Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 15)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

وہ ہاتھ میں لاکٹ پکڑے اس میں لگی تصویر دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں سے انسو گر رہے تھے اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا جہان کمرے میں داخل ہوا وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی جہاں نے اس کے ہاتھ سے وہ چین پکڑی وہ ایک دم سے ہوش کی دنیا میں واپس لوٹ کر ائی اور گھبرائی ہوئی جہاں کو دیکھنے لگی جہان چین کے اندر لگی تصویر دیکھنے لگا ان دونوں سے ہی وہ بہت پیار کرتا تھا پرہیان اس کے سامنے نگاہیں جھکا کے کھڑی ہوئی تھی

“کیا ہوا ہے “

جہان نے اس کا چہرہ اوپر کر کے پوچھا اس کی ہچکی بندھی

“پاگل کیا ہوا ہے “

جہان نے اس کے انسو صاف کرتے ہوئے کہا

” سوری”

وہ روتی ہوئی بولی

” جانتا ہوں میں حازق کی جگہ نہیں لے سکتا تمہارے اور حازق کے درمیان کیا رشتہ تھا مجھے نہیں معلوم پر اتنا معلوم ہے محبت کا رشتہ شاید کل بھی ختم نہیں ہوتا میں حازق نہیں ہوں میں تو اس کا بھائی ہوں حازق جیسا نہیں بن سکتا اس کی طرح تمہیں چاہ نہیں سکتا پر کوشش کرتا ہوں اسے کیا وعدہ پورا کروں “

جہاں نے اس کے ہاتھ میں لاکٹ پکڑا دیا

“حازی نے مجھے ہر بات بتا رکھی ہے پھر بھی اس جیسا نہیں بن سکتا”

وہ یہ کہہ کر واش روم میں چلا گیا پری کے ہاتھ سے لاکٹ گر گیا وہ گھٹنوں کے بل وہیں گر کر رونے لگی اس کے انسو اس کی گالیں بھگو رہے تھے اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنے انسو صاف کیے اور اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی اس کے انسو گر رہے تھے اس نے ایک لمبا سانس لیا

★★★

“شاہ جی آپ کا بیٹا شاذر سے بات کرنا چاہتا ہے “

شاذر ایک دم سے اٹھا اور ڈاکٹر کو سائیڈ پہ کرتا ہوا اندر گیا حازق کو اس کا دھندلا چہرہ نظر ایا

“حازق یار کیا حال بنایا ہوا ہے”

حازق نے اکسیجن ماسک اتارتے ہوئے اس کے اگے ہاتھ کیا

“وعدہ چاہیے پلیز “

حازق نے بمشکل کہا اس کے لبوں پہ مسکراہٹ تھی شازر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

” یار تو اسے اپنائے گا جو میں نے اسے وعدے کیے ہیں جو اسے خواب دکھائے ہیں وہ تو پورے کرے گا میرا بھائی ہے دوستو جیسا تجھے کسی اور سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے میں کیسے مرا کیا ہوا تمہیں کچھ نہیں جاننا۔۔۔۔اس کی انکھوں میں انسو مت انے دینا میں نے تم سے سوال کرنا ہے اخرت میں میں اسے تمہارے سپرد کر رہا ہوں”

وہ بمشکل لفظ ادا کر رہا تھا

“حازق پاگل ہو کیا بکواس کر رہے ہو”

” یار اسے مرنے مت دینا وہ میری”

حازق سے بولنا مشکل ہو گیا

” یار مجھے اٹھا نا”

حازق نے بے بسی سے کہا جس کی سانسیں اٹکنے لگ گئی تھی شاذر نے اسے اٹھایا وہ شاذر کے گلے لگ کر اس کے کندھے پر سر رکھے انکھیں بند کیے بولا

“کر نہ وعدہ میرے کمرے سے اس کی تصویر مل جائے گی اس کے اور میرے رشتے کے بارے میں کوئی سوال اٹھائے تو تجھے میری ڈائری میں سے ہر سوال کا جواب ملے گا”

اچانک سے حازق کا وجود ڈھیلا پڑنے لگا

“حازق کیا تجھے کیا ہو رہا ہے حاذق مجھ سے بات کر “

وہ اس کے بے جان وجود کو جھنجھوڑنے لگا پر وہ نہیں تھا شاذز ایک دم سے چلایا

٫” حازق انکھیں کھولو کیوں پاگل کر رہے ہو مجھے حازق “

وہ روتا ہوا اس کی گال تھپتھپانے لگا اس کے ہاتھ بری طرح سے کانپنے لگے وہ بے یقینی کی حالت میں اس کا بے جان وجود دیکھتا ہوا پیچھے ہونے لگا اچانک سے باہر سے شاویز بھاگ کر ایا اس کے قدم وہیں جم گئے حاضر نے بھیگی نگاہوں سے شاویز کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا یہ سب جھوٹ ہے وہ بے یقینی سے حازق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا

★★★

وہ غصے میں کمرے میں داخل ہوا پرہیان ایک دم سے اٹھی صمید نے پورے زور سے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا اس کے ناک سے خون بہنے لگا اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل اس کے منہ پر ماری

” یہ ہے تمہاری اصلیت کتنی معصومیت ہے تمہارے چہرے پر پرہیان وہاں بیچ سڑک پر کیسے مشکل سے تمہیں اس لڑکے سے جدا کیا تھا اور یہ رپورٹ تم مر کیوں نہیں گئی “

وہ غصے میں بولا

” بھیا اپ غلط سمجھ رہے ہیں میری بات غور سے سن لیں”

پری رووتی ہوئی بولی

” جانتی ہو تم نے کیا کیا ہے سادی تو تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتا “

وہ غصے میں بولا

“بھیا میری بات تو سنیں”

روتی ہوئی پھر سے بولی

” کچھ سننے کو بچا ہے یہ دنیا میں نہیں انا چاہیے “

وہ غصے میں بولا

“بھیا پلیز ایسا مت کہیں اپ جیسا سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے”

” ایک دم خاموش ہو جاؤ قاتل میں بننا نہیں چاہتا میرے بھی ایک شرط ہے”

وہ اسے اپنی شرط بتاتا ہوا وہاں سے چلا گیا وہ نہیں جانتی تھی اس کے ساتھ اگے کیا ہونے والا ہے وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر رونے لگی وہ تنہا ہو گئی تھی وہ حازق سے ملنا چاہتی تھی اسے بات کرنا چاہتی تھی گھر کے دروازے بند تھے اس کے لیے وہ باہر قدم بھی نہیں رکھ سکتی تھی وہ تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا فاریہ کمرے میں داخل ہوئی جس کی آنکھیں لال انگارا ہو رہی تھی رونے کی وجہ سے فاریہ اس کے پاس ا کر بیٹھ گئی

” بھابھی مجھے بھیا سے ملنا ہے”

وہ فاریہ کی طرف دیکھتی ہوئی بولی

” وہ کوما میں چلے گئے ہیں”

اس نے خود پہ ضبط کرتے ہوئے بتایا

” بھابھی یہ اپ کیا کہہ رہی ہیں”

” اور جانتی ہو جس لڑکے کا سدید سے جھگڑا ہوا تھا وہ رات مر گیا تھا”

فاریہ کی بات سن کر پرہیان کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سر پہ بم پھوڑ دیا ہو وہ ایک دم سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگی

” کدھر جا رہی ہو “

فاریہ اس کے پیچھے بھاگی وہ پاگلوں کی طرح باہر کی طرف بھاگی جا رہی تھی سامنے سے ا کر صمید نے اس کا بازو پکڑ لیا

“کدھر بھاگ رہی ہو”

وہ غصے میں بولا وہ مجھے اسے یوں لگا کسی نے نہ جانے اس سے کیا پوچھ لیا ہو

” بھابھی اسے اندر لے جائیں اور مجھے باہر نظر نہ ائے اج کے بعد

★★★

ایک سال بعد

“پلیز مجھے ایک بار ملنے دیں میری بیٹی ہے یا بیٹا “

اس نے روتے ہوئے کہا

” پرہیان میری شرط یہ تھی تم نہیں ملو گی اس سے وہ کون ہے کہاں ہے تمہیں سے کوئی مطلب نہیں جانتی ہو یہ جو میں اتنا پریشان ہوں گھر میں پریشانی کی وجہ تم ہو صرف تمہارے وجہ سے سادی کا اس لڑکے سے جھگڑا ہوا تھا میری تم سے گزارش ہے انہوں نے صرف یہ بات کہہ کر کیس واپس لیا ہے تمہیں ان کے بیٹے سے شادی کروگی تمہیں ونی کر دیا جائے گا اور رہی بات تمہارے بچے کی تو اس کو دنیا میں ائے ہوئے تین مہینے تو ہو گئے ہیں تو اج کیوں اس کا ذکر کر رہی ہو اج کے بعد اس کا ذکر مت کرنا اور اس شخص کے ساتھ نکاح کے بعد تمہارا اس گھر سے کوئی رشتہ نہیں ہوگا”

وہ خاموشی سے صمید کی باتیں سن رہی تھی مطلب اس کی زندگی اتنی مشکل ہو گئی تھی اٹھ کر باہر چلا گیا

” تم میری بیٹی ہو اور یہ بات یاد رکھنا جس شخص سے میں تمہاری شادی کروں گا تمہیں اس کے ساتھ زندگی گزارنی ہوگی کیونکہ میں نے تمہیں کبھی بیٹی جانا نہیں تم مجھے باپ سمجھ کر میرا فیصلہ قبول کر لو اگر تم نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو یاد رکھنا کبھی زندگی بھر نہیں بلاؤں گا “

وہ ایک دم سے ہوش کی دنیا میں واپس ائی

” سدید بھیا کدھر ہیں کہ وہ مجھے تنہا کر گئے ہیں بھیا ایک بار پھر سے میں اکیلی ہو گئی ہوں بھیا حازق آپ مجھے چھوڑ گئے آپ نے تو وعدہ کیا تھا زندگی بھر ساتھ دیں گے پھر کیوں چھوڑ گئے ہیں حازق ہم نے تو ساتھ زندگی گزارنی تھی پھر کیوں اپ مجھے یوں تنہا چھوڑ گئی پلیز واپس ا جائیں نا میں بہت تکلیف میں ہوں مر رہی ہوں حازق بھیا کوئی تو ا جاؤ “

رعتی ہوئی اپنے انسو صاف کرنے لگی اس کی انسو انکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھوڑی دیر بعد پھر سے صمید اس کے کمرے میں ایا اس کے سامنے ایک شاپر رکھا

“جلدی سے تیار ہو جاؤ نکاح ہے تمہارا اور ہاں اور کوئی ڈرامہ مت کرنا خنسہ آ رہی ہے تمہارے پاس وہ یہ کہہ کر دروازہ بند کرتا ہوا چلا گیا تھوڑی دیر بعد اس کی کزن ائی اور اسے تیار کر کے نیچے لے گئی مولوی صاحب نے اسے پوچھا

” اپ کا نکاح شازر جہان شاہ سے حق مہر دس لاکھ میں کیا جاتا ہے کیا اپ کو یہ نکاح کا بول ہے “

اس نے نگاہیں اٹھا کر سامنے دیکھا سامنے اسے حازق کا عکس نظر انے لگا جو مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہا تھا اس نے صمید کی طرف دیکھا جو اسے گھور رہا تھا مطلب یہاں اس کا کوئی خیر خواہ نہیں تھا

“قبول ہے “

اس نے نگاہیں جھکا کر کہا خنسہ نے اس پر چادر ڈال دی اور اسے لگا جیسے اس پر کفن ڈال دیا گیا ہو پرہیان نے نگاہیں اٹھا کر سامنے اپنے شوہر کو دیکھا جو سنجیدگی سے کچھ سوچنے میں مصروف تھا پر اس شخص میں کچھ تو تھا وہ شخص رونے کی حد تک اداس بیٹھا ہوا تھا اس کا گھر چھوڑنے کا وقت ایا اس کے پاس اس کا بھائی کھڑا ہوا تھا ماں نہیں تھی وہ نہیں جانتی تھی اس کی ماں کدھر ہے اس کا باپ کہاں ہے سب اہستہ اہستہ وہاں سے چلے گئے وہ رک گئی

“کیا ہوا ہے “

صمید نے اس سے پوچھا

” بھیا ایک بار پلیز پیار سے رخصت کر دیں “

صمید نے ارد گرد نگاہیں دوڑائیں وہاں بس اس کا شوہر کھڑا ہوا تھا صمید نے اسے سینے سے لگایا اس کے سر پر بوسہ دیا صمید کو کچھ ہوا تھا اس کا دل نہیں کر رہا تھا اسے خود سے دور کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا وہ اسے خود سے دور کرے وہ اپنے ساتھ لگائے باہر کی طرف لے گیا پرہیان کا دل کیا وہ زور زور سے رونے لگ جائے صمید وہیں کھڑا گاڑیوں کو نگاہوں سے اوجھل ہوتے دیکھ رہا تھا اس کی انکھوں سے انسو ٹوٹ کر گرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *