Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diyan Zanjeeran (Episode 14)

Ishq Diyan Zanjeeran by Ayesha Mughal

نبیہا لاؤنج میں کھیل رہی تھی پاس ہی اسماعیل شاہ بیٹھے ہوئے اخبار پڑھ رہے تھے کچن سے مسلسل فاریہ کی اواز ارہی تھی

” نبیہا بیٹا میری بات سنو “

مگر وہ اپنے ہی کھیل میں مصروف تھی اسماعیل شاہ نے ایک نظر اس بچی پر ڈالی

(” بابا مجھ سے کھیلے نہ میں اپ کی پیاری سی ڈول ہوں نا”

“تمہیں کس نے بھیجا ہے میرے پاس اپنی شکل مت دکھایا کرو مجھے “)

“یہ لیں چائے اپ کی “

فاریہ کی اواز سن کر اسماعیل شاہ اپنے خیالوں سے باہر ائے اتنے میں صامی گھر میں داخل ہوا نبیہا بھاگتی ہوئی اس کے ٹانگوں سے لپٹ گئ

” چاچو اپ کو پتہ ہے ممی بول رہی تھی اپ بابا کے پاس گئے تھے میرے بابا کب ائیں گے مجھے ان سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں”

اس نے جھک کر اسے اٹھا لیا

“آپ کے بابا کل پرسوں تک ا جائیں گے”

اس نے نبیہا کی کال چوم کر کہا نبیہا نے ہنستے ہوئے اس کی گال چومی فاریہ وہاں سے کمرے میں چلی گئی

“چاچو مجھے بابا کے پاس لے جائیں ممی کہتی ہیں بابا بہت اچھے ہیں”

صمید نے مسکراتے ہوئے کہا

“بابا تو سارے ہی اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے ہیں اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے باپ کی طرف دیکھا جنہیں کھانسی شروع ہو گئی فاریہ جلدی سے ان کے لیے پانی لے کر ائی

“کیا ہوا “

روانہ بیگم نے ا کر پوچھا

” کچھ نہیں ماما …. بابا کو کوئی یاد اگیا ہے”

وہ مسکراتا ہوا بولا

٫شاہ جی کتنی بار کہا ہے یوں سدید کو یاد کر کے خود کو ہلکان نہ کیا کریں”

ربانہ بیگم نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا صمید نے نبیہا کو نیچے اتارا اور اپنی ماں کے پاس آگیا

“ماما اپ کو کبھی اپنی بیٹی یاد نہیں ائی سادی تو اپ کا کچھ نہیں لگتا تھا وہ تو اپ کا سوتیلا تھا پری تو اپ کی سگی تھی بس اس کی غلطی یہ تھی نا کہ وہ رحمت کے روپ میں اس دنیا میں آئی خدا کی قسم میں تو بس یہی دعا کرتا ہوں ایک بار وہ مجھے ملے مجھ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں پر میرا دل کہتا ہے وہ خوش ہوگی جہاں بھی ہوگی پر بابا جانتے ہیں زندگی میں سب سے زیادہ اسے دکھ آپ کی طرف سے ملے ہیں اسے آپ نے کمزور بنایا ہے جانتے ہیں ایک دن جب اسے سادی کا سچ معلوم ہوگا اس نے سب سے زیادہ اس سے تکلیف ہوگی وہ کیسے برداشت کرے گی میں تو کبھی اس کا سامنا ہی نہیں کر سکوں گا آپ تو باپ ہیں کر ہی لیں گے وہ اپنی اداسیاں اپنی غلطیاں چھپاتا ہوا وہاں سے گیا”

صمید کی باتیں اسماعیل شاہ کا دل چیر گئی انہیں شدت سے اس کی یاد انے لگی وہ ہر وقت ہر لمحہ تڑپتی تھی باپ کے پیار کے لیے باپ نے ایسا کیسے کیا اس کے ساتھ کیسے اسے کسی انجان کے سپرد کر دیا وہ تو اس کا باپ تھا سب سے مجبور تھا رشتہ جس نے سب سے زیادہ کمزور بنا دیا تھا اسے

★★★

وہ یونی میں بیٹھی کب سے اس کا ویٹ کر رہی تھی پر اسے دوستوں سے فرصت کہاں تھی اسے حازق پہ غصہ آنے لگا بھلا ایسا بھی کوئی کرتا ہے اس نے صبح سے پرہیان سے کوئی بات بھی نہیں کی تھی اور پرہیان اسے بات کرنے کو بےتاب تھی وہ جا کر کینٹین پر بیٹھ گئی تھوڑی دیر بعد وہ آیا ساتھ ساتھ موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا “یعنی اس وقت وہ بہت غصے میں ہے مجھے اسے ناراض نہیں ہونا چاہیے “

پرہیان نے من ہی من میں سوچا وک اس کے سامنے ا کر بیٹھ گیا وہ خاموشی سے نگاہیں جھکائے بیٹھی رہی

“کیا ہوا ہے بھئی ہم سے کیا شرمانہ بیگم اگر ایسے شرماؤ گی تو بات کیسے بنے گی”

وہ نارمل انداز میں بولا اس نے نگاہیں اٹھا کر حازق کو دیکھا اور مسکراتی ہوئی بولی

“صبح سے مجھ سے بات کیوں نہیں کی جانتے ہیں میں اتنے دنوں میں کتنی اپ کے لیے اداس ہو گئی تھی اپ کے بنا سچ میں رہا نہیں جاتا”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی حازق اس کی بات پہ ہنسنے لگا اس کا ہنسنا فطری تھا کیونکہ پرہیان جیسی لڑکی کے منہ سے پہلی دفعہ ایسی بے تکلفی کی بات سننا

” جانتی ہو پرہیان میرا دل کیا چاہتا ہے تمہیں دل میں ایسے چھپا لوں کوئی دیکھ نہ سکے تم صرف میری ہو میری بن کر رہو”

وہ مسکراتا ہوا بولا

“میں بس اپ کی ہی ہوں فکر مت کیا کریں اور ہاں بس اب جلدی سے اپ مجھے لے جائیں سچ میں اپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں جانتے ہیں گھر میں بھیا کے علاوہ کوئی پیار نہیں کرتا اپ کے گھر میں سب مجھ سے پیار کریں گے نا اپ کے ماما بابا مجھے بیٹی بنائیں گے نا میں اپ کے بابا کو بابا بولوں گی مجھے بہت اچھا لگے گا اگر میں انہیں بابا بلاؤں تو تو وہ مجھے بیٹی بنائیں گے نا اپ کی ماما بھی مجھے اپنی بیٹی کہیں گی سب کا پیار ملے گا”

بولتے بولتے اس کی آنکھوں سے انسو گرنے لگے وہ ایک دم سے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہو گیا اور اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر رونے کی وجہ پوچھنے لگا

” پاگل ہو میرے سامنے اگر ایسے رونے لگو گی تو سب رولانے والوں سے بہت دور لے جاؤں گا میری زندگی ہو تم “

حازق اس کی انسو صاف کرنے لگا

“اج کے بعد میں نے روتے دیکھ لیا تو ماروں گا اور دیکھو گا بھی نہیں کوئی دیکھ رہا ہے تمہیں بس تمہارے انسو چوم لوں گا”

اس نے شرارت سے کہا اس کی بات پر وہ مسکرانے لگی

٫شکر ہے اپ کو بھی پتہ چلا لوگ مسکراتے بھی ہیں ورنہ مجھے لگا تھا اب بس روتی روح ہیں اب یقین ہو گیا مجھے اپ کو بھی مسکرانا اتا ہے “

” حازق اپ نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے مسکراتی بھی ہوں٫”

اس سے باتیں کرتے ہوئے حازق کا موبائل بجنے لگا حازق نے موبائل نکال کر دیکھا اور کال کٹ کر دی پرہیان جوں ہی نظر حازق کے موبائل کے وال پیپر پر لگی تصویر پر گئی اس نے ایک دم سے حازق کی طرف دیکھا وہ الجھ گئی

” پرہیان ویٹ کرو میں اتا ہوں

★★★

وہ دونوں گھر ائے

“پری آپ جا کر آرام کریں کمرے میں آپ کے کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں پریسہ میرے پاس ہی ہے”

” اوکے”

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی روم میں ائی

“تم تو میری تھی “

اس کے کانوں میں اچانک سے اواز ائی اس نے مڑ کر دیکھا مگر کوئی بھی نہیں تھا

” کیوں میرے خیالوں میں ا کر تنگ کرتے ہوں میں مجبور تھی حازق میں کسی اور کی نہیں ہونا چاہتی تھی حازق میں تم سے بچھڑ کر ایک پل بھی سکون سے نہیں رہی تم جانتے تھے تم میرے لیے کتنے ضروری ہو میں کہتی تھی تمہارے بنا مر جاؤں گی دیکھو میرے جذبات میری خوشیاں سب کچھ تو مر گیا ہے صرف یہ وجود ہے اس دنیا میں حازق اگر میرے دل میں کچھ واقعی ہے یا تو وہ تم ہو تمہاری محبت ہے جو میں چاہ کر بھی ختم نہیں کر سکتی”

وہ روتی ہوئی چئد پر بیٹھ گئی اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے انسو گرنے لگے پھر وہ بیڈ پر آئی اور وہیں پر تکیے پر سر رکھیں رونے لگی اس کے آنسو تکیے میں جذب ہو رہے تھے وہ دروازے کے پاس کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں آیا شاید وہ سو چکی تھی اس نے پریسہ کو بےبی کاٹ میں لٹایا اور بیڈ پر اس کے پاس آیا اس کے پاؤں سے شور اتار کر اسے سیدھا کیا تکیے پر اس کا سر رکھے ہوئے ہیں اس کی لٹیں منہ پر آگئی تھی جہان نے اس کی لٹیں سائیڈ پر کرتے ہوئے جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا

“میں جانتا ہوں میں حازق کی جگہ نہیں لے سکتا نہ ہی تمہیں حازق کی طرح پیار کر سکتا ہوں میں حازق نہیں بن سکتا تم میری بن جاؤ نا حازق کو بھول جاؤ پیار کرنے لگا ہوں تم سے نہیں برداشت ہوتا مجھ سے تم کسی کا نام لو کسی اور کی خاطر آنسو بہاؤ جانتی ہو مجھے ایسے لگ رہا ہے تم مجھے خود غرض کر رہی ہو تمہارے لیے میں خود غرض ہو رہا ہوں میں حازق سے جلنے لگا ہوں کیونکہ تم آج بھی اسے ٹوٹ کے چاہتی ہو میرے پاس تمہارا وجود ہے پر تمہارے جذبات پیار محبت سب حازق کے لیے ہے”

اس کے پاس سے اٹھ کر سٹڈی روم میں آگیا اچانک سے اس کی نظر لیپ ٹاپ پر گئی جس کو پورا ہفتہ استعمال نہیں کیا تھا وہ اپنا موبائل بھی توڑ چکا تھا اس نے لیپ ٹاپ کو اٹھا کر ان کیا اور ای میل دیکھنے لگا ای میل پڑھتے ہوئے اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سر پہ بم گرا دیا ہو

★★★

“پرہیان میں تھک گیا ہوں بچے اور کتنی شاپنگ کرنی ہے”

سدید گھڑی کو دیکھتے ہوئے بولا

” بھیا یہ کیا بات ہوئی ابھی مجھے کوئی ڈریس پسند ہی نہیں آیا لاسٹ فنکشن ہے اس کے بعد تو پھر میں نے نہیں کرنی شاپنگ اور نہیں کہوں گی مجھے کہیں لے جائیں سٹڈی بھی میری ختم ہو جائے گی پھر میں اپ کو نہیں بولوں گی”

وہ منہ لٹکاتی ہوئی بولی

” اچھا بابا بلیک میل مت کریں میں کاؤنٹر پہ بیٹھ جاتا ہوں تم دیکھ لو ڈریسز اور جو کچھ لینا ہے لو میں پھر اتا ہوں”

وہ یہ کہہ کر چلا گیا وہ وہی ڈریسز دیکھتی ہوئی آگے چلی گئی اچانک سے کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اسے پہلے کہ وہ چیختی سامنے کھڑے شخص نے اس کے منہ پر ہاتھ ڑکھ دیا

” اس ناچیز کو مروانے کا ارادہ ہے کیا “

وہ مسکراتا ہوا بولا اس کے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے اس کی انکھیں لال اور سوجھی ہوئی تھی

“حازق کیا آپ روتے رہے ہیں “

وہ اس کی انکھیں دیکھتی ہوئی بولی اس نے نفی میں سر ہلایا “حازق پلیز بتائیں نا آپ کو کیا ہوا ہے مجھے پتہ ہے اپ روتے رہے ہیں”

” یار میری انکھیں خراب ہیں میں نہیں رویا “

وہ اسے نگاہیں چھڑاتے ہوئے بولا

“اپ جھوٹ بول رہے ہیں مجھ پہ اعتبار نہیں ہے کسی بات کے قابل بھی نہیں سمجھتے ٹھیک ہے مت بتائیں”

وہ اسے ہاتھ چھڑاتی ہوئی جانے لگی اس نے ہاتھ پکڑ لیا اچانک سے سدید کو اتا دیکھ کر اس نے جلدی سے حازق کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑایا اور حازق کو دھکا دیا وہ موبائل سے نگاہیں ہٹا کر بولا

” میرا بچہ ابھی تک شاپنگ نہیں کی پھر یہ مجھے سمجھ نہیں ارہی کون سا ڈریس خریدوں”

وہ ارد گرد دیکھتی ہوئی بولی

“ایک منٹ رکو”

وہ اپنا موبائل پاکٹ میں ڈالتا ہوا بولا اور حازق کی طرف گیا

“تم شازر جہان کے چھوٹے بھائی ہو نا وہ شاویز بھی تمہارا بھائی ہے نا” سدید اس کا بغور دیکھتے ہوئے بولا پرہیان آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھ رہی تھی

“چلیں یہ والا پسند ہے “

وہ ایک فراک دکھاتی ہوئی بولی وہ پرہیان کو لیتا ہوا چلا گیا حازض ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا ایک یہی تو اس کے بعد اس دنیا میں ہے جو پرہیان کا اتنا خیال رکھتا ہے وہ جانتا تھا یہ شاذر کا بیسٹ فرینڈ بھی تھا پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ان کی دوستی کیسے ٹوٹی ان کے بیچ کیا ہوا تھا وہ اپنی سوچوں میں گم ہو گیا

★★★

لان میں ہر طرف کاغذ بکھرے ہوئے تھے اور وہ کھیلنے میں مصروف تھی وہ لان میں اس وقت اکیلی تھی اچانک سے اس کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی وہ مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا

” بابا”

وہ چلاتی ہوئی اس کی طرف بھاگ کر ائی اور اسے لپٹ گئی سدید گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا

“بابا اپ سچ میں میرے پاس ہیں مجھے تو یقین نہیں ہو رہا اپ کو پتہ ہے ممی اپ کو کتنا یاد کر کے اتنا روتی ہیں ان کے پاس اپ کی اتنی بڑی تصویر بھی ہے جس سے وہ باتیں کرتی ہیں مجھے پتہ ہے اب اپ اگئے ہیں ممی نہیں روئیں گی”

سدید اس کی باتیں سننے لگا اچانک کسی خیال کے تحت وہ اسے وہیں پر چھوڑتا ہوا اندر کی طرف بھاگا

” پرہیان پرہیان کدھر ہو جلدی نیچے آو دیکھو میں آیا ہوں”

اس کے کمرے کی طرف بھاگ کر گیا پرہیان وہ اس کا دروازہ کھولنے لگا پھر وہ لاک تھا سارے اس کی آواز سن کر اکٹھے ہو گئے کسی کو یقین ہی نہ آیا اپنی انکھوں پر اتنے سالوں بعد ان کے سامنے سدید شاہ کھڑا تھا سدید کی نظریں فاریہ پر گئی

” فاریہ میری پرہیان “

وہ اتنا ہی بولا اس کی نظر اپنے باپ پر گئی اس نے نفی میں سر ہلایا

” فاریہ پریہان کدھر ہے پلیز بتاؤ مجھے “

وہ غصے میں پوچھنے لگا

“میں نہیں جانتی”

فاریہ نے نگاہیں جھکا کر کہا

” تم نہیں جانتی فاریہ کتنی اسانی سے بول رہی ہو تم نہیں جانتی”

وہ غصے میں وہاں سے چلا گیا

” سدید میری بات سنیں”

فاریہ اس نے بھاگ کر اس کا بازو پکڑ لیا

” سدید سچ میں مجھے نہیں معلوم نہیں بتایا مجھے صمد نے وہ کدھر ہے پلیز مجھے غلط مت سمجھیں”

اس کی آنکھوں سے بے بسی سے انسو گرنے لگے سدید نے ایک نظر سب گھر والوں پر ڈالی

“میں بتا رہا ہوں میری بہن کو کچھ ہوا تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔”

★★★

اج وہ کتنے ماہ بعد اس گھر میں داخل ہوا تھا اس گھر میں خاموشی کر راج تھا شاید اس نے انے میں بہت دیر کر دی تھی پرہ نے اس کا نام پکارا اتنے میں زارا سیڑھیوں سے اترتی ہوئی ائی جہان اس کے پاس گیا

” بھیا کدھر ہیں”

چہان نے دھیرے سے پوچھا

” وہ اپنے روم میں ہے پلیز تم ان کے پاس مت جانا وہ غصے میں ہے ابھی جا کر تم دونوں ارام کرو”

” نہیں بھابھی مجھے ان سے بات کرنی ہے اپ پری کو اوپر لے جائیں روم میں چھوڑ دیں پری کی طبیعت تھی ٹھیک نہیں ہے “

وہ یہ کہتا ہوا شاویز کے روم کی طرف گیا

زارا نے مسکراتے ہوئے پری کے ہاتھ سے اس کی بیٹی کو پکڑا ماشاءاللہ کتنی پیاری ہے کیا نام ہے اس کا اس نے حسرت بھری نگاہوں سے اس کی بیٹی کو دیکھا

” پریسہ ہے نام

اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا زارا نے اس کے گال پر بوسہ دیا وہ کمبل میں لپٹی ننھی سی بچی کو دیکھ رہی تھی جو کہ بہت پیاری تھی “

تم جا کر ارام کر لو میں اسے سنبھال لوں گی”

اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے

پری یہ کہہ کر وہاں سے کمرے کی طرف چلی گئی

وہ کمرے کی طرف ھیں جہاں سے جہان نکل رہا تھا اس کی شکل بتا رہی تھی کافی عزت افزائی ہوئی ہے اس کا غصہ فطری تھا وہ اپنے ماں باپ کا اخری دیدار بھی نہ کر سکا وہ کمرے کے اندر گئی جہاں شاہ ویز غصے میں بیٹھا ہوا تھا وہ مسکراتی ہوئی اس کے پاس گئی

” شاویز دیکھیں جہان کی بیٹی کتنی پیاری ہے “

وہ اس کے پاس لے گئی

” میں بہت پریشان تھا جس کی وجہ سے میں اپ سے رابطہ نہیں کر سکا میری بات تو سن لی”

اچانک سے اس کے کانوں میں جہان کی الفاظ گونجے اس نے ایک دم سے اس کی بیٹی کی طرف دیکھا اس ننھی سی پیاری سی بچی کو دیکھ کر اس کا سارا غصہ اتر گیا اس نے مسکراتے ہوئے اس بچی کو اٹھایا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اس کے لبوں پر اج کتنے دنوں بعد مسکراہٹ بکھر رہی تھی

دیکھو تو یہ تو بالکل حازق کی طرح لگ رہی ہے جانتی ہو ماما بابا ہوتے تو کتنا خوش ہوتے نہ کتنی پیاری ہے٫”

اسے دیکھ کر اس کی چھوٹی چھوٹے ہاتھ کو اپنے ہاتھ پر رکھ کر چومنے لگا

★★★

وہ بیلو میکسی سنبھالتی ہوئی یونی میں داخل ہوئی سامنے حازق آ گیا پرہیان نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا

“کیسی لگ رہی ہوں اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا “

“بہت پیاری لگ رہی ہو یونی میں ہر طرف میوزک کی آواز تھی ہر طرف رنگین لائٹس لگی ہوئی تھی وہ اس کے ہمراہ چلتی ہوئی ایک جھولے پر جا کر بیٹھ گئی۔

” حازق ایک بات پوچھنی تھی”

وہ ارد گرد دیکھتی بولی سارے انجوائے کرنے میں مصروف تھے

” حازق اس دن تم نے کون سا میرا ٹیسٹ کروایا تھا “

حازق نے ایک دم سے اس کی طرف دیکھا

” پاگل اس نے تمہاری طبیعت خراب ہو گئی تھی تو وہ کوئی ہارٹ ٹیسٹ تھا اس کی رپورٹس میرے پاس ہی ہیں “

اس نے محفوظ ہوتے ہوئے کہا پرہیان ایک دم ریلیکس ہو گئ

” حازق کے ایک بات بولوں”

وہ حازق کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی حازق نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا

“ہاں بولو یار اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے میرے اوپر تمہارا حق ہے سب سے زیادہ “

حازق اس کے بعد شاید ہم ملے نہ جانے کب ملیں”

اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی اس سے پہلے حازق جواب دیتا اس کے دوستوں سے زبردستی وہاں سے لے گئے وہ مڑ کر اسے ہی دیکھ رہا تھا پرہیان دھیرے سے اس کی طرف گئی جدھر وہ اس کے دوست لے گئے تھے وہ دھیرے دھیرے چلنے لگی اس کا سر گھومنے لگا اسے وہاں پہنچنے میں آدھا گھنٹہ لگا اس نے کلاس کا دروازہ کھولا سامنے ہی حازق اور اس کے دوست باتیں لگے ہوئے تھے یار تجھے مان گئے مطلب توں نے سچ میں لڑکی پھنسا کی اور اس کے رپورٹس اس کی دوست کمینگی سے باتیں کر رہے تھے وہ کسی مجرم کی طرح ان کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ان کی باتیں سن کر پرہیان کہ آنسو گرنے لگے حازق نے سر اٹھا کر دروازے میں کھڑی پرہیان کو دیکھا جس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ گر رہے تھے وہ اس کے پاس آیا

“حازق تم ایک بے غیرت انسان ہو”

پرہیان نے پورے زور سے اس کے منہ پہ طماچہ رسید کیا اس کے دوستوں کے لب سکڑ گئے وہ دونوں کو دیکھنے لگے

” کیوں کیا ایسا وہ سب ڈرامہ تھا مجھ سے نکاح کرنا اور یہاں تم حازق “

اسے بولنا بھی مشکل ہو گیا تھا اس کا دل کیا اس کی سانسیں ادھر ہی تھم جائیں

” پرہیان میری بات سنو” حازق نے اس کا ہاتھ پکڑا اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اپنے موبائل پر سدید کا نمبر ڈائل کرتی ہوئی وہاں سے بھاگنے والے انداز میں باہر نکلی

حازق اس کے پیچھے بھاگا وہ یونی سے باہر سنسان پر چلنے لگی سدید نے جیسے ہی کال رسیو کی وہ بولی بھیاء پلیز مجھے آ کر لے جائیں اس نے یہ کہہ کر کال کٹ کر دی حازق کو اسے پکارتا ہوا اس کے پیچھے پیچھے ا رہا تھا وہ تیز تیز چلتی ہوئی ڈرنے لگی

” چھوڑو میرا پیچھا مرنے دو مجھے تم پر یقین کیا تھا پاگلوں کی طرح چاہتی جو ہوں تماشہ تو تم نے بنانا ہی تھا بڑوتی ہوئی کہنے لگی حازق نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

” پاگل ہو میری بات تو سنو “

وہ غصے میں بولا پرہیان نے اسے دھکا دیا حازق نے اسے کندھوں سے پکڑ کر غصے میں قریب کیا

“بات سنو ہم سب مذاق کر رہے تھے تمہارے ساتھ تمہیں تنگ کرنے کے لیے یہ سب کیا تھا تمہیں پرپوز کرنے والا تھا ہم تمہیں تنگ کر رہے تھے سرپرائز دینا چاہتے تھے”

اسے جھنجوڑ کر بولا اتنے میں وہاں گاڑی رکی سدید ایک دم سے گاڑی سے نکلا غصے میں حازق کو پیچھے دھکا دیا اور ایک دم سے اپنی پسٹل نکالی

“تمہاری ہمت کیسی ہوئی میری بہن کو ہاتھ لگانے کی”

” پسٹل نیچے کرو “

حازق نے غصے میں کہا اس نے بھی اپنی پسٹل نکالی پری دونوں کو دیکھ کر گھبرا گئی

” یہ پسٹل نیچے کریں پرہیان نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے نیچے کرنے کی کوشش کی اچانک سے سدید کے سینے میں گولیاں لگی پرہیان نے ایک دم سے حازق کی طرف دیکھا جہاں سے گولیاں آئی تھی اچانک سے اس کی طرف سے حازق کو گولیاں لگی وہ زمین پر ایک طرف گر گئے کبھی وہ سدید کو دیکھتی اور کبھی حازق کو سنسان سڑک پر ہر طرف خاموشی تھی وہاں جاتی گاڑیوں کو دیکھا حازق وہ ایک دم سے ہوش میں آتی ہوئی چلائی حازق میری طرف دیکھو اس کا منہ اپنی طرف کرتی ہوئی بولی حازق نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا بھیا اس نے مڑ کر سدید کو روتے ہوئے کہا جو بے ہوش ہو چکا تھا حازق نے گلے میں ڈالی ہوئی چین اس سے پکڑائی

” کسی اور کی مت ھونا”

حازق کی انکھوں میں آنسو گر رہے تھے حازق نے اپنی انکھوں کو زبردستی کھولتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے لگا لیا

” پرہیان اپنا اور میرے بچے کا خیال رکھنا “

وہ بہت مشکل اٹھا اور پرہیان کے گلے سے لگ گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *