Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 13)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

” کیا سوچ رہی ہیں میں کافی لایا ہوں بنا کر آپ کے لیے “

” او شکریہ “

پری ہیں مسکراتے ہوئے کپ پکڑا

” یار شکریہ والی کیا بات ہے”

جہان نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا وہ اس کے کندھے سے سر ٹکائے کافی پینے لگی

” طبیعت تو نہیں دن کو خراب ہوئی”

“جہاں آپ بے فکر رہا کریں میں ٹھیک ہوں”

” پھر کیسے فکر نہ کروں جہان کا سارا جہان ہی تو تم ہو”

اس نے مسکراتے ہوئے کافی والا کپ لبوں سے لگایا

” کتنی باتیں کرتے ہیں ویسے کوئی کسی کا جہان یا جان نہیں ہوتی بس یہ کہنے کی باتیں ہوتی ہیں لوگ وعدے کر کے چھوڑ جاتے ہیں”

” بھئی ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو میں بھلا کیوں آپ کو چھوڑ کر جانے والا ہوں “

جہان نے اسے اپنے ساتھ لگایا مگر جہان کا چہرہ بتا رہا تھا وہ زبردستی مسکرایا ہے پری اپنے آنسو صاف کرنے لگی وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی جہان نے اس کے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کیا وہ اس کے سر پر بوسہ دیا وہ آنکھیں بند کیے مسکرائی لیکن یہ اس کے مسکرانے کی ناکام کوشش تھی اتنے میں جہان کا موبائل بچنے لگا اس نے کال رسیو کر کے موبائل کان سے لگایا دوسری طرف سے فورا آواز آئی

“جہان سدید شاہ تمہارا دوست تھا نہ “

” جی بھیا سادی میرا دوست تھا پر دوست کم بھائی زیادہ تھا میرا”

” جہاں تک جانتے ہو پری سادی کی بہن ہے”

جہاں اس کی بات سن کر ایک دم سے جھٹکا کھائے اٹھا وہ اسے نہ سمجھی سے دیکھنے لگی اچانک اسے کیا ہو گیا ہے وہ موبائل کان کے ساتھ لگائے باہر چلا گیا یہ انہیں کیا ہوا ہے وہ اس سے پیچھے پکارتی رہی پر وہ چلا گیا وہ بمشکل اٹھی اور باہر جہان کے پیچھے گئی کیونکہ وہ اس سے کافی پریشان لگا تھا ٹیرس پہ کھڑا کسی گہری سوچ میں گم تھا

” جہان اپ کو کیا ہوا تھا آپ وہاں سے ایسے کیوں آگئے ہیں”

وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی پوچھنے لگی اس نے مڑ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی جیسے کچھ جیت لینے کی مسکراہٹ کچھ حاصل کر لینے کی مسکراہٹ تو اس کی انکھیں بھی نم تھی وہ نہ سمجھی سے دیکھ رہی تھی وہ رو رہا تھا خوش تھا یا پھر اداس تھا یا خوش تھا اسی کش مکش میں تھی اس نے اچانک سے اسے گلے لگا لیا

” تم جانتی نہیں ہو میں کتنا خوش ہوں میری خوشی کا اندازہ آپ نہی لگا سکتی”

وہ اس کی باتیں سننے لگی اسے جہان کی باتوں کی بالکل سمجھ نہ ائی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے

★★★

پرہیان کی آنکھ کھلی اس نے ارد گرد دیکھا کوئی بھی نہیں تھا

“حازق کدھر ہیں “

وہ اسے پکارتی ہوئی اٹھی

” حازق “

وہ باہر سے آئی اتنے میں حازق آیا

“بیگم اگر ایسے مجھے چلا چلا کر پکارو گی تو یہ شریف لوگ کیا سوچیں گے ویسے بہت حسین لگ رہی ہیں “

وہ اس کے سراپے پر نظر دوڑاتا ہوا بولا وہ نگاہیں جھکا گئی

” اچھا ایک وعدہ کریں مجھ سے میری محبت کی قسم “

وہ اس کے اگے ہاتھ کرتا ہوا بولا اس نے نگاہیں اٹھا کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا

” اپ کا ہر وعدہ منظور ہے”

” واہ بھائی بڑا اثر ہوا میری محبت کا”

وہ اس سے چھیڑ کر بولا

” اچھا زیادہ شرماؤ مت دراصل مجھے وعدہ چاہیے تھا تم ہمیشہ بہادر رہو گی کبھی کمزور نہیں پڑو گی کبھی کسی کے سامنے تمہیں کمزور ہونا نہیں کبھی ایسا لگا نہ تمہیں کہ تم کمزور ہو رہی ہو تو گزری رات یاد کر لینا کیونکہ تم میری محبت ہو تمہیں زندگی میں کبھی کمزور نہیں ہونا تم ہمیشہ ساتھ ہیں جہاں ہمارے ساتھ ہوگا”

حازق نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا

” حازق مجھے بھیا سے بہت ڈر لگ رہا ہے”

اس کی نگاہوں میں دیکھتی ہوئی بولی

” کوئی نہیں بتائے گا بھیا کو جلد ہی تمہارے بھیا کی اجازت سے تمہیں لے جاؤں گا “

وہ مسکراتا ہوا بولا

” اف پرشان مت ہو میں تمہیں چھوڑ اؤں گا کسی کو شک بھی نہیں ہوگا بس میں جو کہہ رہا ہوں تم نے وہ کہنا ہے”

” حازق یہ غلط بات ہے بھیا کو میں سب کچھ بتا دوں گی میں نے اسے جھوٹ کبھی نہیں بولا “

“پرہیان سمجھو اگر ایسے ایک دم سے بتائیں گے تو وہ ناراض بھی ہو سکتے ہیں تو بس میری بات سنو”

★★★

وہ کمرے میں الماری کے سامنے کھڑا کوئی فائل دیکھ رہا تھا اس فائل کو دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا بات اس حد تک پہنچی ہوئی تھی اور گھر میں اس نے کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی تھی اس نے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرتے ہوئے فائل الماری میں رکھ کر اس کا دروازہ زور سے بند کیا اگر ایسا کچھ تھا جہاں تو جانتا ہو گا وہ جہان سے اپنی ہر بات شیئر کرتا تھا پھر اس نے یہ بھی بتائی ہوگی پر اور بھی تو کوئی بات ہو سکتی ہے اگر ایسا کچھ تھا تو پھر وہ شخص سوچ سوچ کر پاگل ہونے لگا تھا اچانک سے اس سے گولی چلنے کی آواز آئی وہ ایک دم سے بھاگتا ہوا نیچے گیا پر شاید دیر ہو چکی تھی وہ وہیں سیڑھیوں کے پاس رک گیا سامنے اس نے اپنے ماں باپ کو خون میں لت پت پایا اس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھی نہ وہ آگے جا سکا نہ وہ پیچھے مڑ سکا شاویز کیا ہوا ہے زارا ایک دم سے پیچھے سے ائی پر اس کے قدم وہیں جم گئے

★★★

وہ لیپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف تھا اچانک سے اسے پری کی چیخ سنائی دی وہ لیپ ٹاپ پھینکنے والے انداز میں بیڈ پر رکھتا ہوا باہر کی طرف بھاگا سیڑھیوں سے وہ پاگلوں کی طرح تیزی سے اترنے لگا اس کی نظر سامنے پڑی ہوئی پری پر گئی وہ ایک دم سے چیخ پڑا

“پری انکھیں کھولو”

اس کی گال تھپھپانے لگا ایک دم سے جہاں نے اسے اٹھایا اور گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل لے گیا ڈاکٹر اسے سٹریٹچر پر ڈال کر روم میں لے گئے اس کی حالت بہت سئریس ہو گئی تھی وہ پریشانی میں بیٹھا ہوا تھا اچانک سے اس کا موبائل بجنے لگا بار بار اس کا موبائل بج رہا تھا اس نے ایک دم سے غصے میں ا کر موبائل فرش پر دے مارا موبائل کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے وہ ہاتھوں میں منہ چھپائے بیٹھا ہوا تھا

★★★

(“یار جانتے ہو میں چاہتا ہوں ہمارے بہت سارے بے بی ہوں اور سارے ہی میرے لاڈلے ہوں “

“یار توں تو پاگل ہیں کتنی توں اس سے محبت کرتا ہے اگر کبھی جدا ہو جائے تو دونوں رہ لو گے ایک دوسرے کے بنا “

“بھئی میرے لیے تو مشکل ہے میں تو اس کے بنا مر جانا ہے اور اس سے میرے بنا سانس ہی نہیں آنی “

“اف پاگلوں والی باتیں شروع کر دی ہیں)

