Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 16)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 16)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
شاہ ویز لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا کچھ ٹائپ کر رہا تھا زارا نے اس کے سامنے چائے والا کپ رکھا
” شاہ ویز کافی رات ہو گئی ہے اپ ابھی تک کام میں لگے ہوئے ہیں”
” زارا میری ایس ایچ او سے بات ہوئی ہے انہوں نے بہت سے ثبوت اکٹھے کر دیے ہیں اور انہوں نے کہا ہے بہت جلد ماما بابا کے قاتل کا پتہ چل جائے گا اور حازق کے قاتل کا پتہ چل گیا پر وہ اس وقت پاکستان میں نہیں ہے”
وہ اسے بتاتا ہوا چائے والا کپ اٹھا کر ٹیرس پہ چلا گیا وہ بھی اپنا کپ پکڑے اس کے پاس اگئی
” شاہ ویز ایک بات بولوں”
وہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی
“میں سوچتی ہوں کتنی مشکل لائف گزاری ہے نہ پری نے اسے کسی کا پیار نہیں ملا کتنی وہ حازق سے محبت کرتی تھی”
” زارا یہ بھی تو دیکھو اس لڑکی میں کتنا صبر تھا “
“شاہ ویز اپ کو ایک مشورہ دوں پلیز غصہ نہیں کریں گے “
وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
“بولو “
وہ چائے کا آخری گھونٹ بھر کے چائے والا کپ رکھتا ہوا بولا
” شاویز اپ دوسری شادی کر لیں میں جانتی ہوں اپ کو اولاد کی کمی محسوس ہوتی ہے اور ویسے بھی اپ کی ماما نے مجھے کافی مرتبہ کہا تھا میں اپ سے بات کروں”
وہ نگاہیں جھکائے بولی
” پاگل ہو کیا کبھی سوچ کر بول لیا کرو کچھ بھی بول دیتی ہو میں کیوں کروں گا اولاد کے لیے کسی دوسری عورت سے شادی اولاد میرے نے نصیب میں لکھی ہوئی ہے اگر ہوگی تو مل جائے گی ائندہ ایسی فضول بات نہ سنوں “
وہ غصے میں بولا
” شاویز آپ کبھی تو بات مان لیا کریں اپ نے کبھی میری بات نہیں مانی “
وہ بھرائی اواز میں بولی
” تم نہ زارا ہو ہی پاگل ویسے ہی بولتی ہو اج کے بعد پلیز کچھ مت بولنا میں نے بچپن سے تمہیں اپنے ساتھ دیکھا ہے ہم دونوں کا نام بچپن سے جوڑ دیا گیا تھا پھر کیوں اپنے درمیان کسی تیسرے کو لانا چاہتی ہو میں تم سے دور ہو کر پچھتانا نہیں چاہتا تم نے دیکھ لیا ہوگا کیا حال ہوتا ہے محبت میں بچھڑنے والوں کا انجام جانتی ہو میرا بس نہیں چلتا تھا پری کا گلا دبا دوں مجھے نفرت تھی اس سے شدید کیونکہ میں نے یہی سمجھ رکھا تھا اس کے بھائی نے حازق کا قتل کیا ہے پر اب سوچتا ہوں اگر اس کے بھائی نے کیا بھی ہوتا تو اس میں پری کی کیا غلطی تھی کیوں اس سے اتنی بڑی ہم نے سزا دی”
★★★
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا اس کی انکھ کھلی اس کا دل گھبرانے لگا وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے پرہیان پکار رہی ہو اس نے اٹھ کر ساری لائٹس ان کی اور کمرے سے باہر نکل کر پرہیان کے کمرے میں ایا کمرے میں داخل ہو کر اس نے لائٹ ان کی ہر چیز مٹی سے اٹی پڑی تھی اس نے الماری کھولی ہر چیز الماری سے باہر گری سدید فرش پر بیٹھ کر چیزیں اٹھانے لگا ہر چیز جو سدید نے اسے لے کر دی تھی وہ ساری چیز کمرے میں بکھر گئی کمرے میں چوڑیاں گرنے کی اواز پیدا ہوئی اس کے سامنے پرہیان کام معصوم سا چہرہ انے لگا جس پر اس نے اداسی کبھی نہیں دیکھی تھی اسے اداسی برداشت نہیں ہوتی تھی پرہیان کی وہ ہمیشہ اسے خوش رکھنا چاہتا تھا وہ بیٹھا ہوا تھا اس کے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے انسو بہہ رہے تھے
(” بھیا جب اپ پاس ہوتے ہیں میں کسی سے نہیں ڈرتی میں بہت سٹرانگ ہو جاتی ہوں پر جب اپ نہیں ہوتے تو میں بالکل کمزور ہو جاتی ہوں پھر مجھے کوئی کچھ بھی بولے میں برداشت نہیں کر سکتی”)
اس کے کانوں میں پرہیان کے الفاظ گونجنے لگے اچانک سے اس نے ایک فائل اٹھائی اور پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ کر دیکھنے لگا سب سے پہلے اس نے پرہیان کا نکاح نامہ دیکھا
” حازق پری کا شوہر تھا اس کی انکھیں ایک دم سے کھول گئیں اس نے نیچے والی رپورٹس دیکھی جو کہ اس کی پریگننسی کی رپورٹس تھیں اس کے ساتھ ایک کاغذ لگا ہوا تھا
” بھیا میرے بارے میں کچھ غلط مت سوچیے گا میں جانتی ہوں میرے بعد اپ ہی ہیں جو میرے کمرے میں ائیں گے سٹور روم میں کونے میں پڑی الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں میری ڈائری ہے پلیز ایک بار پڑھ لینا سب کچھ مل جائے گا وہ سب کچھ پھینکتا ہوا بھاگا سیڑھیوں سے پاگلوں کی طرح اترتا ہوا وہ بڑے سے گھر میں بھاگتا ہوا سٹور روم میں آیا سامنے ہی صمید بیٹھا لیپ ٹاپ میں لگا ہوا تھا
” سادی کیا ہوا ہے”
وہ سادی کا چہرہ دیکھ کر بولا وہ الماری کھولے اس کے اندر سے بکس نکالنے لگا صمید اسے دیکھنے لگا اخر وہ کیا کر رہا تھا اس کے ہاتھ میں ڈائری لگ گئی وہ ڈائری کھول کر پڑھنے لگا
” بھیا سوری میں نے اپ کو نہیں بتایا بھیا مجھ میں ہمت ہی نہیں ہے میں اپ کو سچ بتاؤں بھیا میں حازق سے محبت کرتی ہوں پر میں اسے اس طرح نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی اس دن اگر اپ مجھ سے پوچھ لیتے میں پوری رات کدھر گزار کر آئی تو شاید میں ہمت کر کے آپ کو بتا دیتی اس رات گاؤں میں جب میں بھٹک گئی تھی حازق وہیں پر تھا ہم راستہ ڈھونڈ رہے تھے پر نہیں ملا اس نے ساری کہانی لکھی ہوئی تھی اپنے نکاح تک اس نے سب بیان کیا ہوا تھا اس ڈائری میں آخر پر لکھا تھا
” بھیا اپ کی ضرورت ہے بھیا سب چھوڑ گئے مر رہی ہوں آجائیں نہ بھیا یاد نہیں اپ کو میری آتی اپ کے بنا بھیا نیند بھی نہیں اتی اپ کی گود میں سر رکھ کر سونا چاہتی ہوں اپ کے کندھے سے لگ کر رونا چاہتی ہوں بھیا اپ کی بیٹی تکلیف میں ہے کیوں نہیں اپ کو محسوس ہو رہا میری تکلیف حد سے بڑھ گئی ہے سدید میں ہمت نہ ہوئی اس نے ڈائری بند کر دی اس کے ہاتھ کانپنے لگے وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا
” صمید یار اس کا درد اس کے انسو کچھ نہیں نظر ایا تھا تمہیں یار وہ اتنی تکلیف میں تھی “
