Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 04)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 04)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
” حازق تم مجھے بہت پیارے ہو پر میں بابا جانی کے سامنے نہیں بول سکتا وہ جو کوئی بھی لڑکی ہے اس سے بھول جاؤ تم ” شاویز نے اس سے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔
” پر بھیاء میں اس سے لائک کرتا ہوں میں اس کے بنا نہیں جی سکتا اس سے حاصل کرنے کےلئے مجھے اپنی اجن بھی دینی پڑی تو میں دے دوں گا ” وہ جنونیت سے بولا۔ شاویز نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا ۔
” کیا ہو گیا ہے بھائی پاگل ہو گئے ہیں ” شاذر نے حازق کو اپنے ساتھ لگا کر کہا اس سے برداشت ہی نہیں ہوتا تھا کوئی حازق سے اونچا بھی بولے ۔
” اس سے تک نے حد سے زیادہ بگاڑ دیا ہے یہ جانتا ہے بابا کی مرضی کے بغیر نہیں شادی ہو گی سکی کی تا کیوں فضول کی باتیں کر رہا ہے اگر مجھے اس لڑکی کے بارے میں پتہ چلا تو اس کو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا میری بھی ضد ہے میں کسی کی ہاند کی شادی نہیں ہونے دوں گا ” شاویز نے مزید غصہ میں چلا کر کہا اور باہر چلا گیا ۔
حازق نے غصہ میں گلدان نیچے پھینکا اور شیشے پر مکی رسید کیا جس سے شیشہ چکنا چور ہو گیا اس کے ہاتھ سے خون بہنے لگا ۔
” حازق کیا ہو گیا ہے پاگل ہو میں ہوں نہ میرے ہوتے ہوئے کیوں پرشان ہو رہے ہو میں خود کرواؤں گا اس لڑکی سے تمہارے شادی ” شاذر نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا ۔
” شاذر میں ا ڈسے بہت محبت کرتا ہوں میں اس کے بنا کر جاؤں گا میں نے اسکے بنا کبھی جینے کا تصور بھی نہیں کیا تک ہم دونوں کو ایک کرو گے نہ وعدہ کرو ” وہ شاذر کے گلے لگ کر کہنے لگا۔
” ہاں پہلے بینڈج کرو پھر وعدہ بھی کرتا ہوں”
★★★
وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیوں سے اتر رہی تھی اچانک سے اس کے سامنے اسمائیل شاہ آگئے انھیں دیکھ کر وہ نگاہیں جھکا کر آگے چلے گئی جب سے شادی کے فنگشن ختم ہوئے تھے وہ ایک بار بھی یونی نہیں گئی تھی وہ سدئد کو دیکھ رہی تھی اس سے یونی کےلیے لیٹ ہو رہا تھا اس نے گھڑی سے ٹائم دیکھا ۔
” صمید بھائی آپ نے سدید بھائی کو دیکھا ہے” صمید کو کے کال سن رہا تھا پرہیان کے بات سن کر اس نے کال کٹ کی اور اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
” مجھے کیسے پتہ ہو گا تمہارا سدید بھائی کہاں ہے ” صمید نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
” مجھے یونی سے لیٹ ہو رہا ہے آپ مجھے یونی چھوڑ دیں گے کیا ” وہ معصومیت سے بولی
” کیوں پہلے کبھی میں چھوڑنے گیا ہوں تمہیں جو آج جاؤں گا ” وہ اس کے ساتھ بات کر رہی تھی تب ہی سدید اپنی گھڑی کی سٹریچر بند کرتا ہوا سیڑھیوں سے اترتا ہوا آیا ۔
” سوری میری جان لیٹ ہو گیا تھا “
” بھیاء اتنی دیر کون لگاتا ہے ” وہ منہ بناتی ہوئی بولی ۔ سدید اس سے کے کر باہر چلا گیا ۔
” صمید بیٹا آپ کے بابا کہہ رہے تھے فارم ہاؤس پر کچھ گیسٹ ہیں ان کو دیکھ لینا ” ربانی بیگم اس کو یہ کہتی ہوئی آگے چلی گئی ۔
” اف یہ بابا گیسٹ بھی نہ ” وہ کنہ بناتا ہوا آگے چلا گیا ۔
★★★
وہ یونی میں داخل ہوئی نعمان اس کے سامنے آگیا وہ نظریں جھکائے سائیڈ پر ہونے لگی مگر وہ پھر سے اس کے سامنے آگیا ۔
” کک کیا ہے مم مجھے جانے دو ” وہ کانپتی آواز میں غصہ میں بولی ۔
