Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 10)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

“کیسی طبیعت ہے ٫”

وہ اس کے پاس آکر بیٹھتی ہوئی بولی ۔

” جہان کی کوئی کال نہیں آئی” پری نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا زارا نے نفی میں سر ہلا دیا

” پری شاویز تم سے بات کرنا چاہتے ہیں پلیز تم ان کی بات سن لو ارام سے میں جانتی ہوں وہ پہلے تمہیں غلط نگاہوں سے دیکھتے تھے مگر اب نہیں وہ ایسا نہیں ہے تم جانتی ہو وہ پوری پوری رات نہیں سوتے میں نہیں جانتی وہ تم سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں پر وہ بے بس ہیں” زارا اس سے اداسی سے بتانے لگی

” اوکے میں کر لوں گی بات “

زارا مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا شاویز کمرے میں داخل ہوا دروازہ بند کرتا ہوا اس کے پاس ا کر بیٹھ گیا

” کیا بات کرنی ہے اپ کو مجھ سے”

وہ نگاہ ملائے بنا بولی

” پہلے تو میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں” شاویز ہاتھ جوڑتا ہوا بولا

پری نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو پکڑ کر بولی آپ کو مجھ سے کیا بات کرنی ہے

” پہلے معاف کرو گی پھر بتاؤں گا کیا بات کرنی ہے”

وہ شرمندگی سے بولا

” اچھا میں نے آپ کو معاف کر دیا آپ بتائیں اپ کو مجھ سے کیا بات کرنی ہے”

” پہلے سچے دل سے معاف کرو

شاویز کی بات سن کر پری ٹیرس پر آگئی اپنے آنسو چھپاتی ہوئی شاویز اس کی سسکیاں سن کر وہاں سے اٹھ کر اس کے پاس ٹیرس پر جا کر کھڑا ہوا

” جہان کے پاس جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں ایک شرط پر بھیج دوں گا”

اس کے چہرے پر نگاہیں گاڑے بولا

” اپ تو مجھے مارنا چاہتے تھے مجھے جہان کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے تھے پہ اچانک سے یہ تبدیلی کیسی کیوں کر رہے ہیں یہ سب “

وہ روتی ہوئی بولی

” کیونکہ میں جانتا ہوں حازق تم سے محبت کرتا ہے اور تم ہی ہو جس معلوم ہے کہ اس دن تمہارے بھائی اور اور حازق کی لڑائی میں کوئی تیسرا ایا تھا حازق نے پہلے بھی تمہیں اپنی دشمنی کے بارے میں بتایا ہوا تھا “

وہ ہکا بکا شاویز کو دیکھنے لگی اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے

” آپ مجھے تکلیف دینا چاہتے ہیں” وہ بھرائی آواز میں بولی شاویز نے نفی میں سر ہلایا

“جانتا ہوں میری وجہ سے تمہاری شادی جہان سے ہوئی تھی یہ میرا فیصلہ تھا کیونکہ ہم تمہارے بھائی کو سزا نہیں دے سکتے تھے مگر میں شرمندہ ہوں تم مجھے اس شخص کا نام بتا دو جو تم لوگوں کے درمیان تھا جانتی ہو حازق مجھے اچھا نہیں لگتا تھا جس دن میں نے اس کا چہرہ دیکھا تو مجھے لگا میں نے اپنا بیٹا دفنایا ہے ان ہاتھوں سے بعد میں مجھے احساس ہوا حازق ایک میرا بھائی نہیں بلکہ وہ تو مجھے بیٹوں سے بھی بڑھ کر تھا”

شاویز روتا ہوا اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ دکھانے لگا

” مجھے میرے بھائی سے ایک دفعہ ملا دے میں جانتی ہوں وہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے ہوں گے کیونکہ اگر وہ ٹھیک ہو گئے ہوتے تو میں ادھر نہ ہوتی آپ کو سب کچھ بتا دوں گی پر پلیز مجھے میرے بھائی سے ملا دیں اپ کو سب کچھ بتا دوں گی اپ مجھے میرے بھائی سے ملوا دیں ” وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی

شاوظز اس کے جڑے ہوئے ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا ٹھیک ہے اور وہاں سے لے کر باہر اگیا

★★★

ہاتھ میں بہت سی شاپنگ بیگ لیئے وہ خلاف توقع کمرے میں داخل ہوا

“میرا بچہ ابھی تک ناراض ہے “

سدید اس کے پاس بیگز رکھتا ہوا بولا مگر پرہیاننے کوئی جواب نہ دیا

“اچھا بابا اج کے بعد پہلے اپنی جان کی بات مانوں گا پھر کہیں جاؤں گا”

وہ اسے پیار سے کہتا ہوا اسے شاپنگ بیگ دکھانے لگا مگر اس نے دوسری طرف منہ کر لیا

” اچھا بھئی بات نہ کرو یہ شاپنگ تو دیکھو اور میڈیسن لی ہیں کہ بخار وغیرہ تو نہیں ہوا “

اس کی پیشانی پر ہاتھ لگائے پوچھنے لگا

” دیکھو پھر سے بخار بھی ہوا پڑا ہے میڈیسن نہیں لی ہوں گی اچھا میں میڈیسن لے کر اتا ہوں تم شاپنگ دیکھ لو ” سدید یہ کہہ کر اٹھنے لگا پرہیان نے اس کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کر لی اس کی بند انکھوں سے آنسو گرنے لگے

“پرہیان میرے بچے کیا ہوا ہے بھائی کو بتاؤ “

اس کے بال اس کے منہ سے ہٹاتا ہوا بولا

“بھائی کوئی مجھ سے محبت کیوں نہیں کرتا ماما بابا کیا میں اتنی بری ہوں”

اس نے آنکھیں بند کر دی

” نہیں میری جان تم تو بہت اچھی ہو”

سدید نے پیار سے کہا

” پر بھیا میری کیا غلطی ہے میں اس شخص کو اپنا ہی نہیں سکتی تھی مجھ سے وہ برداشت نہیں ہوتا تھا اس کی اتنی بڑی سزا بھائی میرا بیٹی ہونا جرم ہے”

” میرا بچہ ایسے نہیں سوچتے میں ہوں نا تمہارا بھائی کیوں پریشان ہوتی ہو جانتی ہو مجھ سے تمہارے انسو برداشت نہیں ہوتے پلیز رویا مت کرو مجھے تکلیف ہوتی ہے” اٹھ کر اپنے انسو صاف کرنے لگ گئی “میں بھی کتنی پاگل ہوں اپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں بلا وجہ رو رہی ہوں” وہ مسکراتی ہوئی بولی مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے اس کا درد سدید اچھی طرح جان چکا تھا شدید نے چہرے پر مسکراہٹ سجائی

” اچھا شاپنگ دیکھ کر بتاؤ کیسے لگی سب کچھ تمہاری پسند کا لایا ہوں ساڑے ڈریس تمہارے فیورٹ ہیں اسے دکھانے لگا بھیا میرے پاس تو اتنی ساری جیولری ہے پھر اپ کیوں لائے”

وہ دیکھ کر بولی

” میرا بچہ اولڈ ہو گئی ہے اور دیکھو میں تمہاری فیورٹ بلیک چڑیاں بھی لایا ہوں”

پرہیان نے مسکراتے ہوئے ہاتھ سے سدید کے اگے کیے سدید مسکراتا ہوا اسے چوڑیاں پہنانے لگا میری گڑیا ہو تم اب کافی رات ہو گئی ہے اور سو جاؤ بھائی سے ناراض نہیں ہونا “

سدید نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کے سر پر بوسہ دیا سدید کو دیکھ کر وہ مسکرائی

” لو یو بھیا”

وہ مسکراتی ہوئی بولی

” لو یو ٹو میری جان”

★★★

” جلال احمد مجھے ایک بات تو بتاؤ تم نے مجھ سے اس طرح دشمنی کیوں مول لے رکھی ہے ہم اچھے دوست تھے کیوں کر رہے ہو یہ سب”

حازق نے نرمی سے کہا

” جانتے ہو حازق شاہ یہ دشمنی کبھی دوستی میں نہیں بدلے گی یہاں ایک شرط پہ یہ دشمنی دوستی میں بدل سکتا ہوں تمہیں چھوٹی سی قربانی دینی ہوگی”

وہ ٹیڑھی مسکراہٹ سجا کر بولا

” اچھا ٹھیک ہے میں کیا کروں تم یہ دشمنی ختم کرو “

حازق محفوظ ہوتا ہوا بولا طلال نے حاضر کے سامنے تصویر رکھی جو کہ طلال کی اور پرہیان کی تھی

” اس لڑکی سے شادی کر کے طلاق دینی ہوگی تصویر دیکھتے ہیں حازق کے تن بدن میں اگ لگ گئی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ طلال کو جان سے مار دے اس کے ٹکڑے کر کہ کتوں کو پھینک دے وہ ایک دم سے غصے میں کرسی سے اٹھا اسے تصویر کھینچی

” اتنا غصہ کیوں ا رہا ہے میں جانتا ہوں تم کسی لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں کرو گے پر کیا ہے نا یہ میری سابقہ بیوی ہے اور مجھے اس سے دوبارہ شادی کرنی ہے کمبخت حواسوں پہ چھا گئی ہیں اس کے بنا دل نہیں لگتا بہت چھوٹی تھی جب میری دلہن بن کر ائی تھی”

اس سے پہلے کچھ طلال بولتا حازق نے زور سے اس کے منہ پر مکہ رسید کیا اس کی ناک سے خون بہنے لگا سالے کتے حرام خور باسٹرڈ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری پرہیان کے بارے میں ایسی سوچ رکھنے کی تو یہ زندہ زمین میں گاڑ دوں گا “

طلال اس کے منہ سے پرہیان کا نام سن کر ایک دم۔ سے غصہ میں اٹھا اور اس کے پیٹ میں ٹانگ مار کر اسے پیچھے پھینکا حازق بپھرے شیر کی طرح اس پر جھپٹا

★★★

وہ گاڑی سے اترنے لگی شاویز نے اسے روک دیا وہ سوالیاں نظر سے شاویز کو دیکھنے لگی شاویز نے اس کے کندھوں کے گرد چادر لپیٹ دی

” شاہوں کے گھر کی بہو ہو ” شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا پتہ شاویز کا بدلہ ہوا رویہ دیکھنے لگی شاویز نے کبھی اسے اپنی بھابھی نہیں مانا تھا پر پھر اج یہ اس گھر کی بہو کیسے کہہ رہا تھا یعنی کہ بات یہ تھی وہ حازق کی محبت تھی حازق کی پسند کو اس گھر میں اتنی اہمیت دی جاتی تھی وہ اسی کشمکش میں ہاسپٹل میں داخل ہوئی اور وارڈ کی طرف گئی کمرے کا دروازہ کھولا سامنے زندہ لاش کو دیکھا جو نہ جانے کتنی مشینوں میں جکڑا ہوا تھا اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا اس کے انسو گرنے لگے اس نے سامنے بڑے شخص کا ہاتھ لبوں سے لگا لیا بھیا دیکھیں نہ میں ائی ہوں آپ کی جان آپ کی زندگی بھیا اٹھ کر دیکھیں نا اپ مجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے نہ اپ خود ہی کہتے ہیں نا اپ میری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے بھیا لیکن اب میں رو رہی ہوں آج پر آپ مجھے چپ بھی نہیں کروا رہے بھیا اپ کی گڑیا کو کوئی چپ نہیں کرواتا میں تنگ ا گئی ہوں اپنی تنہائی سے بھیا اٹھیں مجھے اپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں میں جانتی ہوں اپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے”

پری نے روتے ہوئے اس کے سینے پر سر رکھ لیا

” بھیا میں پل پل تڑپتی ہوں اپ کیوں ایسے ناراض ہو گئے ہیں مجھ سے بھیا اٹھیں نہ دیکھیں میرے ہاتھوں میں چوڑیاں بھی نہیں ہیں جب ٹوٹ جاتی تھی آپ مجھے لا کر دیتے تھے بھیا کوئی چوڑیاں بھی نہیں لا کر دیتا پری چلیں پیچھے سے شاویز کی آواز آئی وہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھی مگر ایک بار پھر آنسو آنکھوں کی باڑ توڑ کر باہر اگئے اس نے ڈرتے ہوئے اپنے بھائی کا ہاتھ سر پر رکھا اس کی پیشانی چوم کر اٹھ کے بھیا میں جا رہی ہوں آپ مجھ سے بات نہیں کر رہے کیونکہ میں ہمیشہ اپ کو تکلیف دی ہوں “

★★★

(” یار مجھ سے وعدہ کرو اس کا خیال رکھو گے میں نے جو اسے خواب دکھائے تھے وہ پورے کرو گے وہ میرے بنا مر جائے گی دیکھو میں اس کے خواب پورے نہیں کر سکتا پلیز مجھ سے وعدہ کرو “)وہ لیمپ کے بٹن پر ہاتھ رکھیں اسے ان اف کر رہا تھا اس کے دماغ میں وعدے گھوم رہے تھے اس کے آنسو نکل کر شیو میں جذب ہو رہے تھے اس نے اپنی بھیگی گالوں کو صاف کیا

” یار میں کیسے تجھ سے کیا وعدہ پورا کروں جو تو نے اسے خواب دکھائے تھے وہ میں کیسے پورے کروں وہ تو تمہاری تھی کتنی تکلیف میں میں کیسے اسے پہچان نہیں سکا اگر وہ میرے پاس ہے تو میں اسے خوش رکھوں گا اسے جو تم نے خواب دکھائے تھے وہ میں پورے کروں گا میں تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کروں گا”

اس نے لمبا سانس لے کر اپنی انکھوں سے بہنے والے انسو صاف کیے اور موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا

” السلام علیکم اس نے بھیگی آواز میں کہا

” یار تو رو رہا ہے تیری آواز کیوں اتنی بھیگی ہوئی ہے “

دوسری طرف سے دوستانہ انداز میں پوچھا گیا وہ اپنے آنسو صاف لگا

“میں نے بھائی اپ سے اتنا کہنا تھا میں نے پری کی سیٹ کنفرم کروا دی ہیں کل آپ اسے ایئرپورٹ پر چھوڑ دینا میں آگے سے پک کر لوں گا “

” کیا مطلب تم پری کو اپنے پاس بلا رہے ہو خود۔ نہیں آ سکتے “

” نہیں اؤں گا ویسے وہاں نہیں رہا جا سکتا”

اس نے یہ کہہ کر کال کٹ کر دی آنکھوں میں ساختہ اس کے انسو گرنے لگے اس نے لمبا سانس خارج کیا میں موبائل پر تصویر دیکھنے لگا اس کے زخم ہرے ہونے لگے

★★★

وہ گارڈن کے پاس کھڑے بک پڑ رہی تھی جب اچانک حازق نے پیچھے سے ا کر ڈرایا وہ ڈر بھی گئی

” پاگل ہیں جان نکال دی”

” ہائے اللہ جانِ جاں جان جانے کی بات نہ کیا کرو جان جاتی ہے”

وہ ہنسنے لگا لگا پرہیان بھی ہنسنے لگی

” اچھا جی آپ کی جان جاتی ہے”

” ہاں تو کیا “

وہ گلاب کا پھول توڑتا ہوا بولا

” پاگل انسان دیکھو کانٹا لگ گیا ہے”

وہ اس کا ہاتھ پکڑے بولی اور وہ اس کی کھلی زلفوں میں کھو سا اگیا اسے ٹک ٹکی باندھے دیکھنے لگا اس نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا

” اف یار غضب ڈھا رہی ہو ایسے ہی ہاتھ پکڑ کر کھڑی رہہی تو میں خود کو سنبھال نہیں سکوں گا”

وہ دوسرا ہاتھ دل والی جگہ پر رکھ کو بولا پرہیان نے اس کے سینے پر ہنستے ہوئے مکہ مار دیا

” پورے پاگل ہیں “

” ظالم لڑکی پاگل کر کے پاگل کہتی ہو ویسے میرا نا تمہارے بنا دل نہیں لگتا بس اب جلدی سے میں تمہیں اپنی دلہنیا بنا لوں گا”

وہ مسکراتا ہوا بولا اس کے گال لال ہو گئی

” کیا سوچ رہے ہو”

شاذر اس کے پاس بیٹھتا ہوا بولا وہ اپنے خیالوں سے باہر ایا شاذر اس کی پیشانی پہ لگی ہوئی پٹی کو گھور کر بولا

” یار غصہ چھوڑ بھی دیں وہ با مشکل اٹھ کر بولا”

” ہاں میں غصہ بھی نہ کروں تو تو کتوں کی طرح جھگڑ کے آئے کس سے دشمنی مول لے لی ہے بتاتے بھی نہیں ہو جانتے ہو نا بابا کو پتہ چلا تو بابا نے اس شخص کے ٹکڑے کر دینے ہیں”

” یار بابا کو بتانا مت ” وہ معصومیت سے بولا

” اچھا بابا کال پہ کال کر کے مجھ سے پوچھ رہے تھے حازق کدھر ہیں میں نے کہا وہ فارم ہاؤس گیا ہوا ہے میرا دل تو کیا بتا دوں جھگڑے کر کے ہاسپٹل پڑا ہوا ہے”

حازق اس کا غصہ دے کر ہنسنے لگا اور مسکراتا ہوا بولا یار غصے میں بہت پیارے لگتے ہو شازر نے اس کی بات سن کر اس کی طرف دیکھا پہلے تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں ہنسنے لگے

اچھا نا یار سر میں بہت ہو رہی ہے مجھے گودمیں سڑ رکھنے دے پھر میں اپنی دلہن لاؤں گا اس کی گود میں سررکھو۔ گا تمہاری گود میں نہیں

” بہت بےشرم ہو “

” شکریہ تعریف کرنے کےلیے ” وہ شاذر کا ہاتھ گال پر رکھے آنکھیں موندے چکا تھا

” میری اولاد لگتے ہو ” شاذر نے پیار سے کہا

” لاڈلہ جو ہوں تیرا ” حازق آنکھیں موندے ہنسا

” سب کا لاڈلہ ہے اور میری جان ہے توں دل نہیں کرتا تجھے خود سے اوجھل کرنے کو دل ہے میرا ” شاذر اس کی پیشانی پر بکھرے بال سائیڈ پر کیئے بولا ۔

” اگر تجھے چھوڑ جاؤں شاذر تو کیا کرو گے “

” کہیں نہیں جانے دوں گا ” شاذر نے تڑپ کر کہا ۔

” مطلب مجھے اتنا اس سے عشق نہیں جتنا تجھے مجھ سے ہے ٫” حازق ہنسا تھا ۔

” سمجھ لے ” شاذر اس کی بند آنکھیں دیکھ کر مسکرایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *