Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 17)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

“فاریہ تم اسی گھر میں تھی پھر تمہیں کیوں نہیں معلوم اخر کدھر کی ہے پرہیان کی شادی کی تم کیوں نہیں بتاتی”

سدید صوفے پر بیٹھی فاریہ کو دیکھتا ہوا بولا

“سدید میں پریگننٹ تھی مجھے اپ کی ماما بابا نے جانے کا کہا تھا میں اپنے میکے چلی جاؤں میں نہیں تھی پر مجھے بس خنسا نے اتنا بتایا تھا پری کہہ رہی تھی صمید سے بھیا ایک بار سینے سے لگا کر پیار سے رخصت کر دے چلی جاؤں گی پر مجھے خنسا کی کسی بات پہ یقین نہیں شاید وہ سچ بھی بول رہی ہو اتنا معلوم ہے پرہیان کا بچہ ہوا تھا اور کے بارے میں صمید ہی جانتا ہے بیٹی تھی بیٹا تھا اور وہ کدھر ہے پرہیان کے لیے تو وہ پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں معلوم “

فاریہ یہ کہہ کر خاموش ہو گئی سدید کمرے سے نکل کر صمید کے کمرے میں گیا صمید مجھے اب بتا دو آرام سے پرہیان کے بارے میں ورنہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں”

سدید غصے میں بولا

“سادی یار تجھے ایک بات کی سمجھ نہیں اتی کیوں مجھے ذلیل کر رہا ہے میں نے نہیں بتانا تجھے”

صمید غصے میں بولا سدید نے اپنی پینٹ سے پسٹل نکال کر اپنی کن پٹی پہ رکھ لی

” بتا دے پرہیان کے بارے میں ورنہ مجھے خود کو ختم کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگے گا”

وہ غصے میں بولا

” پاپا یہ اپ کیا کر رہے ہیں نبیہا اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی پر اس وقت وہ وہ کسی کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا صمید نے غصے میں اس کے ہاتھ سے پسپل چھین کر سدید کے منہ پر زور سے تھپڑ رسید کیا

“چاچو کیوں بابا کو مارا ہے نبیہا منہ بناتی ہوئی بول

” بیٹا یہ تمہارا باپ اسی قابل ہے”

وہ غصے میں بولا

صمید بتا دے مجھے

سدید نے غصے میں اس کا گریبان پکڑ لیا اس کے صبر کا پیما نہ لبریز ہو گیا تھا صمید نے اپنا گریبان چھڑایا

جانتے ہو کچھ اس کے بارے میں اس کے کرتوت کیسے تھے اسے ادھر ہی رہنے دو تو اچھا ہے

” اپنی بکواس بند کر صمید تم اسے کیوں اتنا غلط سمجھا ہوا تھا وہ شادی شدہ تھی اور تم نے اس سے اس کی جائز اولاد چھین کر اس پر کم ظلم کیا ہے میرے ساتھ اس دن زخمی ہو کر مرنے والاا شخص حازق اس کا شوہر تھا اور اس نے مجھ پر گولی نہیں چلائی تھی نہ میں نے اس پر چلائی تھی بلکہ جس کو تم اور تمہارا باپ اپنا دوست سمجھتے تھے طلال احمد وہ تھا گولیاں چلانے والا پرہیان کا پہلا شوہر جان لیا ہے سارا سچ یا اور کچھ بھی جانا ہے بتاؤ اب میری بہن کہاں ہے “

سدید نے غصے میں کہا سدید کی باتیں سن کر وہ تو گویا سکتے میں ا گیا

شاذر جہان شاہ کی بیوی ہے

وہ صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ کر بولا

اس کی بات سن کر سدید کو شدید جھٹکا لگا

مطلب ان کے درمیان ڈیل ہوئی ہے صمید شاہ شرم کرو تم نے اپنی بہن کا میری زندگی سے سودا کیا لعنت ہے پھر میری ایسی زندگی پر

★★★

وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا سامنے تلالںٹانگ پر ٹانگ رکھے موبائل میں لگا ہوا تھا شازر کو دیکھ کر اٹھا اور خوش دلی سے اسے ملا

کیسے ہو

طلال نے مسکراتے ہوئے پوچھا

ٹھیک ہوں تم بتاؤ کیا چل رہا ہے لائف میں

” بس کچھ خاص نہیں اپنی محبت کی تلاش میں”

شاذر اس کی بات سن کر مسکرایا

“مطلب جناب نے ابھی تک شادی نہیں کی حازق نے تو بتایا تھا تم ایک بار شادی کر چکے ہو “

ہاں بس پھر سے اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے نہ جانے وہ لڑکی چلی کہاں گئی ویسے تمہیں کیسے میری یاد ائی”

طلال نے مسکراتے ہوئے پوچھا

“مجھے طلال احمد تمہاری یاد ائی ہے”

شاویز روم میں داخل ہوتا ہوا بولا

“اچھا میں جان سکتا ہوں کیوں اپ کو میری یاد ائی ہے “

وہ ہنستا ہوا بولا

” طلال احمد تم اتنے بھی چھوٹے بچے نہیں ہو جو میں تمہیں بتاؤں گا کہ وہ مجھے تمہاری یاد ائی ہے طلال صوفے سے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا

اچھا اب بتا دیں کیونکہ بہت سی وجہ ہوگی مجھے بلانے کی سب سے اہم وجہ بتائیں

“طلال نے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر کہا “

اچھا پہلے تو تم یہ بتاؤ حازق کا قتل کیوں کیا اس نے قریب ہو کر پوچھا

شاذر نے ایک دم سے دونوں کی طرف دیکھا

کیونکہ جسے میں محبت کرتا تھا جو میری محبت تھی حازق اسے اپنا بنانے کے خواب دیکھنے لگا تھا پرہیان صرف میری ہے جو کوئی بھی اسے اپنا بنانے کی کوشش کرے گا میں اسے مار دوں گا وہ ابرو اچکا کر بولا

” تم جانتے ہو اس وقت وہ کدھر ہیں ”

شاویز نے اسے دو قدم پیچھے ہو کر پوچھا

٫جہاں بھی ہے میں ڈھونڈ لوں گا تم فکر مت کرو”

” اچھا اب دوسری وجہ کی طرف اتے ہیں تم نے میرے ماں باپ کو کیوں ماڑا یہ بڑی لمبی کہانی ہے پھر کبھی تجھے بتاؤں گا میں “

یہ کہہ کر جانے لگا شادر نے ایک دم سے اس کا گریبان پکڑ لیا تجھے کیا لگتا ہے میں تجھے اتنی اسانی سے جانے دوں گا شازر جہان شاہ ہوں تجھ سے اپنا بدلہ لوں گا انہوں نے. طلال کے منہ پر مکہ رسید کیا طلال نے اس کو خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا شاذر نے اس کا گریبان پکڑ کر اسے غصے میں تھپڑ رسید کیا طلال نے ایک دم سے اپنی پسٹل نکالی اور شازر کی طرف گولی چلائی وہ سامنے سے سائیڈ پر ہو گیا گولی کی اواز سن کر ایک دم سے پرہیان اندر سے بھاگ کر آئی طلال نے پرہیان کو دیکھتے ہی ایک دم سے اسے پکڑ کر پسٹل اس کی کن پٹی پہ رکھ دی

” میں گولی چلا دوں گا اگے مت انا”

وہ غصے میں بولا

شازر نے پرہیان کی طرف دیکھا جس نے ڈرنے کی وجہ سے انکھیں بند کی ہوئی تھی

” چلا دو گولی اس کی کس سے ضرورت ہے “

جہان نے غصے میں کہا شاویز نے ایک دم سے شاذر کی طرف دیکھا

“پاگل ہو کیا بکواس کر رہے ہو طلال چھوڑو پری کو تمہارا مسئلہ ہم سے ہے پری سے نہیں”

شاویز نے غصے میں کہا

” ابے مارو کیوں نہیں مارنے دیتے چلاؤ گولی اس پر طلال”

پرہیان ساکت سی اسے دیکھ رہی تھی شاویز نے غصے میں طلال کی طرف پسٹل کی

“چھوڑو پری کو میں گولی چلا دوں گا”