” اگر نہ جانے دوں تو کیا کر لو گی ” وہ پرہیان کی کلائی پکڑتا ہوا بولا وہاں پر سب ہی نگاہوں کا مرکز بن چکے تھے وہ دونوں ۔
اچانک سے کسی نے پیچھے سے نعمان کی کمر میں ٹانگ رسئد کی جیسے ہی پرہیان نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا وہ ایک دم سے اس کے سینے سے لگ گئی اور بری طرح سے رونے لگی ۔ نعمان اس سے دیکھ کر ہی باھگ چکا تھا وہاں سے وہ روتی ہوئی اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی ۔
” بھیاء کی جان رونا بند کرو ” سدید نے پیار سے کہا ۔
” اب کوئی دیکھے گا بھی نہیں میری گڑیا کی طرف ” اس نے پرہیان کو جرابیں اٹھا کر دیں پرہیان وہاں سے نگاہیں جھکائے چلی آئی کلاس میں آکر وہ لاسٹ والی سیٹ پر جا کر۔ بیٹھ گئی تھی اس کی نگاہیں کسی ہو تلاش کر رہی تھیں اس نے ارد گرد دیکھا اچانک ہی وہ کلاس کے ایک کونے میں پڑی ہوئی چئیر پر بیٹھا نظر آیا جو پینسل سے کچھ گانجے میں مصروف تھا اس کے چہرے پر اداسی چھائی ہوئی تھی نگاہیں ایک جگہ پر ٹکی ہوئی تھیں وہ جان نہیں پا رہی تھی آخر اس کو ہوا کیا ہے ابھی وہ اس سے دیکھ۔ ہی رہی تھی جب حازق کا دوست اس کے پاس آیا اور ا اسے پوچھ ے لگا ۔
” حازق یار کیا ہوا ہے منہ پر بارہ کویں بجے ہوئے ہیں تجھے پتہ ہے کیا ہوا ہے باہر ” وہ حازق سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ مگر حازق نے کوئی جواب نہ دیا پرہیان بھی حازق کو ہی دیکھے کا رہی تھی ۔
” حازی یار چل مجھے بتا کیا ہوا ہے کیوں پرشان ہے میں تیرا دوست ہوں نہ ” اس کا دوست ضدی انداز میں پوچھنے لگا ۔
” کیا بکواس کر رہے ہو ایک دفعہ کہہ دیا نہ کچھ نہیں ہوا پھر کیوں پیچھے پڑ گئے ہو ” وہ غصہ میں چلا کر کھڑا ہوتا ہوا بولا سارے اس کی طرف دیکھنے لگ گئے تھے آج سے پہلے پرہیان نے حازق کو اتنا غصہ میں نہیں دیکھا تھا وہ بیگ اٹھاتا ہوا باہر چلا۔گیا پرہیان اس کی پشت کودیکھنے لگی ۔
★★★
وہ خاموشی سی گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی اس نے کوئی بات نہ کی ۔
” کیا ہوا ہے میرا بچہ کوئی بات کیوں نہیں کر رہا صبح کی وجہ سے پرشان ہو کیا ” سدید نے پیار سے پوچھا ۔
” کچھ نہیں ہوا بھیاء بس سر میں پین ہے ” وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی ۔
” کیوں میری جان کے سر میں پین ہے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں کیا ” سدید نے اس کی پیشانی پر ہاتھ کی پشت سے چیک کیا ۔
” کچھ نہیں ہوا بھیاء مجھے بس گھر لے جائیں ” اس نے سدید کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔
” میرا بچہ تمہیں بخار کے چلو ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں ” سدید نے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی ۔
” بھیاء میں ٹھیک ہوں ” وہ اداس لہجے میں بولی سدید نے ا اسے ڈپٹ دیا اس سے احساس ہی نہ ہوا کب وہ رونے لگ گئی ۔
” ارے ارے یہ بن موسم برسات کیوں میں مذاق کر رہا ہوں ” اس نے گاڑی روک دی اور قس سے سینے سے لگا لیا ۔
” پاگل ہو گئی ہو کیا ہوا ہے مجھے کچھ بتاو کسی نے کچھ کہا ہے کیا مجھے کچھ بتاؤ نہ یار ” سدید نے پرشانی کے عالم میں پوچھا ۔۔
” بھیاء مجھے ڈر لگ رہا ہے ” کانپتی آواز میں۔ بولی۔
” کیوں ڈر لگ رہا ہے مجھے کچھ بتاؤ نہ ” وہ نرمی سے کہنے لگا ۔
” پتہ نہیں کیوں بھیاء دل گھبرا رہا ہے ” وہ سسکتی ہوئی اس سے بتانے لگی ۔
” تم اس کی وجہ۔سے پرشان ہوتی ” وہ اس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” بھیاء اس نے آخری دفعہ مجھے کہا تھا وہ مجھے کبھی خوش نہیں رہنے دے گا مجھ سے میری ہر خوشی چھین لے گا ” وہ ہاتھوں میں منہ چھپائے رونے لگی سدید نے اس کے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹائے۔
” ادھر میری آنکھوں میں دیکھو اپنے بھیاء پر یقین نہیں ہے کیا میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا مجھے تم ساری دنیا سے زیادہ عزیز ہو دنیا تباہ کر دوں گا اگر تمہیں کسی نے کچھ کہا اور آج کے بعد اس شخص کی وجہ سے میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں تم مجھے قتل کرنے پر مجبور نہ کرو ورنہ میں اس شخص کے ٹکڑے کر دوں گا ” وہ اس کے آنسو صاف کر رہا تھا اس وقت پرہینا کو خود پر ہی رشک آرہا تھا کے سدید اس کا بھائی ہے ۔
” اچھا سہی ہے اب پیارا سا مسکرا کر دیکھاؤ مجھے پھر سارا دن گھومیں گے رات کو گھر چلیں گے ” اس نے مسکرا کر کہا پرہیان بھی مسکرا دی ۔
★★★
صبح صبح معمول کے مطابق وہ سب کو ناشتہ سرو کر رہی تھی ۔
” پری یہ تمہارے ہاتھ کی چائے نہیں بنی ہوئی تک جانتی ہو تمہاری بنی ہوئی چائے میں پیتا ہوں ” بڑے شاہ نے چائے والا مگ سائیڈ پر رکھ دیا اس نے نگاہیں اٹھا کر بڑے شاہ کے ساتھ بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھا اس سے دیکھتے ہی نگاہیں اس پر جم گئیں اس کی نگاہیں یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں میں تمہاری بیوی ہوں تمہاری زمہ داری ہوں پر وہ جانتی تھی ا اسے ایک نوکرانی کی حیثیت سے اس گھر میں لایا گیا تھا اس سے کسی کو کیا فرق پڑتا سامنے بیٹھا شخص اس کا کاغذی شوہر ہی تو تھا ۔
” کدھر گم ہو جناب کیسا رہا سفر رات کو تو تم تھکے ہوئے تھے اس تو فریش ہو نہ جہان بیٹا ” اس کے بابا نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
” جی بابا سائیں اب میں فریش ہوں رات ہو آپ نے کوئی ضروری بات کرنی تھی کیا میں تو رات کو بھائی سے بھی نہیں ملا تھا ” وہ زبردستی مسکرا کر بولا لیکن اس کی نگاہیں بار بار پری کی نگاہوں سے ٹکڑا رہی تھیں اچانک سے وہ جہان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی وہ اس کے پیچھے جانا چاہتا تھا مگر نہ جا سکا تھوڑی دیر بعد وہ آئی اس نے جہان کے پاس چائے رکھی ۔
” مجھے چائے ڈال۔دیں ” جہان نے اس کے چہرے پر نگاہیں ٹکا کر کہا وہ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے چائے ڈالنے لگی وہ نہیں جانتی تھی وہ اتنا کانپ کیوں رہی ہے جہان نے اس کے ہاتھ سے چائے والا کپ پکڑ لیا وہ کچن کی طرف چلی گئی تھی ۔
” جہان تمہیں بھی اب شادی کر لینی چاہیے تمہاری بھی ایک۔فیملی ہونی چاہیے ” اس کی بھابھی بولی ۔
” بھابھی مجھے کوئی شادی نہیں کرنی مجھے اگر فیملی بنانی ہوئی تو میری بیوی اس گھر میں موجود ہے ” وہ سرد لہجے میں بولا ۔
” جہان یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا اس لڑکی کے ساتھ اپنی فیملی مکمل کرنے کا سوچنا بھی مت اس سے صرف کاغذی رشتہ ہے تمہارا اور تمہیں اب شادی رکنی ہی ہو گیتک بہت جزباتی ہو اور میں نہیں چاہتا اس لڑکی کو تم بیوی والا حق دو وہ صرف اس گھر کی نوکرانی ہے ” اس کا باپ غصہ میں یہ کہہ رہ اٹھ کر چلا گیا پیچھے سب ہی آہستہ آہستہ آٹھ کر چلے گیے وہاں صرف جہان رہ گیا ا سے سکون کی تلاش تھی جو کہیں مل جاتا
