وقت معاذ زوبیا کے گھر پر تھا جو معاذ نے ہی اسے گفٹ کیا تھا۔۔۔۔ معاذ نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک لڑکا کھڑا تھا۔۔۔
زوبیا معاذ کا انتظار کر رہی تھی لیکن ابھی تک معاذ نہیں آیا تھا جب زوبیا خود معاذ کو دیکھنے گئ تھی۔۔۔۔ اس نے دروازے کے پاس کھڑے معاذ کو دیکھا اس کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی کھڑا تھا جس کی شکل زوبیا کو نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
معاذ کون آیا ہے۔۔۔۔؟؟؟
زوبیا نے معاذ کے پاس جاتے ہوۓ پوچھا لیکن جب اس شخص کی شکل زوبیا نے دیکھی تو اسے اپنے پیروی تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
زوبیا نے دیوار کا سہارا لیا تھا اگر دیوار نا ہوتی تو اب تک زوبیا زمین بوس ہو چکی ہوتی۔۔۔۔