اچانک سے وہ اپنے خیالات سے باہر ایا اور ارد گرد دیکھنے لگا لوگ نہ ہونے کے برابر ہسپتال میں تھے کافی ٹائم بعد ایک نرس باہر ائی اور اس نے کمبل میں لپٹی ہوئی ننھی سی پری جہاں ان کو تھمائی جہان نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسے اٹھایا

( یار پہلی تو میری بیٹی ہو گی ) جہان کا آنسو ٹوٹ کر گرا وہ روتی ہوئی بچی ایک دم سے چپ ہو گئی اور ٹکر ٹکر اس کا منہ دیکھنے لگ گئی جہان نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا وہ ایک دم سے پھر سے رونے لگی جہان اسے دیکھ کر مسکرایا اور اس سے بچوں کی طرح باتیں کرنے لگ گیا تھا تھوڑی دیر بعد نرس آئی اور کہنے لگی آپ اپنی وائف سے مل سکتے ہیں وہ انگلش میں کہتی ہوئی اس بچی کو پکڑ کر واپس لے گئی وہ دھیرے سے چلتا ہوا رو میں آیا سامنے سٹریٹر پر لیٹی ہوئی پری کے پاس سٹریچر پر بیٹھ گیا

پری اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی وہ بھی اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا

“بہت شکریہ مجھے اتنی پیاری سی پر دینے کے لیے “

وہ پڑی کی انگلیوں میں انگلیاں پیوست کرتا ہوا بولا

“جہان میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے یہاں بہت پین ہو رہی ہے “

وہ دل والی جگہ پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی

“کیوں پین ہو رہی ہے کبھی پہلے ہوئی ہے”

وہ اس کے سینے پہ سر رکھتا ہوا بولا پری نے کرب سے انکھیں بند کر لی

★★★

“واہ بھائی بڑے خوش لگ رہے ہو” شاذر نے حازق کو مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا حازق مسکراتا ہوا ایک دم سے شازر کے گلے لگ گیا ابے یار پاگل ہو گیا ہے دیکھ ساڑے گارڈز تجھے دیکھ کر پاگل سمجھ رہے ہیں

” یار میں بس بہت خوش ہوں”

شاذر نے اس کے سر میں تھپڑ مارا

”پاگل ہو ایک نمبر کے اچھا بتاؤ اتنا خوش کیوں ہو کیا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے “”

حازق نے ایک دم سے نگاہیں جھکا لی بھائی

“میں نہیں بتا رہا مجھے شرم ا رہی”

وہ یہ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا شاذر نے اسے عجیب نگاہوں سے دیکھا جیسے اسے کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہوا ہو وہ ایک دم سے پریشان ہو گیا وہ حازض کے پیچھے گیا اور اسے کافی دیر کی خوشی کی وجہ پوچھتا رہا لیکن اس نے شازر کو کوئی جواب نہ دیا شاذر پریشان ہو گیا نہ جانے سے کیا ہو گیا ہے اتنا خوش ہے اور مجھے کچھ بتا بھی نہیں رہا

★★★

وہ کب سے موبائل کان کے ساتھ لگائے لان میں ٹہل رہا تھا اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو گئی تھی پچھلے دو ہفتے سے وہ جہان کو مسلسل کال کر رہا تھا ہر طرح سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر سب بیکار گیا وہ تھک ہار کرسی بیٹھ گیا اتنے میں زارا ائی اس کے پاس چائے والا کپ رکھا اور جانے لگی اس نے ذارا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ والی چیئر پر بٹھا لیا

“نہیں ہوا رابطہ جہان سے یا پری سے “

زارا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا اس میں بولنے کی ہمت نہ ہوئی اس نے نفی میں سر ہلا دیا ” زارا میں بہت پریشان ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہی وہ کیوں اتنے مصروف ہیں کہیں کسی مصیبت میں تو نہیں مجھے تو کوئی سمجھ نہیں آرہی میں انہیں کس منہ سے بتاؤں گا ماما بابا اس دنیا میں نہیں رہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں ارہی میں کیا کروں “وہ ہاتھوں کے پیالے میں منہ چھپائے بیٹھ گیا شاہ اپ پریشان مت ہوئیں سارا کیسے پریشان نہ ہوں وہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا باہر

پیارے ریڈرز پیج پر ایک ہزار فالورز مکمل کر دیں تاکے آگے قسط دینے کو بھی دل کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *