Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 06)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

سوری سوحیل یار میں کل پرشان تھا اس وجہ سے روڈ بی ہیو کر گیا تھا ” حازق اس کے ساتھ بیٹھ کر بولا ۔

” کوئی بات نہیں یار میں جانتا تھا توں پرشان ہے لیکن دیکھ کل وہ لڑکی تیرے رویے کی وجہ سے بہت پرشان ہو گئی تھی جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے وہ لڑکی بھی تجھے لائک کرتی ہے ” وہ حازق کی طرف دیکھ کر بولا ۔

” وہ تو میں جانتا ہوں وہ میرے عشق میں مبتلا ہے مگر وہ آج نہیں آئی کیا ” وہ کلاس میں نظر دوڑا کر بولا ۔ پھر وہ اٹھ کر باہر آگیا ارد گرد دیکھا وہ دور ایک بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا حازق کی نظر جب اس کے ہاتھ میں جیوود کتاب پر گئی اس نے ایک دم سے اس کے ہاتھ سے کتاب کے لی اس وقت وہ اپنی کتابیں چھوڑ کر کہانی پڑھ رہی تھی سنڈریلا والی ۔

” ویسے اس کے علاؤہ کچھ اور نہیں پڑھتی ” وہ اپنی ہنسی ضبط کرتا ہوا بولا ۔

” نہیں ” اس نے خلاف توقع جواب دیا ۔

” اوہ ماشاءاللہ آپ تو بولتی بھی ہیں آپ کے منہ میں زبان بھی ہے” حازق ہنس کر بولا ۔

‘ اب ہر کوئی آپ کی طرح تو نہیں بولتا ” وہ چہرہ اٹھا کر بولی حازق اس سے دیکھنے لگا وہ اٹھ کر جانے لگی حازق نے اس کی ایک دم۔سے کلائی پکڑ لی اس نے مڑ کر حازق کو دیکھا ۔

” آئی لو یو ” وہ زیر لب بڑبڑایا مگر وہ سن چکی تھی بےساختہ مسکرائی اور وہاں سے چلی گئی حازق اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا ہنسا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بینچ سے ٹیک لگائے اور آنکھیں بندکر گیا اپنی آگے والی زندگی سے بے خبر وہ ہنس رہا تھا ۔

★★★

” کیا ہوا ہے منہ پر بارہ کیوں بجے ہوئے ہیں ” وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا ہوا بولا ۔

” آپ سارا دن بزی رہتے ہیں آپ کے پاس میرے لیئے ٹائم ہی نہیں ہوتا ” وہ منہ بناتی ہوئی بولی ۔

” اچھا نہ اب آؤ۔ گا تمہارے پاس آج فاریہ کو چھوڑنے گیا تھا اس وجہ سے نہیں آیا تمہارے پاس کسی نے کچھ کہا ہے ” وہ نرمی سے بولا وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔

“صمید نے کچھ کہا ہے کیا ” وہ پیار سے بولا پرہیان نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔

” اچھا اس کی باتوں پر دھیان نہ دئا کرو بلاوجہ بکواس کرتا ہے “

” اچھا آپ بھابھی کو چھوڑ آئے ہیں وہ واسط کب تک آئیں گیں ” وہ اس کے منہ ہو دیکھ کر بولی جہاں فاریہ کے جانے کی وجہ سے بارہ بجے ہوئے تھے مگر پھر بھی ہنس رہا تھا ۔

” پتہ نہیں کب تک آئے گی معصوم سے شوہر کو چھوڑ گئی ” سدید کی بات پر وہ ہنسنے لگی ۔

” بھیاء آئس کریم کھانے چلیں ” وہ ہنستی ہوئی بولی ۔

” ویسے تو کافی رات ہو گئی ہے مگر میری گڑیا نے اتنے دنوں بعد فرمائش کی ہے ضرور چلیں گے’

” اچھا میں پانچ منٹ میں آتی ہوں پھر چلتے ہیں “

” اوکے میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔

تھوڑی دیر بعد وہ آئس کریم کھانے پہنچ گئے ۔

” پرہیان ایک بات بولوں” سدید نے سنجیدگی سے کہا وہ جو آئس کریم کے ساتھ انصاف کر رہی تھی لاپرواہی سے بولی ۔

” ہاں جی بولیں ۔

” میں تمہاری شادی کے بارے میں سوچ رہا ہوں ” وہ سنجیدہ انداز میں بولا ۔ اس کے ہاتھ ایک دم سے رک گئے اس نے نگاہیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جیسے اس نے سننے میں غلطی کر دی ہو ۔

” دیکھو میری جان اب تم چھوٹی بچی نہیں رہی پہلے تمہاری شادی کی عمر نہیں تھی بابا جانی نے ذبردستی کر دی تھی لیکن میں زبردستی نہیں کرنا چاہتا دیکھو یار زندگی موت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا وہ اس سے سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا اور اس سے ایسا لگ رہا تھا اس کا بھائی اس سے جان مانگ رہا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے گزری زندگی کا ایک ایک لمحہ آنے لگا تھا وہ اپنے آنسو ضبط کرنے لگی تھی سدید اس کی بھرائی آنکھیں دیکھ رہا تھا ۔

” اچھا میرا بچہ رونا بلکل نہیں ہے وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔

” بھیاء مجھے آپ سے دور نہیں جانا یہ دنیا بہت ظالم۔ ہے وہ رونے لگی تھی سدید نے اس کے گرد بازو حائل کر لیئے تھے وہ اس کے سینے سے لگی بچوں کی طرح رو رہی تھی جیسے اس سے ابھی کوئی دور ہر دے گا سدئد سے ۔

” اچھا نہیں ہو گی شادی میں کہہ رہا ہوں نہ دیکھو سب کیسے دیکھ رہے ہیں ایسے بچوں کی طرح مت روؤ اٹھا چلو چلتے ہیں ” سدید نے اس کے آنسو صاف کیئے وہ بل ہے کرنے گیا تھا وہ اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی وہ باہر نکل رہے تھے جب اندر داخل ہوتے ہوئے ایک لڑکے سے سفید کی ٹکڑ ہو گئی سدید ہو لگا کچھ پل کےلیے اس کی دنیا تھک گئی ہے وہ زمین سے کاغذ اٹھاتے لڑکے کو دیکھ رہا تھا ۔

“شاذر” بےساختہ اس کے منہ سے نکلا اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا سدید اپنے آنسو ضبط کرتا ہوا آگے چلا گیا ۔

” سدید اسمائیل شاہ اگر تم میں اتنا غرور اور اکڑ ہے تو میں یہ دوسری توڑتا ہوں میرا کوئی واسطہ نہیں تم سے ” سدید کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا پرہیان کی نظر جیسے ہی سدئد پر پڑی وہ گھبرا گئی ۔

” بھیاء کیا ہوا ہے آپ کو آپ رو کیوں رہے ہیں بھیاء میری طرف دیکھیں ” اس سے لگا تھا کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو ۔

” بھیاء میری وجہ سے پرشان ہیں بھیاء میں آپ سے دور نہیں جا سکتی مجھے بھی تو سمجھیں میں کس حال میں ہوں وہ ہچکیوں کے ساتھ بری طرح سے رونے لگ گئی تھی ۔

” میری جان پاگل ہو کوئی دور نہیں کر رہا ” وہ اس سے سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ تو آپے سے باہر ہو گئی تھی اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے سئڈی کے سینے سے سر ٹکائے اس کا وجود بےجان ہونے لگا تھا ۔

★★★

” ماں میں نے بابا کا غصہ ٹھنڈا کرنے کےلیے کہا تھا میں شادی کر لوں گا مگر مجھے شادی نہیں کرنی آپ میرے لیئے لڑکی مت تلاش کریں اگر میں شادی کر بھی لوں میں کبھی اپنی بیوی کو خوش نہیں رکھ پاؤں گا وہ بولے گی آہنی پہلے والی بیوی کو طلاق دو پر میں نہیں دے سکتا ماں ہم اس لڑکی پر ظلم کر رہے ہیں ماں آپ تو ایک عورت ہیں اس کا درد سمجھ نہیں آتا آپ وہ وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہے ہم کیوں اس کے ساتھ ظلم کریں ” وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھا ہوا بول رہا تھا ۔

” جہان میں تمہاری کوئی ایسی بکواس نہیں سنوں گی وہ لڑکی اس گھر کی بہو کبھی نہیں بن سکتی کیونکہ اس کے گھر والے قاتل ہیں ” غصہ میں بولیں ۔

” پر ماں اس میں اس لڑکی کی کیا غلطی ہے “

” جہان مجھے تمہاری کوئی ایسی بات نہیں سننی تم جاؤ یہاں سے مت کرو شادی پر میں تمہیں کبھی اس لڑکی کے ساتھ آباد نہیں ہونے دوں گی ” وہ غصہ میں بولیں ۔

