Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 08)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

ڈاکٹر صاحب میری سسٹر کیسی ہیں سدید شاہ یہ 24 گھنٹے بہت خطرناک ہیں ۔ بس انہیں دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر اسکا کندھا تھپکتے ہوئے آگے چلا گیا ۔

سدید کچھ نہیں ہوگا پلیز ریلیکس ہو جائیں ۔

فاریہ نے اس سے بٹھایا سدید نے آنسو چھپانے کے لیے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا

“سدید میری طرف دیکھیں کچھ نہیں ہوگا اپ کی بیٹی کو” سدید نے جلدی سے اپنے انسو صاف کیے اور اثبات میں سر ہلایا

“اپ ایسے کمزور تو مت بنئیں”

فاریہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا

“بھائی پرہیان کیسی ہے اب “

صمید وہاں پر آ کر بولا سدید نے حیران ہو کر صمید کی طرف دیکھا ایسا لگا ہو اس نے سننے میں غلطی کر دی ہو۔ بھیاء پرہیان کیسی ہے وہ اس کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا

جو ایک اس کی زندگی اور موت کے درمیان لڑ رہی ہے سدید خود پر ضبط کہتا ہوا بولا بھیا کچھ نہیں ہوگا۔

اسے میں پہلے ا جاتا تو اپ یوں اکیلے ہیں مجھے معلوم نہیں تھا اج بابا نے بھیجا ہے مجھے شکر ہے تم آئے سرید نے آہستگی سے کہا

بھیا پاگل ہیں کیوں مجھے شکریہ بول رہے ہیں۔

میں کوئی غیر تو نہیں ہوں اپ کا بھائی ہوں

سمید اس کے گلے لگ گیا آپ حوصلہ رکھیں وہ میری بہن بھی ہے ۔

وہ آنکھیں بند کیے بولا جانتا ہوں پر شاید تم کبھی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے وہ تمہاری بہن ہے۔

کیونکہ مجھ سے زیادہ تو وہ تمہارے لگتی ہے مگر رشتے احساس کے ہوتے ہیں تمہیں معلوم ہی نہیں سدید خاموشی سے وہاں سے اٹھ گیا

★★★

وہ سب کو ناشتہ سرو کر رہی تھی جہان کی نگاہیں اسی پر ڈٹی ہوئی تھی پری مجھے چائے لا دیں۔ وہ بولا اس نے نگاہیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو ہلکا سا مسکرایا وہ کچن سے چائے والا کپ لا کر اسے پکڑنے لگی جہان نے اس کی کلائی پکڑ لی سارے ایک دم سے اس کی طرف دیکھنے لگے کیا ہو گیا ہے۔ سب کو بیوی ہے میری بابا آپ نے کبھی ماما کا ہاتھ نہیں پکڑا بھیا آپ نے بھی تو سارا بھابھی کا ہاتھ پکڑا ہی ہوگا۔ بلکہ آپ لوگ کل کھلے عام رومانس کر رہے تھے جہان شاہ تم شاید بھول رہے ہو اس لڑکی سے تمہارا کاغذی رشتہ ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں اور اس لڑکی کی حیثیت اس گھر میں ایک نوکرانی جتنی ہے شاویز کھڑا ہو کر غصے میں بولا بھیا پری سے میرا صرف کاغذی رشتہ نہیں ہے اور آپ کو کس نے کہا ۔

میاں بیوی کے درمیان کاغذی رشتہ ہوتا ہے مما آپ ہی بتائیں آپ کو تو احساس ہوگا عورت کی فیلنگز بلکہ زائد بھابھی آپ کو بھی پتہ ہوگا نا ایک عورت شوہر کے بنا کیسے رہ سکتی ہے غلطی میری ہے مانتا ہوں۔ میں تنہا چھوڑ کر گیا تھا پری کو یہاں پر میں اتنا جانتا ہوں۔ پری میری بیوی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں جہان نے پری کا ہاتھ اسے پکڑ لیا پری نے نگاہیں اٹھا کر سامنے دیکھا وہ کھڑا مسکرا رہا تھا

