Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 12)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 12)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
وہ ساری کزن کے ساتھ صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھی ساری کزن میں سے ایک بولی
” پری تمہاری بھی کیا لائف ہے ایک بھائی کے سوا ہے ہی کیا تمہارے پاس ایک طلاق یافتہ لڑکی ہو” اس کی بات سن کر وہ نگاہیں جھکا گئی اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اس کزن کو کہنے کو دور بیٹھا سدید غصے میں اس کی طرف آیا غصہ میں اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا اس سے آج تک پری کے بارے میں کوئی بات برداشت نہیں ہوئی تھی اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا
” اگر میری بہن سے ایسے بات کرو گی تو ایک تھپڑ لگایا ہے اگلی دفعہ زبان نکال لوں گا ”
سدید نے آنکھیں پھاڑ کر اس سے دیکھتے ہوئے کہا وہ ہکا بکا اسے دیکھنے لگی وہ وہاں سے چلا گیا پرہیاں اس کو دیکھ کر بولی
” سوری آپی بھیا کو ایسے ہی غصہ آ جاتا ہے چلیں باہر گھومنے چلتے ہیں”
ساری کزن مسکراتی ہوئی باہر باغوں کی طرف چلی گئی ایک کزن بولی
” یار اس طرف نہیں جانا ادھر بابا منع کرتے ہیں”
” یار چلو کتنے اچھے باغ ہیں چلتے ہیں”
پرہیان ادھر چلی گئی ساری کزن اس کے ساتھ تھیں لیکن اسے ڈر بھی لگ رہا تھا یہ عجیب قسم کا باغ تھا اور اوپر سے موسم خراب ہونے لگ گیا تھا آہستہ آہستہ بارش ہونے لگی اس کے ساتھ ہی اچانک سے ایک گولی چلنے کی آواز آئی ساری کزنز ڈر کر بھاگ گئی پرییان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ وہیں گر گئی اس نے اپنی کزن کو بلانے کی کوشش کی لیکن شاید اس کی کزن اس کی بات ہی نہیں سننا چاہتی تھی وہ وہاں سے بھاگ گئی وہ اسے بلاتی رہی سب اس کی باتیں سنی ان سنی کرتے وہاں سے چلے گیے وہ بارش میں بھیگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی وہ بمشکل اٹھ گئی چلنے لگی چلتی چلتی نہ جانے وہ کدھر آگئی تھی وہ پہلی بار یہاں پر آئی تھی اس سے راستوں کا بھی اتنا زیادہ پتہ نہیں تھا میں ایک سنسان جگہ کو دیکھنے لگی اسے ڈر لگنے لگ گیا تھا ہلکی ہلکی رات ہونے لگ گئی تھی وہ کانپتی ہوئی ڈرنے لگ گئی دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا تھا دھیرے دھیرے چلنے لگی رات ہو گئی تھی وہ بیٹھ کر رونے لگی اچانک سے اسے احساس ہوا جیسے کوئی اس کے پاس آ کر رکا ہو اس نے ایک دم سے اٹھ کر دیکھا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر روتی ہوئی وہ ایک دم سے اس کے سینے سے لگ گئی
“حازق آپ مجھے لے جائیں یہاں سے مجھے ڈر لگ رہا ہے”
“پرہیان تم یہاں کیسے آئی”
” حازق وہ میری کزن”
وہ روتی ہوئی بولی
” اچھا رونا بند کرو میں ہوں نا میں بھی بھٹک گیا ہوں اور صبح سے واپسی کی راہ ڈھونڈ رہا ہوں مگر عجیب جگہ ہے مجھے کوئی راستہ نظر ہی نہیں آرہا اچھا رونا تو بند کرو مل کے ڈھونڈ لیں گے”
وہ باتیں کر رہے تھے اچانک سے انہیں ایک اور گولی چلنے کی آواز آئی پرہیان حازق کے پیچھے چھپ گئی اور کہنے لگی
” مجھے بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے”
اچانک انہیں قدموں کی اہٹ سنائی دی اور وہیں پہ دیکھتے ہی دیکھتے کافی سارے آدمی اکٹھے ہو گئے ان کے ہاتھ میں بندوقیں تھی وہ انھءں میں نے کہنے لگے
” اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو ادھر چلو ہمارے ساتھ “
وہ دونوں ان کے ساتھ چلنے لگے پرہیان بہت زیادہ ڈر رہی تھی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جو کے حازق نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے تھے آخر ایک گھر کے پاس پہنچ گئے جو کہ بہت بڑی حویلی لگ رہی تھا
” سردار یہ دونوں رات کے اس وقت اکیلے باتیں کھڑے ہیں مجھے تو لگتا ہے گھر سے بھاگ کر ائے اس پہر اکثر بھاگے ہوئے لوگ ہی اس باغ میں پناہ تلاش کرتے ہیں جو دوسرے گاؤں سے بھاگ کر آتے ہیں “
حازق نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا
” اپ غلط سمجھ رہے ہیں ہم بھاگے نہیں ہیں”
اچھا پھر تم دونوں کیا لگتے ہو اپس میں”
سردار نے غصے میں پوچھا
” ہم دوست ہیں “
پرہیان نے جلدی سے کہا حازق کا دل کیا اس کی عقل پر ماتم کرے وہ اسے گھور کر بولا
” سردار ہمیں جانے دو ہم بھاگے نہیں ہیں ہم دوست بھی ہیں اور کزن بھی تم غلط سمجھ رہے ہو”
سردار غصے میں بولا جو کچھ بھی ہے ہمیں تم پر اعتبار نہیں ہے ہم تمہیں ایسے نہیں جانے دے سکتے”
” تو پھر کیسے جانے دیں گے”
وہ حیرت سے سردار کی طرف دیکھ رہے تھے وہ سرداروں تو پہلے ہی بد دماغ لگ رہا تھا اوپر سے اس کی باتیں ویسے ہی انہیں پاگل کر رہی تھی وہ کہنے لگے
” ایسے کیسے تم دونوں کے گھر والوں نے تمہیں بھیج دیا ہے ضرور بھاگے ہی ہوں گے”
سردار ان کی کسی بات پر یقین نہیں کر رہا تھا انہیں یہی لگ رہا تھا کہ یہ دونوں گھر سے بھاگے ہیں وہ غصے میں کہنے لگا تم دونوں کا نکاح کروا دیتا ہوں اچھا ہے پھر جانے دیں گے
” سردار یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں
” ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں لڑکی تو اندر جاؤ اندر میری زوجہ ہو گی وہ تمہارے نکاح کا انتظام کرے گی”
” نہیں کرنا اب میں نے نکاح ” حازق غصے میں بولا سردار کو اب یقین ہو گیا تھا یہ لڑکی کے ساتھ کچھ غلط کرنا چاہ رہا ہے اس نے ایک لڑکے کو اشارہ کیا جس نے پورے زور سے حازق کے منہ پہ تماچہ رسید کر دیا اب تو سردار کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ دونوں گھر سے بھاگے ہوئے ہیں اس کے ناک سے خون بہنے لگا پرہیان تڑپ کر اس کے پاس آئی حازق مجھے نہیں کرنا نکاح میں بھیا کے بنا کچھ نہیں کروں گی ” وہ روتی ہوئی بولی
” پرہیان پاگل ہو گئی ہو “
حازق نے ایک دم سے سردار کی طرف ریکھا اور غصہ میں بولا ۔
آپ کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے ہیں جانے دیں ہم کوئی آپ کے غلام نہیں ہیں ” وہ غصہ میں بولا ۔
” تم ہمارے علاقے میں آئے ہو اب ہماری مرضی سے جاؤ گے باندھ دو دونوں کو جب تک دونوں شادی کےلیے نہیں مانتے چھوڑنا نہیں ” سردار غصہ میں۔ ۔بولے ایک آدمی نے پرہیان کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹا کر کرسی کے ساتھ باندھ دیا ایک آدمی نے حازق کو باندھ دیا ایک آدمی حازق کو مارنے لگا پرہیان کے دل کو کچھ ہوا اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا وہ روتی ہوئی اس ظالم سردار کو دیکھ رہی تھی ۔
” تم جیسے لڑکوں کےلیے یہ ہی سزا ہے گھر سے لڑکیوں کو بھگا لیتے ہو پھر اپنا مطلب پورا کر کے چھوڑ دیتے ہو اس لڑکی سے شادی کرنی ہو گی تمہیں ” سردار غصہ میں کہہ رہا تھا پرہیان حازق کا چہرہ دیکھ رہی تھی وہ ایک دم سے کہنے لگی ہم کر لیتے ہیں نکاح حازق نے ایک دم سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد پرہیان کے سامنے نکاح نامی پڑا ہوا تھا اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے سائن کر دیے اس کے بعد سردار کی بیوی نے پیار سے اس کا ماتھا چوما اسے بہت زیادہ اپنائیت محسوس ہو رہی تھی آج تک اس کی ماں نے بھی اتنے پیار سے ایسے گلے نہیں لگایا تھا نہ بات کی تھی سردار کی بیوی کہنے لگی
” ماشاءاللہ کتنی پیاری بچی ہو رونا بند کرو ایسے گھر سے نہیں بھاگتے” اسے یقین ہو گیا تھا انہیں تو پکا یقین تھا جیسے وہ لوگ گھر سے بھاگے ہیں پرہیان سوچنے لگی چلو
“میں تمہیں دوسرے کمرے میں چھوڑے اتی ہوں اج کی رات تم لوگ ہمارے پاس ہی رک جاؤ” سردار کی بیوی نے پیار سے کہا
” سردار نے ایسا کیوں کیا ہے “
” وہ کسی بھی لڑکے لڑکے کو بنا کچھ کہیں نکاح کروا دیتے ہیں وہ ایک پل کے لیے ساتھ نہیں رہنے دیتے تم دونوں کو بھی اسی میں بھلائی ہوگی” وہ اس سے کمرے میں چھوڑ کے چلی گئی تھوڑی دیر بعد حازق اس کے پاس آیا وہ بری طرح سے رو رہی تھی حازق اسے دیکھتے ہی کہنے لگا
“کیا ہو گیا ہے اتنا زیادہ کیوں رو رہی ہو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے”
وہ انکھ دباتا ہوا بولا اس نے غصے میں حازق کو گھورا وہ حازق کے پاس آئی اور گھبراتی ہوئی کہنے لگی
” حازق مجھے بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے “
حازق نے اس کا چہرہ اوپر کیا اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو چکی تھی
” پرہیان میں تمہارے شوہر کی حیثیت سے تمہارے سامنے بیٹھا ہوں “
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا
“حازق میں بھیا سے کیسے نظر ملاؤں گی انہیں کیا جواب دوں گی حازق مجھے ڈر لگ رہا ہے تم کیسے مجھ سے نکاح کر سکتے ہو تو میرے ماضی کے بارے میں بھی نہیں جانتے”
مجھے تمہارے ماضی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے میں جانتا ہوں تم ایک طلاق”
اس سے آگے وہ خاموش ہو گیا پری نے روتے ہوئے اس کے کندھے سے پیشانی ٹکائی
