Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 07)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

پھر سے وہ خوبصورت موسم آگیا تھا ساون کا مہینہ تھا اور بارش خوب برس رہی تھی اس کی نگاہیں اپنے ویران کمرے میں کسی ہو تلاش کر رہی تھیں ۔

‘ بھابھی آپ نے ڈنر نہیں کرنا تھا کیا ہم آپ کا ویٹ کر رہے ہیں ” وہ کمرے میں داخل ہوتا ہوا بولا ۔

” نن نہیں میرا دل نہیں تھا ” وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی ۔

” کیا مطلب اور نبیہا نے بھی کچھ نہیں کھایا ہو گا آپ نے اس سے بھی یوں ہی سلا دیا وہ بیڈ پر سوئی ہوئی نبیہا اس پانچ سال کی بچی کو دیکھنے لگا جو دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سمیٹے سو رہی تھی اس نے جھک کر نبیہا کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔

” صامی تم میرے روم میں مت آیا کرو تمہاری وائف کو اچھا نہیں لگتا ” اس نے دھیمے لہجے میں کہا صامی نے ایک دم سے اس کی طرف دیکھا ۔

” کیا ہوا بھابھی خنسہ نے آپ کو کچھ کہا ہے کیا ” وہ حیرت سے بولا ۔

” نہیں۔ تم مت آیا کرو ایسے کمرے میں اچھا نہیں لگتا اور ویسے بھی لوگ باتیں کریں گے “

” بھابھی کیا بول رہی ہیں آپ میری بہنوں کی طرح ہیں ” وہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر بولا ۔

” میں کیسے مان لوں تم میری بہنوں کی طرح ہوں تک نے تو کبھی اپنی سگی بہن کو بہن نہیں مانا تھا کتنا وہ تم سے لپٹ کر روئی تھی اگر تم اس وقت پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اور پیار سے اس جہنم میں کود جانے کا کہتے تو وہ ہونی خوشی تمہاری بات مان لیتی مگر تم نے کبھی سوچا ہی نہیں اس کا کیا حال ہوا ہو گا مجھے تمہاری ہمدردی نہیں چاہیے صامی ” اس نے منہ دوسری طرف کر لیا اس کی باتیں صامی ہا دل چیر گئی تھیں شرمندگی سے سر جھک گیا تھا وہ نگاہیں جھکائے باہر چلا گیا ۔

★★★

وہ آنکھیں۔ بند کیئے اس کے قدموں میں سر رکھے سو رہا تھا ایک نرس نے آکر دھیرے سے اس کو اٹھایا اور بولی سر آپ ایسے کیوں سو رہے ہیں وہ اس سے اٹھا کر چلی گئی سدید آنے اپنی آنکھیں مسلیں اور آٹھ کر پرہیان کے پاس آیا اس کے ڈرپس میں جکڑے ہاتھ پر بوسہ دیا ۔

” میری گڑیا میرا بچہ بھیاء کی جان جلدی ٹھیک ہو جاؤ نہ دیکھو تو اپنی کیا حالت بنا لی کے وہ اس کے ہاتھ ہو ہاتھ میں لیئے سہلا رہا تھا اس کی آنکھ کھلی وہ لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی تھی اور حیرت سے سیدہ کو دیکھ رہی تھی ۔

” گڑیا کیا ہوا ہے پری میری جان مجھے دیکھو بھیاء کو بتاؤ کیا ہوا ہے ” وہ نرس کو چلانے لگ گیا تھا اس سے یوں لمبے سانس لیتا دیکھ کر اس کی جان پر بن گئیں تھی وہاں پر سارے ڈاکٹرز جمع ہو گئے تھے ا سے باہر نکال دیا وہ بینچ پر بکھری ہوئی حالت میں بیٹھا ہوا تھا ہاتھوں میں اپنا منہ چھپا لیا تھا ۔

★★★

پری نے آنکھیں کھولیں مگر ارد گرد کوئی بھی نہیں تھا وہ اٹھ رک ارد گرد کمرے ہو دیکھنے لگ گئی وہ جہاں کے کمرے میں تھی ارد گرد کوئی بھی نہیں تھا اس نے لمبا سانس لیا (” تم تو میرا عشق ہو”) پھر سے وہی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔اس نے ایک دم سے آنکھیں کھولیں ۔

” کل میری جگہ میرا بھائی تھا نہ ” ایسی ہی نہ جانے کت۔ج اس کی بتوفائی کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرانے لگی تھیں اس نے اپنے کان پر ہاتھ رکھ کر چیخ ماری تھی ۔

” کیا ہوا ہےآپ کو ” جہان اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا واش روم سے باہر آیا لیکن ہری کو نہ جانے کیا ہوا وہ کمرے سے باہر جا چکی تھی جہان کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی اس نے بیڈ پر پڑا پری کا دوپٹہ دیکھا جو کے ابھی بھی گیلا تھا اس نے جھک کر پری کا دوپٹہ اٹھایا اور اس میں منہ چھپائے سونگھنے لگ گیا تھا ۔

بےساختہ لبوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی اس سے پری سے محبت ہونے لگ گئی تھی ۔

★★★

” بھیاء ۔۔۔ بھیاء ” وہ دھیرے سے بولی سدید جلدی سے اس کے پاس آیا ۔

” جی جی پرہیان کیا ہوا تم ٹھیک ہو ” وہ اسکے پاس بیٹھ کر بولا ۔

” بھیاء بابا” وہ بھرائی آواز میں بولی وہ جانتی تھی اس کا باپ ایک بار بھی نہیں آیا ۔

” میرا بچہ بابا کو گاؤں میں ضروری کام تھا اس وجہ سے وہ نہیں آیے ” اس نےچہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا کر کہا ۔

پرہیان نے اٹھنے کی کوشش کی ۔

” لیٹی رہو میرا بچہ “

” بھیاء میں تھک گئی ہوں لیٹ لیٹ کر مجھے باہر جانا ہے ” وہ ضدی انداز میں۔ بولی

” نہیں بیٹا آپ کی طعبیت ٹھیک نہیں ہے ابھی لیٹی رہو ” سدید نے دوبارہ سے اس کو لٹا دیا پرہیان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور آنکھیں بند کر لی تھیں اس کی بند آنکھوں سے آنسو بہنے لگے گئے تھے سدید نے ایک دم سے اس۔ کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا لیا تھا اس کا یہ رویہ دیکھ کر پری کی اور طعبیت خراب ہونے لگ گئی تھی مگر وہ پری کو تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا سارے ڈاکٹرز تھے اس کے پاس وہ باہر آگیا تھا وہ پرشانی میں باہر نکلا تو سامنے فاریہ کھڑی ہوئی تھی وہ ایک دم سے فاریہ کے گلے لگ گیا وہ پاگلوں کی طرح رونے لگ گیا تھا ۔

” کیا ہو گیا ہے دیکھیں سب دیکھ رہے ہیں فاریہ نے اس کو خود سے الگ کیا کچھ نہیں ہو گا پرہیان کو آپ کویں پرشان ہو رہے ہیں ” اس نے اپنے ساتھ بٹھایا سدئد کو ۔

★★★

پتہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی اچانک سے اس سے احساس ہوا کوئی اس کے بہت قریب کھڑا ہے اس نے ایک دک۔سے مڑ کر دیکھا وہ اس کے سب میں انتہائی قریب کھڑا تھا پری آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہی تھی جہان نے اس کے کمرے پر ہاتھ رکھ کر اپنے قریب کیا ۔

تجھے سینے سر لگا کر تڑپائیں

تیرا ہر درد چن کر اتنا بنائیں

جکڑ رکھا ہے زنجیروں میں

تم بس میرا عشق ہو جاناں

وہ اس کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں بولا اور دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا پری آنکھیں بند کیئے اس کی سرگوشیاں سن رہی تھی ۔

” آپ کچھ بولتی کیوں نہیں ہیں مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم میری بیوی بولتی بھی ہے کے نہیں چلیں کوئی بات کر کے دیکھائیں” وہ اس کی گال کو چھوتا ہوا بولا مگر اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا ۔

” اچھا بابا بات نہ کریں لیکن میرے لیئے ایک چائے کا کپ کمرے میں لے آئیے گا اس نے دھیرے سے لبوں سے اس کی پیشانی کو چھوا اور کچن سے باہر چلا گیا تھا پری نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھیں دل بےترتیبی سے دھڑک رہا تھا۔

کافی وقت بعد وہ چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی اس سے دیکھ کر جہاں نے مسکرا کر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا اور کہا ” شکریہ جی میرے سر میں بیت درد ہو رہی تھی اس نے چیئر کے بہک سے ٹیک لگا لی تھی پری اس کے پیچھے کھڑی ہو کر اس کے سر کو دبانے لگ گئی تھی ۔

” واہ بھئی میری بیوی تو بہت عقل مند ہو گئی ہے” اچانک پری کی لہر سامنے لیپ ٹاپ پر گئی اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے جہان نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا پھر لیپ ٹاپ کی طرف دیکھا ۔

” جانتی ہیں یہ میرا بھائی تھا ” وہ لیپ ٹاپ پر اس کی تصویر دیکھاتا ہوا بولا ۔

” یہ مجھے بہت پیارا تھا اپنی پربات شئر کرتا تھا اور اسی کا مرڈر ہوا تھا جن کا آپ کے گھر والوں نے کیا تھا مگر مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا کس نے کیا کس نے نہیں کیا بس میرے بھائی۔ کی موت لکھی ہوئی تھی جانتی ہیں یہ نہ اتنا پاگل تھا یہ ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا ہر وقت اس کی باتیں کرتا تھا مجھے کہتا تھا وعدہ کرو وہ اسی گھر کی بہو بنے گی جانتی ہیں آخری ملاقات پر اس نے اٹکتی سانسوں سے مجھے کہا تھا کے اس لڑکی سے شادی کر لینا مگر میں نے کبھی اس لڑکی وہ دیکھا ہی نہیں تھا اگر دیکھ بھی لیتا تو کبھی شادی نہ کرتا مجھے بہت تکلیف ہوتی کیں نے ساری عمر اپنے بھائی کے لوگوں سے اس کی باتیں سنی تھیں اس کے عشق کے بول بولتا تھا پھر میں کیسے کر لیتا شادی وہ بولے جا رہا تھا پری کی انگلیاں اس کے بالوں میں چل رہی تھیں اور وہ گم صُم سی کھڑی ہوئی تھی اچانک سے پری اس کے گھٹنوں کے پاس بیٹھ گئی تھی وہ باتیں کرتا ہوا نہناجنے کس دنیا میں گم ہو گیا تھا پری نے اس کے گھٹنوں پر سر رکھ لیا تھا جہان نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا سر اس کے گھٹنوں سے اٹھایا اور اس سے اگلی تصویر دیکھائی وہ دیکھ کر پری ہو لبا وہ این بوجھ کر اس کے زخم ہرے کرنا چاہتا ہے ۔

” یہ کیرا دوست مجھے دنیا جہان سے عزیز دوست سچ میں آج بھی دل کرتا ہے کمینے سے ملنے کا وہ ہنس کر بولا دل کرتا ہے اس کے پاؤں پکڑ کر اپنی دوستی کی بھیک مانگوں کیونکہ میں اکیلا۔ہو گیا۔ ہون مگر کیا کروں اس سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہے “

” آپ کی دوستی کیسے ٹوٹی ” پری نے پہلے بار او سے کوئی سوال کیا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی جہان ااس سے بتانے کگا۔

” مجھ سے بہت برا مذاق ہو گیا تھا ہم دونوں فارم جاؤں میں تھے پارٹی تھی سارے فرینڈز تھے ہمارے درمیان ایک بات ہو گئی تھی اس نے کہا تھا اپنی گرل فرینڈ ایک رات کےلئے مجھے دو اس نے مذاق کیا تھا میں نے بھی مذاق میں کہہ دیا تھا۔ تم اپنی بہن دے دو زندگی میں پہلی اور آخری بار ایسا مذاق کیا تھا میں حالانکہ میری تو کوئی گرل فرینڈ نہیں تھی اس نے بس مذاق کیا تھا مگر میرے مذاق پر اس نے مجھے تھپڑ رسید کر دیا تھا اس وقت ہم دونوں کی دوستی ٹوٹ گئی تھی پری اس کی باتیں سنتی سنتی اس کے بعد میں سر رکھے سو گئی تھی جہان نے ایک دم سے اس کو اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا اور بیڈ پر کٹا کر اس پر کمبل درست کرنے لگا تھا اس کے سیاہ بکھرے بال بند آنکھیں شائد وہ سکون کی نیند سو رہی تھی وہ کھڑکی کے پاس اجر کھڑا ہو گیا اور سگریٹ سلگا لی اس کے آنسو نکل کر شیو میں جذب ہونے لگے کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *