Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 18)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 18)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
شازر روم میں داخل ہوا سٹریچر پر پرہیان کا وجود دیکھا وہ اس کے پاس جا کر نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اس کے ہاتھ میں حرکت ہوئی اس نے دھیرے سے انکھیں کھولیں اور ایک نفرت بھری نگاہ شاذر پر ڈال کر اپنا ہاتھ چھڑا لیا
“سوری پری “
شاذر نے نگاہیں جھکا کر کہا
” پلیز چلے جائیں میں اس وقت اپ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی اس لمحے مجھے آپ کی شدید ضرورت تھی پر آپ نے مجھے اس نے شخص طلال کے سامنے بے غیرت بنا دیا شاذر میں نے زندگی میں سب کچھ برداشت کیا اور سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں پر شاذر جہان شاہ مجھ سے اپنے کردار کے اوپر لگایا گیا الزام کبھی برداشت نہیں ہوگا پلیز چلے جائیں “
جہان وہاں سے اٹھ گیا دروازے تک گیا پھر مڑ کر پرہیان کو دیکھنے لگا وہ بھی اسی کو ہی دیکھ رہی تھی اتنے میں سدید روم میں آیا وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا
” پری کیسا فیل کر رہی ہو اب ٹھیک ہو”
سدید نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ابھی بالکل بھی میری بیٹی نے پریشان نہیں ہونا اور کوئی بات بھی دل پر نہیں لینی ویسے پھر اپ کی زیادہ طبیعت خراب ہو جائے گی فکر مت کرو تمہارا بھائی اگیا ہے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا “
سدید نے پیار سے اس کی گال تھپتھپائی
‘ بھیا اپ میرا کام کر دیں گے میں جانتی ہوں آپ مجھ سے ناراض ہیں میں نے آپ کو اپنے اور حازق کے نکاح کے بارے میں نہیں بتایا تھا بھیا میں بتانا چاہتی تھی پر مجھ میں ہمت نہیں ہوتی تھی بھیا صمید بھیا کو بولیں انہوں نے میرا بچہ کدھر کیا ہے وہ مجھے میرا بچہ لا دیں اب تو بڑا ہو گیا ہوگا بھیاء میرے پاس حازق کی ایک ہی نشانی بچی تھی بھیا حازق نے مجھ سے وعدہ لیا تھا میں اس کا خیال رکھوں گی پر مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم بیٹی تھی یا بیٹا تھا” پرہیان روتی ہوئی بولی
” پرہیان میرا بچہ پاگل ہو کیا ایسے بھلا کون روتا ہے اور میں اپنی بیٹی سے بھلا ناراض ہو سکتا ہوں بتاؤ نہیں میں ہو سکتا اور ہاں اج کے بعد رونا بھی مت ورنہ میں ماروں گا اب تو اتنی بڑی ہو گئی ہو ابھی بھی بچوں کی طرح روتی ہو مجھے پریشان کرو گی”
سدید نے مسکراتے ہوئے کہا پری نے نفی میں سر ہلایا
پرہیان شازر بہت اچھا ہیں
سدید نے سمجھانے والے انداز میں کہا
مگر پرہیان نے کوئی جواب نہ دیا
سدید خاموش ہو گیا وہ جان گیا پرہیان اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر چلا گیا
پری نے سکون سے انکھیں بند کر دی
★★★
“یار مجھے معاف کردے میں تجھ سے کیا وعدہ پورا نہیں کر سکا حازق دیکھو نا میں اکیلا ہو گیا ہوں تم نے مجھے اکیلا کیا ہے یار وہ میری بچپن کی محبت تھی وجہ یہ تھی ہم دونوں ایک لڑکی سے محبت کر بیٹھے جانتے ہو جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا وہ بہت چھوٹی تھی اور میرے دل میں ہی کہیں قید ہو گئی تھی میں سادی کا ملنے گیا تھا وہ ڈرائنگ روم میں سادی کے پاس آ کر رونے لگ گئی سادی اسے پیار سے چپ کروا رہا تھا اس دن وہ میرے دل کو اچھی لگی تھی میں نے اسے خود سے ہی ہانی کا نام دے دیا اس کے بعد وہ مجھے پھر کبھی نظر نہیں آئی میں نے ایک بار سادی سے اس کے بارے میں پوچھا تھا پر سادی نے کوئی جواب نہیں دیا اس وقت میٹرک میں تھا اس کے بعد سادی نے اور میں نے کئی سال ساتھ گزارے پر وہ مجھے نظر نہیں ائی اکثر میں اس کے لیے لیٹر اور پھول اس کے کمرے میں رکھتا تھا وہ شاید اتنا ہی جانتی تھی سادی کا کوئی دوست اسے پسند کرتا ہے اس دن پھر اس نے اعتراف کیا وہ میرے بچپن کی محبت تھی”
شاذر حازق کی قبر پر بیٹھا اسے اپنی داستان یوں سنا رہا تھا جیسے وہ سن رہا ہو
قبر کے پاس بیٹھا کوئی پاگل ہی لگ رہا تھا اس نے آنکھیں بند کر لی
★★★
ڈاکٹر نے اسے ڈسچارج کر دیا وہ گھر آگئی کتنے سالوں بعد وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی کتنی یادوں نے اسے گھیر لیا وہ دروازے کے پاس کھڑی ہوگی
کیا ہوا ہے چلو اگے میں جانتا ہوں تم اپنی بیٹی کو مس کر رہی ہو تم فکر مت کرو میں شاذر کو بولوں گا وہ چھوڑ جائے گا
سدید اسے روم میں لے آیا بھیا جہان کے پاس ہی رہنے دیں بیٹیوں کو ماں سے زیادہ باپ کی ضرورت ہوتی ہے
وہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی
سدید کو ایک لمحے کے لیے بے حد ترس ایا اس پر اس نے جھک کر اس کے سر پر بوسہ دیا
تم ریسٹ کرو وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلا گیا پرہیان نے آنکھوں کی نمی صاف کی اور پھر اٹھ کر الماری کے پاس گئی الماری کا دروازہ کھولا الماری میں بنا ایک چھوٹا سا دراز کھولا جس میں ایک چابی پڑی ہوئی تھی جو آج بھی وہیں موجود تھی اس نے چابی اٹھا کر ڈریسنگ کا دراز کھولا سامنے ہی حازق کی دی ہوئی چیزیں پڑی تھی وہ اٹھانے لگی پھر اس کے ہاتھ رک گئے وہ وہاں سے اٹھ گئی اسی لمحے اسماعیل شاہ کمرے میں داخل ہوئے پرہیان نے ان کی طرف دیکھا اس کے لب سکڑ گئے نہ جانے وہ کیوں ائے تھے
جانتا ہوں پری تمہیں میری ضرورت نہیں پھر بھی آیا ہوں باپ کہلانے کے قابل تو نہیں ہوں پھر بھی باپ بن کر آیا ہوں ایک بار مجھے بابا کہو
وہ نگاہیں نیچے کر کے بولے
پری نے بھیگی انکھوں سے انہیں دیکھا
بابا
وہ بھرائی آواز میں بولی اسے تو اج بھی باپ کے پیار کی ضرورت تھی اس نے تو ہر لمحہ اپنے ماں باپ کو یاد کیا تھا وہ ان کے سینے سے لگ گئی اس کے آنسو نکل ائے
★★★
خنسہ پاگل ہو تم یہ کیا کہہ رہی ہو اگر میں دو دن بزی رہوں گا تم سے بات نہیں کر سکوں گا تم بات طلاق تک لے آؤ گی
صمید غصے میں بولا
ہاں میں نہیں رہ سکتی تمہارے ساتھ تم دونوں بھائیوں کو اپنی بہن کے سوا کوئی نظر ہی نہیں اتا تم نے مجھے زندگی بھر دیا ہی کیا ہے جب سے اس گھر میں ائی ہوں ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں ملا مجھے طلاق دے دو تاکہ تم بھی سکون سے رہ سکو میں بھی
خنسہ پلیز پاگل مت بنو کیوں اپنا گھر خراب کرنا چاہتی ہو میں کہہ رہا ہوں نا ائندہ سے ایسا نہیں ہوگا
صمید نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اس نے غصے میں اپنا ہاتھ چھڑایا اور بیگ بیڈ پر رکھ کر الماری سے کپڑے نکالنے لگی
خنسہ یہ کیا بچوں والی ضد ہے صمید اس کے ہاتھ سے کپڑے چھڑانے لگا اس نے غصے میں صمید کے ہاتھ سے کپڑے کھینچے صمید اسے تھپڑ مارنے لگا پر اس کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا وہ گھبرائی اس کا سر چکرانے لگا اس کے ہاتھ سے کپڑے گر گئے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی
خنسہ کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا اس کا منہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا
کیا ہوا ہے
اس نے پیار سے پوچھا
اس نے آنکھیں بند کر کے نفی میں سر ہلایا
صمید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سینے سے لگایا ایسے مت کرنا اج کے بعد بیوی ہو تم میری مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تم مجھ سے جو دور جانے کی بات کرو خنسہ اس کے سینے پر سر رکھ کے مسکرائی
سوری صمید اس نے اس کی منہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا صمید نے مسکراتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا کبھی مجھ سے دور جانے کی بات نہ کرنا آج کے بعد ورنہ ایسے ہی جگہ ساتھ لے جاؤں گا واپس بھی نہیں آ سکو گی
★★★
شاذر نے اسے سینے سے لگایا ہوا تھا اور اسے باتیں کر رہا تھا وہ مسکرا رہی تھی
بابا کی جان کتنا مسکراتی ہے شاذر نے اسے اپنے اوپر کھڑا کیا بابا کی جان دیکھو اب رونا مت سو جاؤ مجھے بھی نیند ائی ہوئی ہے
شازر نے اسے اٹھا کر بےبی کاٹ میں ڈالا وہ پھر سے رونے لگ گئی شاذر نے اسے اٹھا لیا اور کمرے میں گھوم پھر کر اسے سلانے لگ گیا تھوڑی دیر بعد وہ سو گئی شاعر نے اسے بےبی کاٹ میں لٹا دیا اس کی گال پر بوسہ دیا اور مسکرانے لگا اتنے میں اس کا موبائل بجنے لگا اس نے بیزاری سے کال اٹھائی
ہیلو شازر کیا حال ہے
سدید کی اواز سن کر اس کی بند ہوتی آنکھیں کھلی
ہاں میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ پری کیسی ہے
اس نے شرمندگی سے پوچھا
ٹھیک ہے تم اپنی بتاؤ اور پریسا کیسی ہے
ٹھیک ہے سادی میں پری سے ملنا چاہتا ہوں
شاذر نے اداسی سے کہا
جہان وہ اس وقت کسی سے نہیں ملنا چاہتی اسے کچھ دن اکیلا رہنے دو وہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں
سدید نے اسے تسلی دی
سادی پرہیان یہ بات تو جانتی نہیں تم اور پریان۔۔۔۔
شاذر پلیز
سدید نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی
بھول کر بھی اس کے سامنے ذکر مت کرنا اس بات کا میں نے ساری زندگی اسے ذکر نہیں کیا یہ میرا راز ہے زندگی کا سب سے بڑا پلیز اسے مت بتانا
اوکے یار میں نہیں بتاتا کچھ دنوں تک آؤں گا پریسہ کی برتھ ڈے ہے میں آؤں گا
اوکے اپنا خیال رکھنا
سادی نے یہ کہہ کر کال کٹ کر دی
★★★
وہ لاؤنچ میں بیٹھا تھا غصے سے
یہ شازر جہان خود کو کیا سمجھتا ہے اسے کیا لگتا ہے اس نے مجھ پر کیس کر کے خود کو بہادر سمجھ لیا ہے مجھے جیل بھیج دے گا میں اس کی بازی اسی پر پلٹوں گا اس کے ماں باپ حازق کے قتل کا الزام شاذر تم پر ہی آئے گا تم پچھتاؤ گے تمہیں کتے کی موت دوں گا مجھے جیل بھیجنے کی کوشش کرو گے میں خاموش بیٹھا رہوں گا شازر شاہ تم سب کچھ مانو گے تم خود میری پرہیان کو میرے سپرد کرو گے اس نے غصے میں ہاتھ میں پکڑا ریموٹ فرش پر مارا اور غصے میں اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