شاویز نے طلال کو غصے میں کہا

“بھائی کیوں اس بےغیرت کی جان بچانا چاہتے ہیں یا پھر اپ کو بھی اس نے اپنی محبت کے جال میں پھنسایا ہوا ہے شکل سے اتنی معصوم لگتی ہے خود ہی پرہیان میڈم اپنی اصلیت بتاؤ نا تمہارے پریگننسی رپورٹ حازق کے کمرے میں کیا کر رہی تھی بلکہ تم کیا بتاؤ گی حازق کیا تمہارے درمیان کیسا گھٹیا رشتہ تھا تم تو اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی چلا دو طلال اس پہ گولی کیونکہ یہ تمہارے قابل بھی نہیں ہے”

پرہیان کا سر چکرا گیا اس کی باتیں سن کر شاہ ویز ہکا بکا شاذر کو دیکھنے لگا ۔۔

اسے بالکل بھی امید نہیں تھی۔۔

“وہ پری پہ شک کرے گا اچانک سے کسی نے پیچھے سے طلال کے سر پر پسٹل رکھ دی ارام سے چھوڑ دو”

طلال احمد پرحان کو وہ غصے میں بولا —

پڑی نے اواز سنتے ہی پاگلوں کی طرح اس کی گرفت سے خود کو چھڑایا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی اس کے آنسو گال پر ٹھہر گے—–

وہ روتی ہوئی سدید کے سینے سے چمٹ گئی ۔۔۔۔

سدید اس کے گرد بازو حائل کی یہ شازر کو دیکھ رہا تھا ۔۔

“سدید اسماعیل شاہ اگر تم میں اتنا غرور اگیا ہے تو میں یہ دوستی توڑ کر جا رہا ہوں “

پری رونا بند کرو اس نے پری ہی کو خود سے الگ کیا “وہ اپنی پاکٹ سے ایک لپٹا ہوا کاغذ نکال کر شازر کے منہ پر مارا “

شازہ جہان میں سدید شاہ ہمیشہ تمہارے اگے ہارا ہوں۔۔

یہ میری بہن کے کردار کا گواہ ہے۔۔

” ایک کاغذ کا ٹکڑا اگر میں اپنے ہوش و حواس میں ہوتا تو کبھی اپنی بہن کو تمہارے سپرد نہ کرتا شکریہ میری بہن کو اتنی تکلیف دینے کا “

سدید نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے اور پریان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔

★★★

بھائی کیوں اس بیغیرت کی جان بچانا چاہتے ہیں ۔۔۔

اس مجھے ہی نہیں یا پھر آپ کو بھی اپنی محبت کے جال میں پھنسایا ہوا ہے شکل سے تو معصوم لگتی ہے۔۔۔

” اس کی نگاہیں پرحان اور حاذق کہ نکاہ نامے پر کی ہوئی تھی اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی “

اس نے نگاہیں اٹھا کر سامنے اپنی اور حاذق کی تصویر کو دیکھا پریان مطلب جس سے بچپن میں ہانی پکارتا تھا۔۔

” سدید شاہ کی بہن میری بچپن کی محبت مطلب یہ وہ لڑکی ہے جس سے میں بچپن میں دل ہارا تھا” سدید شاہ کی بہن اس کی انکھوں سے انسو گرا میں نے سب کچھ ختم کر دیا ۔۔

“اس نے غصے میں گلدان زمین پر پھینکا حازق دیکھو میں نے تم سے کیا وعدہ پورا نہیں کیا میں حاذق نہیں بن سکا میں زندگی میں کچھ بھی نہیں نبھا سکا”

نہ محبت نہ دوستی نہ میں اچھا شوہر بن سکا نہ میں اچھا بھائی بن سکا نہ اچھا بیٹا بن سکا پریان پلیز واپس ا جاؤ میں جانتا ہوں تم اپنی بیٹی کی خاطر واپس اؤ گی ۔۔۔

میں غلط ہوں تمہیں نہیں انا چاہیے میں نے بہت بڑا الزام لگایا ہے۔۔۔

” نا تم پر تمہارا بھائی ہی نہیں انے دے گا تو تمہیں مجھے تنہا کر گئی ہو بڑی میں جانتا ہوں مجھ سے بڑا کوئی بھی نہیں ہے”

وہ خود سے پاگلوں کی طرح باتیں لگا ہوا تھا جب ساڑھا کمرے میں داخل ہوئی جہاں تمہاری بیٹی رو رہی ہے۔۔

سارا نے پریسہ کو اس کے ہاتھ سے پکڑایا جہان پاگل مت بنو تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔

تم معافی بھی تو مانگ سکتے ہو سب کچھ ختم کر کے سب کچھ بھول گئے تم دونوں سکون کی لائف گلزار سکتے ہو “تم سدید سے ایک بار پھر سے دوستی کرو دیکھو نا اپنا گھر بار کہنا بے وقوفی ہے شادر پلیز سب کچھ ٹھیک کر دینا شادی اپنی ہوئی بیٹی کو چپ کروانے لگا سارے کمرے سے باہر چلی گئی”

★★★

“میں نے تمہیں سارا کام کہا تھا کل تک کلیئر کر دینا سارا اب ہو جانا چاہیے “

وہ غصے میں کسی کو کام کا کہہ رہا تھا اچانک سے اس کی نظر شدید کے ساتھ گھر میں داخل ہوتی پریاان پڑ گئی۔۔

اس نے موبائل پاکٹ میں ڈالا اور اس کی طرف گیا اس نے نگاہیں اٹھا کر سمید کی طرف دیکھا سمید اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔

“وہ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا سمید نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے پڑی نے شدید کی طرف دیکھا ہمت ہے تو کر تو معاف پر کوئی معافی کے قابل نہیں ہے “

سدید روتا ہوا بولا پڑی نے سمید کے ہاتھوں کو پکڑ لیا بھیا اب کیوں معافی مانگ رہے ہیں۔۔۔

میں کوئی اپ سے کہہ رہی ہوں مجھے اپ سے شکایت ہے اس دن اپ نے مجھے سینے سے لگا کر پیار سے رخصت کیا تھا نا پھر میں کیوں اپ سے شکایت کروں ۔۔۔

“بلکہ میں کسی سے کوئی شکایت نہیں کر سکتی میرے نصیب ہی ایسے لکھے ہوئے تھے وہ روتی ہوئی بولی سمیر نے اس کے انسو صاف کیے بڑتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی”

تھکا دیا ہے مجھے زندگی نے سکون چاہیے زندگی نے غموں کے سوا کچھ نہیں دیا اس کا وجود ڈھیلا پڑ گیا۔۔

اس کی انکھیں بند ہونے لگی پریہان پریحان کیا ہوا ہے پری انکھیں کھولو شدید اس کی گال تھپتھپانے لگا ۔۔

“اس نے سدید کے کلائی پکڑ لی میری طرف دیکھو سمید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی گال تھپتھپاتے ہوئے کہا”

وہ سمیت کو دیکھ کر مسکرانے لگی سمیت گاڑی نکالو صدیق نے جلدی سے کہا

★★★

نبیہا رک جاؤ مجھے تنگ مت کرو پھڑ گیا اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔

موبائل لینے کے لیے جو کہ مسلسل بج رہا تھا فرگیا نے غصے میں پکڑ گئے نبیہ کے منہ پر تھپڑ لگا دیا۔۔

” ایک بات سمجھ نہیں اتی بابا کی کال ا رہی ہے تھروری کال بھی ہو سکتی ہے فاریہ نے غصے میں کہا او ایک دم سے ڈھونڈنے لگی “

اتنے میں اسماعیل شاہ گھر میں داخل ہوئے نبی رو اتی ہوئی ان کے پاس گئی دادو دیکھیں نا ماما گندی ہے ۔۔

مجھے مارا ہے اس نے روتے ہوئے اپنی گال دکھائی جو کہ لال ہو چکی تھی ۔۔

انہوں نے پیار سے اسے اٹھا کر اس کی گال پر بوسہ دیا

وہ ایک دم سے چپ ہو گئی تا تو اب بہت اچھے ہیں بابا بھی اچھے ہیں بس ماما ہی بڑی ہیں ۔۔

