Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 20)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 20)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
موبائل کان کے ساتھ لگائے سیڑھیوں سے اتر رہا تھا خنسہ اس سے پکارتی ہوئی پیچھے آئی پر وہ بنا اس کی بات سنے وہاں سے چلا گیا
سدید بھائی پتہ نہیں کس کی کال تھی صمید بہت پریشان تھے انہوں نے مجھے کچھ بتایا بھی نہیں اور اچانک ادھر چلے گئے ہیں
وہ پریشانی کے عالم میں بتا رہی تھی
خنسہ میں دیکھتا ہوں پریشان نہ ہو
سدید یہ کہہ کر باہر کی طرف چلا گیا اتنے میں فاریہ باہر آئی
خنسہ سدید کدھر ہیں
کیا ہوا ہے فاریہ تمہارا چہرہ کیوں پیلا پڑ رہا ہے
یار پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے پلیز سدید کو بلاؤ
وہ وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ گئی
خنسہ پریشانی میں باہر کی طرف بھاگی پر وہ جا چکا تھا وہ واپس ا کر سدید کو کال کرنے لگی پر اس کا نمبر آف جا رہا تھا پھر صمید کو کال کی اس کا نمبر بھی بند جا رہا تھا
فاریہ یار کچھ نہیں ہوگا چلو میں لے چلتی ہوں ہاسپٹل
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے گاڑی تک لائی پر وہاں کوئی ڈرائیور موجود نہیں تھا وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی فاریہ کو ساتھ بٹھا دیا فاریہ بے ہوش ہو گئی وہ ایک دم سے پریشان ہو گئی
★★★
اس کے کانوں سے باتوں کی آواز ٹکرائی اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول کر ساتھ دیکھا شاذر پریسہ کے ساتھ کھیل رہا تھا وہ جھٹکا کھا کر اٹھی اور ہکا بکا ارد گرد دیکھنے لگی
کیا ہوا ہے
شاذر نے مسکراتے ہوئے پوچھا
اس نے اپنی بیٹی کو دیکھا پھر شاذر کو جس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی ایک دل کش مسکراہٹ
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے اپنے بال کانوں کے پیچھے کیئے
شاذر نے پریسہ کو اٹھا کر اس کی گال پر بوسہ دیا پھر اسے بے بی کاٹ میں لٹا دیا
پرہیان ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی
زیادہ پیارا لگ رہا ہوں نظر لگانی ہے کیا
اس نے مسکراتے ہوئے کہا
وہ کچھ نہ بولی وہ اس کے پاس ا کر بیٹھ گیا اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا
میری طرف دیکھو کیوں پریشان ہو گئی ہو
وہ پیار سے اس سے پوچھنے لگا اس نے نفی میں سر ہلایا
مجھے گھر جانا ہے
وہ ایک دم سے اٹھتی ہوئی بولی
یہ بھی آپ کا ہی گھر ہے میڈم کیوں مجھ سے دور جانا چاہتی ہیں ہم کتنا قریب ہو گئے ہیں ایک دوسرے کے
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر بولا
اچانک سے شاذر کا موبائل بجنے لگا
اس نے کال ریسیو کی دوسری طرف سے سدید کی آواز ائی
شاذر پرہیان کو ادھر اپنے پاس ہی رکھنا اور اس کے پاس کوئی موبائل نہ ہو کوشش کرو وہ کمرے سے باہر نہ نکلے
سدید نے مزید کچھ نہ کہا نہ سنا کال کٹ کر دی اتنے میں شاذر کے موبائل پر میسجز آنے لگے اس نے جیسے ہی واٹس ایپ کھولی وہاں اس کے ہر دوست رشتہ دار نے اسے ایک ہی ویڈیوز اور تصویر سینڈ کی ہوئی تھی پری کی انکھیں پھاڑے ادھر ہی دیکھ رہی تھی شاذر کی نظر بار بار آنے والے میسجز پر جا رہی تھی شاذر جہان شاہ تمہاری وائف کی ویڈیو کس کے ساتھ ہیں
اس کے ہاتھ سے موبائل گر گیا پرہیان کے ہاتھ ٹھنڈے ہونے لگے
پری کیا ہوا ہے پریشان مت ہو اس ویڈیو میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے
اپ مجھے چھوڑ دیں گے اب میں جانتی ہوں اپ نے مجھے چھوڑ دینا ہے
وہ روتی ہوئی بولی
پاگل ہو پری ریلیکس ہو جاؤ کچھ نہیں ہوگا ویسے ہی پریشان ہو رہی ہو یہ میں ڈیلیٹ کروا دیتا ہوں
یہ طلال نے ہی اپلوڈ کروائی ہوگی
اچانک ہی وہ بے ہوش ہو گئی اسے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا
★★★
سدید کال پک کر لیں پتہ نہیں کدھر بزی ہیں
خنسہ نے پریشانی کے عالم میں پھر سے سدید کا نمبر ڈائل کیا
تھوڑی دیر بعد سدید نے کال پک کی
سادی پلیز جلدی ہاسپٹل ا جائیں فاریہ کی طبیعت بہت خراب ہے خنسہ نے پرشانی کے عالم میں بتایا وہ ایک دم سے پریشان ہو گیا
کیا ہوا ہے فایہ کو میں بس پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں
اس نے جلدی سے کال کٹ کر دی خنسہ پریشانی کے عالم میں ٹہل رہی تھی اتنے میں ڈاکٹر آیا
پیشنٹ کی کنڈیشن بہت سیریس ہے ان کے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے
ڈاکٹر کی بات سن کر اس کی آنکھیں پھیل گئی ڈاکٹر آگے چلا گیا وہ بینچ پر بیٹھ گئی تھوڑی دیر بعد سدید ایا
فاریہ کیسی ہے کیا ہوا ہے
پتہ نہیں ڈاکٹر نے بس اتنا بتایا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے بچے کی جان کو بھی خطرہ ہے
کیا فاریہ پریگننٹ ہے
سدید کو سمجھ نہ ائی وہ خوش ہو یا اداس
سادی کچھ نہیں ہوگا فاریہ کو پریشان نہ ہوں
اس نے سدید کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس سے دلاسہ دیا