اس شخص کو دیکھ کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔

کیا تم مجھے جہان کے ساتھ دیکھ کر خوش ہو وہ من ہی من میں سوچنے لگی اور وہ اس بات میں سر ہلا رہا تھا اس کا عکس غائب ہو چکا تھا تمہیں کیا لگتا ہے جہان یہ لڑکی تمہارا ساتھ نہیں دے گی

تم اس کے ساتھ گھر بساؤ گے شاویز مسکراتا ہوا بولا پری شاویز کی طرف دیکھ کر اسے بولی جہان میں ہر موڑ پر اپ کا ساتھ دوں گی ۔

کہ اپ میرا ساتھ دیں گے اس نے جہان کے اگے ہاتھ کیا جہان نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا شاویز نے غصے میں پسٹل نکال کر بنا کچھ سنیں سیدھی گولی پری پر چلائ

اور وہ ایک دم سے فرش پر گر گئی خوون میں لت پت وہ ایک دم سے چلانے لگا پری آنکھیں کھولو چائے پر کچھ نہیں ہونے دوں گا وہ پری کا ہاتھ پکڑے اس کی گال تھپتھپا رہا تھا۔

★★★

“سدید پرہیان خطرے سے باہر ہے اپ اسے مل سکتے ہیں۔”

فاریہ نے سدید کے پاس بیٹھ کر کہا وہ جائے نماز پر بیٹھا ہوا تھا “کیا تم سچ کہہ رہی ہو “وہ مسکراتا ہوا باہر کی طرف بھاگا اور جلدی سے روم میں داخل ہوا وہ آنکھیں بند کیے ادویات کے نشے میں سو رہی تھی سدید نے جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا

“بھائی کی جان جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ نا دیکھو نا تمہارا بھائی اداس ہو گیا ہے تمہارے بنا “

وہ اس کا ہاتھ پکڑے اس سے باتیں کرنے لگا اس نے ایک لمبا سانس لے کر اس کی طرف دیکھا

“پرہیان تم خود ہی تو کہتی ہو بھیا آپ میری وجہ سے پریشان نہ ہوا کریں اور خود ہی پریشان کر رہی ہو چلو شاباش انکھیں کھولو پھر میں باہر بھی لے جاؤں گا “

اس کے ہاتھ میں ہلکی سی حرکت ہوئی پرہیان نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اسے سدید کا چہرہ دھندلا نظر ا رہا تھا وہ

” بھیا”

وہ دھیرے سے ماسک اتار کر بولی سدید نے پیار سے اس کا ہاتھ چوما میری جان میں ادھر ہی ہوں تمہارے پاس ہی سدید نے پیار بھرے لہجے میں کہا

★★★

“جہاں شاہ آپ کی وائف خطرے سے باہر ہے آپ کا گڈ لک تھا اور آپ اپنی وائف کو وقت پر ہاسپٹل لائے جس کی وجہ سے ہم نے آپ کے بچے کی بھی جان بچا لی ہے”

ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا جہان کے لبوں پر ایک دم سے مسکراہٹ بکھر گئی

“میرا بچہ”

وہ مسکراتا ہوا بڑبڑایا سارے اس کی طرف دیکھنے لگے وہ مسکراتا ہوا اندر گیا وہ بے ہوش تھی دواؤں کی وجہ سے جہاں اس کے پاس بیٹھا اور مسکراتا ہوا دیکھنے لگا جب وہ کچھ بڑبڑانے لگی

” حازق پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ پلیز میں تمہارے بغیر نہیں رہ پاؤں گی حازق جانا ہے تو عشق کی زنجیریں قدموں میں مت ڈال کر جاؤ”

اس کی بند آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور جہان ہکا بکا اسے ہی دیکھ رہا تھا جہان نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ایک دم سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اٹھ کر روم سے باہر چلا گیا

٫”یار وہ بہت خوبصورت ہے نازک ہونٹ سفید سی رنگت سیاہ بال جی چاہتا ہے اس نازک گڑیا کو باہوں میں بھر لوں “

جہان کے کانوں میں اس کی باتیں گونجنے لگی وہ ایک دم سے وہاں سے بھاگا

جہان کیا ہوا ہے۔

شاویز نے اس کی کلائی پکڑ لی وہ زبردستی اپنا بازو چھڑا کر وہاں سے بھاگا پارکنگ ایریا سے گاڑی نکال کر تقریبا 10 منٹ میں ہی حویلی کے باہر پہنچ گیا تھا۔

وہ بھاگتا ہوا سیڑیاں چڑھتا ہوا ایک کمرے کے سامنے رکا

“کمرے کو لاک لگا ہوا تھا

اس نے نوکر کو آواز دی اور کمرے کی چابی منگوائی وہ حیران تھا جہان اس کمرے میں کیوں جانا چاہتا ہے اس نے اسے چابی پکڑائی اس نے جلدی سے دروازہ کھولا– سامنے لگی حازق کی تصویر دیکھ کر اس کے بھی ساختہ آنسو گرنے لگے –

اس نے جلدی سے الماری کھولی اور اندر سے چیزیں نکالنے لگا اسے ایک ڈائری نظر آئی مگر اس سے کچھ اور چاہیے تھا وہ دراز کے اندر سے چیزیں نکالنے لگا ۔۔

اس میں سے ایک البم نظر آیا اس نے جلدی سے نکالا اور تصویریں دیکھنے لگ گیا وہ تصویر دیکھتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر گر گیا تھا ۔

اس کے ہاتھ سے تصویروں والا البم گر گیا تھا ساری تصاویر بکھر گئی۔ “حازق تم پری سے محبت کرتے تھے “

تمہاری وجہ سے مجھ سے دور ہوتی رہی وہ تصویریں دیکھ رہا تھا

پری کی تصاویر کا پورا ایلبم بھرا ہوا تھا اس کی تصویر یونی میں لی گئی ۔

اس کے ہر مومنٹ کی پکچرز تھی وہ اٹھ کر پری کہ کمرے میں گیا۔ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر حازق کی چین پڑی ہوئی تھی جہان نے وہ اٹھائی جس میں حازق کی جہان کی پری کی تصویر تھی “وہ چین کبھی حازق نے کسی کو نہیں دکھائی تھی”

جہان گھٹنوں کے بل گر کر چلانے لگا تھا چلا چلا کر حاذق کو پکارنے لگا تھا اس کے سینے میں درد ہونے لگا تھی وہ پری سے محبت کر بیٹھا تھا۔۔

★★★

پریہان کی آنکھ کھلی اس کی طرف کوئی پشت کیے کھڑا ہوا تھا۔ بھیا اس نے دھیرے سے کہا اس شخص نے مڑ کر دیکھا۔۔

اس کے چہرے پر ماسک لگا ہوا تھا مگر وہ اس کی آنکھیں پہچانتی تھی وہ اس لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی

“حازق وہ بڑبڑائی حازق جلدی سے اس کے پاس آ کر بیٹھا پاگل یہ کیا حال بنایا ہوا ہے “

جانتی ہیں میں کتنا پریشان ہوں آپ کو اتنے دنوں سے دیکھا بھی نہیں ۔۔

“آج اپ کا باڈی گارڈ بھائی ہٹا ہے” دروازے کے سامنے سے اس کے پاس بیٹھ کر نان سٹاپ بولنے لگا” میرے بھائی کو کچھ مت بولیں”

میرے بھائی بہت اچھے ہیں وہ مسکراتی ہوئی بولی-

اچھا بابا آپ کے بھائی اچھے ہوں گے

” برے تو ہم ہیں جنہوں نے مہینہ آپ کے بنا گزارا ہے”

” ایسے بھی کیا کیا ہے دل پہلے لے لیا ٹھیک ہے مجھے نہ کچھ ہو جائے آپ کی یہ حالت دیکھ کر مر نہ جاؤں” اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ایسے مت بولیں اللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہو۔

حازق نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

جب کمرے کا دروازہ کھلا “کون ہو تم”

سدید نے غصے میں کہا ۔

“حازق نے جلدی سے ماسک اوپر کیا مجھے ڈاکٹر نے بھیجا ہے میں ان کا چیک اپ کر رہا تھا” اچھا سدی ریلیکس ہو گیا حاذق باہر چلا گیا کیسی طبیعت ہے آپ کی سدید نے پیار سے پوچھا بھیا میں ٹھیک ہوں خیر کب جانا ہے میں یہاں بور ہو جاتی ہوں۔۔

وہ منہ بناتی ہوئی بولی جلدی گھر چلیں گے۔

اوکے بھیا وہ مسکراتی ہوئی بولی “ہمیشہ یہی مسکراتی رہا کرو شدید نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا”

اتنے میں سمید کمرے میں داخل ہوا “یہ کھانا بھابھی نے دیا ہے”

وہ یہ کہ کر باہر چلا گیا تھا۔۔۔

★★★

اپ کے پیشنٹ کو ہوش آگئی ہے۔ “شاہجہان کدھر ہیں مجھے ان سے بات کرنی ہے ڈاکٹر نے جہان کے بڑے بھائی سے کہا “

ڈاکٹر صاحب وہ تو امریکہ چلے گئے ہیں۔

اس نے سادہ سا لہجے میں کہا او اچھا آپ اپنے مریض سے مل سکتے ہیں ۔۔

ڈاکٹر یہ کہہ کر آگے چلا گیا

وارڈ میں داخل ہوا بیٹھ کے پاس پڑی چیئر پر بیٹھ کر اس کے چہرہ کو بغور دیکھنے لگا۔

“پری مجھے معاف کر دینا تم جانتی تو ہو میں کسی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا”

وہ پری کا ہاتھ پکڑنے لگا جب وہ بڑبڑائی حاذق میں کہاں جاؤں آجائو ناں میرے پاس۔۔

وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے حاذق کا نام سنتے ہی۔۔۔

وہ اس کے دل میں زندہ تھا اس کے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی تھا۔۔۔

آنکھیں کھولو مجھے بات کرنی ہے۔۔

تم سے وہ اس کے گال تھپتھپانے لگا پری نے انکھیں کھولی۔۔

اسے دھندلا دھندلا چہرہ نظر آنے لگا پلیز مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔

“” تم وہی ہو نا جسے حاذق محبت کرتا تھا تم تم وہی ہو جو حازق سے محبت کرتی تھی””

انکھیں کھولو پری نے خود کو ہوش میں لانے کی کوشش کی اور اٹھ کر بیٹھی جہان کدھر ہیں ۔۔۔

وہ ارد گرد دیکھتی ہوئی بولی حازق تم سے محبت کر رہا تھا آپ کی پلیز مجھے سچ بتانا پری نے اسے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔۔

“” اچھا میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا پر پلیز بتاؤ نا حاذق تم سے محبت کرتا تھا وہ پریشانی بے بسی کے عالم میں پوچھنے لگا””

مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی وہ بہت مشکل سانس لیتی ہوئی بولی پری سب کچھ بھول کے ایک بار بتا دو وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔

اس سے سانس لینے میں بھی دشواری آنے لگی اس کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔

“” اچھا ریلیکس ہو جاؤ لیٹ جاؤ” اس نے کہا تھا تکیہ سیٹ کر کے اسے لٹایا مگر اس کی کنڈیشن سے گزر ہو گئی ڈاکٹرز وہ چلاتا ہوا بہن کی طرف گیا سارے ڈاکٹر سے اکٹھے ہو گئے۔۔۔

★★★

آج وہ کتنے دنوں بعد یونی ائی تھی۔

اچانک کسی نے اس کی انکھوں پر ہاتھ رکھ دیا اسے پیچھے کھڑے شخص کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر محسوس کیا

اس سے”” آپ حاذق ہیں نا پریان مسکراتے ہوئے کہا حازق اس کے سامنے آگیا اف اتنی محبت کہ چھونے سے بھی ہمیں پہچان لیا””” آپ نے حاذق نے شرارت سے کہا پریان نے نگاہیں جھکا لی “پری مت کریں حاذق شاہ پاگل ہو جائے گا” اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتا ہوا چلتا ہوا بولا

پتہ نہیں کیوں آپ کو دیکھ کر مجھے ویسے ہی شرم آ جاتی ہے ۔۔

وہ ہلکا سا مسکراتی ہوئی بولی اچھا واہ بھائی میں تو پورے کپڑے ڈال کے آتا ہوں۔۔۔

پھر بھی اپ کو شرم ا جاتی ہے کبھی ایسے ویسے بات بھی اپ سے نہیں کی پھر کیوں آپ کو مجھ سے شرم اتی ہیں۔۔

وہ مسکراتا ہوا سوالیہ انداز میں بولا ۔۔۔

“”پتہ نہیں کیوں””

آپ ویسے ہی آپ مجھے کیوٹ لگتے ہیں جانتے ہیں آپ سے بات کر کے مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔۔

میں نے کبھی کوئی دوست نہیں بنایا نا نہ کبھی کسی سے محبت کی ہے ۔۔۔

میرے لیے یہ سب سے بڑھ کر میرا بھائی ہیں مگر آپ پہلے انسان ہیں۔۔۔

” جن سے دوستی کی دل نے خواہش کی جس سے محبت ہوگی لیکن اب مجھے خود ہی پتہ نہیں چلا کہ میں آپ سے محبت کر بیٹھی ہوں”

وہ اہستہ اہستہ اپنی محبت کا اظہار کرنے لگی حاذق نے دھیرے سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا پریہان ایک دم سے کھڑی ہوئی۔۔۔

“”ہم ایک دوسرے کے لیے ہیں ہمارے درمیان محبت جیسا رشتہ ہے تو اس وجہ سے اس رشتے کو سچے دل سے ہم نے نبھانا ہے””

میں نہی چاہتی ہمارے درمیان کوئی ایسی غلطی ہو جس سے ہمارے اس خوبصورت سے رشتے میں ڈراڑ آجائے”

“”وہ مسکراتی ہوئی بولی اور خدایا قربان جاؤں کیا باتیں کرتی ہیں آپ مارنے کا ارادہ رکھتی ہیں…

“” سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا پلیز اپ مرنے کی باتیں مت کیا کریں اللہ نہ کرے کبھی آپ کو کچھ ہو ہمیشہ سلامت رہیں””

★★★

حاذق نے سنسان سڑک پہ گاڑی کھڑی کی ہے کسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

پینٹ کے اوپر ٹی شرٹ ڈالے اپنے بال کو جلد سے سیٹ کیے سے انکھوں میں چمک تھی۔۔۔

اچانک وہاں گاڑی رکی اندر سے تھرے پیس ڈالے چار آدمی نکلے حاذق مسکراتا ہوا ان کی طرف گیا۔۔

گاڑی میں سے ایک لڑکا نکلا گلاسسز اتارتا ہوا ۔۔

حاذق کی طرف آیا مسکراتا ہوا اس کے گلے لگ گیا ۔۔۔

حاذق تو بہت برا ہے تم کتنی بار بندے کا کہا تھا وہ ناراضگی سے بولا یا تو جانتا ہے اسٹڈی اس کے بعد باقی کام دیکھنا اس کے بعد کہاں ٹائم ملتا ہے ۔۔۔

اچھا وہ جو آدمی میں نے تمہارے پاس بھیجا تھا اس کی عقل ٹھکانے لگا دی تھی حازق کلائی میں ڈالی گھڑی دیکھتا ہوا بولا

اسے میں نے بھگا دیا۔۔

وہ بڑے ارام سے بولا چوہدری طلال احمد مذاق مت کیا کریں میرے ساتھ بتائیں وہ کدھر گیا ہے ۔۔۔

حازق مسکراتا ہوا بولا ہر ایک چھوڑو یہ کام ہمیں ان کے ساتھ مل کر کر نہیں کرنا ہیںں۔۔۔

میرا فائدہ ہے ۔۔

سنجیدگی سے بولا

حاذق نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا طلال احمد کیا بکواس**** کر رہے ہو ۔۔۔

تم جانتے ہو میں غریبوں کا حق نہیں مار سکتا ۔۔

اتنا گھٹیا انسان نہیں ہوں میں ایک پل نہیں لگے گا اسے ختم کرنے میں اور تم تم اس کے ساتھ کام کرنے کی بات کرتے ہو۔۔۔

تم سے مجھے یہ امید نہیں تھی تم جانتے ہو غریبوں کو بھی بے گھر کر دیتا ہے ان کا ان سے سب چھین لیتا ہے۔۔۔

اور یہ سب ختم کرنے کے لیے میں تم پر بھروسہ کیا تھا۔۔

تمہیں اپنے ساتھ ملایا تھا اور تم بھی اتنے نیچ قسم کے انسان نکلے اسی کے ساتھ مل گئی ہو۔۔

میں حاذق شاہ مرتے دم تک ایسی برائیوں کے ساتھ لڑوں گا تم جیسے بہت کتے میری رکاوٹیں کھڑی کریں گے ۔۔۔

پر میں تم لوگ سے ڈرنے والا نہیں ہوں وہ دانت پیستا ہوا غصے میں چلا چلا کر کہنے لگا ۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سامنے کھڑے شخص کو شوٹ کر دے ۔۔

وہ غصے میں وہاں سے چلا گیا

★★★

وی کھڑی چائے پی رہی تھی سدید نے اسے اپنے حصار میں لیا یہ کیا بدتمیزی ہوتی ہے۔۔

وہ سدید کو گھورتی ہوئی بولی اف او میری بیوی بھی نہ وہ اس کے ہاتھ سے چائے والا مگ پکڑ کر چائے پینے لگا ۔۔۔

سدید یہ کیا بات ہوئی میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور آپ تنگ کر رہی ہیں۔۔

وہ اداسی سے بولی بھائی اب اس میں تنگ کرنے والی کیا بات ہوئی۔۔ بس اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا ۔۔

اچھا اپ مجھے چائے واپس کریں نا اس نے سرید کے ہاتھ سے چائے پکڑ لی۔۔

اچھا میری وائف کی طبیعت کو کیا ہوا ہے ڈاکٹر کے پاس لے چلوں وہ مسکراتا ہوا بولا۔۔

ڈاکٹر کے پاس گئی تھی وہ منہ لٹکاتی ہوئی بولی اچھا کیا کہا ڈاکٹر نے اس کے ہاتھ سے چائے والا کپ لے کر لبوں سے لگاتا ہوا بولا ڈاکٹر نے وٹامن سدید کی کمی بتائی ہے ۔۔۔

وہ اداسی سے بولی اچھا جی اب میں اپنی وائف کو ٹائم دوں گا اب میں ایک مہینہ فری ہوں اگر کہیں گھومنے کا پلان ہے تو بتائیں۔۔

وہ مسکراتا ہوا بولا سدید مجھے ایک بات پریشان کرتی ہے ہماری شادی کو ایک سال ہو گئے۔۔

ہمارے پاس کوئی اولاد ہی نہیں ہے وہ نظر جھکائے بولی۔۔

اااوہ پگلی اتنی سی بات ہے پریشان نہیں ہوتے ایک ہی تو سال ہوا ہے ۔۔

اب میں تمہیں پریشان نہ دیکھوں پر سدید اب مجھ سے سوال پوچھے جاتے ہیں ۔۔۔

کیسے میں پریشان نہ ہوں وہ نم آنکھوں سے بولی کیا مطلب میں گھر میں سے کسی نے کچھ کہا ہے۔۔ اس کا چہرہ اوپر کرتا ہوا بولا کل اپ کی ماما کہہ رہی تھی اپ کے بابا سے وہ آپ کی دوسری شادی کر دیں گی ۔۔

اس کی آنکھوں سے بے دھڑک آنسو گرا۔۔

پاگل ہو تم تمہیں لگتا ہے میں شادی کروں گا ایسا سوچنا بھی مر کے میں شادی کر لوں گا ۔۔

میں تمہارے علاوہ کسی کا تصور بھی گی نہیں کر سکتا ۔۔

جب میں 10 سال کا تھا تب سے مجھے بتایا گیا تھا تم میری بیوی بنو گی تب سے میرے دل میں ہو۔۔۔ سدید نے اسے سینے سے لگا لیا پاگل ہو تم کسی بھی باتوں میں ا جاتی ہو۔۔

سدید نے اس کے سر پر بوسہ سا لیا اسے سکون سا مل گیا تھا سدید سے باتیں کر کے وہ ریلیکس ہو گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *