Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 05)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

یار تم سچ کہہ رہے ہو کب بابا سائیں سے بات کرو گے ” حازق مسکراتے ہوئے شاذر سے پوچھنے لگا ۔

” ہاں یار کروں گا دیکھنا بابا مان بھی جائیں گے بس اب تم نے پرشان نہیں ہونا اور تمہارے دوست کی کال آئی تھی ایسے کرتے ہیں کیا دوستوں کے ساتھ یار دوست زندگی میں بہت کم ملتے ہیں جنھیں ہماری خوشی غمی کا احساس ہوتا ہے تم نے کل اس کو سوری کرنا ہے “

” اوکے میں کر دوں گا لیکن سچ میں بہت پرشان تھا میں اگر بابا نے کہیں اور کر دی یا بھیاء نے کچھ الٹا سیدھا کر دیا تو ” وہ منہ بناتے ہوئے بولا ۔

” یار میرے ہوتے ہوئے فکر کیوں کرتے ہو “۔ حازق مسکراتا ہوا اس کے گلے لگ گیا ۔

” حازی توں میری جان ہے میں تیرے لیئے کچھ بھی کر سکتا ہوں اگر اب توں اداس نظر آیا تو میں نے پکڑ کر تیرا اس لڑکی کے ساتھ نکاح کر دینا ہے اب اداس نہیں ہونا ” وہ اس کی پشت تھپک کر بولا ۔

” یار توں میرا کتنا اچھا دوست ہے مجھے اداس بھی نہیں دیکھ سکتا ” حازق نے ہنستے ہوئے اس کی گال پر ہونٹ رکھے ۔

” اب مکھن لگا رہے ہو بڑے کمینے ہو تم ” وہ ہنستا ہوا بولا ۔

” یار میں بےشرم بھی بڑا ہوں ” حازق بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

” یار شازر تم وعدہ کرو وہ اسی گھر کی بہو بنے گی ” حازق نے اس کے آگے ہاتھ کیا ۔

” اوکے اوکے اسی گھر کی بہو بنے گی اب یہ بوتھی بنا کر مت بیٹھ موڈ ٹھیک کر اپنا ” شازر نے اس کی گال کھینچی ۔

★★★

کافی دن گزر گئے مگر جہان سے کسی نے کوئی بات نہ کی وہ سب کے درمیان بیٹھتا اور اٹھ جاتا کوئی انسسے بات تک نہیں کرتا تھا مگر آج اس کی برداشت جواب دے گئی تھی ۔

” بابا سائیں آخر آپ چاہتے کیا ہیں کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں ٹھیک ہے آپ چاہتے ہیں نہ میں شادی کو لوں تو پھر میں شادی کر لیتا ہوں ” شاذر سنجدگی سے بولا ۔

انیکسی میں داخل ہوتی پری۔ کے ہاتھ سے جگ گر کر ٹکڑے ہو گیا وہ ڈر گئی اور جلدی سے کانچ اٹھانے لگی اس کے ہاتھ میں کانچ لگ گیا وہ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر کچن میں آگئی اس کے ہاتھ سے بری طرح سے خون بہہ رہا تھا ۔

( اگر آج کے بعد ایپل بھی کاٹنا ہوا تو مجھے بتانا آج کے بعد تمہارے ہاتھ پر چھوٹا سا بھی کٹ دیکھا تو تھپڑ لگاؤں گا ” ماضی کی یادیں پھر سے اس کے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگی تھیں اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہچکی کو روکا ایک یہ خیال اس سے الگ سے ستا رہا تھا جو اس کا تھا ہی نہیں وہ بھی کسی اور کا ہو جائے گا اس سے جہان سے غرض نہیں تھی مگر درد ہو رہا تھا اس سے کسی کی یاد تڑپانے لگی تھی ایسے تلخ رویوں کی اس سے عادت نہیں تھی وہ اپنے ہاتھ سے گرتا ٹپ ٹپ۔ خون دیکھ رہی تھی آنکھیں دھندلا رہی تھیں وہ کمرے میں آگئی بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹ کر تکیے میں منہ چھپائے رونے لگی وہ خود نہیں جانتی تھی وہ آج اتنی شدت سے کیوں رو رہی تھی اچانک سے اس سے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی اس نے ایک دم۔سے سر اٹھا کر دیکھا وہ سامنے کھڑا ہوا تھا ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس پکڑے وہ اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے لیا پرئ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں جہان مےاس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ شائد آنکھیں بند کیئے اس سے محسوس کر رہی تھی یا پھر گھبرا رہی تھی ۔

” فکر مت کریں میں دوسری شادی نہیں کرو۔ گا ” اس نے انگوٹھے کی مدد سے اس کی گال پر رکا ہوا آنسو صاف کیا اس کے بعد وہ رہا نہیں اس نے جب آنکھیں کھولیں وہ نہیں تھا کمرے میں اس سے پہلے وہ جہان کے بارے میں سوچتی اس کے سامنے کسی کا مسکراتا ہوا چہرہ آگیا ۔

( تم میرا عشق ہو کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی مت )

۔

★★★

” سدید رات کے وقت آسمان کتنا پیارا لگتا ہے ” وہ اس کے کندھے پر سر رکھے بول رہی تھی سدید نے اس کااہتھ اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے لیا ۔

” فاریہ تک جا تی ہو نہ تم نے میری زندگی مکمل کی ہے تم نے مجھے ہر خوشی دی ہے ” سدید۔ نے مسکراتے ہوئے اس سے اپنے ساتھ لگا لیا ۔

” سدید آپ۔ خود بہت اچھے ہیں نہ اس وجہ سے سب ہی آپ ہو اچھے لگتے ہیں اگر آپ برے ہوتے توبھپا میں نے کوئی اچھا ہونا تھا ” وہ مسکرا کر بولی ۔

” پر کبھی کبھی تو کہتی ہو سدید آپ بہت برے ہیں بہت ظالم ہیں ” وہ فاریہ کی نقلیں اتارتا ہوا بولا فاریہ نے اس کے کندھے پر مکہ رسید کیا ۔

” آپ مجھے پرانی باتیں نہ یاد کروایا کریں نہ ” وہ چڑ کر بولی ۔

” ویسے اب ہمیں نیچے چلنا چاہیے” سدید نے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا ” کیوں اتنی بھی کیا جلدی ہے تمہیں نیچے جانے کی کچھ اور لمحے ساتھ گزارلیتے ہیں ” وہ اٹھ کر جانے لگی سدید نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا وہ سیدھا اس کے سینے سے آ لگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *