Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Last updated: 26 February 2026
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 01)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 02)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 03)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 04)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 05)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 06)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 07)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 08)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 09)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 10)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 11)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 12)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 13)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 14)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 15)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 16)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 17)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 18)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 19)Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 20)Ishq Diyan Zanjeeran (Last Episode)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
کافی دن گزر گئے مگر جہان سے کسی نے کوئی بات نہ کی وہ سب کے درمیان بیٹھتا اور اٹھ جاتا کوئی انسسے بات تک نہیں کرتا تھا مگر آج اس کی برداشت جواب دے گئی تھی ۔
" بابا سائیں آخر آپ چاہتے کیا ہیں کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں ٹھیک ہے آپ چاہتے ہیں نہ میں شادی کو لوں تو پھر میں شادی کر لیتا ہوں " شاذر سنجدگی سے بولا ۔
انیکسی میں داخل ہوتی پری۔ کے ہاتھ سے جگ گر کر ٹکڑے ہو گیا وہ ڈر گئی اور جلدی سے کانچ اٹھانے لگی اس کے ہاتھ میں کانچ لگ گیا وہ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر کچن میں آگئی اس کے ہاتھ سے بری طرح سے خون بہہ رہا تھا ۔
( اگر آج کے بعد ایپل بھی کاٹنا ہوا تو مجھے بتانا آج کے بعد تمہارے ہاتھ پر چھوٹا سا بھی کٹ دیکھا تو تھپڑ لگاؤں گا " ماضی کی یادیں پھر سے اس کے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگی تھیں اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہچکی کو روکا ایک یہ خیال اس سے الگ سے ستا رہا تھا جو اس کا تھا ہی نہیں وہ بھی کسی اور کا ہو جائے گا اس سے جہان سے غرض نہیں تھی مگر درد ہو رہا تھا اس سے کسی کی یاد تڑپانے لگی تھی ایسے تلخ رویوں کی اس سے عادت نہیں تھی وہ اپنے ہاتھ سے گرتا ٹپ ٹپ۔ خون دیکھ رہی تھی آنکھیں دھندلا رہی تھیں وہ کمرے میں آگئی بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹ کر تکیے میں منہ چھپائے رونے لگی وہ خود نہیں جانتی تھی وہ آج اتنی شدت سے کیوں رو رہی تھی اچانک سے اس سے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی اس نے ایک دم۔سے سر اٹھا کر دیکھا وہ سامنے کھڑا ہوا تھا ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس پکڑے وہ اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے لیا پرئ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں جہان مےاس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ شائد آنکھیں بند کیئے اس سے محسوس کر رہی تھی یا پھر گھبرا رہی تھی ۔
" فکر مت کریں میں دوسری شادی نہیں کرو۔ گا " اس نے انگوٹھے کی مدد سے اس کی گال پر رکا ہوا آنسو صاف کیا اس کے بعد وہ رہا نہیں اس نے جب آنکھیں کھولیں وہ نہیں تھا کمرے میں اس سے پہلے وہ جہان کے بارے میں سوچتی اس کے سامنے کسی کا مسکراتا ہوا چہرہ آگیا ۔
( تم میرا عشق ہو کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی مت )