اپ کو پتہ ہے بابا بہت اچھے ہیں اتنی اچھے سٹائل سناتے ہیں اپ بھی میرے بابا جیسے بابا ہیں اپ بھی سناتے ہیں اپنی بیٹی کو سٹوریز میں تو بابا کی پڑی ہوں۔۔

اپ کی پڑھی کدھر ہے من کے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی بولی بابا ایک بار مجھے اپنی بیٹی کہہ دینا ۔۔

میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا ہے اپ کو مجھ سے اتنی نفرت ہے ۔۔

وہ اسماعیل شاہ سے باتیں لگی ہوئی تھی میری بھی ایک پڑی تھی پر میں نے کھو دیا ۔۔۔

“اسے میں نے کہا ابھی اسے باپ والا پیار ہی نہیں دیا میرے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہے میں کبھی اس کا سامنا ہی نہیں کر سکوں گا “

شاہ جی کس سے باتیں کر رہے ہیں روانہ بیگم نے پوچھا وہ نبیہا کو وہیں چھوڑ کر باہر چلے گئے۔۔

★★★

وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا ہسپتال میں داخل ہوا شرٹ کے ادھے بٹن کھلے ہوئے تھے ۔۔

انکھوں کے گرد ہلکے تھے انکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو گئی تھی۔۔

” بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے” شدید کی نظر اس پر گئی اس کی حالت دیکھ کر صدید کو کچھ ہوا۔۔ شازر سدید کے پاس ایا اور اس کے گلے لگ گئے ۔۔

“سادی یار مر رہا ہوں تو تو معاف کر دے اڑے تم نہیں بلکہ میں ہار گیا” ہوں اس نے انکھیں بند کر لی جیسے بہت تھک گیا …

ہو اس نے لمبا سانس لے کر شادرڑ کو خود سے الگ کیا ایک بار پھر سے میرے دوست بننا مجھے تیری ضرورت ہے شدید مجھے ت جیسا دوست نہیں ملا کہیں سے تو پھر سے بن جا میرے دوست وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔

” شاگرد پاگل ہو گئے ہو اٹھو پلیز پریشان مت کھڑا ہو مجھے پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں “

یار اج سے پہلے میں نے پوری کوشش کی تھی پری کو نہ رونے دوں ۔۔۔

تو مجھے پوچھ سکتے ہو پر مجھے نا نہ جانے کیا ہو گیا تھا غلط فہمی ہو گئی تھی۔۔

” پر میں اسے بہت محبت کرتا ہوں قسم سے میں چاہتا ہوں وعدہ کرتا ہوں پھر کبھی اسے نہیں ڈلاؤں گا” “وہ اپنی انسو صاف کرتا ہوا بولا مانگ لینا اسے معافی اگر اس نے معاف کر دیا جانتے ہو اسے یہ بات برداشت کرنی مشکل ہو گئی تھی” کیونکہ میں نے کبھی زندگی میں اس پر ایسا کوئی الزام نہیں انے دیا تھا —

ہر جگہ میں اس کے کردار کا گواہ بن کے کھڑا ہوا ہوں اور تمہیں تو معلوم ہوگا وہ مجھے بچپن سے ہی اپنی بیٹیوں کی طرح عزیز ہے ۔۔۔

اس کی پرورش میں نے کی ہے بس وہ یہ بات مجھے بھی نہیں بتا سکی اس نے حازک سے نکاح کیا ہوا تھا پر میں نے تو اسے شک نہیں کیا ۔۔۔

“اور شاید تم نے بھی ایک دعوی کیا تھا تمہارے تم ہمارے گھر میں رہنے والی ایک لڑکی سے محبت کرتے ہو” اور جب تم میرے دوست تھے میرا یہی دل کرتا تھا میں اپنی بہن کی شادی تم سے کروں پر تم نے اس دن مجھ سے جھگڑا کر کے دوستی ہی ختم کر دی تھی ……

جانتے ہو زندگی کا سب سے دردناک لمحہ تھا وہ والا۔

★★★

ڈال کر کسی نے دل میں عشق کی زنجیریں

کسی اور کی خاطر چھوڑ دیا راہوں میں

“پریان نے انکھیں کھولی ارد گرد کوئی بھی نہیں تھا اس نے سکون سے انکھیں بند کی یوں محسوس کرنے لگی جیسے حازق اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا ہے”

اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

“حازق مجھے اپنے ساتھ لے جانا یہاں نہیں رہنا تم لے جانا اپنے ساتھ تمہارے ساتھ سکون کی نیند اتی ہے زندگی میں صرف ایک بار سکون کی نیند سوئی تھی تم نے مجھے کہا تھا تمہارے ساتھ حازق ہے سکون سے سو جاؤ “

وہ مسکراتی ہوئی کہنے لگی

” مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے تم میرے پاس ہو میں انکھیں نہیں کھولوں گی جب تک تم میرا ہاتھ نہیں پکڑو گے میں چاہتی ہوں میں انکھیں کھولوں میرا سر تمہاری گود میں ہو تم پیار سے سارے آنسو صاف کر کے میری پیشانی پر بوسہ دو “

وہ ایک دم سے باتیں کرتی کرتی ہنسی اچانک ہی اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے اور اٹھ کر ارد گرد دیکھنے لگی کمرے میں تنہا تھی وہاں حازق کا نام و نشان بھی نہیں تھا

“حازق کدھر ہو تمہاری بہت یاد ارہی ہے”

وہ روتی ہوئی بولی اس نے اپنے دل والی جگہ پر ہاتھ رکھا اس کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا وہ سٹریچر سے اتر گئی اس کے دل میں درد ہونے لگی وہ اپنی ہچکیاں روکنے لگی اس کے درد میں شدت ہونے لگی وہ زمین پر بیٹھ کر چیخ چیخ کر رونے لگی اچانک سے روم کا دروازہ کھلا

“پری کیا ہوا ہے”

صمید نے اسے اٹھایا

“بھیا بہت پین ہو رہی ہے “وہ روتی ہوئی بولی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی صمید نے اسے بیڈ پہ لٹایا اور آکسیجن ماسک لگا کر ڈاکٹرز کو بلایا ڈاکٹر نے جلدی سے بے ہوشی والا انجیکشن لگا دیا ڈاکٹر نے صمید کو باہر جانے کا کہا

“میں یہاں پری کے پاس رہوں گا پلیز اب مجھے باہر جانے کا مت کہیے اپ خود اچھی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں یہاں ایک بھی نرس نہیں کھڑی تھی “

وہ غصے میں کہنے لگا اوکے ڈاکٹر نے دھیرے سے کہا

★★★

” سادی اب ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں اپ کیوں نہیں مجھ سے بات ٹھیک سے کرتے “

فاریہ نے منہ بناتے ہوئے کہا سدید نے اس پر ایک نظر ڈالی اور باہر جانے لگا فاریہ نے اس کی بازو پکڑ لی

” میری ہی غلطی ہے جو اپ کے پیار کے لیے ترستی رہی ہوں میں ہی غلط ہونا چلی جاتی ہوں اپ کو اپنی بہن کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھک گئی ہوں ایک ہی بات سن سن کر اپ کی بہن اپ کی بہن اس کے سوا اپ کو کچھ نظر ہی نہیں اتا مر کیوں نہیں جاتی اپ کی بہن”

اگلی بات منہ میں ہی رہ گئی اس کی گال سن ہو گئی اور ہونٹ خون نکلنے لگا سادی نے اپنی پیشانی مسلی

“سوری”

اس نے کندھوں سے پکڑا

“چھوڑیں مجھے “

سادی نے اس کی گال پر ہاتھ رکھ کے انگوٹھے سے اس کے ہونٹ کے پاس سے خون صاف کیا اس کی انکھوں میں نمی تیر آئی

“فاریہ سوری میں بہت پریشان ہوں پلیز ایسے مت بولو پری کے بارے میں تم تو جانتی ہو نا”

فاریہ کو اپنی باتوں پر شرمندگیں ہوئی اس نے سیدید کی طرف دیکھا

“سوری سادی میں نے اپ کا اتنے سال انتظار کیا اب اپ میں سے بات بھی نہیں کرتے ٹھیک سے پلیز پریشان مت ہونا “

“سب ٹھیک ہو جائے گا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *