Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Last updated: 26 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

کافی دن گزر گئے مگر جہان سے کسی نے کوئی بات نہ کی وہ سب کے درمیان بیٹھتا اور اٹھ جاتا کوئی انسسے بات تک نہیں کرتا تھا مگر آج اس کی برداشت جواب دے گئی تھی ۔
" بابا سائیں آخر آپ چاہتے کیا ہیں کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں ٹھیک ہے آپ چاہتے ہیں نہ میں شادی کو لوں تو پھر میں شادی کر لیتا ہوں " شاذر سنجدگی سے بولا ۔
انیکسی میں داخل ہوتی پری۔ کے ہاتھ سے جگ گر کر ٹکڑے ہو گیا وہ ڈر گئی اور جلدی سے کانچ اٹھانے لگی اس کے ہاتھ میں کانچ لگ گیا وہ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر کچن میں آگئی اس کے ہاتھ سے بری طرح سے خون بہہ رہا تھا ۔
( اگر آج کے بعد ایپل بھی کاٹنا ہوا تو مجھے بتانا آج کے بعد تمہارے ہاتھ پر چھوٹا سا بھی کٹ دیکھا تو تھپڑ لگاؤں گا " ماضی کی یادیں پھر سے اس کے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگی تھیں اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہچکی کو روکا ایک یہ خیال اس سے الگ سے ستا رہا تھا جو اس کا تھا ہی نہیں وہ بھی کسی اور کا ہو جائے گا اس سے جہان سے غرض نہیں تھی مگر درد ہو رہا تھا اس سے کسی کی یاد تڑپانے لگی تھی ایسے تلخ رویوں کی اس سے عادت نہیں تھی وہ اپنے ہاتھ سے گرتا ٹپ ٹپ۔ خون دیکھ رہی تھی آنکھیں دھندلا رہی تھیں وہ کمرے میں آگئی بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹ کر تکیے میں منہ چھپائے رونے لگی وہ خود نہیں جانتی تھی وہ آج اتنی شدت سے کیوں رو رہی تھی اچانک سے اس سے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی اس نے ایک دم۔سے سر اٹھا کر دیکھا وہ سامنے کھڑا ہوا تھا ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس پکڑے وہ اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے لیا پرئ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں جہان مےاس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ شائد آنکھیں بند کیئے اس سے محسوس کر رہی تھی یا پھر گھبرا رہی تھی ۔
" فکر مت کریں میں دوسری شادی نہیں کرو۔ گا " اس نے انگوٹھے کی مدد سے اس کی گال پر رکا ہوا آنسو صاف کیا اس کے بعد وہ رہا نہیں اس نے جب آنکھیں کھولیں وہ نہیں تھا کمرے میں اس سے پہلے وہ جہان کے بارے میں سوچتی اس کے سامنے کسی کا مسکراتا ہوا چہرہ آگیا ۔
( تم میرا عشق ہو کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی مت )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *