Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Last Episode)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Last Episode)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
وہ پریشانی کے عالم میں ٹہلتا ہوا سدید کا نمبر ڈائل کر رہا تھا اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا پھر اس نے صمید کو کال ملائی اس کا نمبر بھی بزی جا رہا تھا اس کا پارہ ہائی ہونے لگا ڈاکٹر نے ایک بار پھر سے آکر بتایا
پیشنٹ کی کنڈیشن بہت سئریس ہے
ڈاکٹر پلیز اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے
وہ بے بسی سے بولا ڈاکٹر اگے چلا گیا اس سے کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی وہ اب کیا کرے اس نے پھر سے صمید کا نمبر ٹائل کیا صمید نے کال پک نہ کی شاذر کو غصہ آنے لگا تھوڑی دیر بعد صمید نے کال پک کی اس نے صمید کو ہاسپٹل کا بتایا صمید فورا سے ہاسپٹل پہنچ گیا
کدھر مر گئے تھے سدید بھی کال پک نہیں کر رہا تھا
پری کو کیا ہوا ہے کل تک تو ٹھیک تھی
وہ باتیں چھوڑو تم بتاؤ جو میں پوچھ رہا ہوں پلیز بتا دو پری کا بچہ کدھر ہے تم کیوں نہیں اس کے سامنے لاتے اسے
شاذر نے بے بسی سے کہا
شاذر میں نہیں اس کے سامنے لا سکتا تم نہیں جانتے وہ بہت کمزور ہے وہ مر جائے گی
ایسا کیوں بول رہے ہو تم بس لا دو وہ اپنے بچے سے ملنا چاہتی ہے
شاذر میں بتا رہا ہوں میں لاؤں گا اسے پر اگر میری بہن کو کچھ ہوا تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا
اچھا بس تم لا دو
صمید یہ کہہ کر چلا گیا وہ پھر سے سدید کا نمبر ڈائل کرنے لگا
★★★
سدید بینچ پر بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ڈاکٹر آیا سدید نے جلدی سے اٹھ کر ڈاکٹر سے فاریہ کے بارے میں پوچھا ڈاکٹر کہنے لگا وہ ٹھیک ہیں اب آپ مل سکتے ہیں وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا روم میں داخل ہوا اور فاریہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا فاریہ نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا سدید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا
“میری طرف دیکھو میری جان سوری یار انے میں دیر کر دی تھی مجھے پتہ ہوتا ہاسپٹل میں ہو تو میں فورا ا جاتا
فاریہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی
سدیر نے اسے کندھوں سے پکڑ کر سینے سے لگا لیا وہ مسکرانے لگی
★★★
وہ پرہیان کے پاس بیٹھا ہوا تھا پریشان نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا
شاذر نے جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا
پرہیان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
میری جان جلدی سے پورے ہوش میں اؤ کسی سے ملوانا ہے
پری کے لبوں سے بے ساختہ “حازق” نکلا
کیا ہوا ہے پری میری طرف دیکھو
اس نے پیار سے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ کے پیالے میں بھر کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا
اسی وقت صمید کمرے میں داخل ہوا اس کے ساتھ ایک بچہ تھا پری کی نظر جیسے ہی اس بچے پر پڑی وہ ایک دم سے اٹھی اسے دیکھنے لگی اس کی سانسیں تیز تیز چلنے لگی تھی
میرا بیٹا
وہ منہ پر ہاتھ رکھے روتی ہوئی بولی
وہ بچہ چلتا ہوا اس کے پاس ایا اور پریشان سے ایسے لپٹا جیسے وہ جانتا ہو یہ اس کی ماں ہے
پری کی حالت بہت بری ہونے لگ گئی تھی اس کی سانس تیز تیز چلنے لگی
ڈاکٹر شاذر کو کہنے لگے باہر جائیں
شاذر حازق کدھر ہے وہ نہیں آیا وہ کدھر ہے میرا حازق کدھر ہے شاذر پری کا حازق کہاں ہے بتائیں نہ شاذر سب باہر جا چکے تھے وہاں پر بس شاذر اور ڈاکٹر تھے
حازق کو بلاؤ نا شاذر میں تکلیف میں ہوں اس سے نہیں معلوم اس کی پری تکلیف میں ہے کہاں گئی حازق کی محبت میرے حازق سے بولو اس کی پری مر رہی ہے وہ کہتا تھا پری تمہیں میری بانہوں میں موت ائے گی جب تم مرو گی میری بانہوں میں ہوگی ہم ساتھ مریں گے وہ کہاں ہے مجھے اس کی بانہوں میں مرنا تھا شاذر
وہ بمشکل بولے جا رہی تھی شاذر کو اس کی باتیں سن اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا شاذر اس کے آنسو صاف کرنے لگا شاذر کے سینے سے لگی بری طرح سے رو رہی تھی
پری مجھے تکلیف نہ دیں میں آپ سے محبت کرتا ہوں کیوں حازق حازق کر رہی ہیں
وہ اس کے آنسو صاف کر رہا تھا
نہیں شاذر مم میرا حح حازق میرا عع عش عشق شا۔۔۔ذر
اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں نگاہیں ایک جگہ پر ٹھہر گئیں اچانک اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے اس کا وجود شاذر کے بازوں میں بے جان ہو گیا شاذر نے اسے خود سے الگ کیا اور دھیرے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا
انا للہ وانا الیہ راجعون
اس کے انسو شیو میں جذب ہونے لگے وہ منہ کر ہاتھ رکھے سٹریچر سے نیچے بیٹھتا چلا گیا
میں برباد ہو گیا
اس کی ہچکیاں نکلنے لگی اچانک سے اس کی نظر دروازے میں پڑی جدھر سدید انکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا شازر نے بے بسی کے عالم میں اس کی طرف دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو
اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا
سدید بے جان سے قدم اٹھاتا ہوا ایا شاذر چیخا اس کے گلے لگ کر رونے لگ گیا
سادی یار سب کچھ ختم ہو گیا میں برباد ہو گیا ہوں یار سب کچھ ختم ہو گیا
میں پیراں وچ پا کے عشق دیاں زنجیراں
میں تیرے عشق وچ در در رُل گئی
مینو کج وی نہ یاد نہ رہیا تیرے بعد
تیرے عشق وچ ساری دنیا نوں ہی بُھل گئی
جہیڑے پاسے جاونڑ تینو ہی اکھیاں لبھدیاں
تیرے عشق وچ میں اینج جھلی ہو گئی
مردے مردے وی میں تینو ہی یاد کیتا
تیرے عشق وچ میں کہڑے راہ تے چل پئی
★★★
چند سال بعد
سادی میری بات سنو میں اب سے تمہاری بیوی کی کوئی بات نہیں مانوں گی
وہ منہ پھلاتی ہوئی بولی
فاریہ تم نے پھر سے میری پری کو کچھ کہا ہے
وہ فاریہ کی طرف دیکھتا ہوا بولا
سادی مجھے تو یہ اپ کی ماں لگتی ہے بیٹی نہیں
وہ پری کو گھورتی ہوئی بولی
سادی سمجھا لو اپنی بیوی کو
وہ چڑ کر بولی
سادی ہنسنے لگا
اچھا فاریہ میں اتا ہوں
فاریہ نے اس کا بازو پکڑ لیا اور نفی میں سر ہلانے لگی پر وہ اپنا بازو چھڑا کر دوسرے کمرے میں اگیا ایک سگریٹ سلگائی اور کمرے میں صوفے پر بیٹھ گیا
پری میری ٹول میری گڑیا بھیا کی جان ابھی تک سوئی کیوں نہیں پاگل ہو پری اب حازق نہیں ہے تو شاذڑ بھی نہیں رہا وہ بھی دور چلا گیا دیکھو تمہارے بھائی کا دوست بھی چھوڑ گیا ہے سب کچھ ختم ہو گیا ہے
کمرے میں سگریٹ کا دھواں اڑنے لگا اتنے میں فاریہ کمرے میں داخل ہوئی
سادی آپ کب تک اپ ایسے خود سے باتیں کریں گے
فاریہ اس کے پاس بیٹھی ہوئی بولی
فاریہ یہ کیوں چھوڑ گئی وہ میری بیٹی تھی جانتی ہو وہ میری سگی بہن نہیں تھی پر وہ میرے جگر کا ٹکڑا تھی بابا کیوں اس سے اتنی نفرت کرتے تھے کیونکہ بابا کی وہ دوسرے بیوی کی دوسری بیٹی تھی بابا اسی طرح میری ماں سے بھی نفرت کرتے تھے وہ بتاتے بتاتے رونے لگا اس کے آنسو گرنے لگے وہ فاریہ کے کندھے سے لگا اور آنکھیں بند کر لی گزرے لمحے اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگے
سدید اپ کتنے کمزور ہو گئے ہیں پلیز مت کریں اپنی ساتھ ایسا مجھے تکلیف ہو رہی ہے اس کی بیٹی اور بیٹا اپ کے پاس ہیں دو بڑی نشانیاں ہیں اس کی کمر سہلاتی ہوئی بولی سدید اسے الگ ہوا اور اپنے انسو صاف کئے
پاگل فاریہ تم کیوں رو رہی ہو ایسے روتے ہیں سادی اسے بچوں کی طرح روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا وہ اس کے سینے سے چمٹ گئی
وعدہ کریں ائندہ ایسے نہیں روئیں گے
اس کے پاؤں میں حازق کی محبت کی زنجیریں تھی جنہوں نے اسے جکڑ کر رکھا تھا اس نے کبھی زندگی میں اگے نہیں پڑھنا تھا دعا کریں وہ جو ہم سے دور چلا گیا ہے شاذر وہ اپنے بچوں کی خاطر لوٹ ائے
