Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 01)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

“پرہیان آج میں آپ کو لینے نہیں آؤں گا میں ڈرائیور کو بھیج دوں گا ” سدید نے گاڑی روکتے ہوئے کہا ۔

” بھائی بس آپ نے مجھے لینے آنا ہے میں ڈرائیور کے ساتھ نہیں آؤں گی اگر آپ نے مجھے لینے نہیں آنا تو مجھے واپس گھر لیتے جائیں ” پرہیان ضدی انداز میں بولی ۔

” بیٹا میں نہیں لینے آ سکتا میں صمید کو بھیج دوں گا “

” صمید بھائی مجھے سب کی طرح ڈانٹ دیتے ہیں مجھے بس آپ نے خود لینے آنا ہے ” وہ منہ پھلائے کہنے لگی ۔ اس نے کبھی سدید کے علاؤہ کسی سے ضد نہیں لگائی تھی ۔

” اوکے بچے میں ٹائم نکال کر خود ہی آجاؤں گا لینے اگر لیٹ ہو گیا تو آپ ویٹ کر لینا ” وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا ۔

” او سو سویٹ بھائی ” وہ مسکراتی ہوئی گاڑی سے اتر کو یونی میں داخل ہوئی وہ اپنے بھائی کے سامنے جتنی بہادر بن لیتی جتنا مسکرا لیتی وہ اتنی ہی کمزور اور ٹوٹی ہوئی تھی وہ چلیت جا رہی تھی ہمشیہ کی طرح وہ بہانے سے اس کے ساتھ چلنے لگ گیا تھا وہ ڈرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ۔

” ہیلو ڈیئر آج اتنی لیٹ کیوں آئی ہیں ” وہ اس کے ساتھ چلتا ہوا بول رہا تھا لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے رہی تھی ۔

” یار تم سے ایک دفعہ بات کرنی ہے بات کیوں نہیں سنتی ” حازق نے اس کی کلائی پکڑ کر روکا اس نے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کی ۔

” چھوڑیں مجھے میں بھائی کو بتا دوں گی ” وہ اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ۔

” میں کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتا ” وہ اس کے کلائی اور زور سے پکڑتا ہوا بولا وہ جو ہمشہ شوق سے چوڑیاں پہنے رکھتی تھی وہ ٹوٹ رہی تھیں اس کے آنسو دیکھ کر حازق نے اس کی کلائی چھوڑ دی وہ وہاں سے تیز تیز قدم بڑھاتی ہوئی چلی گئی حازق مسکراتا ہوا اس سے دیکھنے لگ گیا تھا ۔

” یار کیوں۔ تنگ کرتے ہو اس کو جانتے ہو وہ اسمائیل شاہ کی بیٹی ہے ” حازق کا دوست اس کے پاس آکر کہنے لگا۔

” ہاہاہاہا اگر وہ اسمائیل شاہ کی بیٹی ہے تو میں بھی فرقان شاہ کا بیٹا ہوں کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتا اور تم جانتے ہو وہ اپنے باپ ہو کتنی پیاری ہے ” وہ طنزیہ انداز میں ہنسا تھا وہ جانتا تھا اس کا باپ اس سے بلاتا تک نہیں ہے وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا ۔

” یار سیئرس مجھے ڈرلگتا ہے نہ چھیڑا کر اس کو اگر اس نے اپنے۔ بھائی وہ بتا دیا تو اس کے بھائی نے ہماری ہڈیوں کا قیمہ بنا دینا ہے ” وہ اپنے دوست کی بات سن کر ہنسنے لگ گیا تھا ۔

” ئار وہ بس اتنا کہہ سکتی ہے بھائی کو بتا دوں گی لیکن وہ کچھ نہیں بتا سکتی فکر مت کر جب تک تیرا بھائی ساتھ ہے “

“اچھا پھر لے پنگے بعد میں ہڈیاں پسلیاں تڑوا لینا ” اس کا دوست گویا کانوں کو ہاتھ لگا رہا تھا ۔

” توں تو بہت ڈرتا ہے پر میں نہیں ڈرتا “

” اچھا پھر اس سے شادی کرے گا “

” ہاں محبت کرتا ہوں تو شادی تو کروں گا چاہے رشتہ مانگ کر کروں یا پھر اس سے اٹھا کر شادی کروں بہو تو شاہ خاندان کی بنے گی ” وہ ہسنتے ہوئے بول رہا تھا اس کا دوست اس کے چہرے پر چھائی گہری مسکراہٹ دیکھ رہا تھا۔

★★★

وہ کلاس میں خاموش۔سے بیٹھی ہوئی کتاب کو دیکھ رہی تھی آنسو ٹوٹ کر گر رہے تھے وہ کبھی یہ نہیں بتا سکتی تھی وہ حازق سے زیادہ اس سے چاہتی ہے اس سے اپنے بھائی سے ڈرلگتا تھا وہ کتنی اس سے محبت کرتا تھا اس سے زیادہ وہ۔غصہ کا تیز تھا وہ اپنی کلائی پر ہاتھ پھیرنے لگی تھی اس نے چیئر کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں اس وقت ساری کلاس خالی تھی اور اس کا کوئی دوست بھی نہیں تھا یونی میں ۔

اسمائیل شاہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے بڑا بیٹا سدید اس سے چھوٹا صمید اور سب سے چھوٹی پرہیان جو کے سدید سے دس سال چھوٹی ہے ۔

پرہیان کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اس سے دیکھ رہا ہے اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور سامنے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو کمینگی سے اس کو دیکھ رہا تھا اس سے دیکھتے ہی پرہیان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی وہ غصہ میں اپنا بیگ اٹھاتی ہوئی جانے لگی اس سے پہلے وہ پرہیان ہا بازو پکڑتا وہ اس سے دھکا دیتی ہوئی وہاں سے باہر آگئی موسم کافی خوشگوار تھا وہ گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئی اس کی نگاہوں کو کسی کی تلاش تھی وہ ارد گرد دیکھ رہی تھی وہ اس سے کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا اچانک سے اس کا موبائل بجنے لگا اس نے دیکھا فاریہ کا نام جگمگا رہا تھا اس نے کال پک کی۔

” یار پرہیان کہاں مصروف تھی جب سے کال کیوں نہیں پک کر رہی تھی یار میری سدید سے بات کروا دو ” وہ جلدی جلدی میں بول رہی تھی ۔

” کیا ہو گیا ہے بھائی کا آپ سے کوئی جھگڑا ہوا ہے کیا وہ کہہ رہے تھے انھوں نے آپ سے بات نہیں کرنی ۔

” یار وہ ڈنر کا بولتا تھا میں نہیں گئی تو اس وجہ سے ناراض ہو گیا ہے میں تو بابا کی وجہ سے نہیں جاتی “۔ وہ منہ بناتی ہوئی بولی ۔

” بھابھی اس میں کیا برائی ہے آپ بھیاء کے ساتھ جاتی نہ آپ کا شوہر ہے نکاح ہوا ہوا ہے ” وہ اس سے باتیں کر رہی تھی فاریہ نے اس سے پکارا ۔

” پرہیان کیا ہوا ہے تم اداس لگ رہی ہو بابا نے کچھ کہا ہے یا بھیاء نے اگر بھیاء نے کچھ کہا ہے تو مجھے بتاؤ ابھی اس کی خبر لیتی ہوں۔”

” نہیں بابھی کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں میں بھیاء ہو بول دوں گی وہ آپ سے بات کر لیں گے ” وہ مسکراتی ہوئی بولی۔

★★★

وہ اپنی گلاسسز اتارتا ہوا چہرے پر سنجیدگی سجائے خوبصورت سی راہداری سے چلتا ہوا جا رہا تھا ارد گرد ہاتھوں۔ میں گنز پکڑے کارڈز کھڑے ہوئے تھے اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی جب اچانک سے پیچھے سے حازق اچھل کر اسکے کندھوں کے گرد بازو حائل کر لیئے ۔

” حازق یہ کیا پاگل پن ہے ” اس کے چہرے کی سنجیدگی ایک پل میں غائب ہو گئی وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا ۔

” یار میں تجھے بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں” حازق ہنستا ہوا بولا۔

” توں مجھے اپنی خوشی اندر چل۔کر بتا دیکھ کیسے سب تجھے دیکھ رہے ہیں ” وہ دونوں گیسٹ روم میں داخل ہوئے وہ گرنے والے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔

” یار کسی دن توں میرے کندھے توڑ دے کا ” وہ صوفے ہی بیک سے ٹیک لگائے بولا۔

” یار آج میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا مجھے ایسا لگا تھا وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے اتںا طیار آرہا تھا اس پر دل کیا سینے سے لگا لوں پھر ڈر گیا کہیں تھپڑ ہی نہ پڑ جائے ” حازق کی بات سن کر اس نے ہسنتےے ہوئے حازق کو کشن مارا ۔

” یار توں نے تو میرا مزاق ہی بنانا ہوتا ہے ” حازق ناک پھلا کر اس سے دیکھنے لگا ۔

” یار تجھے پتہ ہے نہ بابا کا انوھں نے نہیں کرنی شادی تمہاری خاندان سے باہر وہ اںسسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا ۔

” بھئی گھر میں سب کا لاڈلہ ہوں اتنا تو کر دیں گے نہ ورنہ تم کس لیئے ہو ” وہ شازر کی گال کھینچ کر بولا ۔

” مکھن نہ لگا مجھے ” وہ اپنی گال سہلا کر بولا ۔

” ویسے توں بھی کوئی لڑکی پسند کر لے ” وہ اس کو چھیڑتے ہوئے کہنے لگا ۔

” بکواس مت کر حازی تھپڑ کھائے گا مجھ سے ۔

” یار شاذر سچ میں وہ بہت حسین ہے جی چاہتا ہے ا اسے سب سے چھپا۔لوں اس کی معصوم سی آنکھیں میں کبھی اس سے رونے نہیں دوں گا وہ بہت ہی نازک سی ہے کانچ کی گڑیا ” حازق بےخودی میں بول رپا۔تھا اس کی سیاہ آنکھیں چمکنے لگی تھیں وہ خود بہت حسین تھا مگر شاذر سے کم تھا شاذر کی گرے آنکھیں اس کے حسن میں چار چاند لگا دیتی تھیں پھر ہنستے ہوئے گالوں کی۔ پڑنے والے گڑھے ۔

” حازق اگر وہ تجھے نہ ملی تو ” اس نے تجسس سے پوچھا ۔

” مر جاؤں گا ” اس نے سادہ لہجے میں کہا ۔

” پاگل ایسے نہیں کہتے اللہ نہ کرے کبھی تمہیں کچھ ہو ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔

” ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہے میں مر گیا تو بےچاری میرے بنا زندہ کیسے رہے گی ” وہ ہنس کر بولا ۔

“خیالی پلاؤ پکا رہا ” شاذر بڑبڑایا حازق نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔

★★★

سارے ڈنر کر رہے تھے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اتنے میں سدید آکر بیٹھا ۔

” کیا باتیں ہو رہی ہیں بابا جانی ” وہ پرہیان کی پلیٹ سے ناشتہ کرتا ہوا بولا اسمائیل شاہ نے ہمیشہ کی طرح اس سے گھور کر دیکھا ۔

” بابا جانی میں نے کل آپ کو فرقان شاہ والا کیس بتایا تھا وہ سب کچھ ایک غلطی سے ہوا تھا کچھ بڑا ایشو بنانے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔

” کھانا کیوں نہیں کھا رہی” وہ پرہیان کو اپنے خیالوں میں گم دیکھ کر بولا ۔

” نہیں بھیاء کھا رہی ہوں ” وہ بنا ارد گرد دیکھے بولی ۔

” پرہیان بچے آپ سٹڈی پر دھیان نہیں دے رہیں” وہ اس سے سمجھا رہا تھا ۔

” بہت پڑھ لیا اس نے میرے خیال میں اب اس کی شادی کر دینی چاہیے اس کے بابا سنجدگی سے بولے ۔

پرہیان نے سدید کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلاتی ہوئی چلی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *