Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

سب کا رُخ اب کبیر خان کی طرف تھا جو مغرورانہ چال چلتے ہوۓ باہر آرہا تھا۔۔۔
اس کے دائیں جانب اسد اور بائیں جانب زید چل رہے تھے۔۔۔ تینوں ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے۔۔۔
چاروں اور لگی روشنیاں بھی اس وقت صبح کا منظر پیش کررہی تھیں۔۔۔
اس وقت ہر ایک کی آنکھوں کا مرکز کبیر خان اور اس کے دونوں بھائی بنے ہوئے تھے۔۔۔
لڑکیاں تو کیبر خان کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس رہی تھیں۔۔۔ لیکن وہ ظالم بنا سب کو اگنور کرتا چل رہا تھا۔۔۔ آنکھوں کی چمک جس کی پوری دنیا دیوانی تھی۔۔۔ اس وقت اس میں خوشی پھوٹ رہی تھی۔۔۔
بہت ہی کم عمر میں اس نے فلم انڈسٹری میں اپنا بہت بڑا نام بنایا تھا۔۔۔
سر آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے آپ کی کامیابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔۔۔۔؟
ایک خوبصورت سی لڑکی نے ایک ادا سے اپنے سامنے کھڑے ہینڈسم اور مغرور سے کبیر خان سے پوچھا۔۔۔ جس نے اس لڑکی کی طرف ایک غلط نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں سمجھا۔۔۔۔
ویسے تو میں نے سنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔
لیکن میں یہ کہنا چاہو گا میری کامیابی کے پیچھے میرے بڑے پاپا کا ہاتھ ہے۔۔۔۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں ان کی وجہ سے ہوں۔۔۔
کیونکہ میرے ڈیڈ اس بات کے خلاف تھے کہ میں ایکٹر بنو۔۔۔ تو جو بھی میں آج ہوں اپنے بڑے پاپا کی مدد سے ہوں۔۔۔
کبیر نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔ کبیر کا جواب سن کر زید اور اسد بھی مسکرا پڑے تھے۔۔۔۔
وہ لڑکی تو کبیر خان کی مسکراہٹ میں کھو سی گئ تھی۔۔۔
آپ کو مزید کچھ پوچھنا ہے۔۔۔؟ اسد نے سنجیدگی سے اس لڑکی کو ہوش کی دنیا میں لاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
جی۔۔ جی۔۔۔ اس لڑکی نے کہا اور کبیر کی فلم کے مطلق سوال پوچھنے لگی۔۔۔ جو اس کی نئی آنے والی تھی۔۔۔
لو جی باپ میں ہوں اس نالائق کا اور تعریفیں یہ میر کی کر رہا ہے۔۔۔ مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے میرا کام صرف اسے پیدا کرنا ہی تھا۔۔۔ احد نے ٹی وی کو گھورتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیا فضول بولتے جارہے ہو۔۔۔؟ آپ نے کب اسے پیدا کیا۔۔۔؟ پری نے آنکھیں پھاڑے احد سے پوچھا جو خود سوچ رہا تھا کہ کیا بول گیا ہے۔۔۔
میرا مطلب ہے میری بھی تو محنت ہے نا احد نے جلدی سے کہا۔۔۔
شرم کی کمی تو آپ میں شروع سے تھی۔۔۔ اپنے بڑھاپے کا ہی خیال کر لو۔۔۔ پری نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔ کیوں کے وہ جانتی تھی احد کو بلکل بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی اسے بوڑھا کہے۔۔۔
تم نے بوڑھا کیسے کہا۔۔۔؟ ابھی بھی لڑکیاں مجھ پر مرتی ہے۔۔۔۔ اپنے بیٹوں کے ساتھ چلتا ہوا ان کا بڑا بھائی لگتا ہوں۔۔۔۔
احد نے اپنے فرضی کالر جھاڑتے ہوئے کہا جو کہہ بھی سچ رہا تھا۔۔۔۔
ماما بابا میں نے بھائی کا انڑویو دیکھنا ہے۔۔۔ زارا نے اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اب ان کی بحث ختم نہیں ہوگی۔۔۔۔
زارا کی بات سن کر دونوں خاموش ہوگئے تھے اور کبیر کا انٹرویو دیکھنے لگے تھے۔۔۔
💖————💖
اسد اور زید دونوں جڑواں تھے۔۔۔ دونوں کی شکل سیم تھیں اکثر گھر والے بھی دھوکہ کھا جاتے تھے۔۔۔۔
دونوں سیم کپڑے پہنتے تھے۔۔۔ لیکن دونوں کی عادت الگ الگ تھی۔۔۔ اسد سنجیدہ قسم کا تھا جبکہ زید اس کے برعکس شرارتی قسم کا تھا۔۔۔۔
زید نے اپنے ہاتھوں میں کافی جھلے پہنے ہوتے تھے۔۔۔ جس سے پتہ چلتا تھا یہ زید ہے۔۔۔ اور اسد کی انگلیاں خالی ہوتی تھیں۔۔۔۔ اور اس کے چہرے پر ہمیشہ سنجیدگی چھائی رہتی تھی۔۔۔۔
لیکن اسد جتنا پیار کبیر سے کرتا تھا اتنا ہی پیار وہ زید سے بھی کرتا تھا۔۔۔۔
کبیر اسد اقر زید ہمیشہ ایک ساتھ ہی پاۓ جاتے تھے۔۔۔۔
کبیر فلم ان میں تھا تو اسد اور زید بھی اس کے ساتھ تھے۔۔۔
احد کی طرح زین کو بھی اس بات کا مسئلہ تھا کہ اس کے دونوں بیٹے کچھ کرتے نہیں ہیں۔۔۔ زین چاہتا تھا اسد اور زید بھی بزنس کریں۔۔۔ لیکن اُن دونوں کو کہنا تھا جہاں کبیر ہو گا وہی ہم بھی ہونگے۔۔۔ کبیر کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گے۔۔۔۔
لیکن اسد اور زید کو میر کے علاوہ اپنی ماں کی بھی سپورٹ حاصل تھی۔۔۔ اور زین بےچارہ حور کے سامنے کچھ بھی کہنے سے گریز کرتا تھا۔۔۔
اگر وہ ایک بار ناراض ہو جاتی تو بہت مشکل سے مانتی تھی جو زین کو گوارا نہیں تھا۔۔۔۔
💖————💖
اے۔ڈی اس وقت اپنے خوبصورتی سے بنے پلازہ میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
اس پلازے کا نام بھی اے۔ڈی تھا۔۔۔
اے۔ڈی پلازہ بہت بڑا تھا اس میں ہر طرح کی آزائش موجود تھی۔۔۔۔ ہاہر سے دیکھنے والے کو یہ پلازہ بہت دلکش لگتا تھا۔۔۔۔ لیکن کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اس پلازے میں غیر قانونی کام بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔
اسے دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ بہت سے بے قصور لوگوں کی جانیں لے چکا ہے۔۔۔۔
اے۔ڈی اپنے نام کی طرح انوکھا۔۔۔ اور پراسرارتھا اس کی نیلی ساحرانہ آنکھیں۔۔۔۔ مقابل کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا ہنر رکھتی تھیں۔۔۔۔ خوبصورتی اور وجاہت کا انوکھا شاہکار تھا۔۔۔
اے۔ڈی کی آدھی دنیا دیوانی تھی۔۔۔۔ لڑکیاں اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مرتی تھی۔۔۔۔ جو ہمیشہ کالے کالے رنگ کے کپڑوں میں نظر آتا تھا۔۔۔۔
شاید اسے کالا رنگ کچھ زیادہ ہی پسند تھا۔۔۔ لڑکیاں اسے نیلی آنکھوں والا شہزادہ بھی کہتی تھیں۔۔۔۔
اے۔ڈی کو ساری پولیس فورس جانتی تھی۔۔۔ جو بھی بم دھماکے ہوتے تھے اس میں اے۔ڈی کا نام سب سے اوپر ہوتا۔۔۔۔ لیکن ثبوت نا ہونے کی وجہ سے ابھی تک اے۔ڈی پکڑا نہیں گیا تھا۔۔۔۔
اے۔ڈی جب بھی کوئی قتل کرتا تو اس پر اپنی چھاپ ضرور چھوڑتا تھا۔۔۔۔
تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ یہ کس کا کام ہے۔۔۔۔ اے۔ڈی کوئی بھی کام چھپ کر نہیں کرتا تھا۔۔۔۔
💖————💖
مال پہنچ گیا ہے۔۔۔؟
اے ڈی نے کینواس پر تصویر بناتے ہوۓ پوچھا اس وقت اے ڈی نے کالی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ جس کے کف فولڈ کیے ہوۓ تھے ماتھے پر بال بکھرے ہوئے پڑے تھے۔۔۔۔
نیلی آنکھیں کسی بھی جزبے سے پاک تھیں۔۔۔
کالی شرٹ میں اس کے مسلز صاف ظاہر ہو رہے تھے۔۔۔۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خوبصورت نظر آنے والا شہزاد کتنا خطر ناک ہے۔۔۔۔
جی۔۔ جی۔۔ سر۔۔۔
اُس آدمی نے جلدی سے اپنے ماتھے کا پسینا صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ اےڈی سے بات کرنا کسی مشکل کام کو سر انجام کرنے کے برابر تھا۔۔۔
اگر مال پہنچ گیا ہے تو ان لوگو تک ابھی تک کیوں نہیں پہچا۔۔۔
اےڈی نے بنا رخ موڑے عام سے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
اُس آدمی کو نہیں معلوم تھا کہ اتنی جلد اےڈی کو معلوم ہو جاۓ گا کہ وہ مال اپنی جگہ پر نہیں پہنچا۔۔۔
وہ سر کچھ دیر تک پہنچ جاۓ گا۔۔۔ ہوسکتا ہے راستے میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہو۔۔۔
اُس آدمی نے جلدی سے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔۔۔ اسے لگا تھا وہ اےڈی کی نظروں میں دھول جھونک کر کروڑوں کا مال لے کر غائب ہو جاۓ گا۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ سامنے کھڑا انسان کوئی عام انسان نہیں ہے۔۔۔۔
بلکہ کرائم کی دنیا میں اےڈی کو ڈینجرس کِنگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔۔۔۔
بڑے سے بڑے غنڈے بھی اےڈی کے سامنے کچھ بھی غلط بولنے سے ہزار بار سوچتے تھے۔۔۔ کیونکہ اےڈی سے زیادہ بےحس انسان انہوں نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
کسی کی جان لینے سے پہلے وہ ایک سیکنڈ بھی نہیں سوچتا تھا۔۔۔
اے ڈی نے رومال سے اپنے ہاتھ صاف کیے اور اپنی بنائی تصویر کا رخ اُس آدمی کی طرف کیا۔۔۔
اور اس تصویر کو دیکھ کر آدمی کی روح تک کانپ گئ تھی۔۔۔۔
اس تصویر میں ایک آدمی کھڑا تھا لیکن اُس کا سر اس کے اپنے ہی قدموں میں پڑا ہوا تھا۔۔۔۔ اور ہر طرف خون ہی خون تھا۔۔۔
اس آدمی نے جب تصویر دیکھی تو وہ جان گیا تھا کہ اس کا حال بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔۔۔ اس لیے اپنی جان کو بچانے کے لیے اس نے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس وقت اےڈی پلازہ میں ہے جہاں سے باہر جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔۔۔۔
آدمی کو بھاگتے دیکھ اےڈی کے چہرے پر ایک پر سرار سی مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
بیوقوف۔۔۔۔ اےڈی نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
💖————💖
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔؟ اور یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے اپنی۔۔۔؟
اسد نے غصے سے گھورتے ہوئے اپنے سامنے کھڑی حجاب کو کہا۔۔۔
جو پودوں کو پانی کم دے رہی تھی۔۔۔ خود پانی کے ساتھ زیادہ کھیل رہی تھی اور پوری بھیگی ہوئی تھی۔۔۔
حجاب کے پورے کپڑے بھیگے ہوۓ تھے اسد نے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کر لیا تھا۔۔۔
اسد علی سے ملنے آیا تھا۔۔۔ اسے کچھ کام تھا
اسد نے جب سامنے دیکھا تو مالی جو کم ہی عمر کا تھا حجاب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسد کو مزید غصہ آیا تھا۔۔۔ لیکن اسے زیادہ غصہ حجاب پر آرہا تھا جس میں عقل بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔
جاؤ اندر۔۔۔ اسد نے بنا رخ موڑے ہی کہا حجاب نے اندر جانے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔۔ کیونکہ سب جانتے تھے کبیر اور اسد غصے کے بہت تیز ہیں۔۔۔
حجاب جب اندر چلی گئ تو اسد مالی کے پاس آیا تھا۔۔۔
دس منٹ ہے تمہارے پاس مجھے دوبارہ تم اس گھر میں اگر نظر آۓ تو یہ میں بھی نہیں جانتا تمہارے ساتھ کیا کروں گا۔۔۔۔
اسد نے سخت لہجے میں کہا اور بنا سامنے والے کی سنے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
بابا مجھے یہ چشمہ نہیں لگانا۔۔۔ نور نے میر کے سامنے آتے ہی منہ بناکر کہا۔۔۔ جو اخبار پڑھ رہا تھا۔۔۔
میر کی شخصیت میں پہلے سے زیادہ نکھار آگیا۔۔۔
ہلکی ہلکی کانوں کے پاس بالوں میں سفید چاندنی بھی آگئ تھی۔۔۔ جیسے میر نے چھپانے کی بکل بھی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔
بلکہ میر اب زیادہ ہینڈسم لگتا تھا۔۔۔
میری گڑیا کا موڈ خراب کیوں ہے۔۔۔؟
میر نے مسکرا کر نور سے پوچھا اور اسے اپنے سامنے بیٹھایا۔۔۔۔
بابا آج میرا کالج میں پہلا دن ہے۔۔۔ نور نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔
بلکل آج میری گڑیا کا کالج میں پہلا دن ہے۔۔۔ میر نے نور کے ماتھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔۔
بابا وہاں بھی سب لڑکیاں میرا مزاق بناۓ گی۔۔۔ مجھے چشمہ نہیں لگانا۔۔۔ نور نے چشمہ نا لگانے کی وجہ بتائی۔۔۔۔
پہلے تو اس کے ساتھ سکول میں حجاب اور سحر ہوتی تھی وہ نور کا خیال رکھتی تھیں۔۔۔ لیکن اب وہ یونی چلی گئ تھی۔۔۔ اور نور کو کالج اکیلے جانا تھا۔۔۔
میری گڑیا کو کوئی تنگ نہیں کرے گا۔۔۔ اگر آپ کو کسی نے تنگ کیا تو مجھے کال کرنا۔۔۔ میں خود اس کی کلاس لوں گا۔۔۔ میر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
سچ میں۔۔۔؟ نور نے پھر سے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوۓ کہا۔
بلکل سچ۔۔۔!! میر نے کہا۔۔۔۔
نور میں میر کی جان بستی تھی۔۔۔
گھر میں نور بچوں میں سے سب سے چھوٹی تھی۔۔۔ سب اس سے بہت پیار کرتے تھے۔۔۔
نور حیاء کی طرح ہی تھی لیکن حیاء سے تھوڑا کم ہی معصوم تھی۔۔۔ خوبصورتی تو اس نے اپنے ماں باپ سے چرائی تھی۔۔۔۔
بڑی بڑی سبز آنکھیں۔۔ چھوٹی سی ناک۔۔۔ سرخ ہونٹ۔۔۔ کندھے تک آتے کالے بال۔۔۔ اور دودھ کی طرح سفید رنگت۔۔۔
حجاب اور سحر تو نور کو سنووائٹ کہتی تھی۔۔۔
نور کو سب پسند کرتے تھے سواۓ کبیر خان کے۔۔۔
کبیر کو شروع سے چھوٹی سی نور بلکل بھی پسند نہیں تھی۔۔۔
اور نور بھی کبیر سے بہت زیادہ ڈرتی تھی۔۔۔ کبیر کے سامنے آجانے سے نور اٹک اٹک کر بولنے لگتی تھی اور یہ بات سب نے نوٹ کی تھی۔۔۔
چشمہ لگا کر تو نور اور بھی خوبصورت لگتی تھی۔۔۔
نور آپ نے ناشتہ نہیں کرنا پھر آپ نے کالج بھی جانا ہے۔۔۔؟ میر نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے نور کو کہا۔۔۔
بابا مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ نور نے کہا۔۔۔
بری بات بیٹا چلو میرے ساتھ آپ کی ماما ہمارا ویٹ کررہی ہوں گی۔۔۔ میر نے نور کو کہا۔۔۔۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے گیا۔۔۔۔
نور بھی منہ بسورتی میر کے ساتھ باہر چلی گئی۔۔۔۔
💖————💖
جاری یے۔۔۔۔💞💞