” اگر میں کچھ بول رہا یوں تو سوچ کر ہی بول رہا ہوں اگر آپ میری بات نہیں ماننا چاہتے تو ٹھیک ہے میں اس لڑکی پر مزید ظلم نہیں کروں گا نکاح کیا ہے اس سے حق رکھتا ہوں اس پر گواہ بھی موجود ہیں ” وہ غصہ میں بولا دردانہ بیگم نے اس کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا وہ ہکا بکا اپنی اماں کو دیکھنے لگا ۔

” یعنی اس گھر کے ہر فرد ہو اس سے اتنی نفرت ہے کے وہ اس کا زکر سننا تک پسند نہیں کرتے ” وہ ہنزءہ انداز میں مسکرایا “

“جہان میری نظروں سے دور ہو جاؤ ” انھوں نے رخ موڑ لیا جہان کمرے سے باہر آگیا اپنو کے رویے نے ا اسے بہت بیزار کر دیا تھا اس کی آنکھیں نم تھیں وہ کسی کو شدت سے یاد کر رہا تھا اس وقت وہ سیدھا چلتا ہوا اپنے روم میں آگیا سامنے لگی تصاویر دیکھ کر اس کی آنکھوں سے مزید آنسو بہنے لگے ۔

” یار توں کیوں ایسے چھوڑ کر چلا گیا توں کہتا تھا نہ ہم ایک دوسرے کے بنا کچھ بھی نہیں ہیں دیکھ یار میں تیرے بنا کچھ بھی نہیں ہوں ” وہ ہاتھوں کے پیالے میں منہ چھپائے رو رہا تھا ۔

” ایک بار آجا کہ یار مجھے تیرے کرنے سے لگ کر رونا ہے دیکھ توں تو لیتا تھا میرے کندھے سے لگ کر مجھے تیری ضرورت ہے یار میں بھی تیرے پاس آنا چاہتا ہوں مجھے بھی لے کر جاؤ نہ نہیں رہ سکتا تمہارے بنا جانتے ہو اتنے سال کیسے گزارے تمہارے بغیر وہ ان تصاویر سے باتیں کرنے لگا جیسے تصاویر میں موجود شخص اس کی باتیں سن رہا ہو

★★★

وہ مسلسل بنتے ہوئے موبائل کو اگنور رکتا ہوا پرشانی کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا اس سے شدید بےچینی ہو رہی تھی جب ڈاکٹر باہر آیا وہ بجلی کی رفتار سے ڈاکٹر کے پاس آیا ۔

” ڈاکٹر صاحب میری سسٹر ” وہ پرشانی میں فقط اتنا ہی کہہ پایا تھا ۔

” انھیں شدئد قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا ہے اس وجہ سے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے مگر ہم اپنی طرف سے پورئ کوشش کریں گے ” ڈاکٹر اس کا کندھا تھپک کر آگے چلا گیا وہ ساکت سا بیٹھ گیا تھا اس نے اپنے بجتے موبائل کی طرف دیکھا اور کال۔ پک کر کے موبائل کان کے ساتھ لگا لیا۔

” سدید بیٹا کدھر ہو رات کے تین بج رہے ہیں ” دوستی طرف سے اسمائیل شاہ کی آواز گونجی ۔

” بابا جانی میں ہسپٹل میں ہوں ” وہ آہستگی سے بولا ۔

” اتنی رات کو ہسپٹل خیریت ہے ” وہ پرشانی کے عالم میں بولے .

” بابا سائیں پرہیان کی طعبیت خراب ہے ” وہ اپنے آنسو ضبط کرتا ہوا بولا ۔

” تم نے اس لڑکی کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے کچھ ہوتا ہے نہیں اس کو پہلے ہی ہسپٹل لے کر پہنچ جاتے ہو ” ان کی بات سن کر سدید نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں اور کال کٹ کر دی ۔

وہ آئی سی یو کے دروازے سے اس کا مشینوں میں جکڑا وجود دیکھ رہا تھا اس وقت اس کی بےبسی عروج پر تھی ۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا ۔

” میری بہن ٹھیک تو ہو جائے گی نہ ” وہ ڈاکٹر کے سامنے بےبسی سے بولا ۔

” ہارٹ سرجری کرنی ہو گی ” ڈاکٹر نے بڑے آرام سے کہہ دیا اور جو اس وقت سدید کے دل پر گزری تھی وہ بس وہی جانتا تھا ۔

” زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے پر ہم پوری کوشش کریں گے ” وہ حوصلہ دے رہے تھے یا ڈرا رہے تھے سدید نہیں جانتا تھا وہ اٹھ گیا وہاں سے وہ سب سے اپنے آنسو چھپاتا پھر رہا تھا اس نے موبائل نکال کر فاریہ کو کال کی ۔

★★★

“اچھا لگتا اگر تم بھی ساتھ چلتے ” اس کی بات سن کر جہاں ہنسا ۔

” بھائی آپ کا سالا ہے آپ جائیں ” وہ طنزیہ انداز میں بولا ۔

” ہاں تمہارا تو سسرال نہیں ہے اس وجہ سے میرے سسرال جاتے ہوئے برا لگے گا کوئی پوچھ ہی نہ لے ” وہ بھی طنزیہ انداز میں بولا ۔

” بھیاء سارا تو میرا بھی ہے اگر میں گیا تو آگ سب سے پہلے آپ کو ہی لگنی ہے میرا تو کچھ نہیں جانا ” وہ ہنس کر اپنی بات بولتا ہوا اس کا دل جلا گیا تھا ۔

” آپ کے سسرال سے اچھا ہے اور مجھے سننے سے کوئی روک بھی نہیں سکتا ” وہ اس سے غصہ میں گھور رہا تھا جہاں وہاں سے چلا گیا ۔

★★★

رات کے دس بج رہے تھے وہ چھت پر۔ کھڑی بارش میں بھیگ رہی تھی آنکھوں میں کسی کی یاد کے آنسو تھے ( تم میرا عشق ہو “) ماضی کی یادیں دماغ کو پاگل کر رہی تھیں ۔

جہان پری کو ڈھونڈتا ہوا چھت پر آیا ہر طرف بارش کا شور تھا وہ بری طرح سے بھیگ چکا تھا وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا اس کی طرف۔ گیا وہ آنکھیں بند کیئے نہ جانے کیا محسوس کر رہی تھی چہرے پر پارس کے قطرے گر رہے تھے اور جہان اس کا بھیگا سراپا دیکھ رہا تھا وہ دھیرے دھیرے اس کے اور اپنے درمیان سے فاصلہ ختم کرنے لگا وہ شائد اس کی موجودگی سے بےخبر تھی جہان کی گرم سانسیں اپنے چہرے ہر محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولیں وہ بہت قریب تھا اس کے جہان نے اس کے چہرے پر نگاہیں گاڑے دھیرے سے اس کے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں پیوست کر لیں پری نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر آ جائے گا رات کے اس پہر بارش کا شور اور تنہائی پری کا ہاتھ برف کی طرح اس کے ہاتھ میں ٹھنڈا تھا اس نے اور زور سے اس کے ہاتھ کو جکڑ لیا تھا جہان نے اس کے اور اپنے درمیان سے دو قدم کا فاصلہ بھی ختم کر دیا وہ جہان کے چہرے پر دیکھ رہی تھی جہان کے بالوں سے پانی کی بوندیں پری کے چہرے پر گر رہی تھیں جہاں کی سانسوں کی تپش اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھی اس نے چہرہ قریب کیا اس کے لب پری کی گال کو چھو رہے تھے پری دو قدم پیچھے ہوئی اور دیوار کے ساتھ لگ گئی جہان نے اس کی گال پر چپکے بال پیچھے کیئے پری نے آنکھیں بند کر لی تھیں اور زور سے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا تھا جہان نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا وہ دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اس کا سر جہان کے کندھے سے تھا ہاتھ جہاں کے ہاتھ میں تھا اور بارش پورے زور و شور سے برس رہی تھی اس کے کانوں میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی تم میرا عشق ہو اگر ایک طرف عشق تھا تو دوسری طرف ایک پاکیزہ رشتہ تھا نکاح جیسا رشتہ وہ اپنے شوہر کی قربت میں کھڑی ہوئی تھی لیکن شوہر فقط جسم پر قابض تھا جب روح ہو عشق اپنے حصار میں لے لے تو شوہر کو دینے کےلئے فقط جسم باقی رہ جاتا روح احساس جزبات غم خوشی وہ تو سب محبوب لے گیا تھا وہ جہان کی گرفت سے ہاتھ چھڑا کر دور ہوئی تھی دونوں کے درمیان گہری خاموشی تھی بادل گرجنے کی آواز اس کے دل پر لگی تھی جہان نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔

” آئی ایم سوری آپ سے بہت دور چلا۔گیا تھا ” وہ بس اتنا ہی کہہ پایا تھا اس کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے پری کا غم کم کرنے کےلیے جہان نے اس کی پیشانی سے پیشانی ٹکائی اس کی ہچکی نکلی وہ اس کے کندھے سے سر ٹکائے رونے لگی اتنے سالوں بعد ایک کندھا میسر آیا تھا رونے کو وہ کھل کر رونا چاہتی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *