Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 19)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 19)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
زارا کی رات کے وقت انکھ کھلی اس کی طبیعت عجیب سی ہونے لگی اس نے سائیڈ ٹیبل سے جگ سے پانی ڈال کر پیا اور لائٹ ان کر دی
زارا لائٹ کیوں ان کی ہے یار سارے دن کا تھکا ہوا ہوں کبھی پولیس اسٹیشن تو کبھی عدالت پلیز مجھے سونے دو
اس نے سوتے سوتے پوری تقریر کر دی اور سر پر تکیہ رکھ دیا
شاویز پتہ نہیں میری طبیعت کیوں خراب ہو رہی ہے
کیا ہوا ہے
گولی کی طرح اٹھا
سر چکرا رہا ہے اچھا اچھا مجھے لگا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے چلو شاباش ایسے سوئی ہوئی اٹھ جاؤ گی تو سر تو چکرائے گا ہی
شاویز یہ کہہ کر سو گیا زارا نے اس کے بازو پر مکر رسید کیا کیا
یار بیگم سونے دو
وہ یہ کہہ کر جلد ہی سو گیا
زارا اچانک سے اٹھ گئی
صبح کے وقت شاہ ویز کو اپنا منہ گیلا ہوتا ہوا محسوس ہوا اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا زارا اپنے بالوں کا پانی اس پر گرا رہی تھی شاویز نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا
میڈم خوش نظر آرہی ہو کوئی لاٹری نکل آئی ہے
شاویز نے مسکراتے ہوئے پوچھا اس نے مسکراتے ہوئے اس نے شاویز کے کان میں کچھ کہا وہ ایک دم سے ہڑبڑا کر اٹھا
زارا تم سچ کہہ رہی ہو یار سچ میں میں بابا بننے والا ہوں یار قسم سے مجھے یقین نہیں ا رہا
اس نے مسکراتے ہوئے زارا کو سینے سے لگا لیا اس کی پیشانی پر بوسہ دیا وہ مسکراتے ہوئے شاویز کو دیکھنے لگی جس کے لبوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہو رہی تھی زارا بھی اس سے دیکھ کر مسکراتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی
★★★
وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا پر اس کا دماغ کہیں اور ہی گم تھا اچانک اس کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی رکی اس نے لمبا سانس لیا اور گاڑی سے نکل کر اس سامنے کھڑے شخص کے پاس گیا
کیا چاہتے ہو تم
شاذر نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولتے ہوئے کہا
اپنا کیس واپس لو ابھی اپنے وکیل کو کال کرو پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس
طلال نے گھڑی کی طرف دیکھا شاذر اسے دیکھ کر مسکرایا
بیٹا تمہیں کیا لگتا ہے اتنی اسانی سے میں کیس واپس لے لوں گا غلط فہمی ہے تمہاری میں نہیں لینے والا کیونکہ میں تمہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر چھوڑوں گا
اچھا ایسی بات ہے یہ دیکھو پھر اس نے موبائل اس کے سامنے کیا جس کی سکرین پر طلال اور پرہیان کی تصویریں تھیں
حیران مت ہو زیادہ تم جانتے تو ہو پری میری بیوی رہ چکی ہے اگر تم اس وقت اپنا کیس واپس نہیں لو گے تو ایک کلک سے یہ تصاویر دنیا میں ہر جگہ پہنچ جائیں گی
شاذر غصے میں اس کی طرف بڑھا
نا نا یہ غلطی مت کرنا تم یہ موبائل توڑ دو گے پر یہ موبائل ٹوٹتے ہی میرا ادمی یہ تصویریں۔۔۔۔ اگے تم خود سمجھدار ہو طلال نے ہنستے ہوئے کہا
شاذر اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا
تمہیں کیا لگتا ہے میں کیس واپس لے لوں گا تمہاری غلط فہمی ہے یہ کام میں مر کر بھی نہیں کر سکتا کیونکہ جانتے ہو تم پکا ارادہ کر لیا ہے میرے ہاتھوں سے مرنے کا
طلال اس کی بات سن کر ہنسنے لگا کیا یار تجھے مارنے کا شوق ہے مجھے مارنا چاہتا ہے میں تو تجھ سے تیرے سارے اپنے چھین چکا ہوں تو مجھے مارے گا طلال نے قہقہہ لگایا
اچانک گولی کی آواز سے اس کے لب ادھر ہی سکڑ گئے شازر نے دو اور گولیاں چلائی وہ گھٹنوں کے بل گر گیا
مسٹر طلال احمد تمہارا قصہ بھی ختم ہوا
وہ اس کی گال تھپتھپا کر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
سڑک پر ہر طرف اس کا خون ہی خون تھا اس کی انکھیں پتھر ا گئیں پر اس کے لبوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ تھی وہ جانے سے پہلے اس سے برباد کر گئے
★★★
اچانک سوئے ہوئے اس کی انکھ کھلی اسے نہ جانے کیا ہوا وہ ارد گرد کسی کو دیکھنے لگی جیسے اسے کسی کی تلاش ہو اس کے بے ساختہ انسو گرنے لگے اس کے حلق میں انسوؤں کا پھندہ اٹک گیا وہ بیڈ سے اتری اور کمرے سے باہر آئی سامنے سدید کسی سے بات کر رہا تھا اس کی نظر پرہیان پر گئی وہ موبائل کان کے ساتھ سے ہٹاتا ہوا اس کی طرف آیا
پرہیان کیا ہوا ہے تم رو کیوں رہی ہو
بھیا مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے پلیز مجھے لے جائیں
وہ اپنے انسو کنٹرول کرتی ہوئی بولی
پاگل رو کیوں رہی ہو میں صمید کو بولتا ہوں وہ لے جاتا ہے موڈ ٹھیک کرو
بھیا آپ خود لے جائیں
کیوں میں نے راستے میں کھا جانا ہے
صمید سیڑھیاں اترتا ہوا بولا
اپ ہی لیتے جائیں وہ منہ بناتی ہوئی بولی
چلو میں لے چلتا ہوں وہ اس کا ہاتھ پکڑے باہر کی طرف لے گیا وہ مڑ مڑ کر سدید کو دیکھ رہی تھی جو پھر سے موبائل میں لگا ہوا تھا گاڑی میں بیٹھ کر اس نے صمید کی طرف دیکھا
آپ بدل گئے ہیں
صمید نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اس کی بات پر غور کیا
جانتا ہوں بدل گیا ہوں پر تم نہیں جانتی میں ہمیشہ سے ایسا ہی تھا
پر ایک چیز چاہیے اپ دیں گے نا پرہیان کی بات سن کر اس نے بیچ سڑک پڑے گاڑی روک کر پرہیان کی طرف دیکھا
کیا چاہیے تمہیں
اس نے حیرت سے پرہیان کو دیکھ کر پوچھا
میرا بچہ چاہیے وہ بھرائی اواز میں بولی
صمید نے بنا اس کی بات کا جواب دیا گاڑی سٹارٹ کر دی
صمید بھائی پلیز میں نے حازق سے وعدہ کیا تھا اپ کیوں نہیں سمجھ رہے
وہ روتی ہوئی بولی
صمید نے پھر بھی اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا تھوڑی دیر بعد گاڑی گھر کے سامنے رکی
اگر گھر واپس انا ہوا تو مجھے بتا دینا میں لیتا جاؤں گا جب بیٹی سے مل لیا پری اس کی بات سن کر اثبات میں سر ہلا گئی وہ چلا گیا پرہیان مرے مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی اس کی گالوں پر انسو تھے وہ رونا چاہتی تھی وہ خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی رات ہو گئی تھی اسے نہ جانے کیوں آج حازق بہت یاد ا رہا تھا وہ بنا ارد گرد دیکھے اس کے کمرے کی طرف جا رہی تھی دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولا کمرے میں اندھیرا تھا اس نے لائٹ جلائی اور گھٹنوں بل زمین پر بیٹھ گئی اور سامنے دیوار پر لگی حازق کی تصویر دیکھنے لگی
کدھر ہو جھوٹے کہیں کے مجھے کیوں نہیں ساتھ لے کر گئے خود تو سکون کی نیند سو رہے ہو دیکھو میں سو بھی نہیں سکتی میں تمہیں بھول کر ایک زندگی شروعکرنا چاہتی ہوں میرے پیروں میں زنجیریں ہیں جنہوں نے مجھے جکڑ رکھا ہے میں کہیں نہیں جا سکتی میں کسی طرف قدم نہیں بڑھا سکتی میرے دل کو بھی زنجیر نے جکڑ رکھا ہے اس دل میں کسی اور کو میں بسا نہیں سکتی
اس کی آنکھیں بند تھی کوئی اس کی گالوں سے آنسو صاف کرنے لگا اس نے آنکھیں کھول کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا اس کے کندھے سے سر ٹکا لیا
بے بس ہوں نہیں بھول سکتی تکلیف میں ہوں کاش میں حازق سے نہ ملی ہوتی یار عشق کتنا ظالم کیوں ہوتا ہے کیوں اس قدر بے بس کر دیتا ہے یہ بے بسی انسان کو اس قدر بے بس کرتی ہے موت بھی بےبس نظر آتی ہے اس نے جہان کے کندھے سے سر ٹکاتے ہوئے آنکھیں بند کر دی
