Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal NovelR50546 Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 11)
Rate this Novel
Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 11)
Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal
وہ بار بار اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھ رہا تھا اور ارد گرد نظر دوڑا رہا تھا اچانک سے وہ نظر ائی جسے وہ کب سے دیکھ رہا تھا وہ مسکراتا ہوا اس کی طرف گیا پیار سے اپنے ساتھ لگا کر مسکراتا ہوا بولا
“انے میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی”
پری نے نفی میں سر ہلا کر اس کا بدلہ ہوا رویہ دیکھا پھر وہ اسے ایئرپورٹ سے گھر لے کر آیا رات ہو چکی تھی پری کو وہ کمرے میں چھوڑ کر اور یہ کہہ کر باہر چلا گیا
“فریش ہو جاؤ”
پڑی واش روم کی طرف چلی گئی فریش ہونے جہاں اس کے لیے اور اپنے لیے کھانا لے کر آیا جیسے ہی وہ روم میں داخل ہوا اس کی نظر پڑی کے گیلے بالوں پر گئی یہ دیکھ کر ایک دم سے رک گیا پھر کہنے لگا
” ڈرائی کر لینا پہلے کھانا کھا لو ویسے آپ نے قسم تو نہیں اٹھا رکھی اس ناچیز شوہر سے بات نہیں کرنی ” پری اس کی بات پر مسکرائی
” او شکر ہے اپ بھی مسکرائیں”
پری اس کے پاس بیٹھ گئی جہان نے نوالہ بنا کر اس کے سامنے کیا تو اس نے کھا لیا تھوڑا سا کھانے کے بعد پری کہنے لگی بس
،” بھئی ابھی تو کھایا بھی نہیں ہے اپنے لیے نہیں تو بی بی کے لیے ہی کھا لو” اس نے مسکراتے ہوئے کہا پری کا چہرہ ایک دم سے لال ہو گیا
” اوکے اپ اتنا کہہ رہے ہیں تو میں کھا لیتی ہوں”
” آپ کی سمائل اچھی ہے” شازر نے مسکرا کر کہا
” چھوڑ کر کیوں آئے تھے مجھے “
وہ نیچے دیکھتی ہوئی بولی
“ضروری کام تھا اس وجہ سے “
وہ نرمی سے بولا
” اچھا اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو” شاذر نے کوئی جواب نہ دیا اس کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگا کر انکھیں بند کر دی پری نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا
“کیا ہوا ہے” شاذر نے دھیرے سے پوچھا پری نے نفی میں سر ہلایا وہ گھبراتی ہوئی پیچھے ہوئی وہ اپنا چہرہ اس کے قریب لے گیا اور نرمی سے اس کی گال پر بوسہ دیا پری نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیے شاذر مسکرایا اس نے دونوں ہاتھ ہٹائے پری کی آنکھوں میں آنسو نکل آئے اس نے آنکھیں بند کر دی جیسے شاذر نے اس کی نگاہوں میں کچھ پڑھ لیا ہو اس کی ہچکی بندھی کیا ہوا ہے پری میری طرف دیکھنا کیا ہوا ہے پری ایک دم سے اٹھ گئی ۔۔
وہ اس کے پیچھے گیا
وہ ٹیرس پہ جا کر کھڑی ہو گئی اس نے دھیرے سے پری کو اپنی طرف کیا اور نرمی سے کہنے لگا پلیز آج کے بعد یوں میرے سامنے اداس مت ہونا میں نہیں چاہتا آپ یوں اداس ہوں۔۔
★★★
وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر باتیں کر رہی تھی پر اس کا وجود بےجان تھا ۔۔
وہ تو اسے سن بھی نہیں سکتا تھا سادی مجھ سے بات کریں کھولے ناں انکھیں میں اپ کی بنا نہیں رہ سکتی سدید اٹھے نا
” اس نے سدید کے گلے کے گرد بازو حائل کیے “
اور اس کی گال سے گال ملائی” آپ کیوں مجھ سے اتنا دور ہو گے ہیں کیوں مجھے اتنا ڈراتے ہیں کیوں اتنے بڑے ہو گئے ہیں میری بات بھی نہیں سنتے مجھے آپ سے باتیں کرنی ہوتی ہیں –
“پلیز میری طرف دیکھیں نا”
اس نے سدید کے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں ڈالی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے حرکت ہوئی ہو وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا سادی دیکھو میری طرف اٹھو سادی
وہ بہت مشکل سے اتنا ہی بولا پرہیان وہ بمشکل سے بول رہا تھا۔۔
فاریہ کی انکھوں میں مزید آنسو آگئے ۔۔
وہ پیچھے ہونے لگی اتنے میں سارے ڈاکٹر اکھٹے ہو گئے اور فاریہ کو باہر بھیج دیا
★★★
حازق کی بات سننے پرہیان اس کے پاس آئی تھی
“بولیں جانے حازق ،حازق نے مسکراتے ہوئے کہا پرہیان نے اس کے بازو پر مکہ رسید کیا کیا ہر وقت مذاق سوچتا ہے۔۔
” اچھا بتائیں اس ناچیز سے کیا کام پڑ گیا ہے”
” حازق میں کوئی کام کے لیے آتی ہوں چلیں کافی پیتے ہیں”
اوکے دونوں کینٹیں کی طرف گئے اور وہاں پر بیٹھ کہ باتیں کرنے لگے اچانک سے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے لڑکا پری کی طرف دیکھ کر کہنے لگا
” کتنی ہارٹ لڑکی ہے “
سارے کمنٹ پاس کہنے لگے حازق کافی لینے گیا تھا پرہیان انہیں دیکھ کر اٹھ کر جانے لگی ایک نے پرہیان کا ہاتھ پکڑ لیا پرہیان نے غصہ میں اس کے منہ پہ تھپڑ رسید کیا اس لڑکے کو غصہ آگیا اس نے پرہیان کے بالوں کو زور سے پکڑا اس کی گردن پر ہونٹ رکھے پرہیان نے بری طرح سے چیخ ماری اتنے میں حازق بھاگتا ہوا آیا اور پیچھے سے اس لڑکے کے سر پر چیئر ماری حازق اس لڑکے سے جھگڑنے لگا اسے بری طرح اسے مارنے لگا سارے اسے چھڑانے لگے خازق پیچھے ہوا اور پرہیان وہاں سے روتی ہوئی دوسری طرف چلی گئی حازق بھی اس کے پیچھے گیا اس نے پرہیان کا ہاتھ پکڑا وہ حازق کے سینے سے لگ گئی
” حازق مجھے گھر جانا ہے” اس کے سینے سے لگی روتی ہوتی ہوئی اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی
” مجھے گھر جانا ہے مجھے بھیا کے پاس جانا ہے”
اس نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھا ہوا تھا حازق اس کے پاس بیٹھا
” پرہیان کچھ نہیں ہوا میں ہوں نہ”
” حازق اپ کے لیے یہ کچھ نہیں تھا میرے لیے کافی ہے یہ سب حازق اس نے مجھے کیوں چھوا “
وہ گھٹنوں میں سر دیئے رونے لگی ” مجھے بھیاء کے پاس جانا ہے “
پرہیان پاگل ہو وہ اپنا موبائل بیگ سے نکال کر سدید کو کال کرنے لگی
“بھیا مجھے لے جائیں”
اس نے روتے ہوئے کہا اور اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے باہر کی طرف چلی گئی پانچ منٹ بعد ہی سدید کی گاڑی رکی وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی
“پرہیان کیا ہوا ہے”
وہ سیٹ سے ٹیک لگائے بری طرح سے رونے لگی
” بھیا “
اسے بولا بھی نہیں گیا سدید نے اسے کندھے سے لگایا وہ مزید رونے لگی اچانک سے وہ بے ہوش ہوگی پرہیان کیا ہوا ہے پر اس نے اس کے بعد بال پیچھے کی اور اس کی گال تھپتپھانے لگا اچانک سے اس کی نظر پریان کے چہرے کی طرف گئی
★★★
” بھابھی بھیا کیسے ہیں ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں”
وہ فاریہ سے پوچھنے لگا فاریہ نے اسے لال انکھوں سے دیکھا
“بھابھی کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں کیا کہتے ہیں ڈاکٹر “
اس کے پاس بیٹھتا ہوا بولا
” بھابھی پلیز بتائیں ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں “
” ڈاکٹرز کچھ نہیں کہہ رہے وہ کہہ رہا ہے مجھے پرہیان سے ملنا ہے”
وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی اس نے فاریہ کو اپنے ساتھ لگایا فاریہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اٹھ کر وہاں سے چلی گئی وہ ہاتھوں میں منہ چھپائے اپنے انسو چپانے لگا ( پلیز ایک دفعہ پیار سے میری طرف دیکھ لینا میرے سر پر ہاتھ رکھ کے بھیج دیں میں خوشی خوشی چلی جاؤں گی پلیز بھیا)
“سر اب شاہ جی کی کنڈیشن بہت سیریس ہے اس وقت آپ انہیں بلائیں جن کا وہ نام لے رہے ہیں ان کو بلائیں”
ڈاکٹر یہ کہتا ہوا چلا گیا اس نے اپنے آنسو صاف کیے اس وقت وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا “(بھیا سنیں پلیز میں اپ کو سچ بتاتی ہوں ایسا مت کریں بھیا پلیز میں بھیا میں مر جاؤں گی میرے پاس اپنی محبت کی اخری نشانی)
وہ اپنی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو صاف کرتا ہوا ہسپتال سے باہر نکل رہا تھا اس کے وہاں سے نکلتے ہوئے نہ جانے کتنے لوگوں سے ٹکر ہوئی تھی وہ خاموشی سے چلتا گیا
★★★
” پرہیان بیٹا میری طرف دیکھو” سدید نے اس کا اکسیجن ماسک اتارا پرہیان نے دوسری طرف منہ کر دیا
” پاگل جانتی ہو کتنی سیئرس کنڈیشن ہو گئی تھی تمہاری بھیا کو بھی پریشان کر دیا ہے تم نے میری طرف دیکھو”
پرہیان نے روتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا
” بھیا مجھے بہت ڈر لگتا ہے “
” کیوں پرشان ہو رہی ہو آج کے بعد میری بیٹی کی طرف دیکھے گا بھی نہیں کوئی دیکھے تو صحیح جان نہ نکال لوں اس کی اب کوئی بات دل پہ نہیں لینی اگر تمہیں کچھ ہوا تو پہلے میری جان نکل جائے گی”
بھیاء ایسے تو نہ بولا کریں “
” تو بھیا کو پریشان مت کیا کرو میری بات کیوں نہیں مانتی٫”
سدید کی بات سن کر وہ آنکھیں بند کر گئی پرہیان میری طرف دیکھو نا کیوں نہیں دیکھ رہی”
” بھیاء پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے بے چینی سی ہو گئی ہے”
” اچھا زیادہ سوچو مت ارام کرو جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گی پھر گاؤں جائیں گے “
“سچ میں” وہ مسکرائی اسے یقین نہ ہوا سچ میں سدید اسے لے جائے گا وہ مسکرائی سدید اس کی گال تھپ تھپاتا ہوا وہاں سے چلا گیا وہ سب کچھ بھول کے کھل کے مسکرائی اچانک سے ایک ڈاکٹر روم میں ایا اس نے دروازہ بند کیا اور اس کے قریب اور پاس بیٹھ گیا “
” کون ہو” اس نے گھبرا کر پوچھا اس کی بات سن کر اس نے پرہیان کے منہ ہاتھ رکھا اور اس پر جھکا وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی اس کی نگاہیں مسکرا رہی تھی اس نے ماسک کو اتارا پرہیان نے اسے دیکھ کر اس کے سینے پہ مکا رسید کیا
” کیا پاگل پن ہے بھیا ا جائیں گے”
” تم اپنے بھیا کا نام لے کر ڈرایا مت کرو “
“اچھا یہ بےہودگی بند کرو گئے میں پہلے ہی ہارٹ پیشنٹ ہوں “
وہ مسکرائی وہ بھی مسکرا دیا
” پاگل وی تو میں بھی ہوں” وہ ہنسا اس کی بات پر