سدید بال مٹھی میں جکڑے رونے لگا صمید سدید کو دیکھ رہا تھا جس کی بری حالت ہو گئی تھی سدید وہاں سے اٹھ کر جانے لگا صمید اس کے گلے لگ گیا
” سادی یار مجھے معاف کر دیں غلطی ہو گئی۔”
★★★
“جہان میری بات سنو”
وہ باہر کی طرف جا رہا تھا شاویز نے اسے پکارا
“جی بھیا کوئی بات کرنی ہے”
وہ گھڑی کی سٹرپ بن کرتا ہوا بولا
“تم طلال کو جانتے ہو حازق کا دوست “
” جانتا ہوں ابھی بھی رابطہ ہو جاتا ہے کبھی کبھی کوئی کام تھا”
شاہ ویز نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا
“مطلب اتنا کچھ ہو گیا اور تمہیں شخص کے بارے میں نہیں جانتے وہ سب جانتے ہو “
شاویز نے غصے میں پوچھا
“ہاں بھیا وہ امریکہ گیا ہوا ہے اج واپس ا جائے گا”
” اچھا پھر اس سے بلاؤ نا گھر پر کیونکہ وہ سمجھ رہا ہے ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے”
” کیا مطلب ہے اپ کا وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھتا ہوا بولا “
“اس سے شازر جہان تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تم نے خود ہی کہا تھا کون ہے حازق کا قاتل اسے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا پھر بس تمہیں اسے بلانا ہے اگے مجھے معلوم ہے کیا کرنا ہے مجھے”
شاویز اسے یہ کہتا ہوا اگے چلا گیا وہ اسے دیکھتا رہ گیا وہ واپس گھر ایا اور اپنے روم میں داخل ہوا پری بالوں میں برش کر رہی تھی
” آپ کسی کام سے جا رہے تھے پھر واپس کیوں ائے ہیں “
پری بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر رکھتی ہوئی بولی پرہیان تم جانتی ہو حازق کے دوست کے بارے میں٫”
شازر جہان اس کے پاس جا کر بولا
“ہاں جی اس کا دوست تھا سہیل یونی میں پھر وہ باہر چلا گیا تھا”
وہ نگاہیں چراتی ہوئی بولی
” نہیں میں نے حازق کے پارٹنر طلال کے بارے میں پوچھا ہے اسے جانتی ہو جس کے ساتھ حازق کام کرتا تھا”
شاذر کی بات سن کر پرہیان نے نفی میں سر ہلایا
” یار ایسا کیسے ہو سکتا ہے حازق اکثر اس سے ملتا تھا بتایا ہوگا تمہیں میں تمہیں دکھاتا ہوں “
شاہ نے اسے موبائل سے تصویریں نکال کر دکھائیں جس میں وہ حازق کے ساتھ کھڑا تھا
(” بیگم ایسے شرمایا مت کرو جان نکلتی ہے”)
وہ حازق کی تصویر دیکھ کر اپنے خیالوں میں گم ہو گئی شاذر نے نفی میں سر ہلایا اس کے اگے چٹکی بجائی وہ ہوش کی دنیا میں واپس ائی
” حازق کو نہیں طلال کو دیکھ کے بتاؤ کہیں دیکھا تھا “
(“تمہیں اپنی زندگی میں جانتی ہو ایک محبوبہ کی طرح رکھوں گا پر مجھ سے کبھی رحم کی امید مت رکھنا بھیا طلال کے ساتھ نہیں رہ سکتی مجھے نہیں رہنا اس کے ساتھ”)
شاذر نے موبائل اپنی پاکٹ میں ڈالا اور کمرے سے باہر چلا گیا شاہ کیا کیا بتاؤں اپ کو طلال کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اسی شخص نے ذلیل کروایا ہے اس شخص نے مجھے توڑنے کی شروعات کی تھی میری زندگی ادھی اس نے ختم کی تھی
